<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 09 Oct 2026 00:44:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 09 Oct 2026 00:44:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حوثیوں کے حملوں میں شدت، ریاض ایئرپورٹ پر طیارے سے دھوئیں کے بادل اٹھنے لگے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292311/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یمن کے حوثیوں نے جمعرات کو سعودی عرب کے خلاف حملوں کی مہم میں شدت پیدا کردی اور میزائل حملوں کے ذریعے مملکت کی فضائی حدود اور تیل تنصیبات کو بند کرنے کی کوشش کی۔ رواں ہفتے ان حملوں میں تین افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حوثیوں نے کہا کہ انہوں نے ریاض ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا، جہاں عینی شاہدین نے ایک طیارے سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے، جبکہ گروپ نے کارکنوں کو توانائی کی تنصیبات سے دور رہنے کی تنبیہ بھی کی۔ سعودی حکام نے کہا کہ روکے گئے ایک میزائل کا ملبہ ایک کنڈرگارٹن اور طبی مرکز پر گرا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لوفتھانزا اور ایئر انڈیا نے کہا کہ وہ حوثیوں کے حملوں کے بعد ریاض کے لیے پروازیں معطل کررہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حوثیوں کا کہنا ہے کہ وہ یمن کی دوبارہ بھڑکنے والی خانہ جنگی میں سعودی عرب کی حکومتی فورسز کی حمایت کے خلاف مملکت کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ وہ یمن کی اقوام متحدہ سے تسلیم شدہ حکومت کی جانب سے حوثیوں سے علاقے واپس لینے کے لیے شروع کی گئی کارروائی کی حمایت کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تنازع اب امریکا اور ایران کی جنگ کا پھیلاؤ بن چکا ہے، جس نے پہلے ہی بحرانوں کی لپیٹ میں آئے خطے میں مزید افراتفری پیدا کردی ہے اور خدشہ ہے کہ دیگر ممالک بھی دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں طویل لڑائی میں شامل ہوجائیں گے۔ شام بھی سعودی عرب کی مدد کے لیے فوج بھیجنے پر غور کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب نے اتحادی ممالک، جن میں پاکستان اور ترکیہ بھی شامل ہیں، سے تعاون طلب کیا ہے، چاہے یہ تعاون صرف رسدی یا دفاعی نوعیت کا ہی کیوں نہ ہو۔ مملکت جنوب مغربی یمن میں حوثیوں کی پیش قدمی روکنے کی کوشش کررہی ہے، جہاں بحیرہ احمر کا جنوبی داخلی راستہ واقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی حکام کی جانب سے بدھ کو بتایا گیا کہ رواں ہفتے ریاض اور جنوب مغربی شہر ابہا کے ایئرپورٹس پر حملوں میں تین افراد ہلاک ہونے کے بعد ان درخواستوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران میں تنازع کے باعث دوبارہ بھڑکنے والی خانہ جنگی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حوثیوں نے سعودی ایئرپورٹس کو اپنے حملوں کا اہم ہدف بنا رکھا ہے، جبکہ یمن میں حوثیوں کے خلاف لڑنے والے سعودی قیادت میں اتحاد نے کہا کہ اس نے گروپ کی جانب سے ریاض کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائل اور خمیس مشیط کی جانب داغا گیا ایک اور میزائل تباہ کردیا۔ خمیس مشیط میں ایک بڑا فضائی اڈہ موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کی جانب سے تصدیق کردہ ویڈیو میں ریاض ایئرپورٹ سے دھوئیں کا ایک گہرا سیاہ ستون اور شعلے بلند ہوتے دکھائی دیے۔ ایک عینی شاہد اور معاملے سے آگاہ تین افراد نے بتایا کہ ایک مسافر طیارے میں آگ لگی تھی، جس کے باعث دھواں اٹھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایوی ایشن تجزیاتی کمپنی سیرئم کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق گرین وچ مین ٹائم کے مطابق 1500 بجے تک ریاض ایئرپورٹ سے روانہ ہونے والی تقریباً 50 فیصد پروازیں منسوخ کردی گئی تھیں، جبکہ سعودی عرب کے تمام ایئرپورٹس سے جمعے کو مزید 31 پروازیں منسوخ ہونے کی توقع تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی حکام کی جانب سے ریاض ایئرپورٹ پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کے دعوے یا طیارے سے اٹھنے والے دھوئیں کی وجہ کی فوری طور پر تصدیق نہیں کی گئی، تاہم معاملے سے آگاہ افراد نے بتایا کہ آگ بجھا دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق جمعرات کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر متعدد آمد و روانگی کی پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ ایئرپورٹ نے مسافروں کو سفر سے قبل پروازوں کی صورتحال جاننے کے لیے متعلقہ ایئرلائنز سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی حکام نے کہا کہ حوثیوں کے ایک میزائل کو راستے میں روکنے کے بعد اس کا ملبہ ریاض میں گرا، جس سے ایک کنڈرگارٹن اور طبی کلینک کے کمپلیکس کو نقصان پہنچا۔ سرکاری میڈیا نے یہ اطلاع دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاض میں رواں ہفتے توانائی پالیسی سازوں کی ایک اہم کانفرنس، ڈبلیو پی سی انرجی کانگریس، منعقد ہونے والی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاملے سے واقف پانچ افراد، جن میں متاثرہ ملازمین بھی شامل تھے، نے بتایا کہ ریاض کے کنگ عبداللہ فنانشل ڈسٹرکٹ میں قائم کئی کثیرالقومی کمپنیوں نے جمعرات کی صبح زوردار دھماکوں جیسی آوازیں سنائی دینے کے بعد اپنے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی حکومت نے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا، جبکہ کنگ عبداللہ فنانشل ڈسٹرکٹ کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ سفارت کاروں نے بتایا کہ انہیں انتباہات موصول ہوئے، جبکہ ریاض کے بعض اسکولوں نے والدین کو آگاہ کیا کہ عمارتوں کے اندر محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں، تاہم حکام نے عوامی سطح پر کوئی انتباہ جاری نہیں کیا۔ رائٹرز ان دھماکوں جیسی آوازوں کے ماخذ کی شناخت نہیں کرسکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حوثیوں نے سعودی عرب میں تیل تنصیبات کے کارکنوں کو بھی ان سے دور رہنے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ان تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یمن کی طویل عرصے سے جاری خانہ جنگی 2022 میں جنگ بندی کے بعد رک گئی تھی، تاہم حالیہ ہفتوں میں دوبارہ بھڑک اٹھی ہے۔ حوثیوں نے گزشتہ ماہ بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں، بشمول اہم آبنائے باب المندب کے اطراف، کے وسیع حصوں پر قبضہ کرلیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حوثیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے یمنی حکومت کے حملوں کے جواب میں کارروائی کی، تاہم حکومت اس کی تردید کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاز رانی کو لاحق دھمکیوں اور سعودی شہروں اور بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے باعث مملکت ایک بار پھر اس تنازع میں شامل ہوگئی ہے۔ رواں ہفتے یمنی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے آبنائے کے اطراف کے علاقے واپس لے لیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم کئی محاذوں پر جاری جنگ میں حوثیوں نے بھی پیش قدمی کی ہے اور یمن کے تیسرے بڑے شہر تعز کا محاصرہ کرلیا ہے۔ انہوں نے شہر کو عدن سے ملانے والی مرکزی پہاڑی شاہراہ کے ساتھ واقع علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے تحت یمنی فورسز کے اتحاد اور حوثیوں کے درمیان جاری لڑائی کے نتیجے میں عرب دنیا کے غریب ترین ملک میں انسانی بحران پیدا ہوگیا ہے اور تنازع دوبارہ شروع ہونے کے بعد 2 لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکام کا کہنا ہے کہ شام کی ممکنہ مدد محض دفاعی نوعیت کی ہوسکتی ہے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک امریکی اور ایک شامی دفاعی عہدیدار نے بتایا کہ شام فوجی معاونت کے مختلف امکانات پر غور کررہا ہے، جن میں سعودی عرب کو حملوں سے بچانے کے لیے دفاعی مدد یا حوثیوں کے خلاف براہ راست کارروائی میں مدد کے لیے فوج بھیجنا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شام کی وزارت خارجہ سے تبصرے کی درخواست کے جواب میں ایک سفارت کار نے کہا کہ شام سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے، تاہم اس کی توجہ اپنی خانہ جنگی سے بحالی جیسے داخلی ترجیحات پر مرکوز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیٹو کے رکن ترکیہ نے بدھ کو کہا کہ وہ حوثیوں کے خلاف جنگ میں مدد کے لیے سعودی عرب کو بنیادی طور پر دفاعی اور تکنیکی معاونت فراہم کررہا ہے۔ ایک ترک عہدیدار نے بتایا کہ اس معاونت میں فوجی سازوسامان، انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ اور ہتھیاروں کے نظام شامل ہونے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یمن کے حوثیوں نے جمعرات کو سعودی عرب کے خلاف حملوں کی مہم میں شدت پیدا کردی اور میزائل حملوں کے ذریعے مملکت کی فضائی حدود اور تیل تنصیبات کو بند کرنے کی کوشش کی۔ رواں ہفتے ان حملوں میں تین افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔</strong></p>
<p>حوثیوں نے کہا کہ انہوں نے ریاض ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا، جہاں عینی شاہدین نے ایک طیارے سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے، جبکہ گروپ نے کارکنوں کو توانائی کی تنصیبات سے دور رہنے کی تنبیہ بھی کی۔ سعودی حکام نے کہا کہ روکے گئے ایک میزائل کا ملبہ ایک کنڈرگارٹن اور طبی مرکز پر گرا۔</p>
<p>لوفتھانزا اور ایئر انڈیا نے کہا کہ وہ حوثیوں کے حملوں کے بعد ریاض کے لیے پروازیں معطل کررہی ہیں۔</p>
<p>حوثیوں کا کہنا ہے کہ وہ یمن کی دوبارہ بھڑکنے والی خانہ جنگی میں سعودی عرب کی حکومتی فورسز کی حمایت کے خلاف مملکت کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ وہ یمن کی اقوام متحدہ سے تسلیم شدہ حکومت کی جانب سے حوثیوں سے علاقے واپس لینے کے لیے شروع کی گئی کارروائی کی حمایت کررہا ہے۔</p>
<p>یہ تنازع اب امریکا اور ایران کی جنگ کا پھیلاؤ بن چکا ہے، جس نے پہلے ہی بحرانوں کی لپیٹ میں آئے خطے میں مزید افراتفری پیدا کردی ہے اور خدشہ ہے کہ دیگر ممالک بھی دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں طویل لڑائی میں شامل ہوجائیں گے۔ شام بھی سعودی عرب کی مدد کے لیے فوج بھیجنے پر غور کررہا ہے۔</p>
<p>سعودی عرب نے اتحادی ممالک، جن میں پاکستان اور ترکیہ بھی شامل ہیں، سے تعاون طلب کیا ہے، چاہے یہ تعاون صرف رسدی یا دفاعی نوعیت کا ہی کیوں نہ ہو۔ مملکت جنوب مغربی یمن میں حوثیوں کی پیش قدمی روکنے کی کوشش کررہی ہے، جہاں بحیرہ احمر کا جنوبی داخلی راستہ واقع ہے۔</p>
<p>سعودی حکام کی جانب سے بدھ کو بتایا گیا کہ رواں ہفتے ریاض اور جنوب مغربی شہر ابہا کے ایئرپورٹس پر حملوں میں تین افراد ہلاک ہونے کے بعد ان درخواستوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔</p>
<p><strong>ایران میں تنازع کے باعث دوبارہ بھڑکنے والی خانہ جنگی</strong></p>
<p>حوثیوں نے سعودی ایئرپورٹس کو اپنے حملوں کا اہم ہدف بنا رکھا ہے، جبکہ یمن میں حوثیوں کے خلاف لڑنے والے سعودی قیادت میں اتحاد نے کہا کہ اس نے گروپ کی جانب سے ریاض کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائل اور خمیس مشیط کی جانب داغا گیا ایک اور میزائل تباہ کردیا۔ خمیس مشیط میں ایک بڑا فضائی اڈہ موجود ہے۔</p>
<p>رائٹرز کی جانب سے تصدیق کردہ ویڈیو میں ریاض ایئرپورٹ سے دھوئیں کا ایک گہرا سیاہ ستون اور شعلے بلند ہوتے دکھائی دیے۔ ایک عینی شاہد اور معاملے سے آگاہ تین افراد نے بتایا کہ ایک مسافر طیارے میں آگ لگی تھی، جس کے باعث دھواں اٹھا۔</p>
<p>ایوی ایشن تجزیاتی کمپنی سیرئم کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق گرین وچ مین ٹائم کے مطابق 1500 بجے تک ریاض ایئرپورٹ سے روانہ ہونے والی تقریباً 50 فیصد پروازیں منسوخ کردی گئی تھیں، جبکہ سعودی عرب کے تمام ایئرپورٹس سے جمعے کو مزید 31 پروازیں منسوخ ہونے کی توقع تھی۔</p>
<p>سعودی حکام کی جانب سے ریاض ایئرپورٹ پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کے دعوے یا طیارے سے اٹھنے والے دھوئیں کی وجہ کی فوری طور پر تصدیق نہیں کی گئی، تاہم معاملے سے آگاہ افراد نے بتایا کہ آگ بجھا دی گئی تھی۔</p>
<p>تاہم پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق جمعرات کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر متعدد آمد و روانگی کی پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ ایئرپورٹ نے مسافروں کو سفر سے قبل پروازوں کی صورتحال جاننے کے لیے متعلقہ ایئرلائنز سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی۔</p>
