<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 10 Oct 2026 21:59:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 10 Oct 2026 21:59:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برٹش انٹرنیشنل انویسٹمنٹ کی پاکستان میں معاشی استحکام کی پیش رفت پر حوصلہ افزائی، پالیسیوں میں تسلسل پر زور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292388/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برطانوی ترقیاتی مالیاتی ادارے برٹش انٹرنیشنل انویسٹمنٹ (بی آئی آئی) نے کہا ہے کہ پاکستان کی حالیہ معاشی پیش رفت حوصلہ افزا ہے، تاہم مزید سرمایہ کاری راغب کرنے کے لیے اصلاحات کا تسلسل ناگزیر ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی آئی آئی کے پاکستان میں سربراہ امتیاز سیتھنا نے بزنس ریکارڈر کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ’’مجموعی معاشی استحکام کی جانب حالیہ پیش رفت حوصلہ افزا ہے اور اس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امتیاز سیتھنا کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کی معیشت نے مالی سال 2025-26 کے دوران محتاط بحالی اور استحکام کا دور دیکھا، جبکہ مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، بی آئی آئی کے پاکستان میں سربراہ نے کہا کہ ’’اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے اصلاحات کا تسلسل اور پالیسیوں میں مستقل مزاجی اہم ہوگی۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی آئی آئی، جو پہلے سی ڈی سی گروپ کے نام سے معروف تھی، 1987 سے پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ پاکستان میں بی آئی آئی کی سرمایہ کاری کا دائرہ تین مخصوص شعبوں پر مرکوز ہے: موسمیاتی فنانس، مالیاتی شمولیت اور وینچر کیپیٹل۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امتیاز سیتھنا نے کہا کہ ’’معاشی اتار چڑھاؤ کے دوران ہم نے خطرات کا محتاط انداز میں جائزہ لیتے ہوئے قابلِ عمل کاروباری اداروں اور طویل مدتی ترقی کی حمایت کے اپنے عزم کو برقرار رکھا ہے، کیونکہ ہم معاشی چکروں کے برعکس سرمایہ کاری کرنے والے ادارے کے طور پر کام کرتے ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق، بی آئی آئی کے سرمایہ کاری پورٹ فولیو کی مالیت 38 کاروباری اداروں میں مجموعی طور پر تقریباً 360 ملین ڈالر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امتیاز سیتھنا نے نئی سرمایہ کاری کا کوئی ہدف یا سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے مدت نہیں بتائی۔ تاہم، پاکستان کو کن اقدامات کی ضرورت ہے، اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’’مجموعی معاشی استحکام برقرار رکھنا، کاروبار کرنے میں آسانی بہتر بنانا، اداروں کو مضبوط کرنا اور ضابطہ جاتی ماحول کو قابلِ پیش گوئی بنانا‘‘ ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’’سرمایہ کار واضح قواعد، مؤثر منڈیوں اور شفاف قانونی و معاہداتی نظام کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امتیاز سیتھنا کے خیال میں پاکستان کا مسئلہ مواقع کی کمی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ملک میں باصلاحیت کاروباری ادارے، کاروباری صلاحیتیں اور سرمایہ کاری کی بھرپور طلب موجود ہے۔‘‘ تاہم، ان کے مطابق اصل رکاوٹ کہیں اور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی آئی آئی کے عہدیدار نے کہا کہ ’’سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک یہ یقینی بنانا ہے کہ طویل مدتی سرمایہ ان شعبوں اور کاروباری اداروں تک پہنچے جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں، کسانوں، خواتین کاروباری شخصیات اور ناکافی مالی سہولتوں سے دوچار طبقات کے لیے قرض اور دیگر مالی وسائل تک رسائی اب بھی محدود ہے، ’’جس سے ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امتیاز سیتھنا نے کہا کہ چھوٹے کاروباروں اور زراعت کو بی آئی آئی کی حکمت عملی میں مرکزی حیثیت حاصل ہے، جو ’’پاکستان کی معیشت، روزگار اور غذائی تحفظ کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں‘‘۔ ان کے مطابق، یہ ایسے شعبے ہیں جہاں مالی وسائل تک رسائی اب بھی محدود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی آئی آئی ان شعبوں تک بالواسطہ ذرائع سے رسائی حاصل کرتی ہے، یعنی ’’مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاری کے پلیٹ فارمز کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے، جو سرمایہ کاروباری اداروں اور پیداوار سے وابستہ افراد تک پہنچا سکتے ہیں‘‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امتیاز سیتھنا نے یہ بھی بتایا کہ کن اقدامات سے یہ شعبے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ پُرکشش بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’’مزید ادارہ جاتی سرمایہ کاری راغب کرنے کے لیے سرمایہ کاروں کو کاروباری ماحول پر اعتماد، قابلِ اعتماد معلومات تک رسائی اور مضبوط تجارتی بنیادوں پر استوار سرمایہ کاری کے مواقع درکار ہوتے ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی آئی آئی کی حکمت عملی ترقی پذیر معیشتوں میں سرمایہ کاری کے لیے سرمایہ متحرک کرنے پر مرکوز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امتیاز سیتھنا نے کہا کہ ’’پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، اور طویل مدتی ماحولیاتی و معاشی لچک پیدا کرنے اور پائیدار ترقی کی حمایت کے لیے موسمیاتی فنانس تک رسائی بڑھانا ناگزیر ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان مائیکروفنانس انویسٹمنٹ کمپنی (پی ایم آئی سی) کے ساتھ خطرات میں شراکت داری کی سہولت کے بارے میں بات کرتے ہوئے، جس کے لیے بی آئی آئی نے 15 ملین ڈالر فراہم کرنے کا عزم کیا ہے، انہوں نے کہا کہ ’’اس سہولت کا مقصد پی ایم آئی سی کے قرضوں کے پورٹ فولیو کے ذریعے 30 ملین ڈالر تک کے اضافی قرضوں کی فراہمی ممکن بنانا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ’’خطرات میں شراکت داری کے ذریعے یہ سہولت پی ایم آئی سی کو مائیکروفنانس فراہم کرنے والے اداروں کے ذریعے قرضوں کی فراہمی بڑھانے اور ایسے صارفین تک پہنچنے کے قابل بناتی ہے جنہیں بصورتِ دیگر رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرویو میں موسمیاتی فنانس کے لیے بینک الفلاح میں بی آئی آئی کی 50 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری اور حبیب بینک لمیٹڈ (ایچ بی ایل) کے لیے 75 ملین ڈالر کی سہولت کا بھی ذکر کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امتیاز سیتھنا نے کہا کہ ’’بینک الفلاح اور ایچ بی ایل میں ہماری حالیہ سرمایہ کاریاں اسی حکمت عملی کی عکاس ہیں، جن کا مقصد موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت، غذائی تحفظ اور پائیدار مالیاتی نظام کو فروغ دینا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ’’ہم نے پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری میں معاونت کے لیے میگا موٹرز میں بھی سرمایہ کاری کی ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں بی آئی آئی کی سابقہ نمایاں سرمایہ کاریوں میں دراز ڈاٹ پی کے، جھمپیر پاور (پرائیویٹ) لمیٹڈ، کشف فاؤنڈیشن اور ژینفا پاکستان نیو انرجی کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موسمیاتی فنانس کے علاوہ، پاکستان میں بی آئی آئی کا قابلِ تجدید توانائی کا پورٹ فولیو 460 میگاواٹ سے زیادہ صاف توانائی فراہم کرتا ہے، جس میں 100 میگاواٹ کا اٹلس سولر منصوبہ اور 50 میگاواٹ کا زیفائر ونڈ فارم شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے امتیاز سیتھنا نے کہا کہ ’’ہم حکومت سے اتفاق کرتے ہیں کہ بجلی کے شعبے کے لیے ترسیل اور تقسیم کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری ترجیحی اہمیت رکھتی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ بی آئی آئی کو دیگر منڈیوں میں اس شعبے میں سرمایہ کاری اور کام کرنے کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’’ہم پاکستان میں اس حوالے سے متعلقہ تجربات اور اسباق شیئر کرنے کے منتظر ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئندہ تین سے پانچ برس کے امکانات پر بات کرتے ہوئے امتیاز سیتھنا نے کہا کہ معاشی حالات مستحکم ہونے کے ساتھ ’’معیشت کے پیداواری شعبوں میں مزید طویل مدتی سرمایہ کاری راغب کرنے کا موقع موجود ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اختتام پر کہا کہ ’’بی آئی آئی کا کردار مقامی اداروں اور نجی سرمایہ کاروں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے اس سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برطانوی ترقیاتی مالیاتی ادارے برٹش انٹرنیشنل انویسٹمنٹ (بی آئی آئی) نے کہا ہے کہ پاکستان کی حالیہ معاشی پیش رفت حوصلہ افزا ہے، تاہم مزید سرمایہ کاری راغب کرنے کے لیے اصلاحات کا تسلسل ناگزیر ہے۔</strong></p>
