<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 20:46:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 20:46:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی برآمدات میں اضافے سےستمبر میں مشرق وسطیٰ کی تیل برآمدات بحال</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291798/</link>
      <description>&lt;p&gt;کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق مشرق وسطیٰ کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک سے خام تیل کی برآمدات ستمبر میں بڑھ کر 12.8 ملین بیرل یومیہ ہوگئیں، جو فروری میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے برآمدات میں اضافہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے برآمدات میں بحالی کے بعد یہ اضافہ ہوا، جہاں رواں ماہ ترسیلات تقریباً 7.4 ملین بیرل یومیہ تک پہنچنے کی توقع ہے۔ سعودی عرب نے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو نقصان پہنچانے والے حملوں کے بعد بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے تیل کی برآمدات کا رخ موڑ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیپلر کے مطابق سعودی عرب سے رواں ماہ تقریباً 5.4 ملین بیرل یومیہ برآمدات متوقع ہیں، جو اگست کی 2.446 ملین بیرل یومیہ کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم خطے کی برآمدات اب بھی فروری کی 18.8 ملین بیرل یومیہ سطح سے تقریباً 6 ملین بیرل یومیہ کم ہیں۔ گزشتہ ہفتے سعودی تیل سے لدے 19 بڑے آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرے، ہر جہاز میں تقریباً 20 لاکھ بیرل تیل تھا۔ جنگ سے قبل آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً 125 بڑے تجارتی جہاز گزرتے تھے، جو دنیا کی روزانہ خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً 20 فیصد سپلائی لے جاتے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق مشرق وسطیٰ کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک سے خام تیل کی برآمدات ستمبر میں بڑھ کر 12.8 ملین بیرل یومیہ ہوگئیں، جو فروری میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے برآمدات میں اضافہ کیا۔</p>
<p>ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے برآمدات میں بحالی کے بعد یہ اضافہ ہوا، جہاں رواں ماہ ترسیلات تقریباً 7.4 ملین بیرل یومیہ تک پہنچنے کی توقع ہے۔ سعودی عرب نے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو نقصان پہنچانے والے حملوں کے بعد بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے تیل کی برآمدات کا رخ موڑ دیا۔</p>
<p>کیپلر کے مطابق سعودی عرب سے رواں ماہ تقریباً 5.4 ملین بیرل یومیہ برآمدات متوقع ہیں، جو اگست کی 2.446 ملین بیرل یومیہ کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔</p>
<p>تاہم خطے کی برآمدات اب بھی فروری کی 18.8 ملین بیرل یومیہ سطح سے تقریباً 6 ملین بیرل یومیہ کم ہیں۔ گزشتہ ہفتے سعودی تیل سے لدے 19 بڑے آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرے، ہر جہاز میں تقریباً 20 لاکھ بیرل تیل تھا۔ جنگ سے قبل آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً 125 بڑے تجارتی جہاز گزرتے تھے، جو دنیا کی روزانہ خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً 20 فیصد سپلائی لے جاتے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291798</guid>
      <pubDate>Mon, 28 Sep 2026 12:23:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/281221361f34fd1.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/281221361f34fd1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
