<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 15:40:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 02 Oct 2026 15:40:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مقامی کرنسی بانڈ مارکیٹ کیلئے ایکشن پلان جاری کردیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291886/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارت خزانہ نے منگل کو پاکستان کی مقامی کرنسی بانڈ مارکیٹ (ایل سی بی ایم) کیلئے اسٹریٹجک ایکشن پلان جاری کردیا جس کا مقصد مارکیٹ میں موجود رکاوٹیں دور کرنا، سیکنڈری مارکیٹ میں لیکویڈیٹی بڑھانا، سرمایہ کاروں کی بنیاد وسیع کرنا، حکومتی قرض گیری کو زیادہ قابل پیش گوئی بنانا اور روپے میں جاری ہونے والی سیکیورٹیز سے متعلق قانونی، ٹیکس اور مالیاتی مارکیٹ کے بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ منصوبہ وزارت خزانہ کے ڈیبٹ مینجمنٹ آفس نے اسٹیٹ بینک ، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن ، پاکستان اسٹاک ایکسچینج، سینٹرل ڈپازٹری کمپنی اور نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان کے تعاون سے تیار کیا ہے۔ زیادہ تر اصلاحات آئندہ دو برس میں مکمل کی جائیں گی، تاہم بعض اقدامات ستمبر 2028 کے بعد بھی جاری رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے کہا کہ یہ منصوبہ آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت مقامی کرنسی بانڈ مارکیٹ کی ترقی میں رکاوٹوں کی نشاندہی اور ستمبر 2026 کے اختتام تک ایکشن پلان شائع کرنے کے وعدے کی تکمیل ہے۔ منصوبے کی بنیاد آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی مشترکہ تشخیصی رپورٹ پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال 2025 میں حکومت کی مجموعی 34.2 ٹریلین روپے کی قرض گیری کا 91.6 فیصد مقامی ذرائع سے حاصل کیا گیا۔ بینکوں کے پاس حکومتی سیکیورٹیز کا تقریباً 78 فیصد حصہ ہے، جبکہ سرکاری سیکیورٹیز بینکاری نظام کے اثاثوں کا تقریباً 62 فیصد ہیں۔ وزارت کے مطابق اس ارتکاز نے سرکاری سیکیورٹیز کی نیلامیوں کو سہارا دیا، تاہم بینکوں کو سیکیورٹیز رکھنے کی جانب مائل کیا اور نجی شعبے کو قرض دینے کی صلاحیت و ترغیبات محدود کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے میں سرمایہ کاروں کی محدود بنیاد کو مقامی بانڈ مارکیٹ کا سب سے بڑا خلا قرار دیا گیا ہے۔ کم پنشن کوریج اور انشورنس کی محدود رسائی نے طویل مدتی مقررہ شرح والی سیکیورٹیز کی طلب کو محدود رکھا ہے، جبکہ غیر ملکی اور ریٹیل سرمایہ کاروں کی شرکت بھی کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے کے تحت پانچ بڑے اہداف مقرر کیے گئے ہیں، جن میں ادارہ جاتی صلاحیت اور رابطہ کاری مضبوط بنانا، حکومتی سیکیورٹیز کے اجرا کو زیادہ قابل پیش گوئی بنانا، سیکنڈری مارکیٹ میں لیکویڈیٹی اور نجی ریپو مارکیٹ کو فروغ دینا، سرمایہ کاروں کی بنیاد متنوع بنانا اور مارکیٹ کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانا شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عملدرآمد کی نگرانی کیلئے نئی ایل سی بی ایم اسٹیئرنگ کمیٹی قائم کیا جائے گا جس کی سربراہی سیکریٹری خزانہ کریں گے۔ تفصیلی عملدرآمد روڈ میپ دسمبر 2026 تک تیار کیا جائے گا جبکہ ڈیبٹ مینجمنٹ آفس ہر چھ ماہ بعد پیش رفت رپورٹ جاری کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے میں نجی منی مارکیٹ اور سیکیورٹیز فنانسنگ کے بنیادی ڈھانچے کو ترقی دینے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ حکومت 2011 کے گلوبل ماسٹر ری پرچیز ایگریمنٹ کو پاکستان سے متعلق ضروری شقوں کے ساتھ اپنانے یا مقامی ماسٹر ریپو معاہدوں میں ترمیم پر غور کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت حکومتی سیکیورٹیز کے اجرا کو زیادہ شفاف بنانے کیلئے نیلامیوں کے حجم کی حد پہلے سے جاری کرے گی اور دسمبر 2026 تک نیلامی کے نتائج کے اعلان کیلئے مقررہ وقت متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکنڈری مارکیٹ میں لیکویڈیٹی بہتر بنانے کیلئے پرائمری ڈیلر فریم ورک میں بھی تبدیلی کی جائے گی تاکہ مارکیٹ میں قیمتوں کی مؤثر پیشکش اور ثانوی مارکیٹ کی کارکردگی کو زیادہ اہمیت دی جاسکے۔ حکومت سیکیورٹیز لینڈنگ سہولت کے امکانات کا بھی جائزہ لے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریٹیل سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے انویسٹ پاک، بروکرز اور میوچل فنڈز کے ذریعے ڈیجیٹل رسائی اور حکومتی بانڈ ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز سمیت مختلف ذرائع استعمال کرنے کا منصوبہ ہے۔ نیشنل سیونگز کے فریم ورک اور مصنوعات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے میں قانونی اور ٹیکس اصلاحات بھی شامل ہیں تاکہ ریپو، سیکیورٹیز لینڈنگ اور اجتماعی سرمایہ کاری اسکیموں کے ذریعے سرمایہ کاری میں رکاوٹیں کم کی جاسکیں۔ حکومت نے عملدرآمد کو تین مراحل میں تقسیم کیا ہے، جس میں پہلے 12 ماہ میں بنیادی ڈھانچہ اور ادارہ جاتی اصلاحات، 12 سے 24 ماہ میں مرکزی مارکیٹ اصلاحات، جبکہ 24 ماہ کے بعد سرمایہ کاروں کی شرکت مزید بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کے مطابق مہنگائی، مالی دباؤ، ادارہ جاتی صلاحیت کی کمی، رابطہ کاری کے مسائل اور لیکویڈیٹی و ٹیکس اصلاحات سے متعلق ممکنہ خطرات سے نمٹنے کیلئے مرحلہ وار عملدرآمد، مارکیٹ سے مشاورت اور باقاعدہ عوامی رپورٹنگ کا طریقہ اختیار کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارت خزانہ نے منگل کو پاکستان کی مقامی کرنسی بانڈ مارکیٹ (ایل سی بی ایم) کیلئے اسٹریٹجک ایکشن پلان جاری کردیا جس کا مقصد مارکیٹ میں موجود رکاوٹیں دور کرنا، سیکنڈری مارکیٹ میں لیکویڈیٹی بڑھانا، سرمایہ کاروں کی بنیاد وسیع کرنا، حکومتی قرض گیری کو زیادہ قابل پیش گوئی بنانا اور روپے میں جاری ہونے والی سیکیورٹیز سے متعلق قانونی، ٹیکس اور مالیاتی مارکیٹ کے بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات کرنا ہے۔</strong></p>
<p>یہ منصوبہ وزارت خزانہ کے ڈیبٹ مینجمنٹ آفس نے اسٹیٹ بینک ، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن ، پاکستان اسٹاک ایکسچینج، سینٹرل ڈپازٹری کمپنی اور نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان کے تعاون سے تیار کیا ہے۔ زیادہ تر اصلاحات آئندہ دو برس میں مکمل کی جائیں گی، تاہم بعض اقدامات ستمبر 2028 کے بعد بھی جاری رہیں گے۔</p>
<p>حکومت نے کہا کہ یہ منصوبہ آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت مقامی کرنسی بانڈ مارکیٹ کی ترقی میں رکاوٹوں کی نشاندہی اور ستمبر 2026 کے اختتام تک ایکشن پلان شائع کرنے کے وعدے کی تکمیل ہے۔ منصوبے کی بنیاد آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی مشترکہ تشخیصی رپورٹ پر ہے۔</p>
<p>وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال 2025 میں حکومت کی مجموعی 34.2 ٹریلین روپے کی قرض گیری کا 91.6 فیصد مقامی ذرائع سے حاصل کیا گیا۔ بینکوں کے پاس حکومتی سیکیورٹیز کا تقریباً 78 فیصد حصہ ہے، جبکہ سرکاری سیکیورٹیز بینکاری نظام کے اثاثوں کا تقریباً 62 فیصد ہیں۔ وزارت کے مطابق اس ارتکاز نے سرکاری سیکیورٹیز کی نیلامیوں کو سہارا دیا، تاہم بینکوں کو سیکیورٹیز رکھنے کی جانب مائل کیا اور نجی شعبے کو قرض دینے کی صلاحیت و ترغیبات محدود کیں۔</p>
