<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 10 Oct 2026 03:00:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 10 Oct 2026 03:00:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آر ایل این جی کی فراہمی میں مشکلات، کے الیکٹرک کی بجلی کی زیادہ طلب کے اوقات میں لوڈ مینجمنٹ کی تنبیہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292359/</link>
      <description>&lt;p&gt;کے الیکٹرک (کے ای) کے ترجمان نے جمعے کو کہا کہ ملک بھر میں ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کی فراہمی میں رکاوٹوں کے باعث بجلی کی تقسیم کار کمپنی شام اور رات کے اوقاتِ عروج میں لوڈ مینجمنٹ کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک کراچی میں بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کی ذمہ دار مرکزی کمپنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل سے اکتوبر تک بجلی کے اوقاتِ عروج شام 6 بج کر 30 منٹ سے رات 10 بج کر 30 منٹ تک، جبکہ نومبر سے مارچ تک شام 6 بجے سے رات 10 بجے تک ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں ترجمان عمران رانا نے کہا کہ عالمی سطح پر رسد میں تعطل اور گیس کے جہازوں کی آمد میں تاخیر کے باعث آر ایل این جی کی فراہمی محدود ہوگئی ہے، جس سے کے الیکٹرک کے زیرِ انتظام علاقے سمیت ملک بھر میں بجلی کی پیداوار متاثر ہورہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/imranrana21/status/2108558542773047381'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/imranrana21/status/2108558542773047381"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ دن کے اوقات میں بجلی کی فراہمی بڑی حد تک معمول کے مطابق رہے گی، تاہم ضرورت پڑنے پر شام اور رات کے اوقات میں بجلی کی زیادہ طلب کے دوران لوڈ مینجمنٹ کو ’’انتہائی اقدام اور آخری چارے‘‘ کے طور پر اختیار کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رانا نے مزید کہا کہ کے الیکٹرک پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) اور متعلقہ حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور صورتِ حال جلد از جلد معمول پر لانے کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کے الیکٹرک (کے ای) کے ترجمان نے جمعے کو کہا کہ ملک بھر میں ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کی فراہمی میں رکاوٹوں کے باعث بجلی کی تقسیم کار کمپنی شام اور رات کے اوقاتِ عروج میں لوڈ مینجمنٹ کرسکتی ہے۔</p>
<p>کے الیکٹرک کراچی میں بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کی ذمہ دار مرکزی کمپنی ہے۔</p>
<p>اپریل سے اکتوبر تک بجلی کے اوقاتِ عروج شام 6 بج کر 30 منٹ سے رات 10 بج کر 30 منٹ تک، جبکہ نومبر سے مارچ تک شام 6 بجے سے رات 10 بجے تک ہوتے ہیں۔</p>
<p>سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں ترجمان عمران رانا نے کہا کہ عالمی سطح پر رسد میں تعطل اور گیس کے جہازوں کی آمد میں تاخیر کے باعث آر ایل این جی کی فراہمی محدود ہوگئی ہے، جس سے کے الیکٹرک کے زیرِ انتظام علاقے سمیت ملک بھر میں بجلی کی پیداوار متاثر ہورہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/imranrana21/status/2108558542773047381'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/imranrana21/status/2108558542773047381"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ دن کے اوقات میں بجلی کی فراہمی بڑی حد تک معمول کے مطابق رہے گی، تاہم ضرورت پڑنے پر شام اور رات کے اوقات میں بجلی کی زیادہ طلب کے دوران لوڈ مینجمنٹ کو ’’انتہائی اقدام اور آخری چارے‘‘ کے طور پر اختیار کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>رانا نے مزید کہا کہ کے الیکٹرک پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) اور متعلقہ حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور صورتِ حال جلد از جلد معمول پر لانے کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292359</guid>
      <pubDate>Sat, 10 Oct 2026 00:00:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/092344399153361.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/092344399153361.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
