<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 16:56:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 16:56:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غیرملکی سرمایہ کاری پاکستان سے دور کیوں؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291837/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی بہتر ہوتی بیرونی پوزیشن اور بہتر خودمختار کریڈٹ پروفائل ابھی تک اس ایک اہم اشاریے میں تبدیل نہیں ہوئے جو مستقبل کی معاشی نمو کے لیے بہت اہم ہے، مضبوط براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تازہ ترین اعداد و شمار خاص طور پر قابلِ غور ہیں۔ بعض اندازوں کے مطابق مالی سال 2026 میں خالص براہ راست  غیر ملکی سرمایہ کاری تقریباً 32 فیصد کم ہوکر 1.7 ارب ڈالر رہ گئی، حالانکہ میکرو اکنامک حالات میں بہتری آئی۔ یہ تضاد اس بات پر کچھ مشکل سوالات اٹھانے کا تقاضا کرتا ہے کہ پاکستان دراصل خود کو ایک پُرکشش سرمایہ کاری کی منزل بنانے کے لیے کیا کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان خدشات کو اس ہفتے مزید تقویت ملی جب پاکستان کا دورہ کرنے والے آئی ایم ایف کے وفد نے اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کے عہدیداران سے ملاقات کی، جو پاکستان میں کام کرنے والی کثیر القومی کمپنیوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ پیغام واضح تھا، معاشی استحکام ضروری ہے، لیکن کافی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاروں کو اب بھی ضابطہ جاتی اور تعمیلی بوجھ، کمزور پالیسی ہم آہنگی، توانائی کی پابندیوں، ٹیکس سے متعلق مسائل اور کاروباری قواعد کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی سرمایہ کار جس ماحول میں کام کر رہے ہیں، اس کی سب سے نمایاں مثال او آئی سی سی آئی کے ایک اور انکشاف سے سامنے آئی، اگست تک رکن کمپنیوں کے تقریباً 102.8 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈز زیر التوا تھے، جن میں 68 ارب روپے انکم ٹیکس اور 34.8 ارب روپے سیلز ٹیکس کے تھے۔ یہ رقم آپریشنز، توسیع اور مستقبل کی سرمایہ کاری کے لیے درکار ورکنگ کیپیٹل کو روک رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حقیقت کو حکومت کی جانب سے بار بار دی جانے والی ان یقین دہانیوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا مشکل ہے کہ پاکستان براہ راست  غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم حقیقت مختلف ہے۔ او آئی سی سی آئی کے ارکان ایسے غیر معروف یا عارضی کاروبار نہیں ہیں جن کے ریفنڈ کے دعووں کو نامکمل دستاویزات یا طریقہ کار کی خامیوں کی بنیاد پر مسترد کیا جاسکے، ان میں پاکستان کے بعض سب سے بڑے اور طویل عرصے سے قائم غیر ملکی سرمایہ کار شامل ہیں۔ اگر ایسی کمپنیوں کے جائز واجب الادا ریفنڈز طویل عرصے تک رکے رہیں تو اس سے ممکنہ سرمایہ کار کو کیا پیغام جاتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت میں مسئلہ صرف ریفنڈز تک محدود نہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں کاروبار کرنے کی مجموعی لاگت اور غیر یقینی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں، جس میں زرمبادلہ کی پابندیاں شامل ہیں جو منافع اور ڈویڈنڈ کی بیرون ملک منتقلی میں تاخیر کا باعث بن سکتی ہیں، اس کے علاوہ غیر مستقل ٹیکس نظام، ضوابط میں تبدیلیاں، تنازعات کے کمزور حل کا نظام، دانشورانہ املاک کا ناکافی تحفظ اور حکومت کی مختلف سطحوں کے درمیان ناقص رابطہ کاری بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے بعض مسائل کا جواز پیش کرنا خاص طور پر مشکل ہے کیونکہ انہیں حل کرنا متعلقہ حکام کی صلاحیت میں ہے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان ناقص رابطہ کاری معمول کی منظوریوں کو طویل عمل میں تبدیل کرسکتی ہے، جس سے کاروباری اداروں کے لیے غیر یقینی اور لاگت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی طرح پاکستان کی توانائی سے متعلق کمزوریوں کو دور کرنے میں طویل عرصے سے جاری ناکامی بھی یہی صورتحال پیدا کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، ایران امریکا تنازع کے گرد پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے دوران ایندھن درآمد کرنے کی غیر یقینی صورتحال نے ایک بار پھر اس