<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 20:31:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 02 Oct 2026 20:31:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات، بات چیت ہفتے تک ملتوی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292028/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد میں وفاقی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان موجودہ سیاسی صورتحال پر مذاکرات کے دو ادوار کے بعد بات چیت ہفتے تک ملتوی کردی گئی۔ دونوں فریقوں نے مذاکرات ہفتے کو دوپہر 2 بجے دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی اسمبلی کے اسپیکر کے چیمبر کے کمیٹی روم میں کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے مذاکرات میں دونوں جانب سے اپنے اپنے مؤقف پیش کیے گئے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے مذاکرات کے پہلے روز کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقوں نے اپنے مؤقف سامنے رکھ دیے ہیں اور امید ہے کہ بات چیت اگلے روز بھی جاری رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی مذاکراتی ٹیم کی قیادت قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے کی۔ ٹیم میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپوزیشن ٹیم میں سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس، بیرسٹر گوہر، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، عامر ڈوگر اور سلمان اکرم راجہ شامل تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سینیٹر شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلا دور دوپہر 12 بجے شروع ہوا، جس میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا میں سکیورٹی اور امن و امان کی صورتحال پر شرکا کو بریفنگ دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران حکومت اور پی ٹی آئی ٹیموں کے درمیان بعض معاملات پر اختلافات سامنے آئے، تاہم یہ اختلافات ڈیڈ لاک کا باعث نہیں بنے اور بات چیت جاری رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق راجہ ناصر عباس اور رانا ثناء اللہ کے درمیان عدالتی معاملات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ راجہ ناصر عباس نے عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہونے اور پی ٹی آئی بانی عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندیوں پر تنقید اور تشویش کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رانا ثناء اللہ نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتیں اپنا کام کررہی ہیں اور حکومت لانگ مارچ سے متعلق عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی وفد نے کہا کہ احتجاج کی آڑ میں اسلام آباد کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی جبکہ لانگ مارچ یا اڈیالہ جیل پر حملے کی دھمکی مناسب سیاسی طرز عمل نہیں۔ حکومتی نمائندوں نے زور دیا کہ دونوں فریقوں کو مذاکرات میں لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپیکر ایاز صادق نے مذاکرات کے دوران مداخلت کرتے ہوئے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ باہمی مفاہمت کے ذریعے بات چیت کو آگے بڑھایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا دور نماز جمعہ کے بعد شروع ہوا۔ تجاویز اور سفارشات کے تبادلے کے بعد دونوں فریقوں نے اپنے اپنے ارکان کے ساتھ الگ الگ مشاورت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق اپوزیشن رہنما اسپیکر کے چیمبر میں موجود رہے اور مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت اور زیر بحث معاملات سے اپنی قیادت کو آگاہ کیا۔ حکومتی نمائندوں نے اسپیکر چیمبر کے کانفرنس روم میں اپوزیشن کے مطالبات اور سفارشات پر الگ مشاورت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق محسن نقوی اور رانا ثناء اللہ نے وزیراعظم شہباز شریف سے بھی رابطہ کرکے انہیں مذاکرات میں پیش رفت سے آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی روم میں داخل ہونے سے قبل اسپیکر ایاز صادق نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ صرف مذاکرات میں سہولت کاری کررہے ہیں اور امید ہے کہ بات چیت کامیاب ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپیکر نے سورۃ الفاتحہ کی پہلی آیت ’’الحمدللہ رب العالمین‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اختلافات اور مسائل حل کرنے کا واحد راستہ مذاکرات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مذاکرات اور سیاسی مسائل کے حل کی کوششوں کے لیے ان کا دفتر کھلا رہے گا۔ عہدے اور مناصب عارضی ہوتے ہیں جبکہ پارلیمنٹ وہ فورم ہے جہاں مسائل حل کیے جاسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کے مذاکرات سے قبل طارق فضل چوہدری نے کہا تھا کہ حکومت مذاکرات میں امید کے ساتھ شریک ہوگی اور بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل ملک کے مفاد میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بار بار اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے کے بجائے سیاسی طریقہ اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ مذاکرات کا مقصد ممکنہ حل کی جانب پیش رفت کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طلال چوہدری نے کہا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت دی ہے اور ان پر زور دیا ہے کہ پارلیمنٹ میں بات چیت کے ذریعے اپنے مسائل حل کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذاکرات جمعرات کو اپوزیشن رہنماؤں کے اجلاس کے بعد شروع ہوئے، جس کے بعد بیرسٹر گوہر نے کہا تھا کہ اپوزیشن نے حکومت کی مذاکرات کی دعوت قبول کرلی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپوزیشن نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جبکہ اس سے قبل مارچ کی تاریخ 27 ستمبر مقرر کی گئی تھی۔ اپوزیشن رہنماؤں نے جمعرات کو کہا تھا کہ وہ طے شدہ مارچ ملتوی نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذاکرات ایسے وقت ہورہے ہیں جب وفاقی وزرا نے خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال اور پی ٹی آئی کے مجوزہ لانگ مارچ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وفاقی وزرا نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ پر غور کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاملہ جمعرات کو ایوان صدر میں ہونے والے اجلاس میں بھی زیر بحث آیا، جس میں صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد میں وفاقی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان موجودہ سیاسی صورتحال پر مذاکرات کے دو ادوار کے بعد بات چیت ہفتے تک ملتوی کردی گئی۔ دونوں فریقوں نے مذاکرات ہفتے کو دوپہر 2 بجے دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا۔</strong></p>
