<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 05 Oct 2026 16:27:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 05 Oct 2026 16:27:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کو ترقی حاصل کرنی ہوگی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292140/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے مالیاتی اعداد و شمار مقررہ اہداف سے بہتر ہیں۔ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے محصولات جمع کرنے کا ہدف معمولی فرق سے عبور کر لیا، جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں آمدنی میں 7 سے 8 فیصد اضافہ ہوا۔ بنیادی بجٹ سرپلس بدستور مضبوط ہے اور مالیاتی خسارہ کم ہو رہا ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے پیمانے پر دیکھا جائے تو اسلام آباد وہی کر رہا ہے جس کا اس نے وعدہ کیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن قرض دہندہ کے اہداف پورے کرنا معیشت کی بحالی کے مترادف نہیں۔ حکومت نے معاشی استحکام بحال کرنے کے لیے خاصا سیاسی اور معاشی سرمایہ خرچ کیا ہے اور اس کا کریڈٹ اسے ملنا چاہیےمگر  پالیسی کی کامیابی کے طور پر استحکام کا مرحلہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ ساختی اصلاحات کے بغیر یہ پاکستان کو پائیدار ترقی کی راہ پر نہیں ڈال سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ اکثر اس مرحلے کو بنیادی معاشی صفائی کی بحالی قرار دیتے ہیں۔ یہ پیغام لوگوں تک پہنچ چکا ہے۔ اب زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ  صفائی  کے بعد کیا ہوگا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار کے پس پردہ مالیاتی ایڈجسٹمنٹ کا معیار اب بھی ناقص ہے۔ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کا عمل نمایاں طور پر غائب ہے، جبکہ ریٹیلرز اور تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی تازہ کوشش بھی بظاہر اپنی پیش رو کوششوں کے انجام کی طرف بڑھ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتیں 1990 کی دہائی کے آغاز سے اس طبقے پر ٹیکس عائد کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، مگر غیر معمولی حد تک ناکام رہی ہیں۔ تاجر معاشی سرگرمیوں کے ایک بڑے حصے کے ذمہ دار ہیں، لیکن ٹیکس محصولات میں ان کا حصہ نہایت معمولی ہے، جس کے باعث رسمی شعبے کے کاروبار اور تنخواہ دار افراد پر غیر متناسب بوجھ پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے حال ہی میں رسمی کاروباری طبقے، حتیٰ کہ میڈیا سے بھی کہا ہے کہ وہ تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے میں مدد کرے۔ بلاشبہ کارپوریٹ پاکستان تاجروں کی شمولیت کا خیرمقدم کرے گا۔ لیکن یہ سمجھنا مشکل ہے کہ کاروباری ادارے یا صحافی وہ کیا کر سکتے ہیں جو ریاست خود نہیں کر سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ عام تاثر یہ ہے کہ حکومت میں انتظامی صلاحیت کی کمی نہیں بلکہ سیاسی عزم کا فقدان ہے۔عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ سول انتظامیہ اور عسکری اسٹیبلشمنٹ ایک صفحے پر ہیں، عدالتوں نے معاشی قوانین کے نفاذ میں شاذ و نادر ہی رکاوٹ ڈالی ہے اور منظم سیاسی اپوزیشن کمزور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کسی حکومت کے پاس تاجروں، ریئلٹرز اور بڑے زرعی زمینداروں پر ٹیکس نافذ کرنے کی سیاسی گنجائش موجود ہے تو وہ یہی حکومت ہے۔ ایسا کرنے میں اس کی ناکامی اب مجبوری کے بجائے ایک انتخاب دکھائی دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا جو لوگ پہلے ہی نظام میں شامل ہیں، ان پر دباؤ بدستور جاری ہے۔ رسمی کاروباری ادارے پیشگی ٹیکس کے مطالبات اور ریفنڈز میں تاخیر کی شکایت کر رہے ہیں، کیونکہ ایف بی آر محصولات کے اہداف پورے کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مؤثر ٹیکس شرحیں پہلے ہی انتہائی بھاری ہیں، مگر ٹیکس کا نفاذ اب بھی ٹیکس دہندگان کے اسی چھوٹے گروہ تک محدود ہے جو نمایاں، دستاویزی اور دباؤ ڈالنے کے لیے سب سے آسان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی عدم مساوات تجارتی برادری کے اندر بھی موجود ہے۔ بڑے تاجروں کے لیے ٹیکس ادا کرنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، کیونکہ ان کے لین دین، کاروباری مقامات اور سپلائی چینز کو چھپانا نسبتاً مشکل ہوتا ہے۔ یہی ایک وجہ ہے کہ دستاویزی ریکارڈ کے معاملے میں کراچی عموماً بہتر کارکردگی دکھاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجر خصوصاً پنجاب کے تجارتی مراکز میں رجسٹریشن کے خلاف کہیں زیادہ مزاحمت کرتے ہیں۔ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے مذاکرات، مہلتوں اور کمزور نفاذ کے ذریعے اس صورتِ حال کا جواب دیا ہے، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ منظم انداز میں قوانین کی خلاف ورزی کرنے کے نتائج، معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے مقابلے میں کم ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج یہ ناانصافی اس لیے زیادہ نقصان دہ ہے کہ پہلے ہی قانونی معیشت غیر معمولی بوجھ اٹھا رہی ہے۔ بجلی کی بلند قیمتیں، کیپٹو پاور پر ٹیکس اور لیویز، ضابطہ جاتی اخراجات اور ودہولڈنگ ٹیکسوں کے بڑھتے ہوئے دائرے کو شامل کر لیا جائے تو رسمی شعبے سے عملاً کہا جا رہا ہے کہ وہ ایسی معیشت کو سبسڈی دے جو بڑی حد تک غیر رسمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ محض غیر منصفانہ ٹیکس عائد کرنا نہیں، بلکہ چھوٹا رہنے، غیر دستاویزی رہنے یا کاروباری سرگرمیوں کو مکمل طور پر رسمی معیشت سے باہر منتقل کرنے کی ترغیب بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری شکایت کفایت شعاری سے متعلق ہے، یا یوں کہیں کہ ریاست کے اندر اس کا نمایاں فقدان ہے۔ مالی سال 2026 میں پاکستان نے دو دہائیوں کا کم ترین مالیاتی خسارہ ریکارڈ کیا، لیکن حکومت چلانے کے اخراجات کئی دیگر شعبوں کے اخراجات کے مقابلے میں تیزی سے بڑھتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ انتظامیہ کی پھولی ہوئی سطحوں کی شکایت تو باقاعدگی سے کرتے ہیں، مگر ریاست ادارہ جاتی دہرے پن کی تشخیص کرنے میں جتنی ماہر ہے، اسے ختم کرنے میں اتنی ہی کمزور نظر آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درحقیقت پاکستان میں جب کوئی ادارہ ناکام ہوتا ہے تو عموماً اس کے گرد ایک نیا ادارہ قائم کر دیا جاتا ہے۔ کوئی ریگولیٹر ناقص کارکردگی دکھائے تو ایک سہولت کار ادارہ بنا دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سہولت کار ادارہ مشکلات کا شکار ہو تو اس کے اوپر ایک کونسل یا اتھارٹی قائم کر دی جاتی ہے۔ کمزور اداروں میں اصلاحات کرنے کے بجائے ریاست ان کے اوپر نئے اداروں کی تہیں چڑھاتی جاتی ہے، جس سے مزید دفاتر، زیادہ اختیارات اور اضافی اخراجات تو پیدا ہوتے ہیں، مگر لازماً زیادہ صلاحیت پیدا نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے کفایت شعاری کا ظاہری تاثر خاص طور پر نقصان دہ ہے۔ گھرانوں اور رسمی کاروباری اداروں سے بار بار کہا جاتا ہے کہ مشکل ایڈجسٹمنٹ ناگزیر ہیں، جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں خود نسبتاً کم نمایاں ضبط و کفایت کا مظاہرہ کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزرا اور سیاسی رہنما بار بار بیرونِ ملک دوروں، بڑے وفود اور شاہانہ پروٹوکول کا دفاع کرتے ہیں، جبکہ ٹیکس دہندگان سے زیادہ شرحیں اور کم سبسڈیز برداشت کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اگرچہ ایسے اخراجات مالی اعتبار سے معمولی ہوں، لیکن ان کی سیاسی قیمت معمولی نہیں۔ حکومتیں ہمیشہ قربانی کا مطالبہ نہیں کر سکتیں، جبکہ خود اس سے مستثنیٰ دکھائی دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاست کے معاشی فلسفے میں بھی اسی نوعیت کا تضاد موجود ہے۔ ایک طرف حکومت نجکاری کے عمل کو تیز کر رہی ہے اور نجی سرمائے کے لیے زیادہ بڑا کردار ادا کرنے کا وعدہ کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف عوامی شعبہ نئی اتھارٹیز، کمپنیوں، فنڈز اور مداخلت پسندانہ طریقۂ کار کے ذریعے مسلسل پھیل رہا ہے۔ یہ کسی ایسی ریاست کا ڈھانچہ ہرگز نہیں جو مسابقتی غیر جانب داری یا حقیقی طور پر یکساں مواقع کی حامل منڈی کے لیے پُرعزم ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کار ان تضادات کو بعض اوقات پالیسی سازوں کے اعتراف سے کہیں بہتر سمجھتے ہیں۔ جب معیشت کو دستاویزی شکل دینے کا مطلب زیادہ ٹیکس، وسیع تر ضابطہ جاتی نگرانی اور من مانے پالیسی فیصلوں سے تحفظ کی معمولی ضمانت ہو تو ملکی سرمایہ رسمی معیشت میں آنے سے ہچکچاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بھی باہر سے اس مسئلے کو شاذ ہی حل کرتی ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کار عموماً ملکی سرمائے کے اعتماد کی پیروی کرتے ہیں، اس کی عدم موجودگی کا متبادل نہیں بنتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے پاکستان کے ترقی کے مسئلے کو اب بنیادی طور پر معاشی عدم استحکام سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ استحکام ضروری تھا، مگر کبھی کافی نہیں تھا۔ اگلے مرحلے میں رسمی سرمایہ کاری کو ایک بار پھر معاشی طور پر قابلِ عمل بنانا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب ہے کہ بار بار پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والوں پر مؤثر ٹیکس بڑھانے کے بجائے ٹیکس کی بنیاد وسیع کی جائے۔ تاجروں، جائیداد اور زرعی آمدنی پر قابلِ اعتبار طریقے سے ٹیکس عائد کیا جائے اور ان ٹیکسوں کا نفاذ بھی یقینی بنایا جائے، بجائے اس کے کہ ان پر عمل درآمد کے لیے نہ ختم ہونے والے مذاکرات جاری رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب حکومت کے اخراجات اور حجم میں کمی، انتظامی دہرے پن کا خاتمہ اور اعلیٰ سطح پر ضبط و کفایت کا عملی مظاہرہ بھی ہے اور جب ٹیکس کی بنیاد وسیع ہو جائے تو اس کا مطلب قانون کی پابندی کرنے والے کاروباری اداروں اور گھرانوں پر بوجھ کم کرنا بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے معیشت کے ایک محدود حصے پر غیر معمولی بوجھ ڈال کر استحکام حاصل کیا ہے۔ اس سے آئی ایم ایف کا جائزہ تو مطمئن ہو سکتا ہے اور کچھ وقت بھی خریدا جا سکتا ہے، مگر پائیدار ترقی پیدا نہیں ہو سکتی۔اب ترقی کما کر حاصل کرنا ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے مالیاتی اعداد و شمار مقررہ اہداف سے بہتر ہیں۔ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے محصولات جمع کرنے کا ہدف معمولی فرق سے عبور کر لیا، جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں آمدنی میں 7 سے 8 فیصد اضافہ ہوا۔ بنیادی بجٹ سرپلس بدستور مضبوط ہے اور مالیاتی خسارہ کم ہو رہا ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے پیمانے پر دیکھا جائے تو اسلام آباد وہی کر رہا ہے جس کا اس نے وعدہ کیا تھا۔</strong></p>
<p>لیکن قرض دہندہ کے اہداف پورے کرنا معیشت کی بحالی کے مترادف نہیں۔ حکومت نے معاشی استحکام بحال کرنے کے لیے خاصا سیاسی اور معاشی سرمایہ خرچ کیا ہے اور اس کا کریڈٹ اسے ملنا چاہیےمگر  پالیسی کی کامیابی کے طور پر استحکام کا مرحلہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ ساختی اصلاحات کے بغیر یہ پاکستان کو پائیدار ترقی کی راہ پر نہیں ڈال سکتا۔</p>
<p>وزیر خزانہ اکثر اس مرحلے کو بنیادی معاشی صفائی کی بحالی قرار دیتے ہیں۔ یہ پیغام لوگوں تک پہنچ چکا ہے۔ اب زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ  صفائی  کے بعد کیا ہوگا؟</p>
<p>اعداد و شمار کے پس پردہ مالیاتی ایڈجسٹمنٹ کا معیار اب بھی ناقص ہے۔ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کا عمل نمایاں طور پر غائب ہے، جبکہ ریٹیلرز اور تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی تازہ کوشش بھی بظاہر اپنی پیش رو کوششوں کے انجام کی طرف بڑھ رہی ہے۔</p>
<p>حکومتیں 1990 کی دہائی کے آغاز سے اس طبقے پر ٹیکس عائد کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، مگر غیر معمولی حد تک ناکام رہی ہیں۔ تاجر معاشی سرگرمیوں کے ایک بڑے حصے کے ذمہ دار ہیں، لیکن ٹیکس محصولات میں ان کا حصہ نہایت معمولی ہے، جس کے باعث رسمی شعبے کے کاروبار اور تنخواہ دار افراد پر غیر متناسب بوجھ پڑتا ہے۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے حال ہی میں رسمی کاروباری طبقے، حتیٰ کہ میڈیا سے بھی کہا ہے کہ وہ تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے میں مدد کرے۔ بلاشبہ کارپوریٹ پاکستان تاجروں کی شمولیت کا خیرمقدم کرے گا۔ لیکن یہ سمجھنا مشکل ہے کہ کاروباری ادارے یا صحافی وہ کیا کر سکتے ہیں جو ریاست خود نہیں کر سکتی۔</p>
<p>چنانچہ عام تاثر یہ ہے کہ حکومت میں انتظامی صلاحیت کی کمی نہیں بلکہ سیاسی عزم کا فقدان ہے۔عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ سول انتظامیہ اور عسکری اسٹیبلشمنٹ ایک صفحے پر ہیں، عدالتوں نے معاشی قوانین کے نفاذ میں شاذ و نادر ہی رکاوٹ ڈالی ہے اور منظم سیاسی اپوزیشن کمزور ہے۔</p>
<p>اگر کسی حکومت کے پاس تاجروں، ریئلٹرز اور بڑے زرعی زمینداروں پر ٹیکس نافذ کرنے کی سیاسی گنجائش موجود ہے تو وہ یہی حکومت ہے۔ ایسا کرنے میں اس کی ناکامی اب مجبوری کے بجائے ایک انتخاب دکھائی دیتی ہے۔</p>
