<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 09 Oct 2026 19:20:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 09 Oct 2026 19:20:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران امریکا تنازع میں اختلافات کم کرانے کے لیے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292347/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان ایران امریکا تنازع کے مذاکرات کے ذریعے پُرامن حل کے لیے پرعزم ہے، جبکہ جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنا ضروری ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی این این کے ساتھ انٹرویو کے ایک حصے میں، جسے ادارے کے نمائندے ایوان واٹسن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیا، فوجی ترجمان نے کہا کہ پاکستان اختلافات کم کرنے اور پُرامن حل کے حصول میں مدد کے لیے ہر ممکن اور ضروری کوشش جاری رکھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایک انتہائی دیانت دار ثالث کا کردار ادا کیا ہے اور اس کی غیر جانب داری دیانت داری کے ساتھ برقرار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امن و استحکام پاکستان کے اپنے مفاد میں بھی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/IvanCNN/status/2108433376252403734?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2108433376252403734%7Ctwgr%5E3369253ca0f3c53ccaccae5670df137ca0564ab0%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40443456'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/IvanCNN/status/2108433376252403734?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2108433376252403734%7Ctwgr%5E3369253ca0f3c53ccaccae5670df137ca0564ab0%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40443456"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے اپنے شراکت داروں اور دوست ممالک کے سامنے اپنا مؤقف واضح طور پر پیش کیا ہے۔ پاکستان نے ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں جبکہ خلیجی ممالک پر ایران کے حملوں کی مذمت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم اپنی بات کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں دکھاتے۔ان کا کہنا تھا کہ تنازع کے پھیلاؤ سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مکہ دفاعی معاہدے سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستانی افواج کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں تعینات ہیں، جبکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے تعلقات دیرینہ سفارتی، سیاسی، عسکری اور عوامی روابط پر مبنی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ اچانک وجود میں نہیں آیا اور اس پر عمل درآمد اور اس کے نتائج کا دائرہ  مکمل طور پر دفاعی ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احمد شریف چوہدری کے مطابق اس اقدام کا مقصد ممالک کو دوست یا دشمن قرار دینا نہیں، بلکہ سعودی عرب اور دونوں مقدس مساجد، مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام اور مدینہ منورہ میں مسجد نبوی ﷺ کا دفاع کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک کے پاس عسکری، سفارتی اور دیگر شعبوں میں نمایاں صلاحیتیں موجود ہیں، جبکہ اس اتحاد کا بنیادی مقصد سعودی عرب اور حرمین شریفین کا دفاع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے دو ماہ قبل سہ فریقی دفاعی فریم ورک پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت تینوں ممالک کی اجتماعی سلامتی، عسکری رابطہ کاری  مضبوط بنانے کے لیے طریقۂ کار وضع کیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان ایران امریکا تنازع کے مذاکرات کے ذریعے پُرامن حل کے لیے پرعزم ہے، جبکہ جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنا ضروری ہے۔</strong></p>
<p>سی این این کے ساتھ انٹرویو کے ایک حصے میں، جسے ادارے کے نمائندے ایوان واٹسن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیا، فوجی ترجمان نے کہا کہ پاکستان اختلافات کم کرنے اور پُرامن حل کے حصول میں مدد کے لیے ہر ممکن اور ضروری کوشش جاری رکھے گا۔</p>
<p>ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایک انتہائی دیانت دار ثالث کا کردار ادا کیا ہے اور اس کی غیر جانب داری دیانت داری کے ساتھ برقرار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امن و استحکام پاکستان کے اپنے مفاد میں بھی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/IvanCNN/status/2108433376252403734?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2108433376252403734%7Ctwgr%5E3369253ca0f3c53ccaccae5670df137ca0564ab0%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40443456'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/IvanCNN/status/2108433376252403734?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2108433376252403734%7Ctwgr%5E3369253ca0f3c53ccaccae5670df137ca0564ab0%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40443456"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے اپنے شراکت داروں اور دوست ممالک کے سامنے اپنا مؤقف واضح طور پر پیش کیا ہے۔ پاکستان نے ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں جبکہ خلیجی ممالک پر ایران کے حملوں کی مذمت کی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم اپنی بات کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں دکھاتے۔ان کا کہنا تھا کہ تنازع کے پھیلاؤ سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔</p>
<p>مکہ دفاعی معاہدے سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستانی افواج کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں تعینات ہیں، جبکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے تعلقات دیرینہ سفارتی، سیاسی، عسکری اور عوامی روابط پر مبنی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ اچانک وجود میں نہیں آیا اور اس پر عمل درآمد اور اس کے نتائج کا دائرہ  مکمل طور پر دفاعی ہوگا۔</p>
<p>احمد شریف چوہدری کے مطابق اس اقدام کا مقصد ممالک کو دوست یا دشمن قرار دینا نہیں، بلکہ سعودی عرب اور دونوں مقدس مساجد، مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام اور مدینہ منورہ میں مسجد نبوی ﷺ کا دفاع کرنا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک کے پاس عسکری، سفارتی اور دیگر شعبوں میں نمایاں صلاحیتیں موجود ہیں، جبکہ اس اتحاد کا بنیادی مقصد سعودی عرب اور حرمین شریفین کا دفاع ہے۔</p>
<p>پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے دو ماہ قبل سہ فریقی دفاعی فریم ورک پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت تینوں ممالک کی اجتماعی سلامتی، عسکری رابطہ کاری  مضبوط بنانے کے لیے طریقۂ کار وضع کیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292347</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Oct 2026 18:49:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/0917042899c327a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/0917042899c327a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
