<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 15:49:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 02 Oct 2026 15:49:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کا دباؤ، 100 انڈیکس 340 پوائنٹس گر گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291792/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کو ملا جلا رجحان رہا، بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس محدود حد میں اتار چڑھاؤ کے بعد 340 پوائنٹس کی کمی پر بند ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے ایس ای 100 انڈیکس نے کاروباری سیشن کا آغاز مثبت انداز میں کیا اور دورانِ سیشن 171,126.52 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچا، تاہم بعد ازاں فروخت کے دباؤ کے باعث انڈیکس 170,120.50 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک گر گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 339.60 پوائنٹس یا 0.20 فیصد کمی سے 170,425.62 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اہم پیش رفت میں وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے اتوار کو کہا کہ پاکستان نے نجکاری کی گئی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے لیے بوئنگ طیاروں کی ممکنہ فنانسنگ کے حوالے سے امریکی ایکسپورٹ-امپورٹ بینک سے بات چیت کی ہے تاہم ایئرلائن کے لیے کسی حکومتی قرض یا خودمختار ضمانت کا اعلان نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے اسٹاک ایکسچینج محتاط اور محدود دائرے میں رہا کیونکہ مسلسل جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور ملکی سیاسی حالات میں بدلتی پیشرفت نے سرمایہ کاروں کی خطرہ مول لینے کی صلاحیت کو محدود رکھا۔ ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق بینچ مارک 100 انڈیکس 119.37 پوائنٹس یا 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 170,765.22 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی سطح پر پیر کو بیشتر شیئر مارکیٹس میں کمی ریکارڈ کی گئی کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جلد جنگ بندی ہونے کے امکانات پر شکوک کے باعث تیل کی قیمتیں ایک بار پھر بڑھ گئیں۔ اس صورتحال کے باعث بانڈز پر بھی دباؤ برقرار رہا جبکہ رواں ہفتہ معاشی اعدادوشمار اور اہم اقتصادی خبروں سے بھرپور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کے اختتام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی ایرانی تجویز مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تہران معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات رواں ہفتے بھی جاری رہیں گے، تاہم ایران کی جانب سے اپنی تجاویز میں نرمی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریفائننگ کی صلاحیت میں کمی کے باعث ڈیزل کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں اور خام تیل کی قیمتوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہو گئی ہیں۔ اس صورتحال سے یہ خطرہ بڑھ گیا ہے کہ مہنگائی قیمتوں کے تعین اور اجرتوں سے متعلق فیصلوں میں مستقل طور پر شامل ہوجائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینکوں نے شرح سود میں اضافے کے سلسلے کے ذریعے ردعمل دیا ہے جبکہ ریزرو بینک آف آسٹریلیا کا امکان ہے کہ وہ منگل کو ہونے والے اجلاس میں شرح سود مزید بڑھانے والا اگلا مرکزی بینک بن جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ میں اب یہ امکان 66 فیصد ظاہر کیا جارہا ہے کہ امریکی فیڈرل ریزرو اکتوبر میں مسلسل دوسری میٹنگ میں بھی شرح سود میں اضافہ کرے گا جبکہ اگلے سال کے اختتام تک تقریباً 90 بیسس پوائنٹس کی مزید سختی پہلے ہی مارکیٹ میں شامل کی جاچکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کا نکئی انڈیکس تقریباً مستحکم رہا، جبکہ اتار چڑھاؤ کا شکار جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ 2.4 فیصد گر گئی۔ جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کا وسیع تر ایم سی اسی آئی انڈیکس 0.6 فیصد نیچے آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا پاکستانی روپے نے پیر کو انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی اضافے کا سلسلہ جاری رکھا۔ مقامی کرنسی 0.01 روپے کے اضافے کے ساتھ 277.15 روپے فی ڈالر پر بند ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم گزشتہ سیشن کے 48 کروڑ 27 لاکھ 60 ہزار حصص کے مقابلے میں کم ہوکر 42 کروڑ 10 لاکھ حصص رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حصص کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 19.28 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہوکر 17.74 ارب روپے رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینرجیکو پی کے 6 کروڑ 15 لاکھ 90 ہزار حصص کے کاروبار کے ساتھ حجم کے لحاظ سے سرفہرست رہی، جبکہ تصدیق انفارمیشن کے 6 کروڑ 3 لاکھ 20 ہزار اور پاک ریفائنری کے 2 کروڑ 41 لاکھ 40 ہزار حصص کا کاروبار ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو مجموعی طور پر 496 کمپنیوں کے حصص میں کاروبار ہوا، جن میں 181 کے حصص کی قیمت بڑھی، 267 میں کمی ہوئی جبکہ 48 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مستحکم رہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/09/28185106f025441.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/09/28185106f025441.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کو ملا جلا رجحان رہا، بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس محدود حد میں اتار چڑھاؤ کے بعد 340 پوائنٹس کی کمی پر بند ہوا۔</strong></p>
