<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 11:03:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 11:03:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان ہانگ کانگ کے ویلڈ اے پی تجارتی تصدیقی پلیٹ فارم میں شامل ہونے والا پہلا ملک بن گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291818/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے قابلِ اعتماد ڈیجیٹل تجارت کے فروغ کی جانب ایک اور اہم قدم اٹھایا ہے جس کے تحت پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو) کو ویلیڈ اے پی  کے ساتھ مربوط کردیا گیا ہے۔ ویلیڈ اے پی ایک بلاک چین پر مبنی ڈیجیٹل دستاویزات کی تصدیق کا پلیٹ فارم ہے جسے ہانگ کانگ، چین کے کسٹمز اینڈ ایکسائز ڈپارٹمنٹ نے تیار اور&lt;/strong&gt;  ہوسٹ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بیان کے مطابق یہ انضمام 25 ستمبر 2026 سے فعال ہوگیا ہے جس کے تحت پاکستان سنگل ونڈو  کے ذریعے جاری کیے جانے والے الیکٹرانک تجارتی دستاویزات کی صداقت اور سالمیت کی آزادانہ طور پر تصدیق کی جاسکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے کرپٹوگرافک ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے جبکہ اصل دستاویز یا اس میں موجود حساس معلومات کو تصدیقی پلیٹ فارم پر منتقل یا محفوظ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام کے تحت 18 مئی 2026 کو پاکستان کسٹمز اور ہانگ کانگ کے کسٹمز اینڈ ایکسائز ڈپارٹمنٹ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے جس کے ذریعے پاکستان کسٹمز کی ویلڈ اے پی میں شرکت کو باضابطہ شکل دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اس پلیٹ فارم میں شامل ہونے والا پہلا ملک ہے جب کہ یہ انضمام ویلڈ اے پی پر مبنی ڈیجیٹل دستاویزات کی تصدیق کے نظام کا پاکستان میں پہلا نفاذ بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویلڈ اے پی کرپٹوگرافک ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے الیکٹرانک تجارتی دستاویز کا ایک منفرد ڈیجیٹل فنگر پرنٹ یا ہیش تیار کرتا ہے۔ اس کے ذریعے متعلقہ حکام اس بات کی تصدیق کرسکتے ہیں کہ دستاویز اصلی ہے اور اس میں کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا جب کہ دستاویز خود یا اس میں موجود حساس معلومات کو تصدیقی پلیٹ فارم پر منتقل یا محفوظ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی ویلڈ اے پی میں شمولیت سے اس کا ڈیجیٹل تجارتی انفرااسٹرکچر قابلِ اعتماد الیکٹرانک دستاویزات کی تصدیق کیلئے ابھرتے ہوئے علاقائی نظام سے بھی منسلک ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کیلئے یہ انضمام ایسے ڈیجیٹل تجارتی ماحول کی جانب ایک اور قدم ہے جہاں دستاویزات الیکٹرانک طور پر جاری، ڈیجیٹل طریقے سے تصدیق اور سرحد پار قابلِ اعتماد بنائی جاسکیں گی۔ اس سے کاغذی دستاویزات کی تصدیق پر انحصار کم کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تجارتی دستاویزات کی تیز تر اور زیادہ محفوظ پروسیسنگ میں بھی مدد مل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے قابلِ اعتماد ڈیجیٹل تجارت کے فروغ کی جانب ایک اور اہم قدم اٹھایا ہے جس کے تحت پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو) کو ویلیڈ اے پی  کے ساتھ مربوط کردیا گیا ہے۔ ویلیڈ اے پی ایک بلاک چین پر مبنی ڈیجیٹل دستاویزات کی تصدیق کا پلیٹ فارم ہے جسے ہانگ کانگ، چین کے کسٹمز اینڈ ایکسائز ڈپارٹمنٹ نے تیار اور</strong>  ہوسٹ کیا ہے۔</p>
<p>ایک بیان کے مطابق یہ انضمام 25 ستمبر 2026 سے فعال ہوگیا ہے جس کے تحت پاکستان سنگل ونڈو  کے ذریعے جاری کیے جانے والے الیکٹرانک تجارتی دستاویزات کی صداقت اور سالمیت کی آزادانہ طور پر تصدیق کی جاسکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے کرپٹوگرافک ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے جبکہ اصل دستاویز یا اس میں موجود حساس معلومات کو تصدیقی پلیٹ فارم پر منتقل یا محفوظ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔</p>
<p>اس اقدام کے تحت 18 مئی 2026 کو پاکستان کسٹمز اور ہانگ کانگ کے کسٹمز اینڈ ایکسائز ڈپارٹمنٹ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے جس کے ذریعے پاکستان کسٹمز کی ویلڈ اے پی میں شرکت کو باضابطہ شکل دی گئی۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اس پلیٹ فارم میں شامل ہونے والا پہلا ملک ہے جب کہ یہ انضمام ویلڈ اے پی پر مبنی ڈیجیٹل دستاویزات کی تصدیق کے نظام کا پاکستان میں پہلا نفاذ بھی ہے۔</p>
<p>ویلڈ اے پی کرپٹوگرافک ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے الیکٹرانک تجارتی دستاویز کا ایک منفرد ڈیجیٹل فنگر پرنٹ یا ہیش تیار کرتا ہے۔ اس کے ذریعے متعلقہ حکام اس بات کی تصدیق کرسکتے ہیں کہ دستاویز اصلی ہے اور اس میں کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا جب کہ دستاویز خود یا اس میں موجود حساس معلومات کو تصدیقی پلیٹ فارم پر منتقل یا محفوظ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔</p>
<p>پاکستان کی ویلڈ اے پی میں شمولیت سے اس کا ڈیجیٹل تجارتی انفرااسٹرکچر قابلِ اعتماد الیکٹرانک دستاویزات کی تصدیق کیلئے ابھرتے ہوئے علاقائی نظام سے بھی منسلک ہوگیا ہے۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کیلئے یہ انضمام ایسے ڈیجیٹل تجارتی ماحول کی جانب ایک اور قدم ہے جہاں دستاویزات الیکٹرانک طور پر جاری، ڈیجیٹل طریقے سے تصدیق اور سرحد پار قابلِ اعتماد بنائی جاسکیں گی۔ اس سے کاغذی دستاویزات کی تصدیق پر انحصار کم کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تجارتی دستاویزات کی تیز تر اور زیادہ محفوظ پروسیسنگ میں بھی مدد مل سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291818</guid>
      <pubDate>Mon, 28 Sep 2026 16:11:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/281604454925c0b.webp" type="image/webp" medium="image" height="450" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/281604454925c0b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
