<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 10 Oct 2026 20:13:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 10 Oct 2026 20:13:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمٰن کی وفاقی اور خیبر پختونخوا حکومتوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے پر بات چیت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292386/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روز جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور انہیں ملاقات کے لیے وزیراعظم ہاؤس آنے کی دعوت دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن نے دعوت قبول کرلی ہے اور توقع ہے کہ ملاقات جلد ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے طریقوں پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اسلام آباد کی جانب مارچ کے معاملے پر کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ پارٹی کے حامی 4 اکتوبر سے خیبر پختونخوا میں سڑکوں پر موجود ہیں اور گزشتہ ہفتے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان متعدد امور، بالخصوص انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی پر مذاکرات بے نتیجہ ختم ہونے کے بعد وفاقی دارالحکومت کی جانب پیش قدمی کی تیاری کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، بزنس ریکارڈر نے جمعرات کو ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں قائم حکمران اتحاد اور اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی اصولی طور پر اپنے سیاسی اختلافات دور کرنے کے لیے جے یو آئی (ف) کے سربراہ کو ثالث تسلیم کرنے پر متفق ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پیش رفت سے باخبر ذرائع نے اخبار کو بتایا کہ حکومت اور پی ٹی آئی، دونوں نے مولانا فضل الرحمٰن سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے رابطہ کیا ہے۔ تاہم، جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے باضابطہ طور پر یہ ذمہ داری قبول کرنے سے پہلے کچھ شرائط رکھی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اطلاعات کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن نے واضح کیا ہے کہ وہ اسی وقت مداخلت کریں گے جب فریقین بعض بنیادی امور پر اتفاقِ رائے پیدا کرلیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ ایک دوسرے کے موقف کو تسلیم کریں اور سیاسی روابط کے ذریعے مشترکہ بنیاد تلاش کرنے کی کوشش کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روز جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور انہیں ملاقات کے لیے وزیراعظم ہاؤس آنے کی دعوت دی۔</strong></p>
<p>وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن نے دعوت قبول کرلی ہے اور توقع ہے کہ ملاقات جلد ہوگی۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے طریقوں پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔</p>
<p>یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اسلام آباد کی جانب مارچ کے معاملے پر کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ پارٹی کے حامی 4 اکتوبر سے خیبر پختونخوا میں سڑکوں پر موجود ہیں اور گزشتہ ہفتے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان متعدد امور، بالخصوص انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی پر مذاکرات بے نتیجہ ختم ہونے کے بعد وفاقی دارالحکومت کی جانب پیش قدمی کی تیاری کر رہے ہیں۔</p>
<p>دریں اثنا، بزنس ریکارڈر نے جمعرات کو ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں قائم حکمران اتحاد اور اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی اصولی طور پر اپنے سیاسی اختلافات دور کرنے کے لیے جے یو آئی (ف) کے سربراہ کو ثالث تسلیم کرنے پر متفق ہوگئے ہیں۔</p>
<p>اس پیش رفت سے باخبر ذرائع نے اخبار کو بتایا کہ حکومت اور پی ٹی آئی، دونوں نے مولانا فضل الرحمٰن سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے رابطہ کیا ہے۔ تاہم، جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے باضابطہ طور پر یہ ذمہ داری قبول کرنے سے پہلے کچھ شرائط رکھی ہیں۔</p>
<p>اطلاعات کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن نے واضح کیا ہے کہ وہ اسی وقت مداخلت کریں گے جب فریقین بعض بنیادی امور پر اتفاقِ رائے پیدا کرلیں گے۔</p>
<p>انہوں نے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ ایک دوسرے کے موقف کو تسلیم کریں اور سیاسی روابط کے ذریعے مشترکہ بنیاد تلاش کرنے کی کوشش کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292386</guid>
      <pubDate>Sat, 10 Oct 2026 19:31:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/101820073a39de2.webp" type="image/webp" medium="image" height="478" width="856">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/101820073a39de2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