<p>قومی اسمبلی کے اسپیکر کے چیمبر کے کمیٹی روم میں کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے مذاکرات میں دونوں جانب سے اپنے اپنے مؤقف پیش کیے گئے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے مذاکرات کے پہلے روز کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقوں نے اپنے مؤقف سامنے رکھ دیے ہیں اور امید ہے کہ بات چیت اگلے روز بھی جاری رہے گی۔</p>
<p>حکومتی مذاکراتی ٹیم کی قیادت قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے کی۔ ٹیم میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ شامل تھے۔</p>
<p>اپوزیشن ٹیم میں سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس، بیرسٹر گوہر، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، عامر ڈوگر اور سلمان اکرم راجہ شامل تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سینیٹر شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔</p>
<p>پہلا دور دوپہر 12 بجے شروع ہوا، جس میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا میں سکیورٹی اور امن و امان کی صورتحال پر شرکا کو بریفنگ دی۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران حکومت اور پی ٹی آئی ٹیموں کے درمیان بعض معاملات پر اختلافات سامنے آئے، تاہم یہ اختلافات ڈیڈ لاک کا باعث نہیں بنے اور بات چیت جاری رہی۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق راجہ ناصر عباس اور رانا ثناء اللہ کے درمیان عدالتی معاملات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ راجہ ناصر عباس نے عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہونے اور پی ٹی آئی بانی عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندیوں پر تنقید اور تشویش کا اظہار کیا۔</p>
<p>رانا ثناء اللہ نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتیں اپنا کام کررہی ہیں اور حکومت لانگ مارچ سے متعلق عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنائے گی۔</p>
<p>حکومتی وفد نے کہا کہ احتجاج کی آڑ میں اسلام آباد کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی جبکہ لانگ مارچ یا اڈیالہ جیل پر حملے کی دھمکی مناسب سیاسی طرز عمل نہیں۔ حکومتی نمائندوں نے زور دیا کہ دونوں فریقوں کو مذاکرات میں لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔</p>
<p>اسپیکر ایاز صادق نے مذاکرات کے دوران مداخلت کرتے ہوئے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ باہمی مفاہمت کے ذریعے بات چیت کو آگے بڑھایا جائے۔</p>
<p>دوسرا دور نماز جمعہ کے بعد شروع ہوا۔ تجاویز اور سفارشات کے تبادلے کے بعد دونوں فریقوں نے اپنے اپنے ارکان کے ساتھ الگ الگ مشاورت کی۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق اپوزیشن رہنما اسپیکر کے چیمبر میں موجود رہے اور مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت اور زیر بحث معاملات سے اپنی قیادت کو آگاہ کیا۔ حکومتی نمائندوں نے اسپیکر چیمبر کے کانفرنس روم میں اپوزیشن کے مطالبات اور سفارشات پر الگ مشاورت کی۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق محسن نقوی اور رانا ثناء اللہ نے وزیراعظم شہباز شریف سے بھی رابطہ کرکے انہیں مذاکرات میں پیش رفت سے آگاہ کیا۔</p>
<p>کمیٹی روم میں داخل ہونے سے قبل اسپیکر ایاز صادق نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ صرف مذاکرات میں سہولت کاری کررہے ہیں اور امید ہے کہ بات چیت کامیاب ہوگی۔</p>
<p>اسپیکر نے سورۃ الفاتحہ کی پہلی آیت ’’الحمدللہ رب العالمین‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اختلافات اور مسائل حل کرنے کا واحد راستہ مذاکرات ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مذاکرات اور سیاسی مسائل کے حل کی کوششوں کے لیے ان کا دفتر کھلا رہے گا۔ عہدے اور مناصب عارضی ہوتے ہیں جبکہ پارلیمنٹ وہ فورم ہے جہاں مسائل حل کیے جاسکتے ہیں۔</p>
<p>جمعہ کے مذاکرات سے قبل طارق فضل چوہدری نے کہا تھا کہ حکومت مذاکرات میں امید کے ساتھ شریک ہوگی اور بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل ملک کے مفاد میں ہے۔</p>
<p>انہوں نے بار بار اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے کے بجائے سیاسی طریقہ اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ مذاکرات کا مقصد ممکنہ حل کی جانب پیش رفت کرنا ہے۔</p>
<p>طلال چوہدری نے کہا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت دی ہے اور ان پر زور دیا ہے کہ پارلیمنٹ میں بات چیت کے ذریعے اپنے مسائل حل کریں۔</p>
<p>مذاکرات جمعرات کو اپوزیشن رہنماؤں کے اجلاس کے بعد شروع ہوئے، جس کے بعد بیرسٹر گوہر نے کہا تھا کہ اپوزیشن نے حکومت کی مذاکرات کی دعوت قبول کرلی ہے۔</p>
<p>اپوزیشن نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جبکہ اس سے قبل مارچ کی تاریخ 27 ستمبر مقرر کی گئی تھی۔ اپوزیشن رہنماؤں نے جمعرات کو کہا تھا کہ وہ طے شدہ مارچ ملتوی نہیں کریں گے۔</p>
<p>مذاکرات ایسے وقت ہورہے ہیں جب وفاقی وزرا نے خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال اور پی ٹی آئی کے مجوزہ لانگ مارچ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وفاقی وزرا نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ پر غور کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>یہ معاملہ جمعرات کو ایوان صدر میں ہونے والے اجلاس میں بھی زیر بحث آیا، جس میں صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292028</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 19:17:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/02150349929fde6.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/02150349929fde6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
