<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 09 Oct 2026 17:09:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 09 Oct 2026 17:09:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی ایم ایل نے اونک سروس بند کرنے کا پی ٹی اے کا حکم چیلنج کردیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292341/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ (پی ٹی ایم ایل) نے اپنی ڈیجیٹل ٹیلی کام سروس اونک (ONIC) کی تجارتی سرگرمیاں فوری طور پر معطل کرنے کے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے حکم کو عدالت میں چیلنج کردیا جس کے بعد ریگولیٹری تنازع قانونی کارروائی تک پہنچ گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے نے پی ٹی ایم ایل کو اونک کی نئی فروخت، سروس ایکٹیویشن، سم اور ای سم کے اجرا، سبسکرپشنز، مارکیٹنگ اور تجارتی سرگرمیاں فوری  بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ اتھارٹی کے مطابق یہ سروس موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹر (ایم وی این او) کے ضوابط کے دائرے میں آتی ہے اور مطلوبہ ریگولیٹری اجازت کے بغیر موجودہ طریقۂ کار کے تحت کام نہیں کرسکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریگولیٹری حکم کے تحت پی ٹی ایم ایل کو موجودہ اونک صارفین کی سروس میں تعطل سے بچانے کے لیے انہیں پی ٹی ایم ایل پر منتقل کرنے کی غرض سے خصوصی طور پر تین ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی کو حکم موصول ہونے کے سات کاروباری دنوں کے اندر تعمیل سے متعلق جامع رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی ایم ایل نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے اونک کے طریقۂ کار اور اس پر موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹر (ایم وی این او) کے ضوابط کے اطلاق سے متعلق ریگولیٹر کے مؤقف کو متنازع قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنازع کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ آیا اونک، پی ٹی ایم ایل کا ایک ڈیجیٹل برانڈ ہے جو کمپنی کے موجودہ موبائل نیٹ ورک آپریٹر (ایم این او) لائسنس کے تحت کام کر رہا ہے یا یہ موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹر (ایم وی این او) طرز کی سروس ہے جس کے لیے الگ ریگولیٹری اجازت درکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماعت کے بعد اپنے فیصلے میں پی ٹی اے نے پی ٹی ایم ایل کا یہ مؤقف مسترد کردیا کہ اونک محض اس کا اپنا ڈیجیٹل برانڈ ہے۔ اتھارٹی نے قرار دیا کہ سروس کے تجارتی اور عملی انتظامات 2025 کے پالیسی فریم ورک کے تحت ایم وی این او کی بنیادی خصوصیات کے حامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتھارٹی نے نشاندہی کی کہ اونک، پی ٹی ایم ایل کا رجسٹرڈ برانڈ ہے اور اس کا نیٹ ورک، اسپیکٹرم اور نمبرنگ وسائل استعمال کرتا ہے، تاہم یہ مخصوص پیکجز صارفین سے تعلقات کے انتظام (سی آر ایم) اور بلنگ کے علیحدہ نظام، مخصوص ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور کسٹمر کیئر کے انتظامات کے ذریعے کام کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریگولیٹر نے ڈی ٹی ایم ایس کے کردار کو بھی نمایاں کیا جو ایک الگ ادارہ ہے اور صارفین سے براہِ راست رابطے اور اہم تجارتی امور کا ذمہ دار ہے۔ ان میں مارکیٹنگ، نئے صارفین کا حصول، صارف کی شناخت کی تصدیق (کے وائی سی)، سم کی ترسیل و انتظام، فروخت اور صارفین کو خدمات کی فراہمی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے نے بلڈ آپریٹ سروسز ایگریمنٹ کو بھی خاص اہمیت دی جس کے تحت ابتدائی تین سال کے دوران متعلقہ آمدن کا 55 فیصد ڈی ٹی ایم ایس کو ملتا ہے جبکہ طے شدہ شیڈول کے مطابق بعد میں اس کا حصہ کم ہوجاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتھارٹی نے قرار دیا کہ اونک برانڈ اور اس کے تحت استعمال ہونے والے لائسنس یافتہ نیٹ ورک کی ملکیت پی ٹی ایم ایل کے پاس ہونے سے بذاتِ خود ریگولیٹری تقاضوں کی تکمیل ثابت نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے نے صارفین کی معلومات اور کال ڈیٹیل ریکارڈز، قانونی نگرانی کے تحت مواصلات تک رسائی، ڈیٹا کی مقامی سطح پر محفوظ کاری اور سیکیورٹی، سم کے اجرا اور صارفین کی شناخت کی تصدیق (کے وائی سی)، بلنگ سسٹمز، سروس کے معیار، ہنگامی حالات میں ڈیٹا کی بحالی، کاروباری تسلسل، موبائل نمبر کی منتقلی اور تیسرے فریق کے ساتھ انتظامات سے متعلق خدشات بھی اٹھائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکم کے تحت پی ٹی ایم ایل کو یا تو اونک کی تنظیمِ نو کرکے اسے واضح طور پر اپنی موجودہ لائسنس کے تحت کام کرنے والی سروس بنانا ہوگا یا موجودہ آپریٹنگ ڈھانچہ برقرار رکھنے کی صورت میں مطلوبہ ایم وی این او لائسنس حاصل کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے نے واضح کیا کہ تین ماہ کی مہلت صرف موجودہ صارفین کی منتقلی کے لیے ہے اور اس دوران اونک کو اپنی تجارتی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تنازع جون 2023 میں شروع ہوا جب پی ٹی ایم ایل نے پی ٹی اے کو مطلع کیا کہ وہ کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی اور فیصل آباد کے صارفین کو ہدف بنانے والی ایپ پر مبنی ڈیجیٹل ٹیلی کام سروس اونک متعارف کرانا چاہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست 2023 میں ریگولیٹر نے پی ٹی ایم ایل کو ہدایت کی کہ مکمل معلومات فراہم کرکے ان کا جائزہ لیے جانے تک سروس شروع نہ کی جائے۔ اتھارٹی کو خدشہ تھا کہ مارکیٹ میں اونک کی پیشکش سے لائسنس یافتہ سیلولر آپریٹر کے ساتھ اس کے تعلق کے بارے میں صارفین میں ابہام پیدا ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعدازاں پی ٹی ایم ایل نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس ہدایت کو چیلنج کردیا۔ فروری 2026 میں عدالت نے درخواست کو نمائندگی میں تبدیل کرتے ہوئے معاملہ وجوہات پر مبنی فیصلہ کرنے کے لیے واپس پی ٹی اے کو بھیج دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی ایم ایل نے ریگولیٹر کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ اونک کوئی آزاد ٹیلی کام آپریٹر یا ایم وی این او نہیں، بلکہ ڈی ٹی ایم ایس کے ساتھ اس کا معاہدہ آؤٹ سورسنگ اور منظم خدمات کی فراہمی کا انتظام ہے۔ کمپنی کے مطابق صارفین، نمبرنگ وسائل، اسپیکٹرم اور حتمی ریگولیٹری ذمہ داری پی ٹی ایم ایل ہی کے پاس برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، پی ٹی اے نے نتیجہ اخذ کیا کہ تجارتی اور عملی انتظامات کی اصل نوعیت اونک کو ایم وی این او کے ریگولیٹری فریم ورک کے دائرے میں لاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی ایم ایل کی جانب سے تازہ عدالتی چیلنج کے بعد تنازع ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے جس میں اونک کی تجارتی سرگرمیوں پر پابندیاں اور موجودہ صارفین کی منتقلی اہم معاملہ بن گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ (پی ٹی ایم ایل) نے اپنی ڈیجیٹل ٹیلی کام سروس اونک (ONIC) کی تجارتی سرگرمیاں فوری طور پر معطل کرنے کے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے حکم کو عدالت میں چیلنج کردیا جس کے بعد ریگولیٹری تنازع قانونی کارروائی تک پہنچ گیا ہے۔</strong></p>
<p>پی ٹی اے نے پی ٹی ایم ایل کو اونک کی نئی فروخت، سروس ایکٹیویشن، سم اور ای سم کے اجرا، سبسکرپشنز، مارکیٹنگ اور تجارتی سرگرمیاں فوری  بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ اتھارٹی کے مطابق یہ سروس موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹر (ایم وی این او) کے ضوابط کے دائرے میں آتی ہے اور مطلوبہ ریگولیٹری اجازت کے بغیر موجودہ طریقۂ کار کے تحت کام نہیں کرسکتی۔</p>
<p>ریگولیٹری حکم کے تحت پی ٹی ایم ایل کو موجودہ اونک صارفین کی سروس میں تعطل سے بچانے کے لیے انہیں پی ٹی ایم ایل پر منتقل کرنے کی غرض سے خصوصی طور پر تین ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی کو حکم موصول ہونے کے سات کاروباری دنوں کے اندر تعمیل سے متعلق جامع رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔</p>
<p>پی ٹی ایم ایل نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے اونک کے طریقۂ کار اور اس پر موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹر (ایم وی این او) کے ضوابط کے اطلاق سے متعلق ریگولیٹر کے مؤقف کو متنازع قرار دیا ہے۔</p>
<p>تنازع کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ آیا اونک، پی ٹی ایم ایل کا ایک ڈیجیٹل برانڈ ہے جو کمپنی کے موجودہ موبائل نیٹ ورک آپریٹر (ایم این او) لائسنس کے تحت کام کر رہا ہے یا یہ موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹر (ایم وی این او) طرز کی سروس ہے جس کے لیے الگ ریگولیٹری اجازت درکار ہے۔</p>
<p>سماعت کے بعد اپنے فیصلے میں پی ٹی اے نے پی ٹی ایم ایل کا یہ مؤقف مسترد کردیا کہ اونک محض اس کا اپنا ڈیجیٹل برانڈ ہے۔ اتھارٹی نے قرار دیا کہ سروس کے تجارتی اور عملی انتظامات 2025 کے پالیسی فریم ورک کے تحت ایم وی این او کی بنیادی خصوصیات کے حامل ہیں۔</p>
<p>اتھارٹی نے نشاندہی کی کہ اونک، پی ٹی ایم ایل کا رجسٹرڈ برانڈ ہے اور اس کا نیٹ ورک، اسپیکٹرم اور نمبرنگ وسائل استعمال کرتا ہے، تاہم یہ مخصوص پیکجز صارفین سے تعلقات کے انتظام (سی آر ایم) اور بلنگ کے علیحدہ نظام، مخصوص ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور کسٹمر کیئر کے انتظامات کے ذریعے کام کرتا ہے۔</p>
<p>ریگولیٹر نے ڈی ٹی ایم ایس کے کردار کو بھی نمایاں کیا جو ایک الگ ادارہ ہے اور صارفین سے براہِ راست رابطے اور اہم تجارتی امور کا ذمہ دار ہے۔ ان میں مارکیٹنگ، نئے صارفین کا حصول، صارف کی شناخت کی تصدیق (کے وائی سی)، سم کی ترسیل و انتظام، فروخت اور صارفین کو خدمات کی فراہمی شامل ہیں۔</p>
