<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 05 Oct 2026 18:09:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 05 Oct 2026 18:09:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خواتین اور امراض قلب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292098/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ انکشاف کہ جنوبی ایشیا کے پانچ ممالک میں پاکستانی خواتین میں اسکیمک ہارٹ ڈیزیز سے اموات کی شرح سب سے زیادہ ہے، سنجیدگی سے غور و فکر کا تقاضا کرتا ہے۔ 29 ستمبر کو عالمی یوم قلب کے موقع پر ماہر امراض قلب، ماہر امراض نسواں اور مقامی صنعت کے نمائندے کراچی پریس کلب میں ملک گیر ہر ہارٹ میٹرز مہم کے آغاز کے لیے جمع ہوئے، جہاں جے اے سی سی، ایشیا میں شائع ہونے والے گلوبل برڈن آف ڈیزیز کے تخمینوں سے حاصل ہونے والے شواہد کو اجاگر کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مطالعے سے معلوم ہوا کہ پانچ ممالک میں پاکستان واحد ملک ہے جہاں تخمینہ شدہ کیسز کے مقابلے میں اموات کا تناسب مردوں کے مقابلے میں خواتین میں زیادہ تھا، جو خواتین میں 4.4 فیصد جبکہ مردوں میں 3.1 فیصد رہا۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی واضح یاد دہانی ہیں کہ امراض قلب صرف مردوں کا مرض نہیں، جیسا کہ اب بھی بڑے پیمانے پر سمجھا جاتا ہے، بلکہ خواتین کی صحت کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سے خطرے کے عوامل پہلے ہی معلوم ہیں۔ ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، موٹاپا، جسمانی سرگرمی کی کمی اور غیر صحت بخش غذائیں، سب امراض قلب میں اضافے کا سبب بنتی ہیں، تاہم اسکریننگ اور احتیاطی نگہداشت انتہائی ناکافی ہیں۔ چنانچہ بہت سی خواتین سنگین پیچیدگیاں پیدا ہونے کے بعد ہی اسپتال پہنچتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مسئلہ خواتین کی صحت سے متعلق اختیار کیے جانے والے طریقہ کار میں بھی جڑا ہوا ہے۔ صحت کے ماہرین نے نشاندہی کی کہ قلبی صحت کو صرف درمیانی عمر کے بعد یا علامات شدید ہونے کی صورت میں توجہ طلب مسئلہ نہیں سمجھا جاسکتا۔ حمل، بچے کی پیدائش اور سنِ یاس، قلبی خطرات کی نشاندہی اور ان کے انتظام کے لیے اہم ادوار ہوسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر حمل کے دوران بلند فشار خون کے لیے زچگی کے بعد بھی مناسب فالو اَپ ضروری ہے۔ اسی طرح ذیابیطس، موٹاپے یا دیگر خطرے کے عوامل کی حامل خواتین کو باقاعدگی سے طبی جائزے کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کہ صرف اس وقت علاج کیا جائے جب ان کی طبیعت خراب ہوجائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مستقل غلط فہمی کہ دل کے امراض بنیادی طور پر مردوں کو متاثر کرتے ہیں، تشخیص اور علاج میں مزید تاخیر کا سبب بن سکتی ہے۔ خواتین اور ان کے اہل خانہ خطرے کی علامات کو نظرانداز کرسکتے ہیں یا پہلے سے موجود خطرے کے عوامل کی اہمیت کو سمجھنے میں ناکام رہ سکتے ہیں۔ بڑے سرکاری اسپتالوں کا تجربہ، جہاں ذیابیطس کے علاج کے لیے آنے والی بہت سی خواتین میں ایک یا اس سے زیادہ قلبی خطرے کے عوامل بھی پائے جاتے ہیں، ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، موٹاپے اور امراض قلب کے درمیان قریبی تعلق کو واضح کرتا ہے۔ اس صورتحال میں معمول کی اسکریننگ کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، خصوصاً ان خواتین کے لیے جو پہلے ہی ان میں سے ایک یا زیادہ بیماریوں کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم صرف آگاہی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ پاکستان کے نظام صحت کو بنیادی اور ثانوی سطح پر قلبی نگہداشت کے زیادہ مضبوط نیٹ ورک کی ضرورت ہے۔ تیسرے درجے کے امراض قلب کے اسپتالوں سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ ایسے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا بوجھ برداشت کرتے رہیں جنہیں بروقت تشخیص، احتیاطی علاج اور باقاعدہ فالو اَپ سے فائدہ پہنچایا جاسکتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاندانوں کو بھی یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ خواتین کی صحت گھریلو ذمہ داریوں کے مقابلے میں ثانوی حیثیت اختیار نہیں کرسکتی۔ خواتین کو طبی نگہداشت حاصل کرنے، جسمانی طور پر فعال رہنے اور تجویز کردہ علاج پر عمل کرنے کے لیے وقت اور تعاون کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے ہر ہارٹ میٹرز مہم کا آغاز بروقت اقدام ہے، تاہم اس کی کامیابی کا حتمی پیمانہ منعقد کی جانے والی آگاہی تقریبات کی تعداد نہیں بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ آیا زیادہ خواتین کی اسکریننگ کی جاتی ہے، ان میں بیماری کی تشخیص پہلے مرحلے پر ہوتی ہے اور انہیں مسلسل طبی نگہداشت میسر آتی ہے یا نہیں۔ بچاؤ کا عمل ایمرجنسی وارڈ پہنچنے سے بہت پہلے شروع ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یہ انکشاف کہ جنوبی ایشیا کے پانچ ممالک میں پاکستانی خواتین میں اسکیمک ہارٹ ڈیزیز سے اموات کی شرح سب سے زیادہ ہے، سنجیدگی سے غور و فکر کا تقاضا کرتا ہے۔ 29 ستمبر کو عالمی یوم قلب کے موقع پر ماہر امراض قلب، ماہر امراض نسواں اور مقامی صنعت کے نمائندے کراچی پریس کلب میں ملک گیر ہر ہارٹ میٹرز مہم کے آغاز کے لیے جمع ہوئے، جہاں جے اے سی سی، ایشیا میں شائع ہونے والے گلوبل برڈن آف ڈیزیز کے تخمینوں سے حاصل ہونے والے شواہد کو اجاگر کیا گیا۔</strong></p>
