<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 16:54:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 16:54:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>درخواست پر معلومات کی فراہمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291840/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جب قومی سطح کے جائزے میں بہترین کارکردگی دکھانے والی صوبائی حکومت بھی اپنی پیشگی معلومات کے افشا سے متعلق صرف 59 فیصد ذمہ داریاں پوری کرتی ہے تو مبارک باد دینے کی زیادہ گنجائش نہیں رہتی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی 98 اہم وزارتوں اور سرکاری محکموں کے جائزے سے معلوم ہوا کہ پنجاب اس غیر متاثر کن سطح پر بھی ملک میں سب سے آگے ہے جس کے بعد وفاقی حکومت 47 فیصد، خیبر پختونخوا 41 فیصد، سندھ 31 فیصد اور بلوچستان محض 28 فیصد کے ساتھ بالترتیب موجود ہیں۔ یہ اعدادوشمار اس بنیادی ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں کہ حکومتیں معلومات تک رسائی کے قوانین پر عملدرآمد کرنے میں ناکام رہی ہیں، حالانکہ خود حکومتیں قانونی طور پر ان قوانین کی پابندی کرنے کی ذمہ دار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ناقابلِ قبول ہے کیونکہ معلومات تک رسائی محض ایک انتظامی رعایت سے کہیں بڑھ کر ہے۔ آئین کے آرٹیکل 19A کے تحت ہر شہری کو عوامی اہمیت کے معاملات میں معلومات تک رسائی کا حق حاصل ہے تاہم یہ حق قانون کے تحت عائد کردہ ضوابط اور معقول پابندیوں سے مشروط ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی اور صوبائی سطح پر معلومات تک رسائی (آر ٹی آئی) کے قوانین کا مقصد اس آئینی ضمانت کو ایک مؤثر نظام میں تبدیل کرنا تھا۔ لیکن تازہ ترین جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سے سرکاری محکمے اب بھی ایسے طرزِ عمل کا مظاہرہ کررہے ہیں جیسے معلومات افشا کرنا اختیاری ہو جبکہ شہریوں سے ایسی معلومات تلاش کرنے کی توقع کی جاتی ہے جو پہلے ہی عوام کے لیے دستیاب ہونی چاہییں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کمزوری خاص طور پر تشویش ناک ہے جہاں عوام کے پیسے کا معاملہ ہو۔ ٹی آئی پی نے پایا کہ مختلف صوبوں اور وفاقی سطح پر بجٹ اور اخراجات سے متعلق معلومات ان شعبوں میں شامل ہیں جہاں معلومات افشا کرنے کی شرح سب سے کم ہے۔ جمہوری احتساب کے لیے اس سے زیادہ بنیادی تقاضے شاید ہی کوئی ہوں کہ ٹیکس دہندگان کو یہ دیکھنے کا حق دیا جائے کہ سرکاری اداروں کو مالی وسائل کیسے فراہم کیے جاتے ہیں اور وہ رقم کیسے خرچ کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی معلومات کو روک لینا یا انہیں ناکافی انداز میں شائع کرنا شہریوں، صحافیوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے نگرانی کے عمل کو کمزور کرتا ہے اور ایسی ہی مبہم صورتِ حال پیدا کرتا ہے جس میں وسائل کا ضیاع، جانب داری اور بدعنوانی پنپ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں تک کہ وہ نظام بھی جس کے ذریعے شہریوں کو مطلوبہ مگر دستیاب نہ ہونے والی معلومات طلب کرنی ہوتی ہیں، مناسب طور پر نمایاں نہیں ہے۔ پبلک انفارمیشن افسران (پی آئی اوز) آر ٹی آئی درخواستوں کے لیے مقررہ ادارہ جاتی رابطہ ہوتے ہیں لیکن ان کے رابطے کی تفصیلات کی اشاعت کی شرح بلوچستان میں صرف 12 فیصد، سندھ میں 14 فیصد، وفاقی سطح پر 36 فیصد اور خیبر پختونخوا میں 45 فیصد رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب نے 72 فیصد کے ساتھ نمایاں طور پر بہتر کارکردگی دکھائی لیکن اس کے باوجود تعمیل میں ایک خاصا بڑا خلا باقی رہتا ہے۔ جب شہریوں کو کسی حق سے فائدہ اٹھانے کے لیے سب سے پہلے یہ معلوم کرنا پڑے کہ انہیں کس سے رجوع کرنا ہے تو وہ حق خاصا کم مؤثر ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا مسئلہ بظاہر قانون سازی کی عدم موجودگی سے کم اور قانون اور اس پر عمل درآمد کے درمیان پاکستان میں پائے جانے والے معروف فرق سے زیادہ متعلق ہے۔ حکومتوں نے معلومات تک رسائی (آر ٹی آئی) کے قوانین نافذ کیے ہیں، معلوماتی کمیشن قائم کیے ہیں اور متعلقہ افسران مقرر کیے ہیں لیکن بظاہر بہت سے محکمے اب بھی معلومات افشا کرنے کی اس ثقافت کے خلاف مزاحمت کررہے ہیں جسے یہ اقدامات فروغ دینے کے لیے کیے گئے تھے۔ اس مزاحمت کا ادارہ جاتی سطح پر تدارک ضروری ہے۔ معلوماتی کمیشنوں کو قوانین کی تعمیل یقینی بنانے کے لیے مناسب اختیارات اور انتظامی صلاحیت دی جانی چاہیے جبکہ محکموں کی واضح طور پر متعین کردہ معلومات افشا کرنے کی ضروریات کے مطابق باقاعدگی سے نگرانی کی جانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹی آئی پی  کی سفارشات اس ضمن میں ایک معقول نقطۂ آغاز فراہم کرتی ہیں۔ معلومات کے افشا کے لیے یکساں فارمیٹس، پبلک انفارمیشن افسران (پی آئی اوز) کے رابطے کی تفصیلات کی لازمی اشاعت، محکمہ جاتی ویب سائٹس پر آر ٹی آئی کے لیے مختص حصے اور بجٹ، اخراجات اور فیصلہ سازی کے طریقۂ کار سے متعلق معلومات کی بہتر فراہمی سے موجودہ عدم یکسانیت بڑی حد تک ختم کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پبلک انفارمیشن افسران کی تربیت بھی اتنی ہی اہم ہے، تاہم جب محکمے بار بار قانون کے تحت مطلوب معلومات شائع کرنے میں ناکام رہیں تو بالآخر اعلیٰ حکام کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے۔ بصورت دیگر قوانین پر ناقص عملدرآمد بھی ایک ایسا انتظامی معمول بن جائے گا جس کا کوئی نتیجہ یا احتساب نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک جمہوری حکومت کے لیے ضروری ہے کہ شہریوں کو معلوم ہو کہ ان کے نام پر اور ان کے پیسے سے کیا کچھ کیا جارہا ہے۔ پاکستان آئینی اور قانون سازی کی سطح پر پہلے ہی اس اصول کو تسلیم کرچکا ہے۔ اب نامکمل کام یہ ہے کہ حکومتیں بھی اسی اصول کے مطابق عمل کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخرکار، معلومات کے آئینی حق کی اہمیت اس وقت بڑی حد تک ختم ہو جاتی ہے جب حکومت بار بار یہ معلومات فراہم کرنا ہی بھول جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جب قومی سطح کے جائزے میں بہترین کارکردگی دکھانے والی صوبائی حکومت بھی اپنی پیشگی معلومات کے افشا سے متعلق صرف 59 فیصد ذمہ داریاں پوری کرتی ہے تو مبارک باد دینے کی زیادہ گنجائش نہیں رہتی۔</strong></p>
<p>ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی 98 اہم وزارتوں اور سرکاری محکموں کے جائزے سے معلوم ہوا کہ پنجاب اس غیر متاثر کن سطح پر بھی ملک میں سب سے آگے ہے جس کے بعد وفاقی حکومت 47 فیصد، خیبر پختونخوا 41 فیصد، سندھ 31 فیصد اور بلوچستان محض 28 فیصد کے ساتھ بالترتیب موجود ہیں۔ یہ اعدادوشمار اس بنیادی ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں کہ حکومتیں معلومات تک رسائی کے قوانین پر عملدرآمد کرنے میں ناکام رہی ہیں، حالانکہ خود حکومتیں قانونی طور پر ان قوانین کی پابندی کرنے کی ذمہ دار ہیں۔</p>
<p>یہ ناقابلِ قبول ہے کیونکہ معلومات تک رسائی محض ایک انتظامی رعایت سے کہیں بڑھ کر ہے۔ آئین کے آرٹیکل 19A کے تحت ہر شہری کو عوامی اہمیت کے معاملات میں معلومات تک رسائی کا حق حاصل ہے تاہم یہ حق قانون کے تحت عائد کردہ ضوابط اور معقول پابندیوں سے مشروط ہے۔</p>
<p>وفاقی اور صوبائی سطح پر معلومات تک رسائی (آر ٹی آئی) کے قوانین کا مقصد اس آئینی ضمانت کو ایک مؤثر نظام میں تبدیل کرنا تھا۔ لیکن تازہ ترین جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سے سرکاری محکمے اب بھی ایسے طرزِ عمل کا مظاہرہ کررہے ہیں جیسے معلومات افشا کرنا اختیاری ہو جبکہ شہریوں سے ایسی معلومات تلاش کرنے کی توقع کی جاتی ہے جو پہلے ہی عوام کے لیے دستیاب ہونی چاہییں۔</p>