معیشت کے خطرات کو نمایاں کیا ہے جس نے توانائی کے تحفظ کو بہتر بنانے یا درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لیے بہت کم اقدامات کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ آئی ایم ایف کے وفد سے ملاقات کے دوران او آئی سی سی آئی کی جانب سے ٹیکس دائرہ کار کو وسیع کرنے کا مطالبہ پاکستان کے سرمایہ کاری ماحول میں موجود ایک اور تضاد کی بنیادی وجہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس کے ارکان رسمی معیشت میں کام کرتے ہیں، گوشوارے جمع کراتے اور ٹیکس ادا کرتے ہیں، تاہم وہ اربوں روپے کے جائز ریفنڈز کے منتظر رہتے ہیں، جبکہ معیشت کے بڑے حصے پر یا تو بہت کم ٹیکس عائد ہوتا ہے یا وہ مکمل طور پر ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویزی اور ٹیکس قوانین کی پابندی کرنے والے کاروباری اداروں پر بار بار بوجھ بڑھانا نہ تو پائیدار محصولات کی حکمت عملی ہے اور نہ ہی رسمی سرمایہ کاری کو زیادہ پُرکشش بنانے کا کوئی طریقہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریفنڈز کے مسئلے کا حجم ایک اور مشکل سوال اٹھاتا ہے، اگر صرف چند سو غیر ملکی سرمایہ کار کمپنیوں کے 100 ارب روپے سے زیادہ ریفنڈز میں پھنسے ہوئے ہیں تو ملک بھر میں ٹیکس دہندگان کے کتنے بڑے ریفنڈز زیر التوا ہوں گے؟ اس سوال کا جواب ایف بی آر کی انتظامی خامیوں کا ایک تشویشناک پیمانہ پیش کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاملہ اس وقت اہم ہے جب وزیراعظم اپنے دورہ امریکا کے دوران پاکستانی نژاد امریکی کاروباری افراد سے سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سرمایہ کاروں سے پاکستان میں پیسہ لگانے کے لیے کہنا آسان ہے، ایسے حالات پیدا کرنا جن کی وجہ سے وہ واقعی ایسا کرنا چاہیں، کہیں زیادہ مشکل ہے۔ کسی بھی ملک کو یہ فرض کرنے کا حق نہیں کہ غیر ملکی سرمایہ لازماً اسی ملک کا انتخاب کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان دیگر سرمایہ کاری کی منزلوں سے مقابلہ کر رہا ہے اور اسے سرمایہ کاروں کو محض وعدوں سے زیادہ پُرکشش چیز پیش کرنا ہوگی، قابلِ پیش گوئی پالیسیاں، مؤثر ادارے، قابلِ اعتماد توانائی، منصفانہ ٹیکس نظام، سرمایہ کاری کا تحفظ اور سب سے بڑھ کر یہ اعتماد کہ ریاست اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی بہتر ہوتی بیرونی پوزیشن اور بہتر خودمختار کریڈٹ پروفائل ابھی تک اس ایک اہم اشاریے میں تبدیل نہیں ہوئے جو مستقبل کی معاشی نمو کے لیے بہت اہم ہے، مضبوط براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری۔</strong></p>
<p>تازہ ترین اعداد و شمار خاص طور پر قابلِ غور ہیں۔ بعض اندازوں کے مطابق مالی سال 2026 میں خالص براہ راست  غیر ملکی سرمایہ کاری تقریباً 32 فیصد کم ہوکر 1.7 ارب ڈالر رہ گئی، حالانکہ میکرو اکنامک حالات میں بہتری آئی۔ یہ تضاد اس بات پر کچھ مشکل سوالات اٹھانے کا تقاضا کرتا ہے کہ پاکستان دراصل خود کو ایک پُرکشش سرمایہ کاری کی منزل بنانے کے لیے کیا کر رہا ہے۔</p>
<p>ان خدشات کو اس ہفتے مزید تقویت ملی جب پاکستان کا دورہ کرنے والے آئی ایم ایف کے وفد نے اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کے عہدیداران سے ملاقات کی، جو پاکستان میں کام کرنے والی کثیر القومی کمپنیوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ پیغام واضح تھا، معاشی استحکام ضروری ہے، لیکن کافی نہیں۔</p>
<p>سرمایہ کاروں کو اب بھی ضابطہ جاتی اور تعمیلی بوجھ، کمزور پالیسی ہم آہنگی، توانائی کی پابندیوں، ٹیکس سے متعلق مسائل اور کاروباری قواعد کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔</p>
<p>غیر ملکی سرمایہ کار جس ماحول میں کام کر رہے ہیں، اس کی سب سے نمایاں مثال او آئی سی سی آئی کے ایک اور انکشاف سے سامنے آئی، اگست تک رکن کمپنیوں کے تقریباً 102.8 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈز زیر التوا تھے، جن میں 68 ارب روپے انکم ٹیکس اور 34.8 ارب روپے سیلز ٹیکس کے تھے۔ یہ رقم آپریشنز، توسیع اور مستقبل کی سرمایہ کاری کے لیے درکار ورکنگ کیپیٹل کو روک رہی ہے۔</p>
<p>اس حقیقت کو حکومت کی جانب سے بار بار دی جانے والی ان یقین دہانیوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا مشکل ہے کہ پاکستان براہ راست  غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔</p>
