<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 03 Oct 2026 23:21:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 03 Oct 2026 23:21:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ای اے: اسٹریٹجک ذخائر سے 32 کروڑ 50 لاکھ بیرل تیل جاری کردیا گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292080/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے ہفتے کے روز بتایا ہے کہ رکن ممالک نے اب تک اسٹریٹجک ذخائر سے 32 کروڑ 50 لاکھ بیرل تیل اور تیل سے حاصل ہونے والی مصنوعات جاری کردی ہیں، جبکہ مارچ میں 40 کروڑ بیرل جاری کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت جی سیون ممالک کی جانب سے آئی ای اے کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے عالمی توانائی کی رسد سے متعلق خدشات کم کرنے کے لیے فوری طور پر 10 کروڑ بیرل ڈیزل اور خام تیل جاری کرنے پر اتفاق کے ایک روز بعد سامنے آئی۔ یہ خدشات امریکا اور ایران کی جنگ کے اثرات کے باعث پیدا ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی سیون نے یہ واضح نہیں کیا کہ 10 کروڑ بیرل میں مارچ میں آئی ای اے کے وعدے کے تحت باقی رہ جانے والے 7 کروڑ 50 لاکھ بیرل بھی شامل ہیں یا یہ اس کے علاوہ جاری کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت اتحادی ممالک پر ڈیزل کے ذخائر جاری کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے تاکہ ایندھن کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کو کم کیا جاسکے، جس کے اثرات امریکا سمیت دیگر ممالک میں بھی محسوس کیے جارہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیزل کی محدود رسد مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل میں سے ایک ہے، جہاں ایران امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت محدود کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس کے خلاف جنگ میں یوکرین کی جوابی کارروائیوں کے تحت روسی آئل ریفائنریوں پر کیے گئے حملوں نے بھی عالمی منڈی کو متاثر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ای اے نے ہفتے کو ایک بیان میں کہا کہ ’’11 مارچ کو اعلان کردہ آئی ای اے کی اجتماعی کارروائی کے تحت تقریباً 32 کروڑ 50 لاکھ بیرل اب تک جاری کیے جاچکے ہیں، جو اس اقدام کے تحت ابتدائی طور پر وعدہ کیے گئے 40 کروڑ بیرل کے 80 فیصد سے زیادہ ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارچ میں 32 ممالک پر مشتمل آئی ای اے کے ارکان نے یہ ذخائر جاری کرنے کا وعدہ کیا تھا، جن میں جی سیون کے تمام ممالک، یعنی برطانیہ، کینیڈا، جرمنی، اٹلی، جاپان اور امریکا شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی سیون ممالک نے جمعے کو اگلے چار ماہ کے دوران 10 کروڑ بیرل تیل اور تیل سے حاصل ہونے والی مصنوعات جاری کرنے پر اتفاق کیا تھا، جس میں ’’پہلے 20 روز کے دوران خاطر خواہ مقدار میں ڈیزل کی پیشگی فراہمی‘‘ بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ان کے درمیان ڈیزل کی برآمد پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔ اس اقدام سے واشنگٹن کی جانب سے عائد کی جانے والی ممکنہ پابندی کا خطرہ ٹل گیا، جبکہ ٹرمپ بعد میں کہہ چکے ہیں کہ ایسی پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے ہفتے کے روز بتایا ہے کہ رکن ممالک نے اب تک اسٹریٹجک ذخائر سے 32 کروڑ 50 لاکھ بیرل تیل اور تیل سے حاصل ہونے والی مصنوعات جاری کردی ہیں، جبکہ مارچ میں 40 کروڑ بیرل جاری کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔</strong></p>
<p>یہ پیش رفت جی سیون ممالک کی جانب سے آئی ای اے کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے عالمی توانائی کی رسد سے متعلق خدشات کم کرنے کے لیے فوری طور پر 10 کروڑ بیرل ڈیزل اور خام تیل جاری کرنے پر اتفاق کے ایک روز بعد سامنے آئی۔ یہ خدشات امریکا اور ایران کی جنگ کے اثرات کے باعث پیدا ہوئے ہیں۔</p>
<p>جی سیون نے یہ واضح نہیں کیا کہ 10 کروڑ بیرل میں مارچ میں آئی ای اے کے وعدے کے تحت باقی رہ جانے والے 7 کروڑ 50 لاکھ بیرل بھی شامل ہیں یا یہ اس کے علاوہ جاری کیے جائیں گے۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت اتحادی ممالک پر ڈیزل کے ذخائر جاری کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے تاکہ ایندھن کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کو کم کیا جاسکے، جس کے اثرات امریکا سمیت دیگر ممالک میں بھی محسوس کیے جارہے ہیں۔</p>
<p>ڈیزل کی محدود رسد مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل میں سے ایک ہے، جہاں ایران امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت محدود کر رہا ہے۔</p>
<p>روس کے خلاف جنگ میں یوکرین کی جوابی کارروائیوں کے تحت روسی آئل ریفائنریوں پر کیے گئے حملوں نے بھی عالمی منڈی کو متاثر کیا ہے۔</p>
<p>آئی ای اے نے ہفتے کو ایک بیان میں کہا کہ ’’11 مارچ کو اعلان کردہ آئی ای اے کی اجتماعی کارروائی کے تحت تقریباً 32 کروڑ 50 لاکھ بیرل اب تک جاری کیے جاچکے ہیں، جو اس اقدام کے تحت ابتدائی طور پر وعدہ کیے گئے 40 کروڑ بیرل کے 80 فیصد سے زیادہ ہیں۔‘‘</p>
<p>مارچ میں 32 ممالک پر مشتمل آئی ای اے کے ارکان نے یہ ذخائر جاری کرنے کا وعدہ کیا تھا، جن میں جی سیون کے تمام ممالک، یعنی برطانیہ، کینیڈا، جرمنی، اٹلی، جاپان اور امریکا شامل ہیں۔</p>
<p>جی سیون ممالک نے جمعے کو اگلے چار ماہ کے دوران 10 کروڑ بیرل تیل اور تیل سے حاصل ہونے والی مصنوعات جاری کرنے پر اتفاق کیا تھا، جس میں ’’پہلے 20 روز کے دوران خاطر خواہ مقدار میں ڈیزل کی پیشگی فراہمی‘‘ بھی شامل ہے۔</p>
<p>انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ان کے درمیان ڈیزل کی برآمد پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔ اس اقدام سے واشنگٹن کی جانب سے عائد کی جانے والی ممکنہ پابندی کا خطرہ ٹل گیا، جبکہ ٹرمپ بعد میں کہہ چکے ہیں کہ ایسی پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292080</guid>
      <pubDate>Sat, 03 Oct 2026 21:07:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/0321002235bbf6f.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/0321002235bbf6f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
