<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 08:27:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 08:27:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی عرب نے پائپ لائن کی بحالی کے بعد ینبع سے تیل کی ترسیل دوبارہ شروع کردی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291877/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سعودی عرب نے مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی برآمدات کے امکانات بہتر ہونے کے بعد بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے تیل بردار جہازوں پر تیل لادنے کا عمل دوبارہ شروع کردیا ہے۔ تجارتی ذرائع اور بحری جہازوں سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق یہ پیش رفت ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی سرگرمیاں بحال ہونے کے بعد سامنے آئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ماہ کے اوائل میں پائپ لائن پر ڈرون حملے کے بعد ینبع سے تیل کی ترسیل معطل کردی گئی تھی۔ پیر کو ینبع سے تیل کی ترسیل بحال ہونے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں پر دباؤ آیا، کیونکہ اس سے مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی سپلائی میں اضافے کے مزید آثار سامنے آئے ہیں۔ ایران کے خلاف امریکی جنگ کے باعث خطے سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیا کی ایک ریفائنری کے ذریعے نے بتایا کہ سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو نے پیر کی شام صارفین کو ینبع سے اکتوبر میں تیل کی ترسیل کا شیڈول جاری کردیا۔ ریفائنری نے گزشتہ ہفتے کے اواخر میں ینبع سے تیل کی ایک کھیپ بھی حاصل کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈرون حملوں کے باعث، جن کا الزام سعودی عرب نے عراقی ملیشیاؤں پر عائد کیا تھا، مملکت کو 11 ستمبر کو پائپ لائن بند کرنا پڑی تھی، جس کے نتیجے میں ینبع سے خام تیل کی برآمدات رک گئی تھیں۔ پائپ لائن کی سرگرمیاں گزشتہ منگل کو دوبارہ شروع کردی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آرامکو نے تبصرے کے لیے کی گئی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی خلائی ایجنسی کی سیٹلائٹ تصاویر سے بھی تیل کی ترسیل دوبارہ شروع ہونے کی تصدیق ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحری جہازوں کی نگرانی کرنے والی کمپنی ٹینکر ٹریکرز نے منگل کو ایکس پر جاری پوسٹ میں لکھا، ’’27 ستمبر کو بحیرہ احمر کے اوپر سے حاصل کی گئی یورپی خلائی ایجنسی کی سیٹلائٹ تصاویر میں سعودی عرب کو ینبع اور المعجز سے تقریباً 10 ملین بیرل خام تیل جہازوں میں لادتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;المعجز، ینبع کے جنوب میں واقع ایک ٹرمینل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے کہا، ’’ہم نے ریفائن شدہ پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل بھی دیکھی ہے۔ مجموعی طور پر ہم نے 40 تیل بردار جہازوں کی بصری طور پر شناخت کی، خواہ ان کی سرگرمی کچھ بھی ہو یا وہ ان ٹرمینلز کے قریب ہوں یا نہ ہوں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو تجارتی ذرائع نے الگ الگ اندازے میں بتایا کہ گزشتہ ہفتے سے ینبع سے خام تیل کی ترسیل تقریباً 20 لاکھ بیرل یومیہ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی شعبے کے ایک ذریعے کے مطابق پائپ لائن سے اس وقت تقریباً 20 لاکھ بیرل یومیہ تیل گزارا جارہا ہے، جبکہ بحری جہازوں کی نگرانی کرنے والے ادارے کیپلر کے مطابق یہ مقدار تقریباً 26 لاکھ 50 ہزار بیرل یومیہ ہے۔ یہ پائپ لائن کی 70 لاکھ بیرل یومیہ گنجائش سے کہیں کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیپلر کے مطابق آئندہ چند روز میں پائپ لائن سے تیل کی ترسیل بڑھ کر 30 لاکھ سے 40 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ جائے گی۔ ادارے نے پیر کو جاری ایک نوٹ میں کہا کہ حملے سے پہلے کی تقریباً 55 لاکھ بیرل یومیہ کی سطح پر مکمل بحالی میں مزید ایک ماہ لگ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیپلر کے مطابق 22 ستمبر کو ینبع ٹرمینل میں خام تیل کے ذخائر میں تقریباً 10 لاکھ بیرل کا اضافہ ہوا، جو حملے کے بعد ذخائر میں پہلا اضافہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ینبع سے خام تیل کی ترسیل دوبارہ شروع ہونے سے مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی ترسیل میں اضافے کے مزید آثار سامنے آئے ہیں، جس سے آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی برآمدات میں بھی بحالی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیپلر نے اپنے نوٹ میں کہا کہ مصر کی بندرگاہ سیدی کریر سے خام تیل کی ترسیل 22 ستمبر کو 10 روزہ وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوگئی، تاہم بحری جہاز اب بھی سمندر میں اپنی باری کے منتظر ہیں کیونکہ پابندیوں کے باعث تجارتی بیڑے کے بڑے حصے کو بندرگاہ تک رسائی محدود ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سعودی عرب نے مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی برآمدات کے امکانات بہتر ہونے کے بعد بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے تیل بردار جہازوں پر تیل لادنے کا عمل دوبارہ شروع کردیا ہے۔ تجارتی ذرائع اور بحری جہازوں سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق یہ پیش رفت ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی سرگرمیاں بحال ہونے کے بعد سامنے آئی ہے۔</strong></p>
<p>رواں ماہ کے اوائل میں پائپ لائن پر ڈرون حملے کے بعد ینبع سے تیل کی ترسیل معطل کردی گئی تھی۔ پیر کو ینبع سے تیل کی ترسیل بحال ہونے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں پر دباؤ آیا، کیونکہ اس سے مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی سپلائی میں اضافے کے مزید آثار سامنے آئے ہیں۔ ایران کے خلاف امریکی جنگ کے باعث خطے سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔</p>
<p>ایشیا کی ایک ریفائنری کے ذریعے نے بتایا کہ سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو نے پیر کی شام صارفین کو ینبع سے اکتوبر میں تیل کی ترسیل کا شیڈول جاری کردیا۔ ریفائنری نے گزشتہ ہفتے کے اواخر میں ینبع سے تیل کی ایک کھیپ بھی حاصل کی تھی۔</p>
<p>ڈرون حملوں کے باعث، جن کا الزام سعودی عرب نے عراقی ملیشیاؤں پر عائد کیا تھا، مملکت کو 11 ستمبر کو پائپ لائن بند کرنا پڑی تھی، جس کے نتیجے میں ینبع سے خام تیل کی برآمدات رک گئی تھیں۔ پائپ لائن کی سرگرمیاں گزشتہ منگل کو دوبارہ شروع کردی گئی تھیں۔</p>
<p>آرامکو نے تبصرے کے لیے کی گئی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔</p>
<p>یورپی خلائی ایجنسی کی سیٹلائٹ تصاویر سے بھی تیل کی ترسیل دوبارہ شروع ہونے کی تصدیق ہوتی ہے۔</p>
<p>بحری جہازوں کی نگرانی کرنے والی کمپنی ٹینکر ٹریکرز نے منگل کو ایکس پر جاری پوسٹ میں لکھا، ’’27 ستمبر کو بحیرہ احمر کے اوپر سے حاصل کی گئی یورپی خلائی ایجنسی کی سیٹلائٹ تصاویر میں سعودی عرب کو ینبع اور المعجز سے تقریباً 10 ملین بیرل خام تیل جہازوں میں لادتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔‘‘</p>
<p>المعجز، ینبع کے جنوب میں واقع ایک ٹرمینل ہے۔</p>
<p>کمپنی نے کہا، ’’ہم نے ریفائن شدہ پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل بھی دیکھی ہے۔ مجموعی طور پر ہم نے 40 تیل بردار جہازوں کی بصری طور پر شناخت کی، خواہ ان کی سرگرمی کچھ بھی ہو یا وہ ان ٹرمینلز کے قریب ہوں یا نہ ہوں۔‘‘</p>
<p>دو تجارتی ذرائع نے الگ الگ اندازے میں بتایا کہ گزشتہ ہفتے سے ینبع سے خام تیل کی ترسیل تقریباً 20 لاکھ بیرل یومیہ رہی ہے۔</p>
<p>صنعتی شعبے کے ایک ذریعے کے مطابق پائپ لائن سے اس وقت تقریباً 20 لاکھ بیرل یومیہ تیل گزارا جارہا ہے، جبکہ بحری جہازوں کی نگرانی کرنے والے ادارے کیپلر کے مطابق یہ مقدار تقریباً 26 لاکھ 50 ہزار بیرل یومیہ ہے۔ یہ پائپ لائن کی 70 لاکھ بیرل یومیہ گنجائش سے کہیں کم ہے۔</p>
<p>کیپلر کے مطابق آئندہ چند روز میں پائپ لائن سے تیل کی ترسیل بڑھ کر 30 لاکھ سے 40 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ جائے گی۔ ادارے نے پیر کو جاری ایک نوٹ میں کہا کہ حملے سے پہلے کی تقریباً 55 لاکھ بیرل یومیہ کی سطح پر مکمل بحالی میں مزید ایک ماہ لگ سکتا ہے۔</p>
<p>کیپلر کے مطابق 22 ستمبر کو ینبع ٹرمینل میں خام تیل کے ذخائر میں تقریباً 10 لاکھ بیرل کا اضافہ ہوا، جو حملے کے بعد ذخائر میں پہلا اضافہ تھا۔</p>
<p>ینبع سے خام تیل کی ترسیل دوبارہ شروع ہونے سے مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی ترسیل میں اضافے کے مزید آثار سامنے آئے ہیں، جس سے آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی برآمدات میں بھی بحالی ہوئی ہے۔</p>
<p>کیپلر نے اپنے نوٹ میں کہا کہ مصر کی بندرگاہ سیدی کریر سے خام تیل کی ترسیل 22 ستمبر کو 10 روزہ وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوگئی، تاہم بحری جہاز اب بھی سمندر میں اپنی باری کے منتظر ہیں کیونکہ پابندیوں کے باعث تجارتی بیڑے کے بڑے حصے کو بندرگاہ تک رسائی محدود ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291877</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Sep 2026 21:42:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/29212555820fee5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/29212555820fee5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
