<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - News</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 07 Oct 2026 19:36:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 07 Oct 2026 19:36:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کا کاربن بارڈر ٹیسٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292259/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یورپ کے کاربن بارڈر سے متعلق ضوابط ابھی پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات پر لاگو نہیں ہوتے، لیکن ملک کی سب سے بڑی برآمدی صنعت پہلے ہی ان کے سائے میں آچکی ہے۔ یکم جنوری 2026 سے یورپی یونین (ای یو) نے کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم (سی بی اے ایم) نافذ کر رکھا ہے، جس کے تحت درآمد کنندگان کو یورپی یونین میں داخل ہونے والی بعض اشیا کی تیاری کے دوران خارج ہونے والی کاربن کے لیے قیمت ادا کرنا ہوگی، تاکہ درآمدی اشیا پر عائد کاربن لاگت مقامی پیداوار کے برابر ہو۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال یہ نظام چھ شعبوں پر لاگو ہے: لوہا اور اسٹیل، سیمنٹ، ایلومینیم، کھاد، بجلی اور ہائیڈروجن۔ ٹیکسٹائل اس فہرست میں شامل نہیں، تاہم یورپی کمیشن نے اسے اگلے مرحلے میں شامل کیے جانے والے شعبوں کے امیدوار کے طور پر نشان زد کیا ہے۔ یورپی خریدار قانون کے نفاذ کا انتظار نہیں کر رہے؛ وہ پہلے ہی پاکستانی سپلائرز سے اخراج اور سپلائی چین سے متعلق وہ ڈیٹا مانگ رہے ہیں جو مستقبل میں سی بی اے ایم کے تحت درکار ہوگا۔ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی صنعت کے لیے اب سوال یہ ہے کہ یورپ کی کاربن سرحد اس تک پہنچنے سے پہلے وہ اس کے لیے تیار ہوگی یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین بدستور پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، جہاں ملک کی مجموعی برآمدات کا تقریباً 28 فیصد جاتا ہے، جبکہ مالی سال 2026 میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات تقریباً 7.103 ارب ڈالر رہیں۔ اس تجارت کا بڑا حصہ جی ایس پی پلس ترجیحات پر منحصر ہے، جن کے تحت تقریباً 90 فیصد اہل اشیا ڈیوٹی فری یورپی منڈی میں داخل ہوتی ہیں۔ ٹیکسٹائل کو سی بی اے ایم میں شامل کیے جانے کے بعد کاربن چارج اس ڈیوٹی فری سہولت کے فائدے کو کم کردے گا، جبکہ سی بی اے ایم بڑھتے ہوئے تعمیری تقاضوں کے بوجھ کا صرف ایک حصہ ہے۔ فروری 2027 میں متوقع یورپی یونین کا ڈیجیٹل پروڈکٹ پاسپورٹ ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کے لیے مصنوعات کی قابلِ سراغ تفصیلات کے تقاضوں میں مزید اضافہ کرے گا۔ اسی تناظر میں ایس ای سی پی نے بھی قواعد وضع کیے ہیں تاکہ پاکستان میں لسٹڈ کمپنیوں کو پائیداری سے متعلق معلومات کے افشا کی جانب راغب کیا جاسکے۔ جو برآمد کنندگان خریداروں اور ریگولیٹرز کے لیے ایک قابلِ اعتماد ڈیٹا نظام تشکیل دے لیں گے، وہ تعمیری تقاضوں کی لاگت محدود رکھنے اور منڈی تک رسائی برقرار رکھنے کی بہتر پوزیشن میں ہوں گے۔ اس کے برعکس جو کمپنیاں اب بھی ہر خریدار کے لیے الگ الگ ڈیٹا جمع کر رہی ہیں، انہیں بنگلہ دیش اور ویتنام جیسے حریفوں سے پیچھے رہنے کا خطرہ ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ پاکستان کا ٹیکسٹائل شعبہ غیر فعال رہا ہے۔ ملک کے کئی بڑے برآمد کنندگان نے پیشگی اقدامات کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر شمسی توانائی کے منصوبے نصب کیے ہیں، فرنس آئل سے بایوماس اور گیس کی جانب منتقل ہوئے ہیں اور رنگائی و فنشنگ کے مؤثر طریقوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔ پائڈ (پی آئی ڈی ای) کے راستا مطالعے کے تحت تیار کیے گئے سی بی اے ایم ریڈینس انڈیکس میں پنجاب کے ٹیکسٹائل کلسٹر کو 100 میں سے تقریباً 66.8 نمبر دیے گئے ہیں۔ یہ ایک درمیانی درجے کا اسکور ہے جو اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ کمپنیاں سی بی اے ایم کے تقاضوں کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہیں۔ تاہم یہی اسکور اس بات کی حد بھی واضح کرتا ہے کہ کوئی ایک کمپنی تنہا کتنا کچھ کرسکتی ہے۔ کوئی بھی مل اپنے اخراج میں اس نظام سے زیادہ تیزی سے کمی نہیں لاسکتی جس پر وہ توانائی کے لیے انحصار کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وہ مقام ہے جہاں قومی منظرنامہ اہم ہوجاتا ہے۔ پاکستان کے بجلی کے قومی گرڈ میں اب تقریباً 64 فیصد بجلی کم کاربن ذرائع سے حاصل ہوتی ہے، جو عالمی اوسط سے زیادہ ہے، لیکن یہی صاف توانائی اسپننگ یا فنشنگ یونٹس کو مکمل طور پر نہیں چلاتی۔ ملیں ان صنعتی عمل کے لیے کیپٹو پاور پر انحصار کرتی ہیں جہاں رنگائی، فنشنگ اور خشک کرنے کے لیے حرارت اور بھاپ درکار ہوتی ہے، اور یہی وہ شعبہ ہے جہاں ملک کا باقی ماندہ فوسل ایندھن پر انحصار برقرار ہے۔ تاہم گیس لیوی اور نیٹ میٹرنگ کے قواعد میں حالیہ تبدیلیوں سے قابلِ تجدید توانائی اور توانائی کی بچت میں وہ بعض سرمایہ کاری سست پڑ سکتی ہے جو ملیں کرنے کی تیاری کر رہی تھیں۔ لہٰذا منتقلی کے اگلے مرحلے کا انحصار بڑی حد تک ایسی پالیسی معاونت پر ہوگا جو کمپنیاں تنہا فراہم نہیں کرسکتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے بھی اقدامات شروع کردیئے ہیں۔ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی نے 2024 میں پاکستان کی پہلی قومی کاربن مارکیٹ پالیسی متعارف کرائی، جبکہ ملک بین الاقوامی اسپارک 6 سی استعداد سازی کے اقدام میں بھی شریک ہے۔ پاکستان نے ستمبر 2025 میں اپنی تیسری قومی سطح پر متعین شراکت (این ڈی سی) جمع کرائی، جس میں 2035 تک اخراج میں 50 فیصد کمی کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ سرکاری اندازے کے مطابق اس ہدف کے حصول کے لیے تقریباً 565.7 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔ کاغذ پر یہ مفید عزم ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ عملی ڈھانچہ، تجارتی پلیٹ فارم، بین الاقوامی روابط اور شعبہ جاتی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے اعداد و شمار ابھی ان وعدوں کے مطابق ترقی نہیں کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی بی اے ایم کو ٹیکسٹائل تک وسعت دیے جانے سے پہلے چار اقدامات پاکستان کی پوزیشن کو نمایاں طور پر بہتر بناسکتے ہیں۔ اول، صنعتی بجلی کی قیمتوں کے ڈھانچے میں ایسی اصلاحات کی ضرورت ہے جن سے برآمدی صنعت کو صاف توانائی دستیاب بھی ہو اور قابلِ برداشت قیمت پر بھی ملے۔ یورپی یونین نے خود 2025 کے اپنے اسٹیل اینڈ میٹلز ایکشن پلان میں تسلیم کیا ہے کہ جب توانائی پر ٹیکس صنعت کو گرڈ سے ہٹا کر کاربن کے اخراج کی جانب لے جاتے ہیں تو کاربن میں کمی کا عمل سست پڑجاتا ہے۔ دوم، مصنوعات کی سطح پر اخراج اور خام مال سے متعلق معلومات کی پیمائش، رپورٹنگ اور تصدیق کے لیے قومی نظام وضع کرنا ہوگا، جو یورپی یونین کے طریقہ کار اور ڈیجیٹل پروڈکٹ پاسپورٹ سے ہم آہنگ ہو، تاکہ پاکستانی برآمدات یورپی منڈی میں داخلے کے وقت قابلِ سراغ معلومات کی ضروریات پوری کرسکیں۔ سوم، گرین فنانس، بشمول رعایتی قرضوں، صنعتی صارفین کے لیے سبسڈی پر شمسی توانائی کے منصوبوں اور کاربن مارکیٹ سے روابط، ٹیکسٹائل کمپنیوں کو قابلِ برداشت لاگت پر دستیاب کرانا ہوگا۔ چہارم، ملکی کاربن مارکیٹ کو فعال کرنا ہوگا، تجارتی پلیٹ فارم مکمل اور بین الاقوامی روابط قائم کرنا ہوں گے، تاکہ پاکستانی کمپنیاں عالمی کاربن مارکیٹوں میں حصہ لے سکیں اور اس صنعتی منتقلی کے لیے درکار موسمیاتی مالی معاونت تک رسائی حاصل کرسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اندرونی اصلاحات کے ساتھ ساتھ پاکستان کے پاس برسلز میں اپنا مؤقف پیش کرنے کی بھی گنجائش ہے۔ انکٹاڈ اور ایل ڈی سی گروپ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سی بی اے ایم سے حاصل ہونے والی آمدنی کو ان ترقی پذیر ممالک میں موسمیاتی منتقلی کے لیے دوبارہ مختص کیا جانا چاہیے جو اس لیوی سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ پاکستان، جو عالمی اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے لیکن دنیا کی موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثرہ معیشتوں میں شامل ہے، اس مطالبے میں شامل ہونے کا مضبوط جواز رکھتا ہے۔ یورپی دارالحکومتوں، اقوام متحدہ کے موسمیاتی مذاکرات اور بیرون ملک پاکستان کے سفارتی مشنز کے ذریعے یہ مؤقف اجاگر کرنا آنے والے برسوں میں معاشی سفارت کاری کا فطری تقاضا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکمتِ عملی کا بنیادی نکتہ واضح ہے۔ پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت یورپ کی جانب سے متعارف کرائے جانے والے معیارات پورے کرسکتی ہے اور بڑی حد تک ایسا کرنا چاہتی بھی ہے۔ اسے صرف ایسے ملکی پالیسی ماحول کی ضرورت ہے جو یہ ممکن بنائے: سستی اور صاف توانائی، قابلِ رسائی گرین فنانس، قابلِ اعتماد پیمائشی نظام اور فعال کاربن مارکیٹ۔ اگر یہ اصلاحات یکجا طور پر نافذ کی جاتی ہیں تو اس برآمدی منڈی کا تحفظ ممکن ہوگا جو ملکی آمدنی میں اس شعبے کے بڑے حصے کی بنیاد ہے، جبکہ پاکستان کو رعایتی موسمیاتی مالی معاونت حاصل کرنے کی پوزیشن بھی ملے گی، جس کی اسے بہرحال ضرورت ہوگی۔ اگر یہ اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان وہ منڈی بنگلہ دیش اور ویتنام کے حوالے کردے گا جسے بنانے میں اس نے ایک نسل کا وقت صرف کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مضمون میں اظہار کیے گئے خیالات مصنفین کے اپنے ہیں اور ضروری نہیں کہ کونسل کے خیالات کی بھی عکاسی کرتے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یورپ کے کاربن بارڈر سے متعلق ضوابط ابھی پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات پر لاگو نہیں ہوتے، لیکن ملک کی سب سے بڑی برآمدی صنعت پہلے ہی ان کے سائے میں آچکی ہے۔ یکم جنوری 2026 سے یورپی یونین (ای یو) نے کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم (سی بی اے ایم) نافذ کر رکھا ہے، جس کے تحت درآمد کنندگان کو یورپی یونین میں داخل ہونے والی بعض اشیا کی تیاری کے دوران خارج ہونے والی کاربن کے لیے قیمت ادا کرنا ہوگی، تاکہ درآمدی اشیا پر عائد کاربن لاگت مقامی پیداوار کے برابر ہو۔</strong></p>
<p>فی الحال یہ نظام چھ شعبوں پر لاگو ہے: لوہا اور اسٹیل، سیمنٹ، ایلومینیم، کھاد، بجلی اور ہائیڈروجن۔ ٹیکسٹائل اس فہرست میں شامل نہیں، تاہم یورپی کمیشن نے اسے اگلے مرحلے میں شامل کیے جانے والے شعبوں کے امیدوار کے طور پر نشان زد کیا ہے۔ یورپی خریدار قانون کے نفاذ کا انتظار نہیں کر رہے؛ وہ پہلے ہی پاکستانی سپلائرز سے اخراج اور سپلائی چین سے متعلق وہ ڈیٹا مانگ رہے ہیں جو مستقبل میں سی بی اے ایم کے تحت درکار ہوگا۔ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی صنعت کے لیے اب سوال یہ ہے کہ یورپ کی کاربن سرحد اس تک پہنچنے سے پہلے وہ اس کے لیے تیار ہوگی یا نہیں۔</p>
<p>یورپی یونین بدستور پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، جہاں ملک کی مجموعی برآمدات کا تقریباً 28 فیصد جاتا ہے، جبکہ مالی سال 2026 میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات تقریباً 7.103 ارب ڈالر رہیں۔ اس تجارت کا بڑا حصہ جی ایس پی پلس ترجیحات پر منحصر ہے، جن کے تحت تقریباً 90 فیصد اہل اشیا ڈیوٹی فری یورپی منڈی میں داخل ہوتی ہیں۔ ٹیکسٹائل کو سی بی اے ایم میں شامل کیے جانے کے بعد کاربن چارج اس ڈیوٹی فری سہولت کے فائدے کو کم کردے گا، جبکہ سی بی اے ایم بڑھتے ہوئے تعمیری تقاضوں کے بوجھ کا صرف ایک حصہ ہے۔ فروری 2027 میں متوقع یورپی یونین کا ڈیجیٹل پروڈکٹ پاسپورٹ ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کے لیے مصنوعات کی قابلِ سراغ تفصیلات کے تقاضوں میں مزید اضافہ کرے گا۔ اسی تناظر میں ایس ای سی پی نے بھی قواعد وضع کیے ہیں تاکہ پاکستان میں لسٹڈ کمپنیوں کو پائیداری سے متعلق معلومات کے افشا کی جانب راغب کیا جاسکے۔ جو برآمد کنندگان خریداروں اور ریگولیٹرز کے لیے ایک قابلِ اعتماد ڈیٹا نظام تشکیل دے لیں گے، وہ تعمیری تقاضوں کی لاگت محدود رکھنے اور منڈی تک رسائی برقرار رکھنے کی بہتر پوزیشن میں ہوں گے۔ اس کے برعکس جو کمپنیاں اب بھی ہر خریدار کے لیے الگ الگ ڈیٹا جمع کر رہی ہیں، انہیں بنگلہ دیش اور ویتنام جیسے حریفوں سے پیچھے رہنے کا خطرہ ہوسکتا ہے۔</p>