<p>مطالعے سے معلوم ہوا کہ پانچ ممالک میں پاکستان واحد ملک ہے جہاں تخمینہ شدہ کیسز کے مقابلے میں اموات کا تناسب مردوں کے مقابلے میں خواتین میں زیادہ تھا، جو خواتین میں 4.4 فیصد جبکہ مردوں میں 3.1 فیصد رہا۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی واضح یاد دہانی ہیں کہ امراض قلب صرف مردوں کا مرض نہیں، جیسا کہ اب بھی بڑے پیمانے پر سمجھا جاتا ہے، بلکہ خواتین کی صحت کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔</p>
<p>بہت سے خطرے کے عوامل پہلے ہی معلوم ہیں۔ ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، موٹاپا، جسمانی سرگرمی کی کمی اور غیر صحت بخش غذائیں، سب امراض قلب میں اضافے کا سبب بنتی ہیں، تاہم اسکریننگ اور احتیاطی نگہداشت انتہائی ناکافی ہیں۔ چنانچہ بہت سی خواتین سنگین پیچیدگیاں پیدا ہونے کے بعد ہی اسپتال پہنچتی ہیں۔</p>
<p>یہ مسئلہ خواتین کی صحت سے متعلق اختیار کیے جانے والے طریقہ کار میں بھی جڑا ہوا ہے۔ صحت کے ماہرین نے نشاندہی کی کہ قلبی صحت کو صرف درمیانی عمر کے بعد یا علامات شدید ہونے کی صورت میں توجہ طلب مسئلہ نہیں سمجھا جاسکتا۔ حمل، بچے کی پیدائش اور سنِ یاس، قلبی خطرات کی نشاندہی اور ان کے انتظام کے لیے اہم ادوار ہوسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر حمل کے دوران بلند فشار خون کے لیے زچگی کے بعد بھی مناسب فالو اَپ ضروری ہے۔ اسی طرح ذیابیطس، موٹاپے یا دیگر خطرے کے عوامل کی حامل خواتین کو باقاعدگی سے طبی جائزے کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کہ صرف اس وقت علاج کیا جائے جب ان کی طبیعت خراب ہوجائے۔</p>
<p>یہ مستقل غلط فہمی کہ دل کے امراض بنیادی طور پر مردوں کو متاثر کرتے ہیں، تشخیص اور علاج میں مزید تاخیر کا سبب بن سکتی ہے۔ خواتین اور ان کے اہل خانہ خطرے کی علامات کو نظرانداز کرسکتے ہیں یا پہلے سے موجود خطرے کے عوامل کی اہمیت کو سمجھنے میں ناکام رہ سکتے ہیں۔ بڑے سرکاری اسپتالوں کا تجربہ، جہاں ذیابیطس کے علاج کے لیے آنے والی بہت سی خواتین میں ایک یا اس سے زیادہ قلبی خطرے کے عوامل بھی پائے جاتے ہیں، ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، موٹاپے اور امراض قلب کے درمیان قریبی تعلق کو واضح کرتا ہے۔ اس صورتحال میں معمول کی اسکریننگ کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، خصوصاً ان خواتین کے لیے جو پہلے ہی ان میں سے ایک یا زیادہ بیماریوں کا شکار ہیں۔</p>
<p>تاہم صرف آگاہی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ پاکستان کے نظام صحت کو بنیادی اور ثانوی سطح پر قلبی نگہداشت کے زیادہ مضبوط نیٹ ورک کی ضرورت ہے۔ تیسرے درجے کے امراض قلب کے اسپتالوں سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ ایسے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا بوجھ برداشت کرتے رہیں جنہیں بروقت تشخیص، احتیاطی علاج اور باقاعدہ فالو اَپ سے فائدہ پہنچایا جاسکتا تھا۔</p>
<p>خاندانوں کو بھی یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ خواتین کی صحت گھریلو ذمہ داریوں کے مقابلے میں ثانوی حیثیت اختیار نہیں کرسکتی۔ خواتین کو طبی نگہداشت حاصل کرنے، جسمانی طور پر فعال رہنے اور تجویز کردہ علاج پر عمل کرنے کے لیے وقت اور تعاون کی ضرورت ہے۔</p>
<p>اس لیے ہر ہارٹ میٹرز مہم کا آغاز بروقت اقدام ہے، تاہم اس کی کامیابی کا حتمی پیمانہ منعقد کی جانے والی آگاہی تقریبات کی تعداد نہیں بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ آیا زیادہ خواتین کی اسکریننگ کی جاتی ہے، ان میں بیماری کی تشخیص پہلے مرحلے پر ہوتی ہے اور انہیں مسلسل طبی نگہداشت میسر آتی ہے یا نہیں۔ بچاؤ کا عمل ایمرجنسی وارڈ پہنچنے سے بہت پہلے شروع ہونا چاہیے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292098</guid>
      <pubDate>Sun, 04 Oct 2026 11:58:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/041155521c5d324.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/041155521c5d324.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