<p>تاہم حقیقت مختلف ہے۔ او آئی سی سی آئی کے ارکان ایسے غیر معروف یا عارضی کاروبار نہیں ہیں جن کے ریفنڈ کے دعووں کو نامکمل دستاویزات یا طریقہ کار کی خامیوں کی بنیاد پر مسترد کیا جاسکے، ان میں پاکستان کے بعض سب سے بڑے اور طویل عرصے سے قائم غیر ملکی سرمایہ کار شامل ہیں۔ اگر ایسی کمپنیوں کے جائز واجب الادا ریفنڈز طویل عرصے تک رکے رہیں تو اس سے ممکنہ سرمایہ کار کو کیا پیغام جاتا ہے؟</p>
<p>حقیقت میں مسئلہ صرف ریفنڈز تک محدود نہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں کاروبار کرنے کی مجموعی لاگت اور غیر یقینی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں، جس میں زرمبادلہ کی پابندیاں شامل ہیں جو منافع اور ڈویڈنڈ کی بیرون ملک منتقلی میں تاخیر کا باعث بن سکتی ہیں، اس کے علاوہ غیر مستقل ٹیکس نظام، ضوابط میں تبدیلیاں، تنازعات کے کمزور حل کا نظام، دانشورانہ املاک کا ناکافی تحفظ اور حکومت کی مختلف سطحوں کے درمیان ناقص رابطہ کاری بھی شامل ہے۔</p>
<p>ان میں سے بعض مسائل کا جواز پیش کرنا خاص طور پر مشکل ہے کیونکہ انہیں حل کرنا متعلقہ حکام کی صلاحیت میں ہے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان ناقص رابطہ کاری معمول کی منظوریوں کو طویل عمل میں تبدیل کرسکتی ہے، جس سے کاروباری اداروں کے لیے غیر یقینی اور لاگت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی طرح پاکستان کی توانائی سے متعلق کمزوریوں کو دور کرنے میں طویل عرصے سے جاری ناکامی بھی یہی صورتحال پیدا کرسکتی ہے۔</p>
<p>مزید برآں، ایران امریکا تنازع کے گرد پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے دوران ایندھن درآمد کرنے کی غیر یقینی صورتحال نے ایک بار پھر اس معیشت کے خطرات کو نمایاں کیا ہے جس نے توانائی کے تحفظ کو بہتر بنانے یا درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لیے بہت کم اقدامات کیے ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ آئی ایم ایف کے وفد سے ملاقات کے دوران او آئی سی سی آئی کی جانب سے ٹیکس دائرہ کار کو وسیع کرنے کا مطالبہ پاکستان کے سرمایہ کاری ماحول میں موجود ایک اور تضاد کی بنیادی وجہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس کے ارکان رسمی معیشت میں کام کرتے ہیں، گوشوارے جمع کراتے اور ٹیکس ادا کرتے ہیں، تاہم وہ اربوں روپے کے جائز ریفنڈز کے منتظر رہتے ہیں، جبکہ معیشت کے بڑے حصے پر یا تو بہت کم ٹیکس عائد ہوتا ہے یا وہ مکمل طور پر ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔</p>
<p>دستاویزی اور ٹیکس قوانین کی پابندی کرنے والے کاروباری اداروں پر بار بار بوجھ بڑھانا نہ تو پائیدار محصولات کی حکمت عملی ہے اور نہ ہی رسمی سرمایہ کاری کو زیادہ پُرکشش بنانے کا کوئی طریقہ۔</p>
<p>ریفنڈز کے مسئلے کا حجم ایک اور مشکل سوال اٹھاتا ہے، اگر صرف چند سو غیر ملکی سرمایہ کار کمپنیوں کے 100 ارب روپے سے زیادہ ریفنڈز میں پھنسے ہوئے ہیں تو ملک بھر میں ٹیکس دہندگان کے کتنے بڑے ریفنڈز زیر التوا ہوں گے؟ اس سوال کا جواب ایف بی آر کی انتظامی خامیوں کا ایک تشویشناک پیمانہ پیش کرے گا۔</p>
<p>یہ معاملہ اس وقت اہم ہے جب وزیراعظم اپنے دورہ امریکا کے دوران پاکستانی نژاد امریکی کاروباری افراد سے سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سرمایہ کاروں سے پاکستان میں پیسہ لگانے کے لیے کہنا آسان ہے، ایسے حالات پیدا کرنا جن کی وجہ سے وہ واقعی ایسا کرنا چاہیں، کہیں زیادہ مشکل ہے۔ کسی بھی ملک کو یہ فرض کرنے کا حق نہیں کہ غیر ملکی سرمایہ لازماً اسی ملک کا انتخاب کرے گا۔</p>
<p>پاکستان دیگر سرمایہ کاری کی منزلوں سے مقابلہ کر رہا ہے اور اسے سرمایہ کاروں کو محض وعدوں سے زیادہ پُرکشش چیز پیش کرنا ہوگی، قابلِ پیش گوئی پالیسیاں، مؤثر ادارے، قابلِ اعتماد توانائی، منصفانہ ٹیکس نظام، سرمایہ کاری کا تحفظ اور سب سے بڑھ کر یہ اعتماد کہ ریاست اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291837</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Sep 2026 09:49:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/290948043afdfdd.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/290948043afdfdd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