<p>اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ پاکستان کا ٹیکسٹائل شعبہ غیر فعال رہا ہے۔ ملک کے کئی بڑے برآمد کنندگان نے پیشگی اقدامات کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر شمسی توانائی کے منصوبے نصب کیے ہیں، فرنس آئل سے بایوماس اور گیس کی جانب منتقل ہوئے ہیں اور رنگائی و فنشنگ کے مؤثر طریقوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔ پائڈ (پی آئی ڈی ای) کے راستا مطالعے کے تحت تیار کیے گئے سی بی اے ایم ریڈینس انڈیکس میں پنجاب کے ٹیکسٹائل کلسٹر کو 100 میں سے تقریباً 66.8 نمبر دیے گئے ہیں۔ یہ ایک درمیانی درجے کا اسکور ہے جو اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ کمپنیاں سی بی اے ایم کے تقاضوں کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہیں۔ تاہم یہی اسکور اس بات کی حد بھی واضح کرتا ہے کہ کوئی ایک کمپنی تنہا کتنا کچھ کرسکتی ہے۔ کوئی بھی مل اپنے اخراج میں اس نظام سے زیادہ تیزی سے کمی نہیں لاسکتی جس پر وہ توانائی کے لیے انحصار کرتی ہے۔</p>
<p>یہی وہ مقام ہے جہاں قومی منظرنامہ اہم ہوجاتا ہے۔ پاکستان کے بجلی کے قومی گرڈ میں اب تقریباً 64 فیصد بجلی کم کاربن ذرائع سے حاصل ہوتی ہے، جو عالمی اوسط سے زیادہ ہے، لیکن یہی صاف توانائی اسپننگ یا فنشنگ یونٹس کو مکمل طور پر نہیں چلاتی۔ ملیں ان صنعتی عمل کے لیے کیپٹو پاور پر انحصار کرتی ہیں جہاں رنگائی، فنشنگ اور خشک کرنے کے لیے حرارت اور بھاپ درکار ہوتی ہے، اور یہی وہ شعبہ ہے جہاں ملک کا باقی ماندہ فوسل ایندھن پر انحصار برقرار ہے۔ تاہم گیس لیوی اور نیٹ میٹرنگ کے قواعد میں حالیہ تبدیلیوں سے قابلِ تجدید توانائی اور توانائی کی بچت میں وہ بعض سرمایہ کاری سست پڑ سکتی ہے جو ملیں کرنے کی تیاری کر رہی تھیں۔ لہٰذا منتقلی کے اگلے مرحلے کا انحصار بڑی حد تک ایسی پالیسی معاونت پر ہوگا جو کمپنیاں تنہا فراہم نہیں کرسکتیں۔</p>
<p>حکومت نے بھی اقدامات شروع کردیئے ہیں۔ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی نے 2024 میں پاکستان کی پہلی قومی کاربن مارکیٹ پالیسی متعارف کرائی، جبکہ ملک بین الاقوامی اسپارک 6 سی استعداد سازی کے اقدام میں بھی شریک ہے۔ پاکستان نے ستمبر 2025 میں اپنی تیسری قومی سطح پر متعین شراکت (این ڈی سی) جمع کرائی، جس میں 2035 تک اخراج میں 50 فیصد کمی کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ سرکاری اندازے کے مطابق اس ہدف کے حصول کے لیے تقریباً 565.7 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔ کاغذ پر یہ مفید عزم ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ عملی ڈھانچہ، تجارتی پلیٹ فارم، بین الاقوامی روابط اور شعبہ جاتی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے اعداد و شمار ابھی ان وعدوں کے مطابق ترقی نہیں کر سکے۔</p>
<p>سی بی اے ایم کو ٹیکسٹائل تک وسعت دیے جانے سے پہلے چار اقدامات پاکستان کی پوزیشن کو نمایاں طور پر بہتر بناسکتے ہیں۔ اول، صنعتی بجلی کی قیمتوں کے ڈھانچے میں ایسی اصلاحات کی ضرورت ہے جن سے برآمدی صنعت کو صاف توانائی دستیاب بھی ہو اور قابلِ برداشت قیمت پر بھی ملے۔ یورپی یونین نے خود 2025 کے اپنے اسٹیل اینڈ میٹلز ایکشن پلان میں تسلیم کیا ہے کہ جب توانائی پر ٹیکس صنعت کو گرڈ سے ہٹا کر کاربن کے اخراج کی جانب لے جاتے ہیں تو کاربن میں کمی کا عمل سست پڑجاتا ہے۔ دوم، مصنوعات کی سطح پر اخراج اور خام مال سے متعلق معلومات کی پیمائش، رپورٹنگ اور تصدیق کے لیے قومی نظام وضع کرنا ہوگا، جو یورپی یونین کے طریقہ کار اور ڈیجیٹل پروڈکٹ پاسپورٹ سے ہم آہنگ ہو، تاکہ پاکستانی برآمدات یورپی منڈی میں داخلے کے وقت قابلِ سراغ معلومات کی ضروریات پوری کرسکیں۔ سوم، گرین فنانس، بشمول رعایتی قرضوں، صنعتی صارفین کے لیے سبسڈی پر شمسی توانائی کے منصوبوں اور کاربن مارکیٹ سے روابط، ٹیکسٹائل کمپنیوں کو قابلِ برداشت لاگت پر دستیاب کرانا ہوگا۔ چہارم، ملکی کاربن مارکیٹ کو فعال کرنا ہوگا، تجارتی پلیٹ فارم مکمل اور بین الاقوامی روابط قائم کرنا ہوں گے، تاکہ پاکستانی کمپنیاں عالمی کاربن مارکیٹوں میں حصہ لے سکیں اور اس صنعتی منتقلی کے لیے درکار موسمیاتی مالی معاونت تک رسائی حاصل کرسکیں۔</p>
<p>اندرونی اصلاحات کے ساتھ ساتھ پاکستان کے پاس برسلز میں اپنا مؤقف پیش کرنے کی بھی گنجائش ہے۔ انکٹاڈ اور ایل ڈی سی گروپ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سی بی اے ایم سے حاصل ہونے والی آمدنی کو ان ترقی پذیر ممالک میں موسمیاتی منتقلی کے لیے دوبارہ مختص کیا جانا چاہیے جو اس لیوی سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ پاکستان، جو عالمی اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے لیکن دنیا کی موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثرہ معیشتوں میں شامل ہے، اس مطالبے میں شامل ہونے کا مضبوط جواز رکھتا ہے۔ یورپی دارالحکومتوں، اقوام متحدہ کے موسمیاتی مذاکرات اور بیرون ملک پاکستان کے سفارتی مشنز کے ذریعے یہ مؤقف اجاگر کرنا آنے والے برسوں میں معاشی سفارت کاری کا فطری تقاضا ہوگا۔</p>
<p>حکمتِ عملی کا بنیادی نکتہ واضح ہے۔ پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت یورپ کی جانب سے متعارف کرائے جانے والے معیارات پورے کرسکتی ہے اور بڑی حد تک ایسا کرنا چاہتی بھی ہے۔ اسے صرف ایسے ملکی پالیسی ماحول کی ضرورت ہے جو یہ ممکن بنائے: سستی اور صاف توانائی، قابلِ رسائی گرین فنانس، قابلِ اعتماد پیمائشی نظام اور فعال کاربن مارکیٹ۔ اگر یہ اصلاحات یکجا طور پر نافذ کی جاتی ہیں تو اس برآمدی منڈی کا تحفظ ممکن ہوگا جو ملکی آمدنی میں اس شعبے کے بڑے حصے کی بنیاد ہے، جبکہ پاکستان کو رعایتی موسمیاتی مالی معاونت حاصل کرنے کی پوزیشن بھی ملے گی، جس کی اسے بہرحال ضرورت ہوگی۔ اگر یہ اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان وہ منڈی بنگلہ دیش اور ویتنام کے حوالے کردے گا جسے بنانے میں اس نے ایک نسل کا وقت صرف کیا ہے۔</p>
<p>اس مضمون میں اظہار کیے گئے خیالات مصنفین کے اپنے ہیں اور ضروری نہیں کہ کونسل کے خیالات کی بھی عکاسی کرتے ہوں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292259</guid>
      <pubDate>Wed, 07 Oct 2026 17:09:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حسن صلاح الدینمعاذ منظور)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/071650126ba7d12.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/071650126ba7d12.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
