<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 04:41:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 02 Oct 2026 04:41:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران حملے کی صورت میں مزید سخت جوابی کارروائی کیلئے تیار، سفارتی کوششوں کی کامیابی کے امکانات کم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291984/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران امریکا کی جانب سے بڑے پیمانے پر فوجی حملے دوبارہ شروع کیے جانے کی صورت میں پہلے سے زیادہ سخت اور وسیع جوابی کارروائی کی تیاری کررہا ہے، تاہم تہران سفارتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کا راستہ بھی کھلا رکھے ہوئے ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تین سینئر ایرانی حکام اور مذاکرات سے باخبر ایک ذریعے کے مطابق ایرانی قیادت میں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ نئے امریکی حملے کی صورت میں پہلے سے زیادہ مضبوط ردعمل دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوجی حکام ممکنہ اہداف کا دائرہ امریکی مفادات سے منسلک تنصیبات سے بڑھا کر ان ممالک تک کرنے پر غور کررہے ہیں جو امریکی فوجی کارروائیوں کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ مشرق وسطیٰ سے باہر اہداف بھی زیر غور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق صدر مسعود پزشکیان کے گزشتہ ہفتے نیویارک سے واپسی کے بعد جوابی کارروائی کے دائرہ کار اور وقت پر غور تیز کردیا گیا ہے۔ تاہم کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے دوسری جانب مذاکرات کا راستہ بھی کھلا رکھا ہے۔ گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر تہران نے قطری ثالثوں کے ذریعے امریکا کو ایک تجویز پیش کی، جس میں سات روز کے اندر آبنائے ہرمز کھولنے، لڑائی روکنے، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ختم کرنے، کم از کم 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے جاری کرنے اور تیل پر پابندیاں ختم کرنے کی شرائط شامل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو تجویز مسترد کرنے کا اعلان کیا لیکن ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکا نے منگل کو قطر کے ذریعے اپنا جواب تہران کو بھجوا دیا، جس کا جائزہ لیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ واشنگٹن مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام کو بھی شامل کرنا چاہتا ہے، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ جوہری مذاکرات اس کی سات شرائط پوری ہونے کے بعد ہی شروع ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق طویل جنگ اور امریکی ناکہ بندی ایرانی معیشت پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔ دوسری جانب ایرانی قیادت کو داخلی بے چینی اور احتجاج کے دوبارہ ابھرنے کا بھی خدشہ ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق جنگ کے دوران حکومت نے اختلاف رائے کے خلاف کارروائیاں مزید سخت کی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران امریکا کی جانب سے بڑے پیمانے پر فوجی حملے دوبارہ شروع کیے جانے کی صورت میں پہلے سے زیادہ سخت اور وسیع جوابی کارروائی کی تیاری کررہا ہے، تاہم تہران سفارتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کا راستہ بھی کھلا رکھے ہوئے ہے۔</strong></p>
<p>تین سینئر ایرانی حکام اور مذاکرات سے باخبر ایک ذریعے کے مطابق ایرانی قیادت میں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ نئے امریکی حملے کی صورت میں پہلے سے زیادہ مضبوط ردعمل دیا جائے۔</p>
<p>فوجی حکام ممکنہ اہداف کا دائرہ امریکی مفادات سے منسلک تنصیبات سے بڑھا کر ان ممالک تک کرنے پر غور کررہے ہیں جو امریکی فوجی کارروائیوں کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ مشرق وسطیٰ سے باہر اہداف بھی زیر غور ہیں۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق صدر مسعود پزشکیان کے گزشتہ ہفتے نیویارک سے واپسی کے بعد جوابی کارروائی کے دائرہ کار اور وقت پر غور تیز کردیا گیا ہے۔ تاہم کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔</p>
<p>ایران نے دوسری جانب مذاکرات کا راستہ بھی کھلا رکھا ہے۔ گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر تہران نے قطری ثالثوں کے ذریعے امریکا کو ایک تجویز پیش کی، جس میں سات روز کے اندر آبنائے ہرمز کھولنے، لڑائی روکنے، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ختم کرنے، کم از کم 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے جاری کرنے اور تیل پر پابندیاں ختم کرنے کی شرائط شامل تھیں۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو تجویز مسترد کرنے کا اعلان کیا لیکن ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکا نے منگل کو قطر کے ذریعے اپنا جواب تہران کو بھجوا دیا، جس کا جائزہ لیا جارہا ہے۔</p>
<p>ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ واشنگٹن مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام کو بھی شامل کرنا چاہتا ہے، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ جوہری مذاکرات اس کی سات شرائط پوری ہونے کے بعد ہی شروع ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق طویل جنگ اور امریکی ناکہ بندی ایرانی معیشت پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔ دوسری جانب ایرانی قیادت کو داخلی بے چینی اور احتجاج کے دوبارہ ابھرنے کا بھی خدشہ ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق جنگ کے دوران حکومت نے اختلاف رائے کے خلاف کارروائیاں مزید سخت کی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291984</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 17:58:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/011729465abcb6d.webp" type="image/webp" medium="image" height="429" width="715">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/011729465abcb6d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