<p>منصوبے میں سرمایہ کاروں کی محدود بنیاد کو مقامی بانڈ مارکیٹ کا سب سے بڑا خلا قرار دیا گیا ہے۔ کم پنشن کوریج اور انشورنس کی محدود رسائی نے طویل مدتی مقررہ شرح والی سیکیورٹیز کی طلب کو محدود رکھا ہے، جبکہ غیر ملکی اور ریٹیل سرمایہ کاروں کی شرکت بھی کم ہے۔</p>
<p>منصوبے کے تحت پانچ بڑے اہداف مقرر کیے گئے ہیں، جن میں ادارہ جاتی صلاحیت اور رابطہ کاری مضبوط بنانا، حکومتی سیکیورٹیز کے اجرا کو زیادہ قابل پیش گوئی بنانا، سیکنڈری مارکیٹ میں لیکویڈیٹی اور نجی ریپو مارکیٹ کو فروغ دینا، سرمایہ کاروں کی بنیاد متنوع بنانا اور مارکیٹ کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانا شامل ہیں۔</p>
<p>عملدرآمد کی نگرانی کیلئے نئی ایل سی بی ایم اسٹیئرنگ کمیٹی قائم کیا جائے گا جس کی سربراہی سیکریٹری خزانہ کریں گے۔ تفصیلی عملدرآمد روڈ میپ دسمبر 2026 تک تیار کیا جائے گا جبکہ ڈیبٹ مینجمنٹ آفس ہر چھ ماہ بعد پیش رفت رپورٹ جاری کرے گا۔</p>
<p>منصوبے میں نجی منی مارکیٹ اور سیکیورٹیز فنانسنگ کے بنیادی ڈھانچے کو ترقی دینے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ حکومت 2011 کے گلوبل ماسٹر ری پرچیز ایگریمنٹ کو پاکستان سے متعلق ضروری شقوں کے ساتھ اپنانے یا مقامی ماسٹر ریپو معاہدوں میں ترمیم پر غور کرے گی۔</p>
<p>حکومت حکومتی سیکیورٹیز کے اجرا کو زیادہ شفاف بنانے کیلئے نیلامیوں کے حجم کی حد پہلے سے جاری کرے گی اور دسمبر 2026 تک نیلامی کے نتائج کے اعلان کیلئے مقررہ وقت متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔</p>
<p>سیکنڈری مارکیٹ میں لیکویڈیٹی بہتر بنانے کیلئے پرائمری ڈیلر فریم ورک میں بھی تبدیلی کی جائے گی تاکہ مارکیٹ میں قیمتوں کی مؤثر پیشکش اور ثانوی مارکیٹ کی کارکردگی کو زیادہ اہمیت دی جاسکے۔ حکومت سیکیورٹیز لینڈنگ سہولت کے امکانات کا بھی جائزہ لے گی۔</p>
<p>ریٹیل سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے انویسٹ پاک، بروکرز اور میوچل فنڈز کے ذریعے ڈیجیٹل رسائی اور حکومتی بانڈ ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز سمیت مختلف ذرائع استعمال کرنے کا منصوبہ ہے۔ نیشنل سیونگز کے فریم ورک اور مصنوعات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔</p>
<p>منصوبے میں قانونی اور ٹیکس اصلاحات بھی شامل ہیں تاکہ ریپو، سیکیورٹیز لینڈنگ اور اجتماعی سرمایہ کاری اسکیموں کے ذریعے سرمایہ کاری میں رکاوٹیں کم کی جاسکیں۔ حکومت نے عملدرآمد کو تین مراحل میں تقسیم کیا ہے، جس میں پہلے 12 ماہ میں بنیادی ڈھانچہ اور ادارہ جاتی اصلاحات، 12 سے 24 ماہ میں مرکزی مارکیٹ اصلاحات، جبکہ 24 ماہ کے بعد سرمایہ کاروں کی شرکت مزید بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔</p>
<p>حکومت کے مطابق مہنگائی، مالی دباؤ، ادارہ جاتی صلاحیت کی کمی، رابطہ کاری کے مسائل اور لیکویڈیٹی و ٹیکس اصلاحات سے متعلق ممکنہ خطرات سے نمٹنے کیلئے مرحلہ وار عملدرآمد، مارکیٹ سے مشاورت اور باقاعدہ عوامی رپورٹنگ کا طریقہ اختیار کیا جائے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291886</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 12:27:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/300913184c71a76.webp" type="image/webp" medium="image" height="681" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/300913184c71a76.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
