<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 04 Oct 2026 12:56:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 04 Oct 2026 12:56:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سندھ ہائیکورٹ کا اسٹاک بروکر کو سندھ میں سیلز ٹیکس ادا کرنے کا حکم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292089/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سندھ ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے کراچی آٹومیٹڈ ٹریڈنگ سسٹم (کے اے ٹی ایس) کے ذریعے کلائنٹس کے لین دین کرنے والا اسٹاک بروکر سندھ میں سیلز ٹیکس ادا کرنے کا پابند ہے، خواہ بروکر یا اس کے کلائنٹس کسی دوسرے صوبے میں مقیم ہوں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس محمد عبد الرحمن اور جسٹس ڈاکٹر شاہ نواز میمن پر مشتمل سندھ ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے لاہور میں قائم اسٹاک بروکر ظفر سیکیورٹیز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی جانب سے دائر سیلز ٹیکس سے متعلق دو ریفرنس درخواستوں کا فیصلہ سنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت کے فیصلے کے مطابق یکم جولائی 2017 سے اسٹاک بروکر کی خدمات پر سندھ میں سیلز ٹیکس عائد ہوگا، اگر اس کے سودے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے کراچی میں قائم کے اے ٹی ایس کے ذریعے انجام پاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ ریونیو بورڈ نے ظفر سیکیورٹیز کے خلاف مالی سال 2017 سے مالی سال 2021 تک 3 کروڑ 25 لاکھ روپے، جبکہ مالی سال 2022 کے لیے ایک کروڑ 7 لاکھ روپے کے ٹیکس مطالبات جاری کیے تھے۔ کمپنی لاہور سے پنجاب، خیبر پختونخوا اور دیگر صوبوں میں مقیم کلائنٹس کو خدمات فراہم کرتی ہے اور انہی خدمات پر پنجاب ریونیو اتھارٹی کو پہلے ہی سیلز ٹیکس ادا کر چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے وکیل جہانزیب سکھیرہ نے مؤقف اختیار کیا کہ کمپنی پنجاب میں قائم ہے، وہیں سے خدمات فراہم کرتی ہے اور سندھ کو دوسرے صوبے میں کام کرنے والے ادارے پر ٹیکس عائد کرنے کا اختیار نہیں۔ انہوں نے دوہرے ٹیکس اور آئین کے آرٹیکل 141 کی خلاف ورزی کا معاملہ بھی اٹھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے قرار دیا کہ سندھ فنانس ایکٹ 2017 کے تحت کاروبار کی تعریف میں ورچوئل موجودگی، ویب سائٹ، ویب پورٹل اور ای کامرس کے دیگر ذرائع کو شامل کیا گیا ہے۔ چونکہ متعلقہ سودے کراچی میں کے اے ٹی ایس کے ذریعے مکمل ہوتے ہیں، اس لیے کمپنی جزوی طور پر سندھ میں کاروبار کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، عدالت نے یکم جولائی 2017 سے پہلے کی مدت کے ٹیکس مطالبات سابقہ فیصلے کی روشنی میں کالعدم قرار دے دیے۔ عدالت نے دوہرے ٹیکس اور آئینی اختیار سے متعلق سوالات پر فیصلہ نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب قومی ٹیکس کونسل ظفر سیکیورٹیز کی درخواست پر تاحال فیصلہ نہیں کرسکی، حالانکہ لاہور ہائیکورٹ اسے تمام متعلقہ فریقوں کو سن کر دو ہفتوں میں وجوہات پر مبنی حکم جاری کرنے کی ہدایت دے چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سندھ ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے کراچی آٹومیٹڈ ٹریڈنگ سسٹم (کے اے ٹی ایس) کے ذریعے کلائنٹس کے لین دین کرنے والا اسٹاک بروکر سندھ میں سیلز ٹیکس ادا کرنے کا پابند ہے، خواہ بروکر یا اس کے کلائنٹس کسی دوسرے صوبے میں مقیم ہوں۔</strong></p>
<p>جسٹس محمد عبد الرحمن اور جسٹس ڈاکٹر شاہ نواز میمن پر مشتمل سندھ ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے لاہور میں قائم اسٹاک بروکر ظفر سیکیورٹیز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی جانب سے دائر سیلز ٹیکس سے متعلق دو ریفرنس درخواستوں کا فیصلہ سنایا۔</p>
<p>عدالت کے فیصلے کے مطابق یکم جولائی 2017 سے اسٹاک بروکر کی خدمات پر سندھ میں سیلز ٹیکس عائد ہوگا، اگر اس کے سودے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے کراچی میں قائم کے اے ٹی ایس کے ذریعے انجام پاتے ہیں۔</p>
<p>سندھ ریونیو بورڈ نے ظفر سیکیورٹیز کے خلاف مالی سال 2017 سے مالی سال 2021 تک 3 کروڑ 25 لاکھ روپے، جبکہ مالی سال 2022 کے لیے ایک کروڑ 7 لاکھ روپے کے ٹیکس مطالبات جاری کیے تھے۔ کمپنی لاہور سے پنجاب، خیبر پختونخوا اور دیگر صوبوں میں مقیم کلائنٹس کو خدمات فراہم کرتی ہے اور انہی خدمات پر پنجاب ریونیو اتھارٹی کو پہلے ہی سیلز ٹیکس ادا کر چکی ہے۔</p>
<p>کمپنی کے وکیل جہانزیب سکھیرہ نے مؤقف اختیار کیا کہ کمپنی پنجاب میں قائم ہے، وہیں سے خدمات فراہم کرتی ہے اور سندھ کو دوسرے صوبے میں کام کرنے والے ادارے پر ٹیکس عائد کرنے کا اختیار نہیں۔ انہوں نے دوہرے ٹیکس اور آئین کے آرٹیکل 141 کی خلاف ورزی کا معاملہ بھی اٹھایا۔</p>
<p>عدالت نے قرار دیا کہ سندھ فنانس ایکٹ 2017 کے تحت کاروبار کی تعریف میں ورچوئل موجودگی، ویب سائٹ، ویب پورٹل اور ای کامرس کے دیگر ذرائع کو شامل کیا گیا ہے۔ چونکہ متعلقہ سودے کراچی میں کے اے ٹی ایس کے ذریعے مکمل ہوتے ہیں، اس لیے کمپنی جزوی طور پر سندھ میں کاروبار کرتی ہے۔</p>
<p>تاہم، عدالت نے یکم جولائی 2017 سے پہلے کی مدت کے ٹیکس مطالبات سابقہ فیصلے کی روشنی میں کالعدم قرار دے دیے۔ عدالت نے دوہرے ٹیکس اور آئینی اختیار سے متعلق سوالات پر فیصلہ نہیں دیا۔</p>
<p>دوسری جانب قومی ٹیکس کونسل ظفر سیکیورٹیز کی درخواست پر تاحال فیصلہ نہیں کرسکی، حالانکہ لاہور ہائیکورٹ اسے تمام متعلقہ فریقوں کو سن کر دو ہفتوں میں وجوہات پر مبنی حکم جاری کرنے کی ہدایت دے چکی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292089</guid>
      <pubDate>Sun, 04 Oct 2026 10:23:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیرنس جے سگامونی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/041021398befde1.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/041021398befde1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
