<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 05 Oct 2026 13:47:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 05 Oct 2026 13:47:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سہیل آفریدی کی قیادت میں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ لکی مروت سے شروع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292129/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اتوار کو لکی مروت کے گنڈی چوک سے اسلام آباد کی جانب پی ٹی آئی کا لانگ مارچ شروع کرایا اور کہا کہ پارٹی ایسی کسی پالیسی کو قبول نہیں کرے گی جو صوبے کے عوام اور پشتونوں کے مفادات کے خلاف ہو۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سہیل آفریدی پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی قیادت کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے لکی مروت پہنچے۔ یہ مارچ پارٹی کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی جیل سے رہائی کے مطالبے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ مارچ کا آغاز پشاور۔کراچی انڈس ہائی وے پر واقع گنڈی چوک سے کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت ایک سیاسی ادارہ ہے جو سیاسی روابط اور مذاکرات پر یقین رکھتی ہے، تاہم ایسی کسی پالیسی کو قبول نہیں کریں گے جس سے صوبے کے عوام کو نقصان پہنچے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لکی مروت کے گنڈی چوک میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز اسلام آباد جانے والی مذاکراتی کمیٹی کا مقصد سیاسی کشیدگی کم کرنا تھا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ بند کمروں میں فیصلے کرنے والی ایک سوچ خیبر پختونخوا پر ایک اور فیصلہ مسلط کرنے کی کوشش کررہی ہے جس کے تحت اسے صوبے میں من مانی کرنے کی کھلی چھوٹ دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایسی کسی پالیسی کو قبول نہیں کریں گے جس سے پشتون عوام کو نقصان پہنچے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں نہ گورنر راج قبول کیا جائے گا اور نہ ہی ایمرجنسی نافذ کرنے کی اجازت دی جائے گی، صوبے کا انتظام عوام کے مینڈیٹ کے مطابق چلایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سکیورٹی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ جو لوگ فوجی آپریشنز اور ڈرون حملوں کی وکالت کرتے ہیں، وہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کو دوبارہ آباد کرنے کی پالیسی کے بھی ذمہ دار ہیں۔ یہ آگ انہوں نے لگائی ہے، ہم اسے بجھائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ گزشتہ 22 برس سے خیبر پختونخوا میں نافذ کی جانے والی پالیسیاں دہشت گردی کے خاتمے میں ناکام رہی ہیں بلکہ ان پالیسیوں کے نتیجے میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے وفاقی حکومت کو دعوت دی کہ ان پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لے اور صوبائی حکومت کی پالیسی کو نتیجہ دینے کا موقع دے۔ اگر ہماری پالیسی نافذ کی جائے تو 100 دن میں امن بحال کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ طرزِعمل اختیار کرنے والوں کی ترجیح امن کی بحالی نہیں بلکہ پی ٹی آئی کا خاتمہ ہے، تاہم وہ اس میں کامیاب نہیں ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور پشتون عوام کے نمائندے کی حیثیت سے انہوں نے فوجی آپریشنز اور ڈرون حملوں کو واضح طور پر مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام سے متعلق فیصلے خیبر پختونخوا میں ہی ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں کی قیمت پشتونوں کی جانوں کی صورت میں ادا کرنا پڑی۔ انہوں نے زور دیا کہ مستقبل کے فیصلے عوام کی خواہشات کے مطابق کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آفریدی نے کہا کہ جنوبی اضلاع بارہا دہشت گردی، فوجی آپریشنز اور ایسی پالیسیوں کا بوجھ اٹھاتے رہے ہیں جن سے شہری آبادی متاثر ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈرون حملوں کے نتیجے میں بھی بالواسطہ نقصانات ہوئے اور مقامی آبادیوں کو اس کے نتائج بھگتنا پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے عوام سے آگے بڑھ کر کردار ادا کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا مستقبل عوام اور نوجوانوں کو تشکیل دینا ہے۔ عوام کو دنیا پر واضح کرنا ہوگا کہ پاکستان میں حتمی اختیار شہریوں کا ہے، نہ کہ ان لوگوں کا جو بند کمروں میں فیصلے کرکے انہیں عوام پر مسلط کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لانگ مارچ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جدوجہد شروع ہوچکی ہے اور عوام کی شرکت میں مسلسل اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ قافلہ کرک کی جانب جائے گا جہاں اگلے روز بڑا عوامی اجتماع ہوگا۔ ان کے مطابق ہر روز نیا لائحہ عمل دیا جائے گا اور جب قافلہ صوابی پہنچے گا تو یہ تحریک پاکستان کے ہر حصے تک پھیل چکی ہوگی جبکہ بڑے چوراہے عوامی اجتماعات کے مراکز بن جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی آزادی کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اتوار کو لکی مروت کے گنڈی چوک سے اسلام آباد کی جانب پی ٹی آئی کا لانگ مارچ شروع کرایا اور کہا کہ پارٹی ایسی کسی پالیسی کو قبول نہیں کرے گی جو صوبے کے عوام اور پشتونوں کے مفادات کے خلاف ہو۔</strong></p>
