<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Sports</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 16:56:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 16:56:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایشین گیمز جیولن فائنل : ارشد ندیم تمغہ جیتنے میں ناکام</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291824/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے اولمپک گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم ایشین گیمز کے جیولن تھرو فائنل میں تمغہ جیتنے میں ناکام رہے اور 80.29 میٹر کی تھرو کے ساتھ چوتھی پوزیشن حاصل کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی جانب سے 6 میں سے صرف 2 کوششیں کامیاب ہوسکیں، جبکہ سری لنکا کے رمیش پاتھراجے نے 88.55 میٹر کی شاندار تھرو کے ساتھ گولڈ میڈل جیت لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے ارشد ندیم اور محمد یاسر نے ایشین گیمز کے جیولن تھرو مقابلے میں حصہ لیا، تاہم ارشد ندیم فائنل میں تمغہ حاصل نہ کرسکے اور چوتھے نمبر پر رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارشد ندیم نے پہلی کوشش میں 76.69 میٹر کی تھرو کی، جبکہ دوسری کوشش فاؤل قرار پائی۔ تیسری کوشش میں انہوں نے 80.29 میٹر کی تھرو کے ساتھ واپسی کی، جو مقابلے میں ان کی بہترین کارکردگی ثابت ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد ان کی چوتھی، پانچویں اور چھٹی کوششیں بھی فاؤل ہوگئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی ایتھلیٹ 6 میں سے صرف 2 کوششیں مکمل کرسکے جبکہ 4 کوششوں میں کوئی درست تھرو ریکارڈ نہ ہوسکی۔ 80.29 میٹر کی بہترین تھرو کے باعث وہ پوڈیم تک نہ پہنچ سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں ارشد ندیم 80.29 میٹر کی بہترین تھرو کے ساتھ چوتھی پوزیشن پر رہے اور ایشین گیمز میں جیولن تھرو کا تمغہ حاصل نہ کرسکے۔ اس سے قبل وہ 2026 کامن ویلتھ گیمز میں بھی تمغہ جیتنے میں ناکام رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فائنل میں سری لنکا کے رمیش پاتھراجے نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے 88.33 میٹر کی تھرو کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی۔ بھارت کے یاشویر سنگھ نے 85.14 میٹر کی تھرو کے ساتھ دوسری پوزیشن اور سلور میڈل حاصل کیا، جبکہ ان کے ہم وطن روہت یادو 84.35 میٹر کی تھرو کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا ایک اور پاکستانی ایتھلیٹ محمد یاسر نے بھی جیولن تھرو فائنل میں حصہ لیا، تاہم وہ بھی تمغے کی دوڑ میں شامل نہ ہوسکے۔ یاسر کی پہلی تھرو فاؤل قرار پائی، جبکہ تیسری کوشش میں انہوں نے 73.47 میٹر کا فاصلہ طے کیا۔ ان کی بہترین تھرو 73.50 میٹر رہی، جس کے ساتھ وہ 14 ایتھلیٹس میں نویں نمبر پر رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشین گیمز کا یہ نتیجہ ارشد ندیم کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس سے قبل وہ 2026 کامن ویلتھ گیمز میں بھی تمغہ حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلاسگو میں 2026 کامن ویلتھ گیمز کے جیولن تھرو فائنل میں ارشد ندیم 77.41 میٹر کی بہترین تھرو کے ساتھ نویں نمبر پر رہے۔ ان کی پہلی کوشش فاؤل قرار دی گئی، دوسری کوشش میں 77.41 میٹر کی تھرو ان کی بہترین کارکردگی رہی، جبکہ تیسری اور آخری کوشش میں انہوں نے 75.20 میٹر کا فاصلہ طے کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;77.41 میٹر کی بہترین تھرو انہیں ٹاپ 8 میں جگہ دلانے کے لیے کافی نہ تھی، جس کے باعث وہ ابتدائی مرحلے میں ہی مقابلے سے باہر ہوگئے۔ کامن ویلتھ گیمز میں سری لنکا کے رمیش پاتھراجے نے 89.75 میٹر کی تھرو کے ساتھ گولڈ میڈل جیتا، جبکہ بھارت کے نیرج چوپڑا نے 85.83 میٹر کے ساتھ سلور اور ان کے ہم وطن یاشویر سنگھ نے 85.41 میٹر کے ساتھ برانز میڈل حاصل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل پیرس اولمپکس 2024 میں ارشد ندیم نے پاکستان کے لیے گولڈ میڈل جیت کر 40 سالہ انتظار ختم کیا اور جیولن تھرو میں نیا اولمپک ریکارڈ قائم کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارشد ندیم کی پہلی تھرو فاؤل قرار پائی، تاہم دوسری کوشش میں انہوں نے 92.97 میٹر کی تھرو کے ساتھ اولمپکس کی تاریخ کی سب سے طویل جیولن تھرو کا نیا ریکارڈ قائم کردیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے اولمپک گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم ایشین گیمز کے جیولن تھرو فائنل میں تمغہ جیتنے میں ناکام رہے اور 80.29 میٹر کی تھرو کے ساتھ چوتھی پوزیشن حاصل کی۔</strong></p>
