<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 10 Oct 2026 18:41:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 10 Oct 2026 18:41:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سولر پاکستان 2026ء کا کراچی میں آغاز، متبادل توانائی کے استعمال پر زور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292382/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے جمعہ کو کراچی ایکسپو سینٹر میں سولر پاکستان 2026ء کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے متبادل توانائی کے ذرائع کے استعمال میں اضافے پر زور دیا تاکہ اخراجات کم کرنے اور ملک کی توانائی سلامتی کو مضبوط بنانے میں مدد مل سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیکٹ ایگزیبیشنز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے زیر اہتمام تین روزہ نمائش 11 اکتوبر تک جاری رہے گی جس میں 15 ممالک کی 350 سے زائد کمپنیاں شمسی توانائی کی ٹیکنالوجیز، توانائی ذخیرہ کرنے کے حل اور اسمارٹ گرڈ سسٹمز پیش کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ شمسی توانائی پہلے ہی گھریلو صارفین، کسانوں اور چھوٹے کاروباروں کے لیے توانائی  اخراجات کم کرنے کے ساتھ صنعتی سرگرمیوں کو سہارا دے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سندھ سمیت ملک کے دیگر حصوں میں قابلِ تجدید توانائی کے استعمال کو وسعت دینے کے لیے نجی شعبے، تعلیمی اداروں، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں اور پالیسی سازوں کے درمیان زیادہ تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیکٹ ایگزیبیشنز کے چیف ایگزیکٹو سلیم خان تنولی نے کہا کہ پاکستان توانائی کی منتقلی کے ایک اہم مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں شمسی توانائی زیادہ سستے اور پائیدار توانائی نظام کی تشکیل کے مواقع فراہم کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سندھ میں دھوپ کی وافر دستیابی، طویل ساحلی پٹی اور صنعتی بنیاد کے باعث قابلِ تجدید توانائی کی ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کاروباری اداروں، حکومتی نمائندوں اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے لیے موزوں مقام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سولر پاکستان 2026ء کا انعقاد ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ملک توانائی کے ذرائع میں تنوع لانے اور توانائی کے تحفظ کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نمائش میں شمسی توانائی کے استعمال کو وسعت دینے اور گھریلو صارفین، زراعت اور صنعت کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدید حل تیار کرنے کے مواقع کو اجاگر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے جمعہ کو کراچی ایکسپو سینٹر میں سولر پاکستان 2026ء کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے متبادل توانائی کے ذرائع کے استعمال میں اضافے پر زور دیا تاکہ اخراجات کم کرنے اور ملک کی توانائی سلامتی کو مضبوط بنانے میں مدد مل سکے۔</strong></p>
<p>فیکٹ ایگزیبیشنز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے زیر اہتمام تین روزہ نمائش 11 اکتوبر تک جاری رہے گی جس میں 15 ممالک کی 350 سے زائد کمپنیاں شمسی توانائی کی ٹیکنالوجیز، توانائی ذخیرہ کرنے کے حل اور اسمارٹ گرڈ سسٹمز پیش کر رہی ہیں۔</p>
<p>افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ شمسی توانائی پہلے ہی گھریلو صارفین، کسانوں اور چھوٹے کاروباروں کے لیے توانائی  اخراجات کم کرنے کے ساتھ صنعتی سرگرمیوں کو سہارا دے رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے سندھ سمیت ملک کے دیگر حصوں میں قابلِ تجدید توانائی کے استعمال کو وسعت دینے کے لیے نجی شعبے، تعلیمی اداروں، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں اور پالیسی سازوں کے درمیان زیادہ تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>فیکٹ ایگزیبیشنز کے چیف ایگزیکٹو سلیم خان تنولی نے کہا کہ پاکستان توانائی کی منتقلی کے ایک اہم مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں شمسی توانائی زیادہ سستے اور پائیدار توانائی نظام کی تشکیل کے مواقع فراہم کررہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سندھ میں دھوپ کی وافر دستیابی، طویل ساحلی پٹی اور صنعتی بنیاد کے باعث قابلِ تجدید توانائی کی ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کاروباری اداروں، حکومتی نمائندوں اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے لیے موزوں مقام ہے۔</p>
<p>سولر پاکستان 2026ء کا انعقاد ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ملک توانائی کے ذرائع میں تنوع لانے اور توانائی کے تحفظ کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔</p>
<p>نمائش میں شمسی توانائی کے استعمال کو وسعت دینے اور گھریلو صارفین، زراعت اور صنعت کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدید حل تیار کرنے کے مواقع کو اجاگر کیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292382</guid>
      <pubDate>Sat, 10 Oct 2026 16:19:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/101617058aaaf8d.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/101617058aaaf8d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
