<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 10 Oct 2026 16:21:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 10 Oct 2026 16:21:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کا تجارتی بحری جہازوں کے تحفظ اور یمن تنازع کے سیاسی حل پر زور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292368/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے سعودی عرب پر حوثیوں کے مسلسل حملوں کی مذمت کرتے ہوئے تجارتی بحری جہازوں پر حملے فوری روکنے کا مطالبہ کیا۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر بھی زور دیا کہ وہ یمن میں جاری تنازع اور انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کرے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یمن کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ماہانہ اجلاس میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتی کشیدگی، بحری آمدورفت کو لاحق خطرات، تعز اور باب المندب کے اطراف لڑائی اور بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاصم افتخار احمد نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کی جن میں مکہ مکرمہ گورنریٹ کے بنیادی ڈھانچے اور مدینہ منورہ میں طیبہ بجلی کی تقسیم کے اسٹیشن کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملوں کا بھی ذکر کیا جن کے نتیجے میں شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے حملوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ علاقائی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حرمین شریفین کے تقدس اور سلامتی کا احترام کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے پاکستانی سفیر نے وزیراعظم شہباز شریف کے اس بیان کا حوالہ دیا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے اور اس کی اسٹریٹجک، سیاسی و دفاعی کمیٹی کے حالیہ فیصلوں کے تحت سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کیلئے پاکستان کا عزم غیرمتزلزل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے عوام کے دفاع اور اپنے شہروں اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے حق کی بھی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کے اس مطالبے کا اعادہ کیا کہ حوثی ملیشیا اپنے حملے بند کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یمن کے حوالے سے پاکستانی سفیر نے ملک کی خودمختاری، آزادی، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے ساتھ ساتھ اس کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یمن کے مغربی ساحل اور باب المندب کے اطراف حوثیوں کے بڑھتے حملوں سے بحری سلامتی کے تحفظ کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔ ان کے مطابق تجارتی جہازوں پر حملے بند ہونے چاہییں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق آزادانہ بحری آمدورفت کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ان اہم بحری گزرگاہوں کو ایسے حملوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا جو سمندری عملے کی جانوں کو خطرے میں ڈالیں، تجارت میں خلل پیدا کریں اور عالمی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاصم افتخار احمد نے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن ہانس گرنڈبرگ کی سفارتی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کشیدگی پر قابو پانے، رابطے برقرار رکھنے اور لڑائی روکنے کے لیے تمام دستیاب ذرائع بروئے کار لائے جانے چاہییں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ان کوششوں کا مقصد اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ایک قابلِ اعتماد اور جامع سیاسی عمل کی بحالی میں مدد دینا ہونا چاہیے جس کی قیادت یمنی عوام کریں اور جس کی ملکیت بھی انہی کے پاس ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی سفیر نے شہریوں اور بنیادی سہولتوں کے تحفظ پر بھی زور دیا۔ انہوں نے تعز کے اطراف دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی اور حوثی عناصر کی جانب سے عدن ایئرپورٹ پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعات شہری آبادی کو درپیش خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ضرورت مند افراد تک انسانی امداد کی محفوظ، تیز رفتار اور بلا رکاوٹ رسائی یقینی بنانے، امدادی سرگرمیوں کے لیے مناسب مالی وسائل فراہم کرنے اور خوراک، ایندھن سمیت ضروری تجارتی سامان کی فراہمی پر بھی زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے زیرِ حراست اقوام متحدہ کے اہلکاروں، امدادی کارکنوں اور سفارتی عملے کی فوری، غیر مشروط اور محفوظ رہائی کے مطالبے کا بھی اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ حوثیوں کے حملے رکوانے، علاقائی سلامتی کے تحفظ، انسانی مصائب میں کمی اور سیاسی تصفیے کی جانب پیشرفت بحال کرنے کے لیے متحد ہوکر اقدامات کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان یمنی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور پُرامن، مستحکم اور متحد یمن کے قیام کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے سعودی عرب پر حوثیوں کے مسلسل حملوں کی مذمت کرتے ہوئے تجارتی بحری جہازوں پر حملے فوری روکنے کا مطالبہ کیا۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر بھی زور دیا کہ وہ یمن میں جاری تنازع اور انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کرے۔</strong></p>