<p>بی آئی آئی کے پاکستان میں سربراہ امتیاز سیتھنا نے بزنس ریکارڈر کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ’’مجموعی معاشی استحکام کی جانب حالیہ پیش رفت حوصلہ افزا ہے اور اس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔‘‘</p>
<p>امتیاز سیتھنا کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کی معیشت نے مالی سال 2025-26 کے دوران محتاط بحالی اور استحکام کا دور دیکھا، جبکہ مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔</p>
<p>تاہم، بی آئی آئی کے پاکستان میں سربراہ نے کہا کہ ’’اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے اصلاحات کا تسلسل اور پالیسیوں میں مستقل مزاجی اہم ہوگی۔‘‘</p>
<p>بی آئی آئی، جو پہلے سی ڈی سی گروپ کے نام سے معروف تھی، 1987 سے پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ پاکستان میں بی آئی آئی کی سرمایہ کاری کا دائرہ تین مخصوص شعبوں پر مرکوز ہے: موسمیاتی فنانس، مالیاتی شمولیت اور وینچر کیپیٹل۔</p>
<p>امتیاز سیتھنا نے کہا کہ ’’معاشی اتار چڑھاؤ کے دوران ہم نے خطرات کا محتاط انداز میں جائزہ لیتے ہوئے قابلِ عمل کاروباری اداروں اور طویل مدتی ترقی کی حمایت کے اپنے عزم کو برقرار رکھا ہے، کیونکہ ہم معاشی چکروں کے برعکس سرمایہ کاری کرنے والے ادارے کے طور پر کام کرتے ہیں۔‘‘</p>
<p>ان کے مطابق، بی آئی آئی کے سرمایہ کاری پورٹ فولیو کی مالیت 38 کاروباری اداروں میں مجموعی طور پر تقریباً 360 ملین ڈالر ہے۔</p>
<p>امتیاز سیتھنا نے نئی سرمایہ کاری کا کوئی ہدف یا سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے مدت نہیں بتائی۔ تاہم، پاکستان کو کن اقدامات کی ضرورت ہے، اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’’مجموعی معاشی استحکام برقرار رکھنا، کاروبار کرنے میں آسانی بہتر بنانا، اداروں کو مضبوط کرنا اور ضابطہ جاتی ماحول کو قابلِ پیش گوئی بنانا‘‘ ضروری ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’’سرمایہ کار واضح قواعد، مؤثر منڈیوں اور شفاف قانونی و معاہداتی نظام کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔‘‘</p>
<p>امتیاز سیتھنا کے خیال میں پاکستان کا مسئلہ مواقع کی کمی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ملک میں باصلاحیت کاروباری ادارے، کاروباری صلاحیتیں اور سرمایہ کاری کی بھرپور طلب موجود ہے۔‘‘ تاہم، ان کے مطابق اصل رکاوٹ کہیں اور ہے۔</p>
<p>بی آئی آئی کے عہدیدار نے کہا کہ ’’سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک یہ یقینی بنانا ہے کہ طویل مدتی سرمایہ ان شعبوں اور کاروباری اداروں تک پہنچے جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں، کسانوں، خواتین کاروباری شخصیات اور ناکافی مالی سہولتوں سے دوچار طبقات کے لیے قرض اور دیگر مالی وسائل تک رسائی اب بھی محدود ہے، ’’جس سے ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔‘‘</p>
<p>امتیاز سیتھنا نے کہا کہ چھوٹے کاروباروں اور زراعت کو بی آئی آئی کی حکمت عملی میں مرکزی حیثیت حاصل ہے، جو ’’پاکستان کی معیشت، روزگار اور غذائی تحفظ کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں‘‘۔ ان کے مطابق، یہ ایسے شعبے ہیں جہاں مالی وسائل تک رسائی اب بھی محدود ہے۔</p>
<p>بی آئی آئی ان شعبوں تک بالواسطہ ذرائع سے رسائی حاصل کرتی ہے، یعنی ’’مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاری کے پلیٹ فارمز کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے، جو سرمایہ کاروباری اداروں اور پیداوار سے وابستہ افراد تک پہنچا سکتے ہیں‘‘۔</p>
