<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 11:03:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 11:03:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین کی خلائی سفارت کاری، پاکستانی خلا باز کو مدار تک پہنچانے کی تیاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291788/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے دو پائلٹس چین کے تیان گونگ خلائی اسٹیشن پر جانے والے پہلے غیر ملکی خلاباز بننے کے لیے سخت تربیت حاصل کر رہے ہیں، جبکہ ان دونوں میں سے ایک کے حتمی انتخاب کا فیصلہ اکتوبر کے وسط سے آخر تک متوقع ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی خلائی ایجنسی سپارکو میں انسانی خلائی پرواز کے تعاون کی نگرانی کرنے والے عامر گیلانی کے مطابق زیشان علی اور خرم داؤد کئی ماہ سے بیجنگ کے چائنا آسٹروناٹ ریسرچ اینڈ ٹریننگ سینٹر میں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ یہ مشن دونوں ممالک کے درمیان 2019 میں شروع کیے گئے تعاون کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تربیت میں چینی زبان سیکھنے، خلائی جہاز کے نظام سے واقفیت، بے وزنی کی حالت میں کھانے، سونے اور آلات کی مرمت کے ساتھ ساتھ خلائی پرواز کے دوران کششِ ثقل کی شدید قوتوں سے مطابقت پیدا کرنا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپارکو کے مطابق دونوں پائلٹس نے تقریباً 20 حتمی امیدواروں میں سے جگہ بنائی۔ امیدواروں کا انتخاب طبی صحت، نفسیاتی مضبوطی اور زیادہ جی فورس برداشت کرنے کی صلاحیت کی بنیاد پر کیا گیا۔ سپارکو کے مصنوعی ذہانت کے ڈائریکٹر عزیر انصاری نے کہا کہ سائنسدانوں میں ایسے افراد تلاش کرنا مشکل ہے جو تیز رفتار پرواز اور شدید جی فورس کا تجربہ رکھتے ہوں، اسی لیے تیز رفتار پرواز کے پس منظر رکھنے والے دونوں پائلٹس کا انتخاب کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منتخب ہونے والا پاکستانی خلا باز پے لوڈ اسپیشلسٹ کے طور پر خدمات انجام دے گا اور مدار میں پاکستان کے سائنسی تجربات کی نگرانی کرے گا۔ سپارکو کو کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی جامعات سے 300 سے زائد تجاویز موصول ہوئی تھیں، جن میں سے چینی اداروں نے اس مشن کے لیے چار تجربات منتخب کیے۔ ان تجربات کا تعلق حیاتیاتی ٹیکنالوجی سے ہے اور ان کا مقصد غذائی عدم تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عامر گیلانی کے مطابق تمام تجربات سپارکو کی اپنی لیبارٹریوں میں تیار اور ابتدائی طور پر آزمائے گئے، جس کے بعد چینی انجینئرز نے ان کی منظوری دی۔ تاہم پاکستان کا سائنسی پے لوڈ تیان گونگ اسٹیشن پر کیے جانے والے مجموعی تجربات کے مقابلے میں محدود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی خلا باز چینی ساختہ خلائی جہاز کے ذریعے چین سے خلائی سفر کرے گا، چینی ماہرین سے تربیت حاصل کرے گا اور مدار میں چینی زبان میں رابطہ کرے گا۔ پاکستان کے پاس اپنا آزاد لانچ وہیکل یا انسانی خلائی جہاز موجود نہیں، جبکہ پاکستانی خلا باز کا قیام تقریباً ایک ہفتے پر محیط ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپارکو کے مطابق چین کی جانب سے پاکستان کو اپنے خلائی اسٹیشن پر غیر ملکی خلا باز بھیجنے کی دعوت دونوں ممالک کے وسیع خلائی تعاون کا حصہ ہے۔ عامر گیلانی نے کہا کہ چاند پر پاکستانی خلا باز بھیجنے کے حوالے سے فی الحال کوئی سرکاری وعدہ یا بات چیت نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پاکستان کا تیار کردہ قمری روور چین کے چانگ ای 8 مشن کے ذریعے تقریباً 2028 میں چاند پر بھیجے جانے کی توقع ہے۔ روور مصنوعی ذہانت پر مبنی تھری ڈی تصویری نظام استعمال کرتے ہوئے رکاوٹوں کی نشاندہی، گہرائی کا اندازہ اور چاند کی سطح پر اپنا راستہ خود طے کرے گا۔ سپارکو کے عزیر انصاری نے اس مشن کو پاکستانی سائنسدانوں کے لیے زندگی میں ایک بار ملنے والا موقع قرار دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے دو پائلٹس چین کے تیان گونگ خلائی اسٹیشن پر جانے والے پہلے غیر ملکی خلاباز بننے کے لیے سخت تربیت حاصل کر رہے ہیں، جبکہ ان دونوں میں سے ایک کے حتمی انتخاب کا فیصلہ اکتوبر کے وسط سے آخر تک متوقع ہے۔</strong></p>
