<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 20:58:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 20:58:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کپاس کی پیداوار میں مسلسل کمی، جنرز اور ٹیکسٹائل صنعت کیلئے فوری ریلیف کی اپیل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291902/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم کے صدر اور نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ اگر سرکاری محکمے کپاس کے جنرز اور ٹیکسٹائل صنعت کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام رہے اور کسانوں کو موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت رکھنے والے جدید بیجوں تک رسائی یقینی نہ بنائی گئی تو دیگر ممالک عالمی منڈی میں پاکستان کا باقی ماندہ حصہ بھی چھین لیں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کپاس ملکی زرعی معیشت اور برآمدات کی ریڑھ کی ہڈی ہے جبکہ اس کی پیداوار میں شدید کمی نے پاکستانی معیشت کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ کپاس پیدا کرنے والے علاقوں میں قائم تمام شوگر ملز کو فوری طور پر دوسری جگہ منتقل کیا جائے، کپاس اور اس کی ضمنی مصنوعات پر عائد سیلز ٹیکس مکمل  ختم کیا جائے، بجلی بلوں میں شامل مقررہ ٹیکس ختم کیے جائیں اور کاٹن کنٹرول ایکٹ پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں زاہد حسین نے کہا کہ امریکی محکمہ زراعت (یو ایس ڈی اے) کی ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق سال 2026-27 کے لیے پاکستان میں کپاس کی مجموعی پیداوار کا تخمینہ محض 49 لاکھ گانٹھیں ہے جبکہ پیداواری ہدف 96 لاکھ گانٹھیں مقرر کیا گیا تھا۔ ملک کی اسپننگ صنعت کی سالانہ ضرورت ایک کروڑ گانٹھیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بڑے فرق کو پورا کرنے کے لیے پاکستان کو 50 لاکھ سے زائد گانٹھیں درآمد کرنا ہوں گی جن کی مالیت تقریباً 2 ارب ڈالر یا 600 ارب روپے بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کپاس کی پیداوار میں مسلسل کمی کی بنیادی وجہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران کپاس کی کاشت کے رقبے میں تقریباً 33 فیصد کمی ہے جس کے باعث پاکستان کی جی ڈی پی 452 ارب ڈالر پر جمود کا شکار ہے جب کہ ملکی برآمدات 30 ارب ڈالر کی سطح پر منجمد ہوکر رہ گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان میں صنعتی پیداواری لاگت خطے میں سب سے زیادہ ہے جس نے ملک کی جننگ، اسپننگ اور ٹیکسٹائل صنعتوں کو شدید مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں زاہد حسین نے مخصوص کپاس زونز میں شوگر ملز قائم کرنے کی اجازت دینے کے فیصلے کو تاریخی اور اسٹریٹجک غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں کپاس کی کاشت کا رقبہ اور پیداواری صلاحیت سکڑ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پی سی جی اے کے مطالبے کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا کہ کپاس زونز میں قائم شوگر ملز کو فوری طور پر دوسری جگہ منتقل کیا جائے اور کاٹن کنٹرول ایکٹ پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وضاحت کی کہ اس ایکٹ کا بنیادی مقصد کپاس زونز کو دیگر فصلوں اور غیر متعلقہ صنعتوں کی تجاوزات سے محفوظ رکھنا، مارکیٹ میں معیاری اور خالص بیجوں کی فراہمی کو قانونی تحفظ دینا، اور کپاس کی فصل کو بیماریوں اور ملاوٹ شدہ زرعی ادویات سے محفوظ بنانا ہے تاکہ اس کا معیار دوبارہ بین الاقوامی معیار کے مطابق بحال کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم کے صدر اور نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ اگر سرکاری محکمے کپاس کے جنرز اور ٹیکسٹائل صنعت کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام رہے اور کسانوں کو موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت رکھنے والے جدید بیجوں تک رسائی یقینی نہ بنائی گئی تو دیگر ممالک عالمی منڈی میں پاکستان کا باقی ماندہ حصہ بھی چھین لیں گے۔</strong></p>
<p>انہوں نے کہا کہ کپاس ملکی زرعی معیشت اور برآمدات کی ریڑھ کی ہڈی ہے جبکہ اس کی پیداوار میں شدید کمی نے پاکستانی معیشت کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔</p>
<p>پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ کپاس پیدا کرنے والے علاقوں میں قائم تمام شوگر ملز کو فوری طور پر دوسری جگہ منتقل کیا جائے، کپاس اور اس کی ضمنی مصنوعات پر عائد سیلز ٹیکس مکمل  ختم کیا جائے، بجلی بلوں میں شامل مقررہ ٹیکس ختم کیے جائیں اور کاٹن کنٹرول ایکٹ پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔</p>
<p>میاں زاہد حسین نے کہا کہ امریکی محکمہ زراعت (یو ایس ڈی اے) کی ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق سال 2026-27 کے لیے پاکستان میں کپاس کی مجموعی پیداوار کا تخمینہ محض 49 لاکھ گانٹھیں ہے جبکہ پیداواری ہدف 96 لاکھ گانٹھیں مقرر کیا گیا تھا۔ ملک کی اسپننگ صنعت کی سالانہ ضرورت ایک کروڑ گانٹھیں ہے۔</p>
<p>اس بڑے فرق کو پورا کرنے کے لیے پاکستان کو 50 لاکھ سے زائد گانٹھیں درآمد کرنا ہوں گی جن کی مالیت تقریباً 2 ارب ڈالر یا 600 ارب روپے بنتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کپاس کی پیداوار میں مسلسل کمی کی بنیادی وجہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران کپاس کی کاشت کے رقبے میں تقریباً 33 فیصد کمی ہے جس کے باعث پاکستان کی جی ڈی پی 452 ارب ڈالر پر جمود کا شکار ہے جب کہ ملکی برآمدات 30 ارب ڈالر کی سطح پر منجمد ہوکر رہ گئی ہیں۔</p>
<p>میاں زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان میں صنعتی پیداواری لاگت خطے میں سب سے زیادہ ہے جس نے ملک کی جننگ، اسپننگ اور ٹیکسٹائل صنعتوں کو شدید مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔</p>
<p>میاں زاہد حسین نے مخصوص کپاس زونز میں شوگر ملز قائم کرنے کی اجازت دینے کے فیصلے کو تاریخی اور اسٹریٹجک غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں کپاس کی کاشت کا رقبہ اور پیداواری صلاحیت سکڑ گئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے پی سی جی اے کے مطالبے کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا کہ کپاس زونز میں قائم شوگر ملز کو فوری طور پر دوسری جگہ منتقل کیا جائے اور کاٹن کنٹرول ایکٹ پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔</p>
<p>انہوں نے وضاحت کی کہ اس ایکٹ کا بنیادی مقصد کپاس زونز کو دیگر فصلوں اور غیر متعلقہ صنعتوں کی تجاوزات سے محفوظ رکھنا، مارکیٹ میں معیاری اور خالص بیجوں کی فراہمی کو قانونی تحفظ دینا، اور کپاس کی فصل کو بیماریوں اور ملاوٹ شدہ زرعی ادویات سے محفوظ بنانا ہے تاکہ اس کا معیار دوبارہ بین الاقوامی معیار کے مطابق بحال کیا جاسکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291902</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 12:25:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/301222308ef0647.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/301222308ef0647.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