<p>امتیاز سیتھنا نے یہ بھی بتایا کہ کن اقدامات سے یہ شعبے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ پُرکشش بن سکتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’’مزید ادارہ جاتی سرمایہ کاری راغب کرنے کے لیے سرمایہ کاروں کو کاروباری ماحول پر اعتماد، قابلِ اعتماد معلومات تک رسائی اور مضبوط تجارتی بنیادوں پر استوار سرمایہ کاری کے مواقع درکار ہوتے ہیں۔‘‘</p>
<p>بی آئی آئی کی حکمت عملی ترقی پذیر معیشتوں میں سرمایہ کاری کے لیے سرمایہ متحرک کرنے پر مرکوز ہے۔</p>
<p>امتیاز سیتھنا نے کہا کہ ’’پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، اور طویل مدتی ماحولیاتی و معاشی لچک پیدا کرنے اور پائیدار ترقی کی حمایت کے لیے موسمیاتی فنانس تک رسائی بڑھانا ناگزیر ہے۔‘‘</p>
<p>پاکستان مائیکروفنانس انویسٹمنٹ کمپنی (پی ایم آئی سی) کے ساتھ خطرات میں شراکت داری کی سہولت کے بارے میں بات کرتے ہوئے، جس کے لیے بی آئی آئی نے 15 ملین ڈالر فراہم کرنے کا عزم کیا ہے، انہوں نے کہا کہ ’’اس سہولت کا مقصد پی ایم آئی سی کے قرضوں کے پورٹ فولیو کے ذریعے 30 ملین ڈالر تک کے اضافی قرضوں کی فراہمی ممکن بنانا ہے۔‘‘</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ’’خطرات میں شراکت داری کے ذریعے یہ سہولت پی ایم آئی سی کو مائیکروفنانس فراہم کرنے والے اداروں کے ذریعے قرضوں کی فراہمی بڑھانے اور ایسے صارفین تک پہنچنے کے قابل بناتی ہے جنہیں بصورتِ دیگر رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔‘‘</p>
<p>انٹرویو میں موسمیاتی فنانس کے لیے بینک الفلاح میں بی آئی آئی کی 50 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری اور حبیب بینک لمیٹڈ (ایچ بی ایل) کے لیے 75 ملین ڈالر کی سہولت کا بھی ذکر کیا گیا۔</p>
<p>امتیاز سیتھنا نے کہا کہ ’’بینک الفلاح اور ایچ بی ایل میں ہماری حالیہ سرمایہ کاریاں اسی حکمت عملی کی عکاس ہیں، جن کا مقصد موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت، غذائی تحفظ اور پائیدار مالیاتی نظام کو فروغ دینا ہے۔‘‘</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ’’ہم نے پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری میں معاونت کے لیے میگا موٹرز میں بھی سرمایہ کاری کی ہے۔‘‘</p>
<p>پاکستان میں بی آئی آئی کی سابقہ نمایاں سرمایہ کاریوں میں دراز ڈاٹ پی کے، جھمپیر پاور (پرائیویٹ) لمیٹڈ، کشف فاؤنڈیشن اور ژینفا پاکستان نیو انرجی کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ شامل ہیں۔</p>
<p>موسمیاتی فنانس کے علاوہ، پاکستان میں بی آئی آئی کا قابلِ تجدید توانائی کا پورٹ فولیو 460 میگاواٹ سے زیادہ صاف توانائی فراہم کرتا ہے، جس میں 100 میگاواٹ کا اٹلس سولر منصوبہ اور 50 میگاواٹ کا زیفائر ونڈ فارم شامل ہیں۔</p>
<p>مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے امتیاز سیتھنا نے کہا کہ ’’ہم حکومت سے اتفاق کرتے ہیں کہ بجلی کے شعبے کے لیے ترسیل اور تقسیم کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری ترجیحی اہمیت رکھتی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ بی آئی آئی کو دیگر منڈیوں میں اس شعبے میں سرمایہ کاری اور کام کرنے کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’’ہم پاکستان میں اس حوالے سے متعلقہ تجربات اور اسباق شیئر کرنے کے منتظر ہیں۔‘‘</p>
<p>آئندہ تین سے پانچ برس کے امکانات پر بات کرتے ہوئے امتیاز سیتھنا نے کہا کہ معاشی حالات مستحکم ہونے کے ساتھ ’’معیشت کے پیداواری شعبوں میں مزید طویل مدتی سرمایہ کاری راغب کرنے کا موقع موجود ہے۔‘‘</p>
<p>انہوں نے اختتام پر کہا کہ ’’بی آئی آئی کا کردار مقامی اداروں اور نجی سرمایہ کاروں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے اس سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنا ہے۔‘‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292388</guid>
      <pubDate>Sat, 10 Oct 2026 19:23:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/101917052cb8afe.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/101917052cb8afe.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