<p>دریں اثنا جو لوگ پہلے ہی نظام میں شامل ہیں، ان پر دباؤ بدستور جاری ہے۔ رسمی کاروباری ادارے پیشگی ٹیکس کے مطالبات اور ریفنڈز میں تاخیر کی شکایت کر رہے ہیں، کیونکہ ایف بی آر محصولات کے اہداف پورے کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔</p>
<p>مؤثر ٹیکس شرحیں پہلے ہی انتہائی بھاری ہیں، مگر ٹیکس کا نفاذ اب بھی ٹیکس دہندگان کے اسی چھوٹے گروہ تک محدود ہے جو نمایاں، دستاویزی اور دباؤ ڈالنے کے لیے سب سے آسان ہے۔</p>
<p>یہی عدم مساوات تجارتی برادری کے اندر بھی موجود ہے۔ بڑے تاجروں کے لیے ٹیکس ادا کرنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، کیونکہ ان کے لین دین، کاروباری مقامات اور سپلائی چینز کو چھپانا نسبتاً مشکل ہوتا ہے۔ یہی ایک وجہ ہے کہ دستاویزی ریکارڈ کے معاملے میں کراچی عموماً بہتر کارکردگی دکھاتا ہے۔</p>
<p>چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجر خصوصاً پنجاب کے تجارتی مراکز میں رجسٹریشن کے خلاف کہیں زیادہ مزاحمت کرتے ہیں۔ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے مذاکرات، مہلتوں اور کمزور نفاذ کے ذریعے اس صورتِ حال کا جواب دیا ہے، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ منظم انداز میں قوانین کی خلاف ورزی کرنے کے نتائج، معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے مقابلے میں کم ہوتے ہیں۔</p>
<p>آج یہ ناانصافی اس لیے زیادہ نقصان دہ ہے کہ پہلے ہی قانونی معیشت غیر معمولی بوجھ اٹھا رہی ہے۔ بجلی کی بلند قیمتیں، کیپٹو پاور پر ٹیکس اور لیویز، ضابطہ جاتی اخراجات اور ودہولڈنگ ٹیکسوں کے بڑھتے ہوئے دائرے کو شامل کر لیا جائے تو رسمی شعبے سے عملاً کہا جا رہا ہے کہ وہ ایسی معیشت کو سبسڈی دے جو بڑی حد تک غیر رسمی ہے۔</p>
<p>یہ محض غیر منصفانہ ٹیکس عائد کرنا نہیں، بلکہ چھوٹا رہنے، غیر دستاویزی رہنے یا کاروباری سرگرمیوں کو مکمل طور پر رسمی معیشت سے باہر منتقل کرنے کی ترغیب بھی ہے۔</p>
<p>دوسری شکایت کفایت شعاری سے متعلق ہے، یا یوں کہیں کہ ریاست کے اندر اس کا نمایاں فقدان ہے۔ مالی سال 2026 میں پاکستان نے دو دہائیوں کا کم ترین مالیاتی خسارہ ریکارڈ کیا، لیکن حکومت چلانے کے اخراجات کئی دیگر شعبوں کے اخراجات کے مقابلے میں تیزی سے بڑھتے رہے۔</p>
<p>وزیر خزانہ انتظامیہ کی پھولی ہوئی سطحوں کی شکایت تو باقاعدگی سے کرتے ہیں، مگر ریاست ادارہ جاتی دہرے پن کی تشخیص کرنے میں جتنی ماہر ہے، اسے ختم کرنے میں اتنی ہی کمزور نظر آتی ہے۔</p>
<p>درحقیقت پاکستان میں جب کوئی ادارہ ناکام ہوتا ہے تو عموماً اس کے گرد ایک نیا ادارہ قائم کر دیا جاتا ہے۔ کوئی ریگولیٹر ناقص کارکردگی دکھائے تو ایک سہولت کار ادارہ بنا دیا جاتا ہے۔</p>
<p>سہولت کار ادارہ مشکلات کا شکار ہو تو اس کے اوپر ایک کونسل یا اتھارٹی قائم کر دی جاتی ہے۔ کمزور اداروں میں اصلاحات کرنے کے بجائے ریاست ان کے اوپر نئے اداروں کی تہیں چڑھاتی جاتی ہے، جس سے مزید دفاتر، زیادہ اختیارات اور اضافی اخراجات تو پیدا ہوتے ہیں، مگر لازماً زیادہ صلاحیت پیدا نہیں ہوتی۔</p>
<p>اسی لیے کفایت شعاری کا ظاہری تاثر خاص طور پر نقصان دہ ہے۔ گھرانوں اور رسمی کاروباری اداروں سے بار بار کہا جاتا ہے کہ مشکل ایڈجسٹمنٹ ناگزیر ہیں، جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں خود نسبتاً کم نمایاں ضبط و کفایت کا مظاہرہ کرتی ہیں۔</p>
