<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Stocks</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 17:02:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 17:02:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کا شدید دباؤ، انڈیکس 1,300 سے زائد پوائنٹس گرگیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291953/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ابتدائی تیزی کے بعد مسلسل فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے باعث ابتدائی تیزی بتدریج ختم ہوگئی اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس جمعرات کو 1,300 سے زائد پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈیکس تقریباً 170,000 کی سطح پر کھلا اور ابتدائی طور پر اس سطح سے اوپر رہا، تاہم دورانِ کاروبار 170,688.38 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم فروخت کا دباؤ بتدریج بڑھتا گیا اور انڈیکس بیشتر وقت تنزلی کا شکار رہا۔ دوپہر کے وقت اور کاروبار کے آخری گھنٹے میں انڈیکس نے کچھ بہتری دکھائی، لیکن یہ تیزی برقرار نہ رہ سکی اور اختتام سے قبل دن کی کم ترین سطح 168,567.78 پوائنٹس کے قریب آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,332.47 پوائنٹس یا 0.78 فیصد کمی کے بعد 168,636.85 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اہم پیش رفت میں، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بدھ کو ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر سے بڑھا کر 15 اکتوبر کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایس ایکس میں بدھ کو بھی بحالی کا سلسلہ جاری رہا، جہاں کمرشل بینکس، سیمنٹ اور فرٹیلائزر اسٹاکس میں منتخب خریداری نے مارکیٹ کو سہارا دیا۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 368.92 پوائنٹس یا 0.22 فیصد اضافے سے 169,969.33 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر جمعرات کو ایشیائی اسٹاکس میں محتاط رجحان رہا، جبکہ ستمبر میں شدید دباؤ کے بعد عالمی بانڈز بھی دباؤ میں رہے۔ سرمایہ کار اگست میں امریکی مہنگائی میں توقعات سے کم اضافے کا جائزہ لے رہے ہیں، جس سے رواں ماہ شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت کیلئے چِپ بنانے والی کمپنی مائکرون کی شاندار مالیاتی نتائج بھی ایشیا میں کمزور سرمایہ کارانہ جذبات کو بہتر نہ کرسکے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں سات ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کیلئے امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں تعطل نے تیل کی قیمتوں کو بلند رکھا، جس سے مارکیٹ کا رجحان مزید متاثر ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص کا وسیع ترین انڈیکس 0.2 فیصد نیچے رہا، جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی 0.14 فیصد کم ہوا۔ تاہم جاپان کا نکئی ایک فیصد سے زائد بڑھ گیا، جس کی وجہ چِپ سے متعلق کمپنیوں کے حصص میں اضافہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیسڈیک اور ایس اینڈ پی 500 کے فیوچرز میں 0.3 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ یورپی اسٹاک فیوچرز ابتدائی کاروبار میں 0.75 فیصد گر گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو جاری اعدادوشمار کے مطابق اگست میں امریکی مہنگائی میں توقعات سے کم اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ ماہ قیمتوں کا دباؤ بھی پہلے بتائے گئے اعدادوشمار کے مقابلے میں زیادہ معتدل رہا۔ اس کے نتیجے میں ٹریڈرز نے 28 اکتوبر کو فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے پر اپنی شرطیں کم کردیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی ایم ای کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق اب ٹریڈرز رواں ماہ شرح سود میں اضافے کا 38 فیصد امکان دیکھ رہے ہیں، جبکہ ایک روز قبل یہ امکان 50 فیصد تھا۔ فیڈ نے ستمبر میں تین سال میں پہلی مرتبہ شرح سود میں اضافہ کیا تھا اور آنے والے مہینوں میں قرض لینے کی لاگت میں مزید اضافے کا عندیہ دیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ابتدائی تیزی کے بعد مسلسل فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے باعث ابتدائی تیزی بتدریج ختم ہوگئی اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس جمعرات کو 1,300 سے زائد پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔</strong></p>
<p>انڈیکس تقریباً 170,000 کی سطح پر کھلا اور ابتدائی طور پر اس سطح سے اوپر رہا، تاہم دورانِ کاروبار 170,688.38 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک پہنچا۔</p>
<p>تاہم فروخت کا دباؤ بتدریج بڑھتا گیا اور انڈیکس بیشتر وقت تنزلی کا شکار رہا۔ دوپہر کے وقت اور کاروبار کے آخری گھنٹے میں انڈیکس نے کچھ بہتری دکھائی، لیکن یہ تیزی برقرار نہ رہ سکی اور اختتام سے قبل دن کی کم ترین سطح 168,567.78 پوائنٹس کے قریب آگیا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,332.47 پوائنٹس یا 0.78 فیصد کمی کے بعد 168,636.85 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>ایک اہم پیش رفت میں، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بدھ کو ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر سے بڑھا کر 15 اکتوبر کردی۔</p>
<p>پی ایس ایکس میں بدھ کو بھی بحالی کا سلسلہ جاری رہا، جہاں کمرشل بینکس، سیمنٹ اور فرٹیلائزر اسٹاکس میں منتخب خریداری نے مارکیٹ کو سہارا دیا۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 368.92 پوائنٹس یا 0.22 فیصد اضافے سے 169,969.33 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>عالمی سطح پر جمعرات کو ایشیائی اسٹاکس میں محتاط رجحان رہا، جبکہ ستمبر میں شدید دباؤ کے بعد عالمی بانڈز بھی دباؤ میں رہے۔ سرمایہ کار اگست میں امریکی مہنگائی میں توقعات سے کم اضافے کا جائزہ لے رہے ہیں، جس سے رواں ماہ شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہوگئے ہیں۔</p>
<p>مصنوعی ذہانت کیلئے چِپ بنانے والی کمپنی مائکرون کی شاندار مالیاتی نتائج بھی ایشیا میں کمزور سرمایہ کارانہ جذبات کو بہتر نہ کرسکے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں سات ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کیلئے امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں تعطل نے تیل کی قیمتوں کو بلند رکھا، جس سے مارکیٹ کا رجحان مزید متاثر ہوا۔</p>
<p>ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص کا وسیع ترین انڈیکس 0.2 فیصد نیچے رہا، جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی 0.14 فیصد کم ہوا۔ تاہم جاپان کا نکئی ایک فیصد سے زائد بڑھ گیا، جس کی وجہ چِپ سے متعلق کمپنیوں کے حصص میں اضافہ تھا۔</p>
<p>نیسڈیک اور ایس اینڈ پی 500 کے فیوچرز میں 0.3 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ یورپی اسٹاک فیوچرز ابتدائی کاروبار میں 0.75 فیصد گر گئے۔</p>
<p>بدھ کو جاری اعدادوشمار کے مطابق اگست میں امریکی مہنگائی میں توقعات سے کم اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ ماہ قیمتوں کا دباؤ بھی پہلے بتائے گئے اعدادوشمار کے مقابلے میں زیادہ معتدل رہا۔ اس کے نتیجے میں ٹریڈرز نے 28 اکتوبر کو فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے پر اپنی شرطیں کم کردیں۔</p>
<p>سی ایم ای کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق اب ٹریڈرز رواں ماہ شرح سود میں اضافے کا 38 فیصد امکان دیکھ رہے ہیں، جبکہ ایک روز قبل یہ امکان 50 فیصد تھا۔ فیڈ نے ستمبر میں تین سال میں پہلی مرتبہ شرح سود میں اضافہ کیا تھا اور آنے والے مہینوں میں قرض لینے کی لاگت میں مزید اضافے کا عندیہ دیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291953</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 16:47:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/0116462699f151d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/0116462699f151d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/0116464167212e5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/0116464167212e5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
