<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 10 Oct 2026 00:22:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 10 Oct 2026 00:22:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کے عمانی معاون پائلٹ کا خودکش حملے کا منصوبہ تھا، متحدہ عرب امارات کا دعویٰ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292356/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;متحدہ عرب امارات کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق، اٹارنی جنرل نے جمعے کو بتایا کہ فلائی دبئی کے ایک عمانی معاون پائلٹ نے 30 ستمبر کو دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز کو اپنے قبضے میں لے کر اسرائیل کے بین گوریون ایئرپورٹ کے ایک ٹرمینل سے ٹکرانے اور خودکش حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم ساتھی پائلٹ نے اس کی کوشش ناکام بنا دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری خبر رساں ادارے وام کے مطابق، متحدہ عرب امارات کے استغاثہ کا خیال ہے کہ اس منصوبے سے متاثر ہوکر نائن الیون کے حملوں کی طرز پر کارروائی کی جانی تھی۔ یہ نتیجہ یکم اکتوبر کو شروع کی گئی تحقیقات کے بعد اخذ کیا گیا، جن سے پتا چلا کہ مشتبہ شخص نے تل ابیب کے لیے اپنی دو سابقہ پروازوں کے دوران ’’پرواز کے راستے اور ایئرپورٹ سے واقفیت حاصل کرنے‘‘ کی کوشش کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس واقعے کے دوران طیارہ صرف 30 سیکنڈ میں 16 ہزار فٹ نیچے آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اٹارنی جنرل نے بتایا کہ مشتبہ شخص جنوری 2026 میں فلائی دبئی میں شمولیت سے قبل عمان ایئر اور رائل ایئر ماروک سمیت مختلف ممالک کی کئی فضائی کمپنیوں میں کام کرچکا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>متحدہ عرب امارات کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق، اٹارنی جنرل نے جمعے کو بتایا کہ فلائی دبئی کے ایک عمانی معاون پائلٹ نے 30 ستمبر کو دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز کو اپنے قبضے میں لے کر اسرائیل کے بین گوریون ایئرپورٹ کے ایک ٹرمینل سے ٹکرانے اور خودکش حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم ساتھی پائلٹ نے اس کی کوشش ناکام بنا دی۔</strong></p>
<p>سرکاری خبر رساں ادارے وام کے مطابق، متحدہ عرب امارات کے استغاثہ کا خیال ہے کہ اس منصوبے سے متاثر ہوکر نائن الیون کے حملوں کی طرز پر کارروائی کی جانی تھی۔ یہ نتیجہ یکم اکتوبر کو شروع کی گئی تحقیقات کے بعد اخذ کیا گیا، جن سے پتا چلا کہ مشتبہ شخص نے تل ابیب کے لیے اپنی دو سابقہ پروازوں کے دوران ’’پرواز کے راستے اور ایئرپورٹ سے واقفیت حاصل کرنے‘‘ کی کوشش کی تھی۔</p>
<p>اس واقعے کے دوران طیارہ صرف 30 سیکنڈ میں 16 ہزار فٹ نیچے آگیا۔</p>
<p>اٹارنی جنرل نے بتایا کہ مشتبہ شخص جنوری 2026 میں فلائی دبئی میں شمولیت سے قبل عمان ایئر اور رائل ایئر ماروک سمیت مختلف ممالک کی کئی فضائی کمپنیوں میں کام کرچکا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292356</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Oct 2026 22:30:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/09222511c489eab.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/09222511c489eab.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
