<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 08 Oct 2026 13:51:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 08 Oct 2026 13:51:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملائیشیا میانمار کو آسیان میں دوبارہ شامل کرانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرے گا، انور ابراہیم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292287/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے کہا ہے کہ ان کی حکومت میانمار کے ساتھ تعاون کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی تاکہ جنگ زدہ ملک کو جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) میں مکمل طور پر دوبارہ شامل کیا جاسکے۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کو میانمار کے فوجی حمایت یافتہ رہنما من آنگ ہلینگ سے ملاقات کے بعد کہی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق فوجی سربراہ من آنگ ہلینگ دو روزہ دورے پر ملائیشیا میں ہیں اور اپریل میں متنازع انتخابات کے بعد صدر مقرر ہونے کے بعد عالمی سطح پر مزید قبولیت حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میانمار 2021 میں فوجی بغاوت کے بعد سے بدامنی اور خانہ جنگی کا شکار ہے۔ من آنگ ہلینگ اور دیگر اعلیٰ حکام کو آسیان کے سربراہی اجلاسوں میں شرکت سے روک دیا گیا تھا کیونکہ انہوں نے تنظیم کے ثالثی میں طے پانے والے امن منصوبے پر عمل نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انور ابراہیم نے میانمار میں جمہوری عمل سے متعلق خدشات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اختلافات کا احترام ضروری ہے اور من آنگ ہلینگ نے تعاون پر آمادگی ظاہر کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے میانمار کے 10,493 شہریوں کو ملائیشیا سے واپس قبول کرنے پر بھی ان کا شکریہ ادا کیا۔ ملائیشیا نے گزشتہ ماہ تقریباً 1,500 افراد کو میانمار واپس بھیجا تھا، جس پر اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے کہا ہے کہ ان کی حکومت میانمار کے ساتھ تعاون کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی تاکہ جنگ زدہ ملک کو جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) میں مکمل طور پر دوبارہ شامل کیا جاسکے۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کو میانمار کے فوجی حمایت یافتہ رہنما من آنگ ہلینگ سے ملاقات کے بعد کہی۔</strong></p>
<p>سابق فوجی سربراہ من آنگ ہلینگ دو روزہ دورے پر ملائیشیا میں ہیں اور اپریل میں متنازع انتخابات کے بعد صدر مقرر ہونے کے بعد عالمی سطح پر مزید قبولیت حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔</p>
<p>میانمار 2021 میں فوجی بغاوت کے بعد سے بدامنی اور خانہ جنگی کا شکار ہے۔ من آنگ ہلینگ اور دیگر اعلیٰ حکام کو آسیان کے سربراہی اجلاسوں میں شرکت سے روک دیا گیا تھا کیونکہ انہوں نے تنظیم کے ثالثی میں طے پانے والے امن منصوبے پر عمل نہیں کیا۔</p>
<p>انور ابراہیم نے میانمار میں جمہوری عمل سے متعلق خدشات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اختلافات کا احترام ضروری ہے اور من آنگ ہلینگ نے تعاون پر آمادگی ظاہر کی ہے۔</p>
<p>انہوں نے میانمار کے 10,493 شہریوں کو ملائیشیا سے واپس قبول کرنے پر بھی ان کا شکریہ ادا کیا۔ ملائیشیا نے گزشتہ ماہ تقریباً 1,500 افراد کو میانمار واپس بھیجا تھا، جس پر اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292287</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Oct 2026 11:38:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/08113636814d17e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/08113636814d17e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
