<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 09 Oct 2026 14:23:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 09 Oct 2026 14:23:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس 600 پوائنٹس بڑھ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292316/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں  جمعہ کو خریداری کا رجحان دیکھا گیا جس کے نتیجے میں  بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 600 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری آئی کہ امریکا آئندہ ماہ ہونے والے انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صبح 9 بج کر 30 منٹ پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 601.43 پوائنٹس یا 0.36 فیصد اضافےسے 168,043.33 پوائنٹس پر جاپہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) اور بجلی پیدا کرنے والے شعبوں سمیت اہم شعبوں میں خریداری کا رجحان دیکھا گیا۔حبکو، ماری، او جی ڈی سی، پی پی ایل، پول، ایس ایس جی سی، پی ایس او، ایچ بی ایل، ایم ای بی ایل، ایم سی بی اور یو بی ایل بھھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بڑے پیمانے پر پرافٹ ٹیکنگ کا رجحان دیکھا گیا۔ گزشتہ روز  بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,138.50 پوائنٹس یا 0.68 فیصد کی کمی سے 167,441.91 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی منڈیوں میں جمعہ کو ایشیائی حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی جبکہ سرمایہ کار توانائی کی بلند قیمتوں، بانڈ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور اے آئی میں سرمایہ کاری کے لیے درکار بھاری رقوم کے حوالے سے فکرمند رہے جس کے باعث ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں مسلسل دوسرے ہفتے بھی گراوٹ کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیائی کاروباری اوقات کے دوران برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 103.70 ڈالر فی بیرل پر ہوئے۔ گزشتہ کاروباری سیشن میں قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس کی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے حوالے سے خدشات ہیں جنہوں نے مہنگائی میں اضافے کے خدشات کو تقویت دی  اور دنیا بھر میں شرح سود بڑھنے کا باعث بنے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ امریکا نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا، تاہم تاجروں کو جنگ ختم کرنے کے لیے کسی پیش رفت کے امکانات پر شکوک و شبہات برقرار رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حصص کی منڈیوں میں جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کا جائزہ لینے والا ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس 0.16 فیصد گرگیا اور رواں ہفتے مجموعی طور پر ایک فیصد سے زیادہ کمی کی جانب گامزن رہا۔ تعطیل کے باعث جنوبی کوریا اور تائیوان کی اسٹاک مارکیٹیں بند رہیں جبکہ جاپان کا نکیئی انڈیکس ایک فیصد سے زائد نیچے آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوپن اے آئی کی سالانہ بنیاد پر آمدنی کے بارے میں ایک رپورٹ کے بعد گزشتہ شب امریکی اسٹاک مارکیٹ کے اہم انڈیکسز میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص کی فروخت کے باعث کمی ہوئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اوپن اے آئی کی سالانہ بنیاد پر آمدنی کمپنی کی جانب سے پہلے ظاہر کیے گئے تخمینے سے 20 ارب ڈالر کم تھی جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو دھچکا لگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کار بڑے پیمانے پر متوقع فنڈز اکٹھا کرنے کی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ اسپیس ایکس، براڈکام اور اوریکل کی جانب سے جدید ترین اے آئی چپس کی خریداری کے لیے اربوں ڈالر جمع کرنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں  جمعہ کو خریداری کا رجحان دیکھا گیا جس کے نتیجے میں  بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 600 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری آئی کہ امریکا آئندہ ماہ ہونے والے انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔</strong></p>
<p>صبح 9 بج کر 30 منٹ پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 601.43 پوائنٹس یا 0.36 فیصد اضافےسے 168,043.33 پوائنٹس پر جاپہنچا۔</p>
<p>آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) اور بجلی پیدا کرنے والے شعبوں سمیت اہم شعبوں میں خریداری کا رجحان دیکھا گیا۔حبکو، ماری، او جی ڈی سی، پی پی ایل، پول، ایس ایس جی سی، پی ایس او، ایچ بی ایل، ایم ای بی ایل، ایم سی بی اور یو بی ایل بھھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔</p>
<p>جمعرات کو مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بڑے پیمانے پر پرافٹ ٹیکنگ کا رجحان دیکھا گیا۔ گزشتہ روز  بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,138.50 پوائنٹس یا 0.68 فیصد کی کمی سے 167,441.91 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>عالمی منڈیوں میں جمعہ کو ایشیائی حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی جبکہ سرمایہ کار توانائی کی بلند قیمتوں، بانڈ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور اے آئی میں سرمایہ کاری کے لیے درکار بھاری رقوم کے حوالے سے فکرمند رہے جس کے باعث ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں مسلسل دوسرے ہفتے بھی گراوٹ کا امکان ہے۔</p>
<p>ایشیائی کاروباری اوقات کے دوران برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 103.70 ڈالر فی بیرل پر ہوئے۔ گزشتہ کاروباری سیشن میں قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس کی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے حوالے سے خدشات ہیں جنہوں نے مہنگائی میں اضافے کے خدشات کو تقویت دی  اور دنیا بھر میں شرح سود بڑھنے کا باعث بنے ہیں۔</p>
<p>یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ امریکا نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا، تاہم تاجروں کو جنگ ختم کرنے کے لیے کسی پیش رفت کے امکانات پر شکوک و شبہات برقرار رہے۔</p>
<p>حصص کی منڈیوں میں جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کا جائزہ لینے والا ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس 0.16 فیصد گرگیا اور رواں ہفتے مجموعی طور پر ایک فیصد سے زیادہ کمی کی جانب گامزن رہا۔ تعطیل کے باعث جنوبی کوریا اور تائیوان کی اسٹاک مارکیٹیں بند رہیں جبکہ جاپان کا نکیئی انڈیکس ایک فیصد سے زائد نیچے آگیا۔</p>
<p>اوپن اے آئی کی سالانہ بنیاد پر آمدنی کے بارے میں ایک رپورٹ کے بعد گزشتہ شب امریکی اسٹاک مارکیٹ کے اہم انڈیکسز میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص کی فروخت کے باعث کمی ہوئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اوپن اے آئی کی سالانہ بنیاد پر آمدنی کمپنی کی جانب سے پہلے ظاہر کیے گئے تخمینے سے 20 ارب ڈالر کم تھی جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو دھچکا لگا۔</p>
<p>سرمایہ کار بڑے پیمانے پر متوقع فنڈز اکٹھا کرنے کی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ اسپیس ایکس، براڈکام اور اوریکل کی جانب سے جدید ترین اے آئی چپس کی خریداری کے لیے اربوں ڈالر جمع کرنے کی توقع ہے۔</p>
<p>یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292316</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Oct 2026 10:46:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/0910392970d3283.webp" type="image/webp" medium="image" height="651" width="1156">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/0910392970d3283.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