<p>یہ کمزوری خاص طور پر تشویش ناک ہے جہاں عوام کے پیسے کا معاملہ ہو۔ ٹی آئی پی نے پایا کہ مختلف صوبوں اور وفاقی سطح پر بجٹ اور اخراجات سے متعلق معلومات ان شعبوں میں شامل ہیں جہاں معلومات افشا کرنے کی شرح سب سے کم ہے۔ جمہوری احتساب کے لیے اس سے زیادہ بنیادی تقاضے شاید ہی کوئی ہوں کہ ٹیکس دہندگان کو یہ دیکھنے کا حق دیا جائے کہ سرکاری اداروں کو مالی وسائل کیسے فراہم کیے جاتے ہیں اور وہ رقم کیسے خرچ کی جاتی ہے۔</p>
<p>ایسی معلومات کو روک لینا یا انہیں ناکافی انداز میں شائع کرنا شہریوں، صحافیوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے نگرانی کے عمل کو کمزور کرتا ہے اور ایسی ہی مبہم صورتِ حال پیدا کرتا ہے جس میں وسائل کا ضیاع، جانب داری اور بدعنوانی پنپ سکتی ہے۔</p>
<p>یہاں تک کہ وہ نظام بھی جس کے ذریعے شہریوں کو مطلوبہ مگر دستیاب نہ ہونے والی معلومات طلب کرنی ہوتی ہیں، مناسب طور پر نمایاں نہیں ہے۔ پبلک انفارمیشن افسران (پی آئی اوز) آر ٹی آئی درخواستوں کے لیے مقررہ ادارہ جاتی رابطہ ہوتے ہیں لیکن ان کے رابطے کی تفصیلات کی اشاعت کی شرح بلوچستان میں صرف 12 فیصد، سندھ میں 14 فیصد، وفاقی سطح پر 36 فیصد اور خیبر پختونخوا میں 45 فیصد رہی۔</p>
<p>پنجاب نے 72 فیصد کے ساتھ نمایاں طور پر بہتر کارکردگی دکھائی لیکن اس کے باوجود تعمیل میں ایک خاصا بڑا خلا باقی رہتا ہے۔ جب شہریوں کو کسی حق سے فائدہ اٹھانے کے لیے سب سے پہلے یہ معلوم کرنا پڑے کہ انہیں کس سے رجوع کرنا ہے تو وہ حق خاصا کم مؤثر ہو جاتا ہے۔</p>
<p>لہٰذا مسئلہ بظاہر قانون سازی کی عدم موجودگی سے کم اور قانون اور اس پر عمل درآمد کے درمیان پاکستان میں پائے جانے والے معروف فرق سے زیادہ متعلق ہے۔ حکومتوں نے معلومات تک رسائی (آر ٹی آئی) کے قوانین نافذ کیے ہیں، معلوماتی کمیشن قائم کیے ہیں اور متعلقہ افسران مقرر کیے ہیں لیکن بظاہر بہت سے محکمے اب بھی معلومات افشا کرنے کی اس ثقافت کے خلاف مزاحمت کررہے ہیں جسے یہ اقدامات فروغ دینے کے لیے کیے گئے تھے۔ اس مزاحمت کا ادارہ جاتی سطح پر تدارک ضروری ہے۔ معلوماتی کمیشنوں کو قوانین کی تعمیل یقینی بنانے کے لیے مناسب اختیارات اور انتظامی صلاحیت دی جانی چاہیے جبکہ محکموں کی واضح طور پر متعین کردہ معلومات افشا کرنے کی ضروریات کے مطابق باقاعدگی سے نگرانی کی جانی چاہیے۔</p>
<p>ٹی آئی پی  کی سفارشات اس ضمن میں ایک معقول نقطۂ آغاز فراہم کرتی ہیں۔ معلومات کے افشا کے لیے یکساں فارمیٹس، پبلک انفارمیشن افسران (پی آئی اوز) کے رابطے کی تفصیلات کی لازمی اشاعت، محکمہ جاتی ویب سائٹس پر آر ٹی آئی کے لیے مختص حصے اور بجٹ، اخراجات اور فیصلہ سازی کے طریقۂ کار سے متعلق معلومات کی بہتر فراہمی سے موجودہ عدم یکسانیت بڑی حد تک ختم کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>پبلک انفارمیشن افسران کی تربیت بھی اتنی ہی اہم ہے، تاہم جب محکمے بار بار قانون کے تحت مطلوب معلومات شائع کرنے میں ناکام رہیں تو بالآخر اعلیٰ حکام کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے۔ بصورت دیگر قوانین پر ناقص عملدرآمد بھی ایک ایسا انتظامی معمول بن جائے گا جس کا کوئی نتیجہ یا احتساب نہیں ہوگا۔</p>
<p>ایک جمہوری حکومت کے لیے ضروری ہے کہ شہریوں کو معلوم ہو کہ ان کے نام پر اور ان کے پیسے سے کیا کچھ کیا جارہا ہے۔ پاکستان آئینی اور قانون سازی کی سطح پر پہلے ہی اس اصول کو تسلیم کرچکا ہے۔ اب نامکمل کام یہ ہے کہ حکومتیں بھی اسی اصول کے مطابق عمل کریں۔</p>
<p>آخرکار، معلومات کے آئینی حق کی اہمیت اس وقت بڑی حد تک ختم ہو جاتی ہے جب حکومت بار بار یہ معلومات فراہم کرنا ہی بھول جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291840</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Sep 2026 11:26:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/29111648537aa79.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/29111648537aa79.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
