<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 05 Oct 2026 12:37:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 05 Oct 2026 12:37:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>احتجاجاً جمع کرائی گئی متنازع رقم جرم کا اعتراف نہیں، لاہور ہائی کورٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292125/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور ہائی کورٹ (ایل ایچ سی) نے قرار دیا ہے کہ متنازع رقم احتجاجاً جمع کرانا بذاتِ خود فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے سامنے جرم کا اعتراف تصور نہیں کیا جاسکتا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے محکمہ کی جانب سے دائر سیلز ٹیکس ریفرنس مسترد کرتے ہوئے ٹیکس دہندہ کے حق میں وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) کی جانب سے جاری حکم برقرار رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس وکیل وحید شہزاد بٹ، جنہوں نے ایف ٹی او، صدر اور لاہور ہائی کورٹ کے سامنے ٹیکس دہندہ کی نمائندگی کی، نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے دونوں معاملات کا فیصلہ ایک ہی فیصلے کے ذریعے کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مقدمہ ایف بی آر کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن کی جانب سے رجسٹرڈ افراد کے رجسٹریشن نمبرز کے مبینہ غلط استعمال سے متعلق اسکینڈل کی تحقیقات سے شروع ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس دہندہ کو سیکشن 37 کے تحت طلب کیا گیا اور اس نے احتجاجاً ٹیکس جمع کرا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں آرڈر اِن اوریجنل کے ذریعے اسی رقم کے ساتھ 100 فیصد جرمانہ اور ڈیفالٹ سرچارج بھی عائد کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمشنر (اپیلز) اور اپیلیٹ ٹریبونل ان لینڈ ریونیو (اے ٹی آئی آر) نے جرمانہ اور سرچارج ختم کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی ٹیکس محتسب نے احتجاجاً جمع کرائی گئی رقم کی واپسی اور حکم منسوخ کرنے کی سفارش کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے قرار دیا کہ احتجاجاً کی گئی ادائیگی کو بذاتِ خود جرم کا اعتراف تصور نہیں کیا جاسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے مزید کہا کہ معاون شواہد کے بغیر ایسی ادائیگی کو اعتراف یا جرم کے اجزا تسلیم کرنے کے مترادف قرار نہیں دیا جاسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس دہندہ ذمہ داری سے اختلاف کا حق برقرار رکھتے ہوئے جبری نتائج سے بچنے کے لیے ادائیگی کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناقابل قبول ان پٹ ٹیکس کلیم اور قابل سزا جرم کا ارتکاب ایک دوسرے کے مترادف نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمے کو جرم کے اجزا آزادانہ طور پر ثابت کرنا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا جس سے ظاہر ہو کہ ٹیکس دہندہ مبینہ اسکیم میں جان بوجھ کر یا دھوکہ دہی سے شریک تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے نوٹ کیا کہ محض مفروضوں کی بنیاد پر ذمہ داری عائد نہیں کی جاسکتی، جبکہ آؤٹ پٹ ٹیکس سپلائر کی ذمہ داری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ سیکشن 34 کے تحت ڈیفالٹ سرچارج لازمی ہے اور اس کے لیے مجرمانہ نیت ثابت کرنا ضروری نہیں۔ تاہم، محکمے کی جانب سے بنیادی قانونی ڈیفالٹ یا سرچارج کے حساب کا تعین ثابت نہیں کیا جاسکا، اس لیے سرچارج برقرار نہیں رکھا جاسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وحید بٹ نے مزید کہا کہ احتجاجاً جمع کرائی گئی رقم کی واپسی کا حکم دینے والا وفاقی ٹیکس محتسب کا فیصلہ ایک اہم کامیابی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور ہائی کورٹ (ایل ایچ سی) نے قرار دیا ہے کہ متنازع رقم احتجاجاً جمع کرانا بذاتِ خود فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے سامنے جرم کا اعتراف تصور نہیں کیا جاسکتا۔</strong></p>
<p>عدالت نے محکمہ کی جانب سے دائر سیلز ٹیکس ریفرنس مسترد کرتے ہوئے ٹیکس دہندہ کے حق میں وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) کی جانب سے جاری حکم برقرار رکھا۔</p>
<p>ٹیکس وکیل وحید شہزاد بٹ، جنہوں نے ایف ٹی او، صدر اور لاہور ہائی کورٹ کے سامنے ٹیکس دہندہ کی نمائندگی کی، نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے دونوں معاملات کا فیصلہ ایک ہی فیصلے کے ذریعے کیا۔</p>
<p>یہ مقدمہ ایف بی آر کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن کی جانب سے رجسٹرڈ افراد کے رجسٹریشن نمبرز کے مبینہ غلط استعمال سے متعلق اسکینڈل کی تحقیقات سے شروع ہوا۔</p>
<p>ٹیکس دہندہ کو سیکشن 37 کے تحت طلب کیا گیا اور اس نے احتجاجاً ٹیکس جمع کرا دیا۔</p>
<p>بعد ازاں آرڈر اِن اوریجنل کے ذریعے اسی رقم کے ساتھ 100 فیصد جرمانہ اور ڈیفالٹ سرچارج بھی عائد کیا گیا۔</p>
<p>کمشنر (اپیلز) اور اپیلیٹ ٹریبونل ان لینڈ ریونیو (اے ٹی آئی آر) نے جرمانہ اور سرچارج ختم کردیا۔</p>
<p>وفاقی ٹیکس محتسب نے احتجاجاً جمع کرائی گئی رقم کی واپسی اور حکم منسوخ کرنے کی سفارش کی تھی۔</p>
<p>عدالت نے قرار دیا کہ احتجاجاً کی گئی ادائیگی کو بذاتِ خود جرم کا اعتراف تصور نہیں کیا جاسکتا۔</p>
<p>عدالت نے مزید کہا کہ معاون شواہد کے بغیر ایسی ادائیگی کو اعتراف یا جرم کے اجزا تسلیم کرنے کے مترادف قرار نہیں دیا جاسکتا۔</p>
<p>ٹیکس دہندہ ذمہ داری سے اختلاف کا حق برقرار رکھتے ہوئے جبری نتائج سے بچنے کے لیے ادائیگی کرسکتا ہے۔</p>
<p>ناقابل قبول ان پٹ ٹیکس کلیم اور قابل سزا جرم کا ارتکاب ایک دوسرے کے مترادف نہیں ہیں۔</p>
<p>محکمے کو جرم کے اجزا آزادانہ طور پر ثابت کرنا ہوں گے۔</p>
<p>ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا جس سے ظاہر ہو کہ ٹیکس دہندہ مبینہ اسکیم میں جان بوجھ کر یا دھوکہ دہی سے شریک تھا۔</p>
<p>عدالت نے نوٹ کیا کہ محض مفروضوں کی بنیاد پر ذمہ داری عائد نہیں کی جاسکتی، جبکہ آؤٹ پٹ ٹیکس سپلائر کی ذمہ داری ہے۔</p>
<p>لاہور ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ سیکشن 34 کے تحت ڈیفالٹ سرچارج لازمی ہے اور اس کے لیے مجرمانہ نیت ثابت کرنا ضروری نہیں۔ تاہم، محکمے کی جانب سے بنیادی قانونی ڈیفالٹ یا سرچارج کے حساب کا تعین ثابت نہیں کیا جاسکا، اس لیے سرچارج برقرار نہیں رکھا جاسکتا۔</p>
<p>وحید بٹ نے مزید کہا کہ احتجاجاً جمع کرائی گئی رقم کی واپسی کا حکم دینے والا وفاقی ٹیکس محتسب کا فیصلہ ایک اہم کامیابی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292125</guid>
      <pubDate>Mon, 05 Oct 2026 09:45:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/050943286edbfe1.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/050943286edbfe1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