<p>ان کی جانب سے 6 میں سے صرف 2 کوششیں کامیاب ہوسکیں، جبکہ سری لنکا کے رمیش پاتھراجے نے 88.55 میٹر کی شاندار تھرو کے ساتھ گولڈ میڈل جیت لیا۔</p>
<p>پاکستان کے ارشد ندیم اور محمد یاسر نے ایشین گیمز کے جیولن تھرو مقابلے میں حصہ لیا، تاہم ارشد ندیم فائنل میں تمغہ حاصل نہ کرسکے اور چوتھے نمبر پر رہے۔</p>
<p>ارشد ندیم نے پہلی کوشش میں 76.69 میٹر کی تھرو کی، جبکہ دوسری کوشش فاؤل قرار پائی۔ تیسری کوشش میں انہوں نے 80.29 میٹر کی تھرو کے ساتھ واپسی کی، جو مقابلے میں ان کی بہترین کارکردگی ثابت ہوئی۔</p>
<p>اس کے بعد ان کی چوتھی، پانچویں اور چھٹی کوششیں بھی فاؤل ہوگئیں۔</p>
<p>پاکستانی ایتھلیٹ 6 میں سے صرف 2 کوششیں مکمل کرسکے جبکہ 4 کوششوں میں کوئی درست تھرو ریکارڈ نہ ہوسکی۔ 80.29 میٹر کی بہترین تھرو کے باعث وہ پوڈیم تک نہ پہنچ سکے۔</p>
<p>یوں ارشد ندیم 80.29 میٹر کی بہترین تھرو کے ساتھ چوتھی پوزیشن پر رہے اور ایشین گیمز میں جیولن تھرو کا تمغہ حاصل نہ کرسکے۔ اس سے قبل وہ 2026 کامن ویلتھ گیمز میں بھی تمغہ جیتنے میں ناکام رہے تھے۔</p>
<p>فائنل میں سری لنکا کے رمیش پاتھراجے نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے 88.33 میٹر کی تھرو کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی۔ بھارت کے یاشویر سنگھ نے 85.14 میٹر کی تھرو کے ساتھ دوسری پوزیشن اور سلور میڈل حاصل کیا، جبکہ ان کے ہم وطن روہت یادو 84.35 میٹر کی تھرو کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔</p>
<p>دریں اثنا ایک اور پاکستانی ایتھلیٹ محمد یاسر نے بھی جیولن تھرو فائنل میں حصہ لیا، تاہم وہ بھی تمغے کی دوڑ میں شامل نہ ہوسکے۔ یاسر کی پہلی تھرو فاؤل قرار پائی، جبکہ تیسری کوشش میں انہوں نے 73.47 میٹر کا فاصلہ طے کیا۔ ان کی بہترین تھرو 73.50 میٹر رہی، جس کے ساتھ وہ 14 ایتھلیٹس میں نویں نمبر پر رہے۔</p>
<p>ایشین گیمز کا یہ نتیجہ ارشد ندیم کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس سے قبل وہ 2026 کامن ویلتھ گیمز میں بھی تمغہ حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔</p>
<p>گلاسگو میں 2026 کامن ویلتھ گیمز کے جیولن تھرو فائنل میں ارشد ندیم 77.41 میٹر کی بہترین تھرو کے ساتھ نویں نمبر پر رہے۔ ان کی پہلی کوشش فاؤل قرار دی گئی، دوسری کوشش میں 77.41 میٹر کی تھرو ان کی بہترین کارکردگی رہی، جبکہ تیسری اور آخری کوشش میں انہوں نے 75.20 میٹر کا فاصلہ طے کیا۔</p>
<p>77.41 میٹر کی بہترین تھرو انہیں ٹاپ 8 میں جگہ دلانے کے لیے کافی نہ تھی، جس کے باعث وہ ابتدائی مرحلے میں ہی مقابلے سے باہر ہوگئے۔ کامن ویلتھ گیمز میں سری لنکا کے رمیش پاتھراجے نے 89.75 میٹر کی تھرو کے ساتھ گولڈ میڈل جیتا، جبکہ بھارت کے نیرج چوپڑا نے 85.83 میٹر کے ساتھ سلور اور ان کے ہم وطن یاشویر سنگھ نے 85.41 میٹر کے ساتھ برانز میڈل حاصل کیا۔</p>
<p>اس سے قبل پیرس اولمپکس 2024 میں ارشد ندیم نے پاکستان کے لیے گولڈ میڈل جیت کر 40 سالہ انتظار ختم کیا اور جیولن تھرو میں نیا اولمپک ریکارڈ قائم کیا تھا۔</p>
<p>ارشد ندیم کی پہلی تھرو فاؤل قرار پائی، تاہم دوسری کوشش میں انہوں نے 92.97 میٹر کی تھرو کے ساتھ اولمپکس کی تاریخ کی سب سے طویل جیولن تھرو کا نیا ریکارڈ قائم کردیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291824</guid>
      <pubDate>Mon, 28 Sep 2026 19:21:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/28185932c8b96d8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/28185932c8b96d8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
