<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 05 Oct 2026 11:40:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 05 Oct 2026 11:40:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حوثیوں کا سعودی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292123/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومت کے سربراہ نے اتوار کو حوثیوں کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کے آغاز کا اعلان کردیا، جس کا مقصد حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو دوبارہ حکومتی کنٹرول میں لانا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یمنی صدر رشاد العلیمی نے ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ فوجی کارروائی کے ذریعے ملک کے باقی ماندہ علاقوں کو دوبارہ حاصل کرکے ریاست اور اس کے اداروں کی عملداری پورے ملک میں قائم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کشیدگی میں کمی کیلئے تمام مواقع ختم ہونے کے بعد جوابی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور خریص کے علاقے میں سعودی آرامکو کی تنصیبات پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن سے بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی۔ حوثیوں کے مطابق یہ حملے گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران یمن پر سعودی قیادت میں کیے گئے 50 فضائی اور میزائل حملوں کے جواب میں کیے گئے۔ سعودی عرب کی جانب سے فوری طور پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب نے 2015 میں حوثیوں کے خلاف عرب اتحاد کی قیادت کرتے ہوئے یمن کی خانہ جنگی میں مداخلت کی تھی۔ 2022 میں فریقین کے درمیان ہونے والی جنگ بندی بڑی حد تک برقرار رہی، تاہم رواں سال ایران جنگ کے اثرات کے باعث حوثیوں نے سعودی بحری جہازوں اور تیل تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کردیئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حوثی ملیشیا نے حالیہ ہفتوں میں باب المندب آبنائے پر بھی کنٹرول حاصل کیا ہے، جو بحیرہ احمر کا اہم بحری راستہ ہے۔ عسکری ذرائع کے مطابق حوثیوں نے تعز کے قریب اہم پہاڑی علاقوں میں بھی پیش قدمی کی ہے اور تعز سے عدن جانے والی آخری سڑک کو خطرہ لاحق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی خوراک پروگرام کے مطابق یمن میں لڑائی میں اضافے کے باعث دسیوں ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں جبکہ بعض علاقوں میں ہر چار میں سے تین خاندان غذائی قلت کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومت کے سربراہ نے اتوار کو حوثیوں کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کے آغاز کا اعلان کردیا، جس کا مقصد حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو دوبارہ حکومتی کنٹرول میں لانا ہے۔</strong></p>
<p>یمنی صدر رشاد العلیمی نے ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ فوجی کارروائی کے ذریعے ملک کے باقی ماندہ علاقوں کو دوبارہ حاصل کرکے ریاست اور اس کے اداروں کی عملداری پورے ملک میں قائم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کشیدگی میں کمی کیلئے تمام مواقع ختم ہونے کے بعد جوابی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔</p>
<p>دوسری جانب حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور خریص کے علاقے میں سعودی آرامکو کی تنصیبات پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن سے بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی۔ حوثیوں کے مطابق یہ حملے گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران یمن پر سعودی قیادت میں کیے گئے 50 فضائی اور میزائل حملوں کے جواب میں کیے گئے۔ سعودی عرب کی جانب سے فوری طور پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔</p>
<p>سعودی عرب نے 2015 میں حوثیوں کے خلاف عرب اتحاد کی قیادت کرتے ہوئے یمن کی خانہ جنگی میں مداخلت کی تھی۔ 2022 میں فریقین کے درمیان ہونے والی جنگ بندی بڑی حد تک برقرار رہی، تاہم رواں سال ایران جنگ کے اثرات کے باعث حوثیوں نے سعودی بحری جہازوں اور تیل تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کردیئے۔</p>
<p>حوثی ملیشیا نے حالیہ ہفتوں میں باب المندب آبنائے پر بھی کنٹرول حاصل کیا ہے، جو بحیرہ احمر کا اہم بحری راستہ ہے۔ عسکری ذرائع کے مطابق حوثیوں نے تعز کے قریب اہم پہاڑی علاقوں میں بھی پیش قدمی کی ہے اور تعز سے عدن جانے والی آخری سڑک کو خطرہ لاحق ہے۔</p>
<p>عالمی خوراک پروگرام کے مطابق یمن میں لڑائی میں اضافے کے باعث دسیوں ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں جبکہ بعض علاقوں میں ہر چار میں سے تین خاندان غذائی قلت کا شکار ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292123</guid>
      <pubDate>Mon, 05 Oct 2026 09:33:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/05093117ab7fd26.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/05093117ab7fd26.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