<p>وزرا اور سیاسی رہنما بار بار بیرونِ ملک دوروں، بڑے وفود اور شاہانہ پروٹوکول کا دفاع کرتے ہیں، جبکہ ٹیکس دہندگان سے زیادہ شرحیں اور کم سبسڈیز برداشت کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اگرچہ ایسے اخراجات مالی اعتبار سے معمولی ہوں، لیکن ان کی سیاسی قیمت معمولی نہیں۔ حکومتیں ہمیشہ قربانی کا مطالبہ نہیں کر سکتیں، جبکہ خود اس سے مستثنیٰ دکھائی دیں۔</p>
<p>ریاست کے معاشی فلسفے میں بھی اسی نوعیت کا تضاد موجود ہے۔ ایک طرف حکومت نجکاری کے عمل کو تیز کر رہی ہے اور نجی سرمائے کے لیے زیادہ بڑا کردار ادا کرنے کا وعدہ کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف عوامی شعبہ نئی اتھارٹیز، کمپنیوں، فنڈز اور مداخلت پسندانہ طریقۂ کار کے ذریعے مسلسل پھیل رہا ہے۔ یہ کسی ایسی ریاست کا ڈھانچہ ہرگز نہیں جو مسابقتی غیر جانب داری یا حقیقی طور پر یکساں مواقع کی حامل منڈی کے لیے پُرعزم ہو۔</p>
<p>سرمایہ کار ان تضادات کو بعض اوقات پالیسی سازوں کے اعتراف سے کہیں بہتر سمجھتے ہیں۔ جب معیشت کو دستاویزی شکل دینے کا مطلب زیادہ ٹیکس، وسیع تر ضابطہ جاتی نگرانی اور من مانے پالیسی فیصلوں سے تحفظ کی معمولی ضمانت ہو تو ملکی سرمایہ رسمی معیشت میں آنے سے ہچکچاتا ہے۔</p>
<p>براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بھی باہر سے اس مسئلے کو شاذ ہی حل کرتی ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کار عموماً ملکی سرمائے کے اعتماد کی پیروی کرتے ہیں، اس کی عدم موجودگی کا متبادل نہیں بنتے۔</p>
<p>اسی لیے پاکستان کے ترقی کے مسئلے کو اب بنیادی طور پر معاشی عدم استحکام سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ استحکام ضروری تھا، مگر کبھی کافی نہیں تھا۔ اگلے مرحلے میں رسمی سرمایہ کاری کو ایک بار پھر معاشی طور پر قابلِ عمل بنانا ہوگا۔</p>
<p>اس کا مطلب ہے کہ بار بار پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والوں پر مؤثر ٹیکس بڑھانے کے بجائے ٹیکس کی بنیاد وسیع کی جائے۔ تاجروں، جائیداد اور زرعی آمدنی پر قابلِ اعتبار طریقے سے ٹیکس عائد کیا جائے اور ان ٹیکسوں کا نفاذ بھی یقینی بنایا جائے، بجائے اس کے کہ ان پر عمل درآمد کے لیے نہ ختم ہونے والے مذاکرات جاری رہیں۔</p>
<p>اس کا مطلب حکومت کے اخراجات اور حجم میں کمی، انتظامی دہرے پن کا خاتمہ اور اعلیٰ سطح پر ضبط و کفایت کا عملی مظاہرہ بھی ہے اور جب ٹیکس کی بنیاد وسیع ہو جائے تو اس کا مطلب قانون کی پابندی کرنے والے کاروباری اداروں اور گھرانوں پر بوجھ کم کرنا بھی ہے۔</p>
<p>پاکستان نے معیشت کے ایک محدود حصے پر غیر معمولی بوجھ ڈال کر استحکام حاصل کیا ہے۔ اس سے آئی ایم ایف کا جائزہ تو مطمئن ہو سکتا ہے اور کچھ وقت بھی خریدا جا سکتا ہے، مگر پائیدار ترقی پیدا نہیں ہو سکتی۔اب ترقی کما کر حاصل کرنا ہوگی۔</p>
<p>کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292140</guid>
      <pubDate>Mon, 05 Oct 2026 14:06:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی خضر)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/05133927dc37e05.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/05133927dc37e05.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