<p>سعودی حکام نے کہا کہ حوثیوں کے ایک میزائل کو راستے میں روکنے کے بعد اس کا ملبہ ریاض میں گرا، جس سے ایک کنڈرگارٹن اور طبی کلینک کے کمپلیکس کو نقصان پہنچا۔ سرکاری میڈیا نے یہ اطلاع دی۔</p>
<p>ریاض میں رواں ہفتے توانائی پالیسی سازوں کی ایک اہم کانفرنس، ڈبلیو پی سی انرجی کانگریس، منعقد ہونے والی ہے۔</p>
<p>معاملے سے واقف پانچ افراد، جن میں متاثرہ ملازمین بھی شامل تھے، نے بتایا کہ ریاض کے کنگ عبداللہ فنانشل ڈسٹرکٹ میں قائم کئی کثیرالقومی کمپنیوں نے جمعرات کی صبح زوردار دھماکوں جیسی آوازیں سنائی دینے کے بعد اپنے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کی۔</p>
<p>سعودی حکومت نے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا، جبکہ کنگ عبداللہ فنانشل ڈسٹرکٹ کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔</p>
<p>کچھ سفارت کاروں نے بتایا کہ انہیں انتباہات موصول ہوئے، جبکہ ریاض کے بعض اسکولوں نے والدین کو آگاہ کیا کہ عمارتوں کے اندر محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں، تاہم حکام نے عوامی سطح پر کوئی انتباہ جاری نہیں کیا۔ رائٹرز ان دھماکوں جیسی آوازوں کے ماخذ کی شناخت نہیں کرسکا۔</p>
<p>حوثیوں نے سعودی عرب میں تیل تنصیبات کے کارکنوں کو بھی ان سے دور رہنے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ان تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔</p>
<p>یمن کی طویل عرصے سے جاری خانہ جنگی 2022 میں جنگ بندی کے بعد رک گئی تھی، تاہم حالیہ ہفتوں میں دوبارہ بھڑک اٹھی ہے۔ حوثیوں نے گزشتہ ماہ بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں، بشمول اہم آبنائے باب المندب کے اطراف، کے وسیع حصوں پر قبضہ کرلیا تھا۔</p>
<p>حوثیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے یمنی حکومت کے حملوں کے جواب میں کارروائی کی، تاہم حکومت اس کی تردید کرتی ہے۔</p>
<p>جہاز رانی کو لاحق دھمکیوں اور سعودی شہروں اور بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے باعث مملکت ایک بار پھر اس تنازع میں شامل ہوگئی ہے۔ رواں ہفتے یمنی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے آبنائے کے اطراف کے علاقے واپس لے لیے۔</p>
<p>تاہم کئی محاذوں پر جاری جنگ میں حوثیوں نے بھی پیش قدمی کی ہے اور یمن کے تیسرے بڑے شہر تعز کا محاصرہ کرلیا ہے۔ انہوں نے شہر کو عدن سے ملانے والی مرکزی پہاڑی شاہراہ کے ساتھ واقع علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے۔</p>
<p>بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے تحت یمنی فورسز کے اتحاد اور حوثیوں کے درمیان جاری لڑائی کے نتیجے میں عرب دنیا کے غریب ترین ملک میں انسانی بحران پیدا ہوگیا ہے اور تنازع دوبارہ شروع ہونے کے بعد 2 لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔</p>
<p><strong>حکام کا کہنا ہے کہ شام کی ممکنہ مدد محض دفاعی نوعیت کی ہوسکتی ہے</strong></p>
<p>ایک امریکی اور ایک شامی دفاعی عہدیدار نے بتایا کہ شام فوجی معاونت کے مختلف امکانات پر غور کررہا ہے، جن میں سعودی عرب کو حملوں سے بچانے کے لیے دفاعی مدد یا حوثیوں کے خلاف براہ راست کارروائی میں مدد کے لیے فوج بھیجنا شامل ہے۔</p>
<p>شام کی وزارت خارجہ سے تبصرے کی درخواست کے جواب میں ایک سفارت کار نے کہا کہ شام سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے، تاہم اس کی توجہ اپنی خانہ جنگی سے بحالی جیسے داخلی ترجیحات پر مرکوز ہے۔</p>
<p>نیٹو کے رکن ترکیہ نے بدھ کو کہا کہ وہ حوثیوں کے خلاف جنگ میں مدد کے لیے سعودی عرب کو بنیادی طور پر دفاعی اور تکنیکی معاونت فراہم کررہا ہے۔ ایک ترک عہدیدار نے بتایا کہ اس معاونت میں فوجی سازوسامان، انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ اور ہتھیاروں کے نظام شامل ہونے کی توقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292311</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Oct 2026 22:16:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/08221208c1a126e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/08221208c1a126e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
