<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 06 Oct 2026 01:26:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 06 Oct 2026 01:26:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سوئس صدر کے دورۂ بھارت کا مقصد تجارتی تعلقات کو فروغ دینا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292157/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سوئس صدر گائے پارملین کا پیر کو بھارت میں ریڈ کارپٹ استقبال کیا گیا، جہاں انہوں نے تجارت اور سرمایہ کاری کے امور پر بات چیت کے لیے وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارملین نے کہا، ’’میرا دورہ مزید ترقی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ان کا تین روزہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب سوئٹزرلینڈ، ناروے، آئس لینڈ اور لیختن اسٹائن پر مشتمل چار رکنی یورپی اتحاد کے ساتھ تجارتی معاہدے پر دستخط ہوئے ایک سال مکمل ہوچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاہدے کے تحت یورپی فری ٹریڈ ایسوسی ایشن (ای ایف ٹی اے) کا مقصد 15 سال کے دوران بھارت میں 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے کے تحت درآمدی محصولات میں کمی کی گئی ہے، جس سے بھارتی کمپنیوں کے لیے ای ایف ٹی اے کی چاروں منڈیوں میں اشیا فروخت کرنا آسان ہوگیا ہے، جبکہ یورپی کمپنیوں کو دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے اور بڑی معیشتوں میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والے ملک بھارت تک زیادہ رسائی حاصل ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارملین نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ اس بات کا جشن منانے کا موزوں وقت ہے کہ ہم نے مل کر کتنا سفر طے کیا ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنے مشترکہ مستقبل کی تشکیل کریں۔‘‘ وہ اس سے قبل فروری میں نئی دہلی میں مصنوعی ذہانت سے متعلق سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت آئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی نے ای ایف ٹی اے تجارتی معاہدے کے حوالے سے پارملین کی ’’ذاتی حمایت‘‘ پر ان کا شکریہ ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی نے پارملین کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ دونوں ممالک نے ’’بھارتی برآمدات کے لیے سوئٹزرلینڈ میں منڈی تک رسائی بڑھانے اور دونوں ملکوں کے درمیان سرمایہ کاری کو مزید آسان بنانے کے لیے کئی اہم فیصلے کیے ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’اس سے بھارت کی زرعی، ادویہ سازی، ٹیکسٹائل اور انجینئرنگ مصنوعات کی سوئٹزرلینڈ کو برآمدات میں اضافہ ہوگا۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی نے کہا کہ اس معاہدے سے ’’بایوٹیک، لائف سائنسز، بینکاری، انشورنس، فوڈ پروسیسنگ اور پائیداری‘‘ جیسے بھارت کے اہم شعبوں میں سوئس سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں حکومتوں نے پیر کو نقل و حرکت سے متعلق ایک معاہدے پر بھی دستخط کیے، جس کے بارے میں مودی نے کہا کہ اس سے سوئٹزرلینڈ میں بھارتی طلبہ اور پیشہ ور افراد کے لیے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سوئس صدر گائے پارملین کا پیر کو بھارت میں ریڈ کارپٹ استقبال کیا گیا، جہاں انہوں نے تجارت اور سرمایہ کاری کے امور پر بات چیت کے لیے وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔</strong></p>
<p>پارملین نے کہا، ’’میرا دورہ مزید ترقی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ان کا تین روزہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب سوئٹزرلینڈ، ناروے، آئس لینڈ اور لیختن اسٹائن پر مشتمل چار رکنی یورپی اتحاد کے ساتھ تجارتی معاہدے پر دستخط ہوئے ایک سال مکمل ہوچکا ہے۔</p>
<p>اس معاہدے کے تحت یورپی فری ٹریڈ ایسوسی ایشن (ای ایف ٹی اے) کا مقصد 15 سال کے دوران بھارت میں 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا ہے۔</p>
<p>معاہدے کے تحت درآمدی محصولات میں کمی کی گئی ہے، جس سے بھارتی کمپنیوں کے لیے ای ایف ٹی اے کی چاروں منڈیوں میں اشیا فروخت کرنا آسان ہوگیا ہے، جبکہ یورپی کمپنیوں کو دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے اور بڑی معیشتوں میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والے ملک بھارت تک زیادہ رسائی حاصل ہوگئی ہے۔</p>
<p>پارملین نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ اس بات کا جشن منانے کا موزوں وقت ہے کہ ہم نے مل کر کتنا سفر طے کیا ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنے مشترکہ مستقبل کی تشکیل کریں۔‘‘ وہ اس سے قبل فروری میں نئی دہلی میں مصنوعی ذہانت سے متعلق سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت آئے تھے۔</p>
<p>مودی نے ای ایف ٹی اے تجارتی معاہدے کے حوالے سے پارملین کی ’’ذاتی حمایت‘‘ پر ان کا شکریہ ادا کیا۔</p>
<p>مودی نے پارملین کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ دونوں ممالک نے ’’بھارتی برآمدات کے لیے سوئٹزرلینڈ میں منڈی تک رسائی بڑھانے اور دونوں ملکوں کے درمیان سرمایہ کاری کو مزید آسان بنانے کے لیے کئی اہم فیصلے کیے ہیں۔‘‘</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’اس سے بھارت کی زرعی، ادویہ سازی، ٹیکسٹائل اور انجینئرنگ مصنوعات کی سوئٹزرلینڈ کو برآمدات میں اضافہ ہوگا۔‘‘</p>
<p>مودی نے کہا کہ اس معاہدے سے ’’بایوٹیک، لائف سائنسز، بینکاری، انشورنس، فوڈ پروسیسنگ اور پائیداری‘‘ جیسے بھارت کے اہم شعبوں میں سوئس سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔</p>
<p>دونوں حکومتوں نے پیر کو نقل و حرکت سے متعلق ایک معاہدے پر بھی دستخط کیے، جس کے بارے میں مودی نے کہا کہ اس سے سوئٹزرلینڈ میں بھارتی طلبہ اور پیشہ ور افراد کے لیے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292157</guid>
      <pubDate>Mon, 05 Oct 2026 22:22:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/052217167124336.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/052217167124336.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
