<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 04 Oct 2026 14:03:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 04 Oct 2026 14:03:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور ہائیکورٹ نے منی لانڈرنگ قانون کے تحت ٹیکس حکام کے اختیارات تسلیم کرلیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292094/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ انسدادِ منی لانڈرنگ ایکٹ (اے ایم ایل اے) ٹیکس حکام کو جرائم سے حاصل ہونے والی رقم کے حوالے سے ٹیکس دہندگان کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کا اختیار دیتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے کہا کہ ٹیکس دہندگان کی مالی ذمہ داری کے تعین سے متعلق ٹیکس قوانین موجود ہونے کے باوجود، اگر رقوم کسی غیر قانونی بنیادی جرم سے حاصل ہوئی ہوں تو ٹیکس حکام اے ایم ایل اے کے تحت فوجداری کارروائی شروع کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے یہ حکم ٹیکس دہندگان محمود اکبر اور دیگر کی جانب سے اے ایم ایل اے کے تحت ان کے خلاف درج ایف آئی آرز کو چیلنج کرنے کے لیے دائر متعدد درخواستوں پر جاری کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ آرڈیننس 2001 ٹیکس معاملات کی انکوائری، تشخیص، اپیل اور وصولی کا مکمل طریقہ کار فراہم کرتا ہے، اس لیے اس عمل کے دوران یا اس سے قبل فوجداری کارروائی شروع کرنا بنیادی حقوق، قانونی طریقہ کار اور منصفانہ ٹرائل کی خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے قرار دیا کہ اے ایم ایل اے کا مقصد محض ٹیکس واجبات کا تعین یا ٹیکس کی وصولی نہیں بلکہ منی لانڈرنگ کی روک تھام، جرائم سے حاصل ہونے والی جائیداد کو منجمد اور ضبط کرنا ہے۔ عدالت نے ٹیکس کے تعین و وصولی اور اے ایم ایل اے کے تحت فوجداری کارروائی کے درمیان واضح فرق برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت کے مطابق اے ایم ایل اے کے تحت کارروائی کے لیے بنیادی جرم میں پہلے سے سزا کا ہونا ضروری نہیں۔ استغاثہ کو پھر بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ متعلقہ اثاثے کسی غیر قانونی بنیادی جرم سے حاصل ہوئے ہیں اور اس کا ثبوت معقول شک سے بالاتر فراہم کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے کہا کہ منی لانڈرنگ کا جرم بنیادی جرم سے براہ راست منسلک ہے، اس لیے تحقیقات اے ایم ایل اے کے تحت ہی کی جانی چاہئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے مزید قرار دیا کہ جہاں بادی النظر میں جرم کا انکشاف ہو، وہاں ہائیکورٹ متنازع دستاویزات کی تشریح کرکے ایف آئی آر ختم نہیں کرسکتی۔ آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے عدالت خود کو تفتیشی ادارے کا کردار نہیں دے سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے درخواستیں میرٹ پر مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ اس مرحلے پر کسی حتمی رائے کا اظہار نامکمل فوجداری کارروائی کے میرٹ میں مداخلت کے مترادف ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ انسدادِ منی لانڈرنگ ایکٹ (اے ایم ایل اے) ٹیکس حکام کو جرائم سے حاصل ہونے والی رقم کے حوالے سے ٹیکس دہندگان کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کا اختیار دیتا ہے۔</strong></p>
<p>عدالت نے کہا کہ ٹیکس دہندگان کی مالی ذمہ داری کے تعین سے متعلق ٹیکس قوانین موجود ہونے کے باوجود، اگر رقوم کسی غیر قانونی بنیادی جرم سے حاصل ہوئی ہوں تو ٹیکس حکام اے ایم ایل اے کے تحت فوجداری کارروائی شروع کرسکتے ہیں۔</p>
<p>عدالت نے یہ حکم ٹیکس دہندگان محمود اکبر اور دیگر کی جانب سے اے ایم ایل اے کے تحت ان کے خلاف درج ایف آئی آرز کو چیلنج کرنے کے لیے دائر متعدد درخواستوں پر جاری کیا۔</p>
<p>درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ آرڈیننس 2001 ٹیکس معاملات کی انکوائری، تشخیص، اپیل اور وصولی کا مکمل طریقہ کار فراہم کرتا ہے، اس لیے اس عمل کے دوران یا اس سے قبل فوجداری کارروائی شروع کرنا بنیادی حقوق، قانونی طریقہ کار اور منصفانہ ٹرائل کی خلاف ورزی ہے۔</p>
<p>عدالت نے قرار دیا کہ اے ایم ایل اے کا مقصد محض ٹیکس واجبات کا تعین یا ٹیکس کی وصولی نہیں بلکہ منی لانڈرنگ کی روک تھام، جرائم سے حاصل ہونے والی جائیداد کو منجمد اور ضبط کرنا ہے۔ عدالت نے ٹیکس کے تعین و وصولی اور اے ایم ایل اے کے تحت فوجداری کارروائی کے درمیان واضح فرق برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>عدالت کے مطابق اے ایم ایل اے کے تحت کارروائی کے لیے بنیادی جرم میں پہلے سے سزا کا ہونا ضروری نہیں۔ استغاثہ کو پھر بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ متعلقہ اثاثے کسی غیر قانونی بنیادی جرم سے حاصل ہوئے ہیں اور اس کا ثبوت معقول شک سے بالاتر فراہم کرنا ہوگا۔</p>
<p>عدالت نے کہا کہ منی لانڈرنگ کا جرم بنیادی جرم سے براہ راست منسلک ہے، اس لیے تحقیقات اے ایم ایل اے کے تحت ہی کی جانی چاہئیں۔</p>
<p>عدالت نے مزید قرار دیا کہ جہاں بادی النظر میں جرم کا انکشاف ہو، وہاں ہائیکورٹ متنازع دستاویزات کی تشریح کرکے ایف آئی آر ختم نہیں کرسکتی۔ آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے عدالت خود کو تفتیشی ادارے کا کردار نہیں دے سکتی۔</p>
<p>عدالت نے درخواستیں میرٹ پر مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ اس مرحلے پر کسی حتمی رائے کا اظہار نامکمل فوجداری کارروائی کے میرٹ میں مداخلت کے مترادف ہوگا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292094</guid>
      <pubDate>Sun, 04 Oct 2026 11:06:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/041104287307bf0.webp" type="image/webp" medium="image" height="570" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/041104287307bf0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
