<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 05 Oct 2026 17:46:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 05 Oct 2026 17:46:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین، ایران اور افغانستان سے درآمدی کشمش کی کسٹمز ویلیو میں اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292147/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیوایشن کراچی نے چین، ایران اور افغانستان سے درآمد ہونے والی کشمش کی کسٹمز ویلیو میں اضافہ کردیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے ویلیوایشن رولنگ میں انکشاف ہوا کہ مذکورہ اشیا کی کسٹمز ویلیو نسبتاً کم قیمتوں پر مقرر کی جارہی تھی۔ ویلیوایشن میں یکسانیت یقینی بنانے اور سرکاری محصولات کے تحفظ کے لیے ڈائریکٹوریٹ نے کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ 25 اے کے تحت مذکورہ اشیا کی کسٹمز ویلیو کے تعین کے لیے کارروائی شروع کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ درآمد کنندگان اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اجلاس کے نوٹس جاری کیے گئے جن میں انہیں ویلیوایشن کی کارروائی میں شرکت اور کسٹمز ویلیو کے تعین کے لیے متعلقہ دستاویزی شواہد جن میں درآمدی دستاویزات، انوائسز اور دیگر ضروری معلومات شامل تھیں جمع کرانے کی دعوت دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ اشیا کی ویلیوایشن سے متعلق امور پر تفصیلی غور کے لیے اجلاس منعقد کیے گئے۔ اجلاسوں کے دوران شرکا سے اپنے مؤقف کے حق میں دستاویزات پیش کرنے کو کہا گیا جن میں سیلز ٹیکس انوائسز اور خریداری کے ملک سے تصدیق شدہ برآمدی دستاویزات شامل تھیں۔ تاہم اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے کوئی دستاویز فراہم نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخرکار، ایکٹ کی دفعہ 25(7) کے تحت مذکورہ اشیا کی کسٹمز ویلیو کے تعین کے لیے سروے کے ذریعے حاصل کردہ مارکیٹ معلومات کو استعمال اور تجزیہ کیا گیا۔ اس جامع جائزے کے ذریعے اس امر کو یقینی بنایا گیا ہے کہ کسٹمز ویلیو کا تعین منصفانہ، شفاف اور قانون کے مکمل تقاضوں کے مطابق ہو۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیوایشن کراچی نے چین، ایران اور افغانستان سے درآمد ہونے والی کشمش کی کسٹمز ویلیو میں اضافہ کردیا ہے۔</strong></p>
<p>نئے ویلیوایشن رولنگ میں انکشاف ہوا کہ مذکورہ اشیا کی کسٹمز ویلیو نسبتاً کم قیمتوں پر مقرر کی جارہی تھی۔ ویلیوایشن میں یکسانیت یقینی بنانے اور سرکاری محصولات کے تحفظ کے لیے ڈائریکٹوریٹ نے کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ 25 اے کے تحت مذکورہ اشیا کی کسٹمز ویلیو کے تعین کے لیے کارروائی شروع کردی۔</p>
<p>چنانچہ درآمد کنندگان اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اجلاس کے نوٹس جاری کیے گئے جن میں انہیں ویلیوایشن کی کارروائی میں شرکت اور کسٹمز ویلیو کے تعین کے لیے متعلقہ دستاویزی شواہد جن میں درآمدی دستاویزات، انوائسز اور دیگر ضروری معلومات شامل تھیں جمع کرانے کی دعوت دی گئی۔</p>
<p>مذکورہ اشیا کی ویلیوایشن سے متعلق امور پر تفصیلی غور کے لیے اجلاس منعقد کیے گئے۔ اجلاسوں کے دوران شرکا سے اپنے مؤقف کے حق میں دستاویزات پیش کرنے کو کہا گیا جن میں سیلز ٹیکس انوائسز اور خریداری کے ملک سے تصدیق شدہ برآمدی دستاویزات شامل تھیں۔ تاہم اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے کوئی دستاویز فراہم نہیں کی گئی۔</p>
<p>آخرکار، ایکٹ کی دفعہ 25(7) کے تحت مذکورہ اشیا کی کسٹمز ویلیو کے تعین کے لیے سروے کے ذریعے حاصل کردہ مارکیٹ معلومات کو استعمال اور تجزیہ کیا گیا۔ اس جامع جائزے کے ذریعے اس امر کو یقینی بنایا گیا ہے کہ کسٹمز ویلیو کا تعین منصفانہ، شفاف اور قانون کے مکمل تقاضوں کے مطابق ہو۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292147</guid>
      <pubDate>Mon, 05 Oct 2026 15:24:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/05151825072e366.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/05151825072e366.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
