<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 08 Oct 2026 21:31:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 08 Oct 2026 21:31:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان نے سعودی آپریشن میں پی اے ایف طیاروں کی شرکت سے متعلق نیویارک ٹائمز کی رپورٹ مسترد کردی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292306/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کو مسترد کردیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سعودی افواج کی جانب سے حوثیوں کے خلاف شروع کیے گئے آپریشن میں پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) کے طیاروں نے حصہ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت اطلاعات و نشریات نے اپنے سرکاری اکاؤنٹ پر جاری فیکٹ چیک میں رپورٹ کو جعلی اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے عالمی میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ مکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کے استعمال سے متعلق قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹنگ سے گریز کریں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/FactCheckerMoIB/status/2108167733238173713'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/FactCheckerMoIB/status/2108167733238173713"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر کسی بھی فوجی تعیناتی کی تفصیلات متعلقہ حکام کی جانب سے فراہم کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وضاحت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب چند روز قبل پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے معاہدے کے تحت اپنی مشترکہ دفاعی ذمہ داریوں پر فوری عملدرآمد اور سعودی عرب میں طے شدہ فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی تیز رفتار تعیناتی یقینی بنانے پر اتفاق کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست میں طے پانے والے سہ فریقی معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بیرونی مسلح حملے کی صورت میں اجتماعی دفاع کی شق شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ ریاض میں اتحاد کی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے پہلے اجلاس میں کیا گیا، جس میں تینوں ممالک کی اعلیٰ عسکری اور سیاسی قیادت نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تینوں ممالک نے کہا کہ فوجی تعیناتی منظور شدہ انتظامات کے تحت اور اپنے اپنے قومی قوانین کے مطابق کی جائے گی۔ ان اقدامات کا مقصد دفاعی تیاری، عسکری انضمام اور اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کو مسترد کردیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سعودی افواج کی جانب سے حوثیوں کے خلاف شروع کیے گئے آپریشن میں پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) کے طیاروں نے حصہ لیا۔</p>
<p>وزارت اطلاعات و نشریات نے اپنے سرکاری اکاؤنٹ پر جاری فیکٹ چیک میں رپورٹ کو جعلی اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے عالمی میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ مکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کے استعمال سے متعلق قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹنگ سے گریز کریں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/FactCheckerMoIB/status/2108167733238173713'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/FactCheckerMoIB/status/2108167733238173713"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>وزارت نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر کسی بھی فوجی تعیناتی کی تفصیلات متعلقہ حکام کی جانب سے فراہم کی جائیں گی۔</p>
<p>یہ وضاحت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب چند روز قبل پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے معاہدے کے تحت اپنی مشترکہ دفاعی ذمہ داریوں پر فوری عملدرآمد اور سعودی عرب میں طے شدہ فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی تیز رفتار تعیناتی یقینی بنانے پر اتفاق کیا تھا۔</p>
<p>اگست میں طے پانے والے سہ فریقی معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بیرونی مسلح حملے کی صورت میں اجتماعی دفاع کی شق شامل ہے۔</p>
<p>دفتر خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ ریاض میں اتحاد کی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے پہلے اجلاس میں کیا گیا، جس میں تینوں ممالک کی اعلیٰ عسکری اور سیاسی قیادت نے شرکت کی۔</p>
<p>تینوں ممالک نے کہا کہ فوجی تعیناتی منظور شدہ انتظامات کے تحت اور اپنے اپنے قومی قوانین کے مطابق کی جائے گی۔ ان اقدامات کا مقصد دفاعی تیاری، عسکری انضمام اور اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292306</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Oct 2026 19:30:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/08192513ae2ee5d.webp" type="image/webp" medium="image" height="563" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/08192513ae2ee5d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