<p>پاکستان کی خلائی ایجنسی سپارکو میں انسانی خلائی پرواز کے تعاون کی نگرانی کرنے والے عامر گیلانی کے مطابق زیشان علی اور خرم داؤد کئی ماہ سے بیجنگ کے چائنا آسٹروناٹ ریسرچ اینڈ ٹریننگ سینٹر میں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ یہ مشن دونوں ممالک کے درمیان 2019 میں شروع کیے گئے تعاون کا حصہ ہے۔</p>
<p>تربیت میں چینی زبان سیکھنے، خلائی جہاز کے نظام سے واقفیت، بے وزنی کی حالت میں کھانے، سونے اور آلات کی مرمت کے ساتھ ساتھ خلائی پرواز کے دوران کششِ ثقل کی شدید قوتوں سے مطابقت پیدا کرنا شامل ہے۔</p>
<p>سپارکو کے مطابق دونوں پائلٹس نے تقریباً 20 حتمی امیدواروں میں سے جگہ بنائی۔ امیدواروں کا انتخاب طبی صحت، نفسیاتی مضبوطی اور زیادہ جی فورس برداشت کرنے کی صلاحیت کی بنیاد پر کیا گیا۔ سپارکو کے مصنوعی ذہانت کے ڈائریکٹر عزیر انصاری نے کہا کہ سائنسدانوں میں ایسے افراد تلاش کرنا مشکل ہے جو تیز رفتار پرواز اور شدید جی فورس کا تجربہ رکھتے ہوں، اسی لیے تیز رفتار پرواز کے پس منظر رکھنے والے دونوں پائلٹس کا انتخاب کیا گیا۔</p>
<p>منتخب ہونے والا پاکستانی خلا باز پے لوڈ اسپیشلسٹ کے طور پر خدمات انجام دے گا اور مدار میں پاکستان کے سائنسی تجربات کی نگرانی کرے گا۔ سپارکو کو کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی جامعات سے 300 سے زائد تجاویز موصول ہوئی تھیں، جن میں سے چینی اداروں نے اس مشن کے لیے چار تجربات منتخب کیے۔ ان تجربات کا تعلق حیاتیاتی ٹیکنالوجی سے ہے اور ان کا مقصد غذائی عدم تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔</p>
<p>عامر گیلانی کے مطابق تمام تجربات سپارکو کی اپنی لیبارٹریوں میں تیار اور ابتدائی طور پر آزمائے گئے، جس کے بعد چینی انجینئرز نے ان کی منظوری دی۔ تاہم پاکستان کا سائنسی پے لوڈ تیان گونگ اسٹیشن پر کیے جانے والے مجموعی تجربات کے مقابلے میں محدود ہے۔</p>
<p>پاکستانی خلا باز چینی ساختہ خلائی جہاز کے ذریعے چین سے خلائی سفر کرے گا، چینی ماہرین سے تربیت حاصل کرے گا اور مدار میں چینی زبان میں رابطہ کرے گا۔ پاکستان کے پاس اپنا آزاد لانچ وہیکل یا انسانی خلائی جہاز موجود نہیں، جبکہ پاکستانی خلا باز کا قیام تقریباً ایک ہفتے پر محیط ہوگا۔</p>
<p>سپارکو کے مطابق چین کی جانب سے پاکستان کو اپنے خلائی اسٹیشن پر غیر ملکی خلا باز بھیجنے کی دعوت دونوں ممالک کے وسیع خلائی تعاون کا حصہ ہے۔ عامر گیلانی نے کہا کہ چاند پر پاکستانی خلا باز بھیجنے کے حوالے سے فی الحال کوئی سرکاری وعدہ یا بات چیت نہیں ہوئی۔</p>
<p>دوسری جانب پاکستان کا تیار کردہ قمری روور چین کے چانگ ای 8 مشن کے ذریعے تقریباً 2028 میں چاند پر بھیجے جانے کی توقع ہے۔ روور مصنوعی ذہانت پر مبنی تھری ڈی تصویری نظام استعمال کرتے ہوئے رکاوٹوں کی نشاندہی، گہرائی کا اندازہ اور چاند کی سطح پر اپنا راستہ خود طے کرے گا۔ سپارکو کے عزیر انصاری نے اس مشن کو پاکستانی سائنسدانوں کے لیے زندگی میں ایک بار ملنے والا موقع قرار دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291788</guid>
      <pubDate>Mon, 28 Sep 2026 09:58:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/28095538c954b3d.webp" type="image/webp" medium="image" height="640" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/28095538c954b3d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
