<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 07 Oct 2026 16:33:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 07 Oct 2026 16:33:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایم ایل ون کی جزوی فنانسنگ ریلوے اراضی کمرشلائزیشن سے کی جائے، وزیراعظم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292246/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مین لائن ون (ایم ایل ون) کی تعمیر اربوں روپے مالیت کی پاکستان ریلوے کی نشاندہی شدہ اراضی کو کمرشل بنیادوں پر استعمال کرتے ہوئے کی جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان ریلوے میں اصلاحات سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزیراعظم نے ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن کا کام تیز کرنے اور پاکستان ریلوے میں کارپوریٹ طرز کی اصلاحات نافذ کرنے کی ہدایت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا اہم منصوبہ ایم ایل ون پشاور سے کراچی تک 1,733 کلومیٹر طویل ریلوے لائن کو اپ گریڈ اور جدید بنانے سے متعلق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے چیئرمین نیب کی قیادت میں پاکستان ریلوے کی تجاوزات میں گہری اراضی کی نشاندہی اور واگزاری کے حوالے سے نیب اور وزارت ریلوے کی ٹیموں کی کاوشوں کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن پاکستان ریلوے کی ترقی، مسافروں کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی اور مال برداری میں اضافے کے لیے انتہائی اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ریلوے کی جائیدادوں میں موجود حقیقی تجارتی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ قیمتی ریلوے اراضی کو تجارتی مقاصد کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کرکے قومی معیشت اور ادارے کی ترقی میں کردار ادا کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے ریلوے اراضی پر مختلف کمرشل منصوبوں کے ذریعے ایم ایل ون کی تعمیر کے لیے بینک فنانسنگ استعمال کرنے کی منظوری بھی دی۔ انہوں نے ریلوے اراضی کی حقیقی تجارتی استعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے دو ہفتوں میں جامع منصوبہ پیش کرنے کی ہدایت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کو بتایا گیا کہ 1,726 کلومیٹر طویل ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن کو کراچی، روہڑی، روہڑی، ملتان، ملتان، لاہور اور لاہور، پشاور سمیت چار بڑے حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کو بتایا گیا کہ کراچی، روہڑی سیکشن کی اپ گریڈیشن کے لیے بین الاقوامی فنانسنگ استعمال کی جارہی ہے جبکہ ایم ایل ون کے دیگر حصوں کے لیے مقامی وسائل سے فنڈنگ کے منصوبے تیار کیے جارہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے ہدایت کی کہ واگزار کرائی گئی ریلوے اراضی کو کمرشل بنیادوں پر استعمال کرنے اور ایم ایل ون کی تعمیر کے لیے بینک فنانسنگ حاصل کرنے سے متعلق جامع لائحہ عمل دو ہفتوں میں پیش کیا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مین لائن ون (ایم ایل ون) کی تعمیر اربوں روپے مالیت کی پاکستان ریلوے کی نشاندہی شدہ اراضی کو کمرشل بنیادوں پر استعمال کرتے ہوئے کی جائے۔</strong></p>
<p>اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان ریلوے میں اصلاحات سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزیراعظم نے ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن کا کام تیز کرنے اور پاکستان ریلوے میں کارپوریٹ طرز کی اصلاحات نافذ کرنے کی ہدایت کی۔</p>
<p>چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا اہم منصوبہ ایم ایل ون پشاور سے کراچی تک 1,733 کلومیٹر طویل ریلوے لائن کو اپ گریڈ اور جدید بنانے سے متعلق ہے۔</p>
<p>وزیراعظم نے چیئرمین نیب کی قیادت میں پاکستان ریلوے کی تجاوزات میں گہری اراضی کی نشاندہی اور واگزاری کے حوالے سے نیب اور وزارت ریلوے کی ٹیموں کی کاوشوں کو سراہا۔</p>
<p>اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن پاکستان ریلوے کی ترقی، مسافروں کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی اور مال برداری میں اضافے کے لیے انتہائی اہم ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ریلوے کی جائیدادوں میں موجود حقیقی تجارتی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ قیمتی ریلوے اراضی کو تجارتی مقاصد کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کرکے قومی معیشت اور ادارے کی ترقی میں کردار ادا کیا جائے۔</p>
<p>وزیراعظم نے ریلوے اراضی پر مختلف کمرشل منصوبوں کے ذریعے ایم ایل ون کی تعمیر کے لیے بینک فنانسنگ استعمال کرنے کی منظوری بھی دی۔ انہوں نے ریلوے اراضی کی حقیقی تجارتی استعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے دو ہفتوں میں جامع منصوبہ پیش کرنے کی ہدایت کی۔</p>
<p>اجلاس کو بتایا گیا کہ 1,726 کلومیٹر طویل ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن کو کراچی، روہڑی، روہڑی، ملتان، ملتان، لاہور اور لاہور، پشاور سمیت چار بڑے حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔</p>
<p>اجلاس کو بتایا گیا کہ کراچی، روہڑی سیکشن کی اپ گریڈیشن کے لیے بین الاقوامی فنانسنگ استعمال کی جارہی ہے جبکہ ایم ایل ون کے دیگر حصوں کے لیے مقامی وسائل سے فنڈنگ کے منصوبے تیار کیے جارہے ہیں۔</p>
<p>وزیراعظم نے ہدایت کی کہ واگزار کرائی گئی ریلوے اراضی کو کمرشل بنیادوں پر استعمال کرنے اور ایم ایل ون کی تعمیر کے لیے بینک فنانسنگ حاصل کرنے سے متعلق جامع لائحہ عمل دو ہفتوں میں پیش کیا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292246</guid>
      <pubDate>Wed, 07 Oct 2026 14:14:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/0714051051560f2.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/0714051051560f2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