<p>پی ٹی اے نے بلڈ آپریٹ سروسز ایگریمنٹ کو بھی خاص اہمیت دی جس کے تحت ابتدائی تین سال کے دوران متعلقہ آمدن کا 55 فیصد ڈی ٹی ایم ایس کو ملتا ہے جبکہ طے شدہ شیڈول کے مطابق بعد میں اس کا حصہ کم ہوجاتا ہے۔</p>
<p>اتھارٹی نے قرار دیا کہ اونک برانڈ اور اس کے تحت استعمال ہونے والے لائسنس یافتہ نیٹ ورک کی ملکیت پی ٹی ایم ایل کے پاس ہونے سے بذاتِ خود ریگولیٹری تقاضوں کی تکمیل ثابت نہیں ہوتی۔</p>
<p>پی ٹی اے نے صارفین کی معلومات اور کال ڈیٹیل ریکارڈز، قانونی نگرانی کے تحت مواصلات تک رسائی، ڈیٹا کی مقامی سطح پر محفوظ کاری اور سیکیورٹی، سم کے اجرا اور صارفین کی شناخت کی تصدیق (کے وائی سی)، بلنگ سسٹمز، سروس کے معیار، ہنگامی حالات میں ڈیٹا کی بحالی، کاروباری تسلسل، موبائل نمبر کی منتقلی اور تیسرے فریق کے ساتھ انتظامات سے متعلق خدشات بھی اٹھائے۔</p>
<p>حکم کے تحت پی ٹی ایم ایل کو یا تو اونک کی تنظیمِ نو کرکے اسے واضح طور پر اپنی موجودہ لائسنس کے تحت کام کرنے والی سروس بنانا ہوگا یا موجودہ آپریٹنگ ڈھانچہ برقرار رکھنے کی صورت میں مطلوبہ ایم وی این او لائسنس حاصل کرنا ہوگا۔</p>
<p>پی ٹی اے نے واضح کیا کہ تین ماہ کی مہلت صرف موجودہ صارفین کی منتقلی کے لیے ہے اور اس دوران اونک کو اپنی تجارتی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔</p>
<p>یہ تنازع جون 2023 میں شروع ہوا جب پی ٹی ایم ایل نے پی ٹی اے کو مطلع کیا کہ وہ کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی اور فیصل آباد کے صارفین کو ہدف بنانے والی ایپ پر مبنی ڈیجیٹل ٹیلی کام سروس اونک متعارف کرانا چاہتی ہے۔</p>
<p>اگست 2023 میں ریگولیٹر نے پی ٹی ایم ایل کو ہدایت کی کہ مکمل معلومات فراہم کرکے ان کا جائزہ لیے جانے تک سروس شروع نہ کی جائے۔ اتھارٹی کو خدشہ تھا کہ مارکیٹ میں اونک کی پیشکش سے لائسنس یافتہ سیلولر آپریٹر کے ساتھ اس کے تعلق کے بارے میں صارفین میں ابہام پیدا ہوسکتا ہے۔</p>
<p>بعدازاں پی ٹی ایم ایل نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس ہدایت کو چیلنج کردیا۔ فروری 2026 میں عدالت نے درخواست کو نمائندگی میں تبدیل کرتے ہوئے معاملہ وجوہات پر مبنی فیصلہ کرنے کے لیے واپس پی ٹی اے کو بھیج دیا۔</p>
<p>پی ٹی ایم ایل نے ریگولیٹر کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ اونک کوئی آزاد ٹیلی کام آپریٹر یا ایم وی این او نہیں، بلکہ ڈی ٹی ایم ایس کے ساتھ اس کا معاہدہ آؤٹ سورسنگ اور منظم خدمات کی فراہمی کا انتظام ہے۔ کمپنی کے مطابق صارفین، نمبرنگ وسائل، اسپیکٹرم اور حتمی ریگولیٹری ذمہ داری پی ٹی ایم ایل ہی کے پاس برقرار ہے۔</p>
<p>تاہم، پی ٹی اے نے نتیجہ اخذ کیا کہ تجارتی اور عملی انتظامات کی اصل نوعیت اونک کو ایم وی این او کے ریگولیٹری فریم ورک کے دائرے میں لاتی ہے۔</p>
<p>پی ٹی ایم ایل کی جانب سے تازہ عدالتی چیلنج کے بعد تنازع ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے جس میں اونک کی تجارتی سرگرمیوں پر پابندیاں اور موجودہ صارفین کی منتقلی اہم معاملہ بن گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292341</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Oct 2026 15:26:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/0915250002b6e9d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/0915250002b6e9d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