<p>سہیل آفریدی پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی قیادت کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے لکی مروت پہنچے۔ یہ مارچ پارٹی کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی جیل سے رہائی کے مطالبے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ مارچ کا آغاز پشاور۔کراچی انڈس ہائی وے پر واقع گنڈی چوک سے کیا گیا۔</p>
<p>خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت ایک سیاسی ادارہ ہے جو سیاسی روابط اور مذاکرات پر یقین رکھتی ہے، تاہم ایسی کسی پالیسی کو قبول نہیں کریں گے جس سے صوبے کے عوام کو نقصان پہنچے۔</p>
<p>لکی مروت کے گنڈی چوک میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز اسلام آباد جانے والی مذاکراتی کمیٹی کا مقصد سیاسی کشیدگی کم کرنا تھا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ بند کمروں میں فیصلے کرنے والی ایک سوچ خیبر پختونخوا پر ایک اور فیصلہ مسلط کرنے کی کوشش کررہی ہے جس کے تحت اسے صوبے میں من مانی کرنے کی کھلی چھوٹ دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایسی کسی پالیسی کو قبول نہیں کریں گے جس سے پشتون عوام کو نقصان پہنچے۔</p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں نہ گورنر راج قبول کیا جائے گا اور نہ ہی ایمرجنسی نافذ کرنے کی اجازت دی جائے گی، صوبے کا انتظام عوام کے مینڈیٹ کے مطابق چلایا جائے گا۔</p>
<p>سکیورٹی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ جو لوگ فوجی آپریشنز اور ڈرون حملوں کی وکالت کرتے ہیں، وہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کو دوبارہ آباد کرنے کی پالیسی کے بھی ذمہ دار ہیں۔ یہ آگ انہوں نے لگائی ہے، ہم اسے بجھائیں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ گزشتہ 22 برس سے خیبر پختونخوا میں نافذ کی جانے والی پالیسیاں دہشت گردی کے خاتمے میں ناکام رہی ہیں بلکہ ان پالیسیوں کے نتیجے میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے وفاقی حکومت کو دعوت دی کہ ان پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لے اور صوبائی حکومت کی پالیسی کو نتیجہ دینے کا موقع دے۔ اگر ہماری پالیسی نافذ کی جائے تو 100 دن میں امن بحال کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ طرزِعمل اختیار کرنے والوں کی ترجیح امن کی بحالی نہیں بلکہ پی ٹی آئی کا خاتمہ ہے، تاہم وہ اس میں کامیاب نہیں ہوں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور پشتون عوام کے نمائندے کی حیثیت سے انہوں نے فوجی آپریشنز اور ڈرون حملوں کو واضح طور پر مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام سے متعلق فیصلے خیبر پختونخوا میں ہی ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں کی قیمت پشتونوں کی جانوں کی صورت میں ادا کرنا پڑی۔ انہوں نے زور دیا کہ مستقبل کے فیصلے عوام کی خواہشات کے مطابق کیے جائیں۔</p>
<p>آفریدی نے کہا کہ جنوبی اضلاع بارہا دہشت گردی، فوجی آپریشنز اور ایسی پالیسیوں کا بوجھ اٹھاتے رہے ہیں جن سے شہری آبادی متاثر ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈرون حملوں کے نتیجے میں بھی بالواسطہ نقصانات ہوئے اور مقامی آبادیوں کو اس کے نتائج بھگتنا پڑے۔</p>
<p>انہوں نے عوام سے آگے بڑھ کر کردار ادا کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا مستقبل عوام اور نوجوانوں کو تشکیل دینا ہے۔ عوام کو دنیا پر واضح کرنا ہوگا کہ پاکستان میں حتمی اختیار شہریوں کا ہے، نہ کہ ان لوگوں کا جو بند کمروں میں فیصلے کرکے انہیں عوام پر مسلط کرتے ہیں۔</p>
<p>لانگ مارچ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جدوجہد شروع ہوچکی ہے اور عوام کی شرکت میں مسلسل اضافہ ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ قافلہ کرک کی جانب جائے گا جہاں اگلے روز بڑا عوامی اجتماع ہوگا۔ ان کے مطابق ہر روز نیا لائحہ عمل دیا جائے گا اور جب قافلہ صوابی پہنچے گا تو یہ تحریک پاکستان کے ہر حصے تک پھیل چکی ہوگی جبکہ بڑے چوراہے عوامی اجتماعات کے مراکز بن جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی آزادی کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292129</guid>
      <pubDate>Mon, 05 Oct 2026 11:28:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/05111736be7bbbd.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/05111736be7bbbd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