<p>یمن کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ماہانہ اجلاس میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتی کشیدگی، بحری آمدورفت کو لاحق خطرات، تعز اور باب المندب کے اطراف لڑائی اور بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔</p>
<p>عاصم افتخار احمد نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کی جن میں مکہ مکرمہ گورنریٹ کے بنیادی ڈھانچے اور مدینہ منورہ میں طیبہ بجلی کی تقسیم کے اسٹیشن کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملوں کا بھی ذکر کیا جن کے نتیجے میں شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے۔</p>
<p>انہوں نے حملوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ علاقائی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حرمین شریفین کے تقدس اور سلامتی کا احترام کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>سعودی عرب کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے پاکستانی سفیر نے وزیراعظم شہباز شریف کے اس بیان کا حوالہ دیا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے اور اس کی اسٹریٹجک، سیاسی و دفاعی کمیٹی کے حالیہ فیصلوں کے تحت سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کیلئے پاکستان کا عزم غیرمتزلزل ہے۔</p>
<p>عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے عوام کے دفاع اور اپنے شہروں اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے حق کی بھی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کے اس مطالبے کا اعادہ کیا کہ حوثی ملیشیا اپنے حملے بند کرے۔</p>
<p>یمن کے حوالے سے پاکستانی سفیر نے ملک کی خودمختاری، آزادی، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے ساتھ ساتھ اس کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یمن کے مغربی ساحل اور باب المندب کے اطراف حوثیوں کے بڑھتے حملوں سے بحری سلامتی کے تحفظ کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔ ان کے مطابق تجارتی جہازوں پر حملے بند ہونے چاہییں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق آزادانہ بحری آمدورفت کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ان اہم بحری گزرگاہوں کو ایسے حملوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا جو سمندری عملے کی جانوں کو خطرے میں ڈالیں، تجارت میں خلل پیدا کریں اور عالمی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ کریں۔</p>
<p>عاصم افتخار احمد نے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن ہانس گرنڈبرگ کی سفارتی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کشیدگی پر قابو پانے، رابطے برقرار رکھنے اور لڑائی روکنے کے لیے تمام دستیاب ذرائع بروئے کار لائے جانے چاہییں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ان کوششوں کا مقصد اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ایک قابلِ اعتماد اور جامع سیاسی عمل کی بحالی میں مدد دینا ہونا چاہیے جس کی قیادت یمنی عوام کریں اور جس کی ملکیت بھی انہی کے پاس ہو۔</p>
<p>پاکستانی سفیر نے شہریوں اور بنیادی سہولتوں کے تحفظ پر بھی زور دیا۔ انہوں نے تعز کے اطراف دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی اور حوثی عناصر کی جانب سے عدن ایئرپورٹ پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعات شہری آبادی کو درپیش خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے ضرورت مند افراد تک انسانی امداد کی محفوظ، تیز رفتار اور بلا رکاوٹ رسائی یقینی بنانے، امدادی سرگرمیوں کے لیے مناسب مالی وسائل فراہم کرنے اور خوراک، ایندھن سمیت ضروری تجارتی سامان کی فراہمی پر بھی زور دیا۔</p>
<p>پاکستان نے زیرِ حراست اقوام متحدہ کے اہلکاروں، امدادی کارکنوں اور سفارتی عملے کی فوری، غیر مشروط اور محفوظ رہائی کے مطالبے کا بھی اعادہ کیا۔</p>
<p>عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ حوثیوں کے حملے رکوانے، علاقائی سلامتی کے تحفظ، انسانی مصائب میں کمی اور سیاسی تصفیے کی جانب پیشرفت بحال کرنے کے لیے متحد ہوکر اقدامات کرے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان یمنی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور پُرامن، مستحکم اور متحد یمن کے قیام کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292368</guid>
      <pubDate>Sat, 10 Oct 2026 14:09:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/10134534c447996.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/10134534c447996.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