<p>کے ایس ای 100 انڈیکس نے کاروباری سیشن کا آغاز مثبت انداز میں کیا اور دورانِ سیشن 171,126.52 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچا، تاہم بعد ازاں فروخت کے دباؤ کے باعث انڈیکس 170,120.50 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک گر گیا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 339.60 پوائنٹس یا 0.20 فیصد کمی سے 170,425.62 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>ایک اہم پیش رفت میں وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے اتوار کو کہا کہ پاکستان نے نجکاری کی گئی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے لیے بوئنگ طیاروں کی ممکنہ فنانسنگ کے حوالے سے امریکی ایکسپورٹ-امپورٹ بینک سے بات چیت کی ہے تاہم ایئرلائن کے لیے کسی حکومتی قرض یا خودمختار ضمانت کا اعلان نہیں کیا گیا۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے اسٹاک ایکسچینج محتاط اور محدود دائرے میں رہا کیونکہ مسلسل جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور ملکی سیاسی حالات میں بدلتی پیشرفت نے سرمایہ کاروں کی خطرہ مول لینے کی صلاحیت کو محدود رکھا۔ ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق بینچ مارک 100 انڈیکس 119.37 پوائنٹس یا 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 170,765.22 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>بین الاقوامی سطح پر پیر کو بیشتر شیئر مارکیٹس میں کمی ریکارڈ کی گئی کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جلد جنگ بندی ہونے کے امکانات پر شکوک کے باعث تیل کی قیمتیں ایک بار پھر بڑھ گئیں۔ اس صورتحال کے باعث بانڈز پر بھی دباؤ برقرار رہا جبکہ رواں ہفتہ معاشی اعدادوشمار اور اہم اقتصادی خبروں سے بھرپور ہے۔</p>
<p>ہفتے کے اختتام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی ایرانی تجویز مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تہران معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات رواں ہفتے بھی جاری رہیں گے، تاہم ایران کی جانب سے اپنی تجاویز میں نرمی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔</p>
<p>ریفائننگ کی صلاحیت میں کمی کے باعث ڈیزل کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں اور خام تیل کی قیمتوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہو گئی ہیں۔ اس صورتحال سے یہ خطرہ بڑھ گیا ہے کہ مہنگائی قیمتوں کے تعین اور اجرتوں سے متعلق فیصلوں میں مستقل طور پر شامل ہوجائے گی۔</p>
<p>مرکزی بینکوں نے شرح سود میں اضافے کے سلسلے کے ذریعے ردعمل دیا ہے جبکہ ریزرو بینک آف آسٹریلیا کا امکان ہے کہ وہ منگل کو ہونے والے اجلاس میں شرح سود مزید بڑھانے والا اگلا مرکزی بینک بن جائے۔</p>
<p>مارکیٹ میں اب یہ امکان 66 فیصد ظاہر کیا جارہا ہے کہ امریکی فیڈرل ریزرو اکتوبر میں مسلسل دوسری میٹنگ میں بھی شرح سود میں اضافہ کرے گا جبکہ اگلے سال کے اختتام تک تقریباً 90 بیسس پوائنٹس کی مزید سختی پہلے ہی مارکیٹ میں شامل کی جاچکی ہے۔</p>
<p>جاپان کا نکئی انڈیکس تقریباً مستحکم رہا، جبکہ اتار چڑھاؤ کا شکار جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ 2.4 فیصد گر گئی۔ جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کا وسیع تر ایم سی اسی آئی انڈیکس 0.6 فیصد نیچے آیا۔</p>
<p>دریں اثنا پاکستانی روپے نے پیر کو انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی اضافے کا سلسلہ جاری رکھا۔ مقامی کرنسی 0.01 روپے کے اضافے کے ساتھ 277.15 روپے فی ڈالر پر بند ہوئی۔</p>
<p>آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم گزشتہ سیشن کے 48 کروڑ 27 لاکھ 60 ہزار حصص کے مقابلے میں کم ہوکر 42 کروڑ 10 لاکھ حصص رہا۔</p>
<p>حصص کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 19.28 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہوکر 17.74 ارب روپے رہی۔</p>
<p>سینرجیکو پی کے 6 کروڑ 15 لاکھ 90 ہزار حصص کے کاروبار کے ساتھ حجم کے لحاظ سے سرفہرست رہی، جبکہ تصدیق انفارمیشن کے 6 کروڑ 3 لاکھ 20 ہزار اور پاک ریفائنری کے 2 کروڑ 41 لاکھ 40 ہزار حصص کا کاروبار ہوا۔</p>
<p>پیر کو مجموعی طور پر 496 کمپنیوں کے حصص میں کاروبار ہوا، جن میں 181 کے حصص کی قیمت بڑھی، 267 میں کمی ہوئی جبکہ 48 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مستحکم رہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/09/28185106f025441.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/09/28185106f025441.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291792</guid>
      <pubDate>Mon, 28 Sep 2026 19:33:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/2811080070d3283.webp" type="image/webp" medium="image" height="651" width="1156">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/2811080070d3283.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
