<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Life &amp; Style</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 16:56:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 16:56:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی ریسکیو آپریشن ہالی ووڈ کی سنسنی خیز فلم کیسے بنا، اور اس کے لیے کیا کچھ کرنا پڑا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291745/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;’’جب آپ پاکستانیوں کو متاثرین کے بجائے ایکشن ہیروز کے طور پر پیش کرتے ہیں تو یہ ایک طرح کی مزاحمت بن جاتی ہے۔۔۔ اپنے آپ کو قابلِ فہم بنانا، مسلسل اپنی صورتحال اور پس منظر کی وضاحت کرتے رہنا—یہ سب ہمارے ساتھ ناانصافی ہے۔۔۔ میں آپ کے لیے سماجی انصاف کے نام پر غربت کی نمائش پر مبنی فلم نہیں بناؤں گا۔‘‘&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست 2023 میں بٹگرام کی ایک وادی کے اوپر 900 فٹ کی بلندی پر آٹھ افراد، جن میں اسکول جانے والے چھ بچے بھی شامل تھے، کو لے جانے والی کیبل کار کی تین میں سے دو معاون تاریں ٹوٹ گئیں اور وہ 14 گھنٹے تک فضا میں معلق رہی۔ یہ واقعہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بن گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سے لوگوں کی طرح فلم ساز محمد علی نقوی نے بھی یہ واقعہ براہِ راست دیکھا، لیکن ایک مختلف زاویے سے—بطور فلمی مواد۔ انہوں نے ہمارے ساتھ انٹرویو میں کہا، ’’جب رات ہوئی اور حالات انتہائی مایوس کن دکھائی دینے لگے تو انتہائی غیر متوقع انداز میں ایک ایک کرکے ان بچوں کو بچایا جانے لگا۔ اس وقت تک، یعنی آپریشن کے اختتام پر، میں مکمل طور پر قائل ہو چکا تھا کہ یہ ایک فلم ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/251555174c37e02.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/251555174c37e02.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ہینگنگ بائی اے وائر کسی بھی پیمانے سے دیکھا جائے تو گزشتہ کئی برسوں میں کسی پاکستانی کہانی پر بننے والی زیادہ بڑے تجارتی امکانات رکھنے والی فلموں میں سے ایک ہے، اور یہاں تک پہنچنے کے لیے فلم ساز محمد علی نقوی کو تخلیقی، اخلاقی اور مالی نوعیت کے کئی فیصلے کرنا پڑے، جن کی انہوں نے تفصیل سے وضاحت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;’’یہ تو ہالی ووڈ جیسا اختتام ہے‘‘&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نقوی کو شروع ہی سے محسوس ہوا کہ یہ واقعہ صحافتی رپورٹ کے بجائے فلمی کہانی بن سکتا ہے، اور اس کی وجہ صرف معاملے کی سنگینی نہیں بلکہ کہانی کی ساخت بھی تھی۔ وہ کہتے ہیں، ’’میرے لیے یہ ایک بالکل پاکستانی کہانی تھی، کیونکہ اس میں مختلف گروہوں سے تعلق رکھنے والے مختلف لوگ تھے اور ضروری نہیں کہ ان سب کے آپس میں اچھے تعلقات ہوں۔۔۔ لیکن انہیں اپنے اختلافات ایک طرف رکھنا پڑے، سب نے مل کر ہاتھ بٹایا اور بالآخر ان سب نے ان بچوں کو بچانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ اور یہ بالکل ہالی ووڈ جیسا اختتام ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نقوی نے اس موقع پر مقامی برادری کے ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’’انہوں نے پولیس کو فون نہیں کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنی ویڈیوز اور کہانیاں شیئر کرنا شروع کردیں اور لوگوں تک خبر پہنچانے کی کوشش کی۔۔۔ اور یہ طریقہ کارگر ثابت ہوا۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم بات یہ ہے کہ فلم کے بہت سے انتہائی متاثر کن مناظر—جن میں کیبل کار میں معلق بچوں کی وہ ڈرون سے بنائی گئی تصاویر بھی شامل ہیں جو بڑے پیمانے پر شیئر ہوئیں—سرے سے فلمایا گیا دوبارہ منظر نہیں ہیں۔ نقوی کہتے ہیں، ’’جب میں یہ مناظر لوگوں کو دکھاتا تھا تو بہت سے لوگ سمجھتے تھے کہ یہ دوبارہ فلمائے گئے مناظر ہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ یہ بالکل حقیقی فوٹیج ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/25155705ede69b5.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/25155705ede69b5.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ فوٹیج مقامی زیورات کی دکان کے مالک فیصل ممتاز کے پاس موجود تھی، جو اتفاق سے ڈرون کے شوقین بھی تھے۔ بحران کے دوران وہ مسلسل ڈرون فوٹیج بنا کر دنیا تک پہنچاتے رہے۔ ان کے ساتھ اخرا گیر بھی تھیں، جن کا ذکر نقوی نے اپنے پاس موجود آرکائیوی فوٹیج کے حوالے سے خاص طور پر کیا۔ وہ شہری صحافی اور یوٹیوبر ہیں، جنہوں نے جائے وقوعہ کے وسیع علاقے اور امدادی کارروائی کی بڑی حد تک کوریج کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;’’روایتی دستاویزی فلم نہیں‘‘&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نقوی واضح طور پر کہتے ہیں کہ فلم کو سنسنی خیز انداز میں پیش کرنا اس کے تجارتی امکانات کے پیش نظر کوئی اتفاقی فیصلہ نہیں تھا، تاہم وہ اس خیال کو بھی مسترد کرتے ہیں کہ یہ محض مارکیٹ کو مدنظر رکھ کر کیا گیا فیصلہ تھا۔ وہ کہتے ہیں، ’’اگر میں کہانی اور موضوع کے ساتھ دیانت دار رہتا تو یہ کہانی اپنی ساخت ہی میں اسی انداز کی فلم کا تقاضا کرتی تھی۔ ورنہ دنیا بھر میں اتنے لوگ اس واقعے سے جڑے کیوں رہتے؟‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم وہ اس بات پر زیادہ زور دیتے ہیں کہ اس اندازِ پیشکش نے انہیں کس چیز سے گریز کا موقع دیا۔ وہ کہتے ہیں، ’’میں یہ نہیں چاہتا تھا کہ ایک اور ایسی کہانی بناؤں جس کا محور صدمہ اور مظلومیت ہو۔ میں نے جان بوجھ کر ہالی ووڈ کا زاویۂ نگاہ اختیار کیا، کیونکہ میرے لیے یہ ایک طرح کی مزاحمت تھی۔ جب آپ پاکستانیوں کو متاثرین کے بجائے ایکشن ہیروز کے طور پر پیش کرتے ہیں تو یہ ایک طرح کی مزاحمت بن جاتی ہے۔۔۔ اپنے آپ کو قابلِ فہم بنانے، مسلسل اپنے حالات اور پس منظر کی وضاحت کرتے رہنے کا بوجھ—یہ سب ہمارے ساتھ ناانصافی ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/25155705983d04b.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/25155705983d04b.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وہ ایک ایسی تفصیل کی مثال دیتے ہیں جس کی وضاحت انہوں نے جان بوجھ کر نہیں کی: فلم میں ضلع پولیس سربراہ ایک باحجاب خاتون کے طور پر نظر آتی ہیں، لیکن نقوی نے ان کے حجاب یا اس کے پس منظر پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ وہ کہتے ہیں، ’’میں حقیقت میں اس کے بارے میں آپ کو مزید کچھ نہیں بتاتا۔۔۔ کیونکہ اپنے آپ کو قابلِ فہم بنانے، مسلسل اپنے حالات اور پس منظر کی وضاحت کرتے رہنے کا یہ بوجھ ہمارے لیے نقصان دہ ہے۔ میں نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کرنا چاہا۔۔۔ اس سے بحیثیت انسان ہماری خودمختاری اور وقار مجروح ہوتا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس فیصلے کی وجہ سے انہیں بعض ناقدین کی حمایت سے محروم ہونا پڑا۔ وہ کہتے ہیں، ’’میرا خیال ہے کہ شاید یہی اس تنقید یا ردعمل کی ایک وجہ تھی جو مجھے ملا—کہ میں نے وہ فلم نہیں بنائی جو بعض ناقدین چاہتے تھے۔ وہ زیادہ روایتی اور خالص دستاویزی فلم چاہتے تھے، جس میں بنیادی ڈھانچے کے مسائل اور طبقاتی درجہ بندی جیسے موضوعات اور مباحث کو تفصیل سے شامل کیا جاتا۔ وہ ایک دستاویزی فلم ہوتی۔ یقیناً وہ وہ فلم نہیں تھی جو میں بنانا چاہتا تھا۔‘‘ انہوں نے زور دے کر کہا، ’’میں آپ کے لیے سماجی انصاف کے نام پر غربت کی نمائش پر مبنی فلم نہیں بناؤں گا۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پوچھے جانے پر کہ کسی بڑے اسٹوڈیو کے ساتھ کام کرنے سے کیا ان کے اس تصور پر کوئی سمجھوتا کرنا پڑا، نقوی کا کہنا ہے کہ انہیں بڑی حد تک اس سے محفوظ رکھا گیا—ایک وجہ معاہدے کی نوعیت تھی اور دوسری، ان کے بقول، ان کے ساتھ کام کرنے والی ٹیم۔ انہوں نے کہا، ’’میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجھے کبھی واقعی سمجھوتا نہیں کرنا پڑا۔‘‘ انہوں نے اپنے پروڈیوسنگ پارٹنر بلال سامی اور معاون ایگزیکٹو پروڈیوسرز کی ٹیم کو اس کا کریڈٹ دیا۔ وہ ایک ساختی فرق کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں: ’’یہ ایک دستاویزی فلم ہے اور اس کا بجٹ بھی عام دستاویزی فلم سے بڑا ہے، لیکن یہ فکشن فلم کا بجٹ نہیں ہے کہ جہاں شاید مزید کنٹرولز لاگو ہوتے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دوبارہ فلمائے گئے مناظر حقیقت میں کیا ہیں؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نقوی کے مطابق دوبارہ فلمائے گئے مناظر زیادہ تر رات بھر جاری رہنے والے امدادی کیمپ کی کارروائی تک محدود تھے، جہاں آرکائیو مواد نسبتاً کم دستیاب تھا۔ یہ مناظر ان کی اصطلاح میں ’’ہیرو اے‘‘ فوٹیج یعنی حقیقی مناظر کے گرد بطور اضافی کوریج فلمائے گئے، نہ کہ اصل فوٹیج کی جگہ استعمال کیے گئے۔ وہ کہتے ہیں، ’’تمام دوبارہ فلمائے گئے مناظر میں انہی حقیقی افراد کو شامل کیا گیا جن کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا تھا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ مجھے صرف اس دن پیش آنے والے واقعات کی اپنی یادداشت بیان نہیں کر رہے، بلکہ وہ مجھے عملی طور پر دکھا رہے ہیں کہ کیا ہوا تھا۔‘‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/251557066ad6826.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/251557066ad6826.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ مناظر نومبر 2025 میں، یعنی واقعے کے تقریباً دو سال بعد، ایک اسٹوڈیو میں فلمائے گئے، جہاں کیبل کار کا ایک سیٹ تیار کیا گیا تھا جو ’’زمین سے صرف ایک فٹ بلند‘‘ تھا۔ نقوی کے مطابق یہ کام رضامندی کے لیے ایک مرتبہ کی گفتگو کے بجائے متاثرہ افراد کے ساتھ مسلسل تعلق اور اعتماد قائم کرنے کے بعد کیا گیا۔ وہ کہتے ہیں، ’’میں ان کی رضامندی اور اطمینان کے بغیر کسی بھی منظر کو دوبارہ فلمانے یا ایسا کوئی کام کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پوچھے جانے پر کہ کیا کسی بچے نے کسی منظر کی عکسبندی کے طریقے پر اعتراض کیا، ان کا کہنا تھا کہ ہدایات بڑی حد تک خود بچوں کی طرف سے آئیں۔ ’’میرا خیال ہے کہ انہوں نے اپنی پوزیشن اور حرکات وغیرہ خود ہی طے کیں۔ اگر کچھ تھا تو میں نے انہی سے رہنمائی لی۔۔۔ آپ کا کام صرف یہ ہے کہ واقعی ان کی بات سنیں۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ سیشن ’’ان کے والدین کی موجودگی میں‘‘ کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدمے کے سوال پر بھی نقوی نے واضح طور پر مغربی طرزِ علاج کو مناسب مداخلت قرار دینے سے انکار کیا۔ ان کے بقول، ’’مغربی تصور کے تحت تھراپی ان پر مسلط کرنا دراصل ان کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔‘‘ انہوں نے مقامی برادری کو پدرشاہی اور قدامت پسند قرار دیتے ہوئے کہا کہ جذباتی بہبود کے حوالے سے بیرونی مداخلت کو ’’وہ کسی حد تک کمزوری سمجھیں گے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاوضے کے معاملے میں نقوی نے کہا کہ یہ فیصلہ کسی ذاتی انتخاب کے بجائے دستاویزی فلم سازی کے اخلاقی اصولوں کے تحت کیا گیا۔ وہ کہتے ہیں، ’’آپ کو بعض صحافتی اصولوں کی پابندی کرنا ہوتی ہے—آپ انہیں کسی پرفارمنس کے عوض رقم نہیں دے سکتے،‘‘ کیونکہ ایسا کرنا ان کی گواہی کی حقیقی حیثیت کو متاثر کر سکتا ہے۔ بچوں یا دیگر افراد کو فلم کے منافع میں کوئی حصہ نہیں دیا گیا۔ اس کے بجائے پروڈکشن نے سیئٹل میں قائم غیر منافع بخش ادارے ’’ون گڈ ایکٹ‘‘ کے ذریعے معاونت کا انتظام کیا ہے۔ یہ ادارہ پاکستانی نژاد امریکی تارکینِ وطن ماہرین نے قائم کیا ہے اور بچوں کی اعلیٰ تعلیم، امدادی کارکنوں اور متاثرین کے لیے کاروباری گرانٹس، گاؤں کے لیے ایک چھوٹی طبی ڈسپنسری اور، طویل مدت میں حکومت کے تعاون سے، فلم میں دکھائی گئی کیبل کار کے متبادل کے طور پر محفوظ اور مستقل پل یا کیبل کار کی تعمیر کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے رقم جمع کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فلم کی مالی معاونت کا سفر&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خود مالی اعانت سے شروع ہونے والے منصوبے سے یونیورسل کی معاونت سے سینما گھروں تک پہنچنے والی فلم کا سفر کئی مراحل سے گزرا۔ نقوی نے ابتدائی کام کی مالی اعانت خود کی، جبکہ لاہور سے تعلق رکھنے والے فلم ساز بلال سامی نے ’’ابتدا ہی سے‘‘ پروڈیوسنگ پارٹنر کی حیثیت سے ان کا ساتھ دیا۔ راولپنڈی میں مقیم ان کے دیرینہ گراؤنڈ پروڈیوسر خالد وسیم بھی اس مرحلے میں شریک تھے۔ بیرونی معاونت پہلی بار 2024 میں کونکورڈیا اسٹوڈیوز سے ملی، جس نے ’’محروم پس منظر رکھنے والے‘‘ فلم سازوں کے لیے ایک فیلوشپ کے ذریعے نقوی کی ابتدائی فلم بندی اور وہ مختصر تشہیری ریل تیار کرنے کے اخراجات فراہم کیے جس کے ذریعے سرمایہ کاروں کو راغب کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلم کی باقاعدہ عکسبندی مارچ 2025 میں شروع ہوئی۔ دو ماہ بعد کانز ڈاکس ویک کے موقع پر نقوی کی ٹیم نے امریکن پویلین میں خریداروں کو فلم کی فوٹیج دکھائی۔ وہ کہتے ہیں، ’’ہماری آدھی فنڈنگ پہلے ہی موجود تھی؛ ہمیں باقی مالی خلا کو پُر کرنے کے لیے سرمایہ درکار تھا۔‘‘ اسی نمائش کے ذریعے یہ منصوبہ یونیورسل تک پہنچا۔ نقوی کے مطابق، ’’انہیں واقعی یہ بات بہت پسند آئی کہ میں نے اسے ایکشن فلم کے انداز میں بنانے کا انتخاب کیا۔ یہ اتفاق سے ایک دستاویزی فلم ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک ایکشن فلم ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کامیابی کا پیمانہ کیا ہوگا؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پوچھے جانے پر کہ وہ فلم کی کامیابی کو کس طرح جانچیں گے، نقوی نے سب سے پہلے اس کے سماجی اثرات کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’اگر ہم کسی نہ کسی طرح، معمولی سی سطح پر بھی، ان بچوں اور امدادی کارکنوں کی زندگیوں پر اثر ڈالنے میں کامیاب ہو جائیں تو یہ میرے لیے خوشی کی بات ہوگی۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ انہوں نے فلم کی وسیع تر عوامی کشش کا ایک خاصا منفرد پیمانہ بھی بیان کیا۔ ’’یہ میری بنائی ہوئی ان چند فلموں میں سے ایک ہے جسے میرے والدین یا میری خالائیں اور ماموں، چچا وغیرہ خود دیکھیں گے اور واقعی اسے دیکھنے میں دلچسپی لیں گے۔ میرے لیے یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا وسیع تر دعویٰ کسی ایک فلم کے باکس آفس نتائج کے بجائے پاکستانی سینما میں موضوعات اور اصناف کے تنوع سے متعلق ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’پاکستانی سینما صرف سخت اور تلخ خبری موضوعات تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں ہارر فلمیں بنانی چاہئیں، ہمیں کامیڈی فلمیں بنانی چاہئیں۔۔۔ ہمیں بھی یہ حق ملنا چاہیے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ان فلم سازوں کا بھی ذکر کیا جن کے خیال میں وہ پہلے ہی اسی سمت میں پیش قدمی کر رہے ہیں، جن میں صائم صادق کی جوائے لینڈ، سرمد کھوسٹ کی لالی، عثمان ریاض کی اینیمیٹڈ فلم دی گلاس ورکر، سیماب گل کی گھوسٹ اسکول اور سینڈ اسٹورم، اور مہرین جبار شامل ہیں، جن کا طویل کیریئر بیرونِ ملک پاکستانیوں سے متعلق رومانوی کامیڈی کے شعبے میں رہا ہے۔ تاہم انہوں نے ایک ایسے ساختی مسئلے کی نشاندہی کی جو کسی ایک فلم ساز کی خواہش سے کہیں بڑا ہے: علاقائی سیاست، جو اس بات پر اثرانداز ہوتی ہے کہ عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارم جنوبی ایشیائی مواد کو کس حد تک اپنے پلیٹ فارم پر جگہ دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ کہتے ہیں، ’’یہ صرف خطے میں سنسرشپ کا معاملہ نہیں ہے۔۔۔ اگر ہمارے ناظرین کی تعداد زیادہ ہوتی اور ہماری مارکیٹ زیادہ مضبوط ہوتی تو کوئی عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارم ہمیں زیادہ سنجیدگی سے لیتا، اور کم از کم ہم۔۔۔ ان میں سے بعض علاقائی طاقتوں کو جواب دہ ٹھہرانا شروع کر سکتے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہینگنگ بائی اے وائر کے 28 اکتوبر کو پیرا ماؤنٹ پلس پر اسٹریمنگ کے لیے دستیاب ہونے کی توقع ہے، جبکہ شمالی امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا، فرانس، جرمنی اور چند دیگر ممالک میں بھی اسے ریلیز کیا جائے گا۔ پاکستان اور وسیع تر مشرقِ وسطیٰ میں فلم سال کے آخر میں دستیاب ہونے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>’’جب آپ پاکستانیوں کو متاثرین کے بجائے ایکشن ہیروز کے طور پر پیش کرتے ہیں تو یہ ایک طرح کی مزاحمت بن جاتی ہے۔۔۔ اپنے آپ کو قابلِ فہم بنانا، مسلسل اپنی صورتحال اور پس منظر کی وضاحت کرتے رہنا—یہ سب ہمارے ساتھ ناانصافی ہے۔۔۔ میں آپ کے لیے سماجی انصاف کے نام پر غربت کی نمائش پر مبنی فلم نہیں بناؤں گا۔‘‘</strong></p>
<p>اگست 2023 میں بٹگرام کی ایک وادی کے اوپر 900 فٹ کی بلندی پر آٹھ افراد، جن میں اسکول جانے والے چھ بچے بھی شامل تھے، کو لے جانے والی کیبل کار کی تین میں سے دو معاون تاریں ٹوٹ گئیں اور وہ 14 گھنٹے تک فضا میں معلق رہی۔ یہ واقعہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بن گیا۔</p>
<p>بہت سے لوگوں کی طرح فلم ساز محمد علی نقوی نے بھی یہ واقعہ براہِ راست دیکھا، لیکن ایک مختلف زاویے سے—بطور فلمی مواد۔ انہوں نے ہمارے ساتھ انٹرویو میں کہا، ’’جب رات ہوئی اور حالات انتہائی مایوس کن دکھائی دینے لگے تو انتہائی غیر متوقع انداز میں ایک ایک کرکے ان بچوں کو بچایا جانے لگا۔ اس وقت تک، یعنی آپریشن کے اختتام پر، میں مکمل طور پر قائل ہو چکا تھا کہ یہ ایک فلم ہے۔‘‘</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/251555174c37e02.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/251555174c37e02.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ہینگنگ بائی اے وائر کسی بھی پیمانے سے دیکھا جائے تو گزشتہ کئی برسوں میں کسی پاکستانی کہانی پر بننے والی زیادہ بڑے تجارتی امکانات رکھنے والی فلموں میں سے ایک ہے، اور یہاں تک پہنچنے کے لیے فلم ساز محمد علی نقوی کو تخلیقی، اخلاقی اور مالی نوعیت کے کئی فیصلے کرنا پڑے، جن کی انہوں نے تفصیل سے وضاحت کی۔</p>
<p><strong>’’یہ تو ہالی ووڈ جیسا اختتام ہے‘‘</strong></p>
<p>نقوی کو شروع ہی سے محسوس ہوا کہ یہ واقعہ صحافتی رپورٹ کے بجائے فلمی کہانی بن سکتا ہے، اور اس کی وجہ صرف معاملے کی سنگینی نہیں بلکہ کہانی کی ساخت بھی تھی۔ وہ کہتے ہیں، ’’میرے لیے یہ ایک بالکل پاکستانی کہانی تھی، کیونکہ اس میں مختلف گروہوں سے تعلق رکھنے والے مختلف لوگ تھے اور ضروری نہیں کہ ان سب کے آپس میں اچھے تعلقات ہوں۔۔۔ لیکن انہیں اپنے اختلافات ایک طرف رکھنا پڑے، سب نے مل کر ہاتھ بٹایا اور بالآخر ان سب نے ان بچوں کو بچانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ اور یہ بالکل ہالی ووڈ جیسا اختتام ہے۔‘‘</p>
<p>نقوی نے اس موقع پر مقامی برادری کے ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’’انہوں نے پولیس کو فون نہیں کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنی ویڈیوز اور کہانیاں شیئر کرنا شروع کردیں اور لوگوں تک خبر پہنچانے کی کوشش کی۔۔۔ اور یہ طریقہ کارگر ثابت ہوا۔‘‘</p>
<p>اہم بات یہ ہے کہ فلم کے بہت سے انتہائی متاثر کن مناظر—جن میں کیبل کار میں معلق بچوں کی وہ ڈرون سے بنائی گئی تصاویر بھی شامل ہیں جو بڑے پیمانے پر شیئر ہوئیں—سرے سے فلمایا گیا دوبارہ منظر نہیں ہیں۔ نقوی کہتے ہیں، ’’جب میں یہ مناظر لوگوں کو دکھاتا تھا تو بہت سے لوگ سمجھتے تھے کہ یہ دوبارہ فلمائے گئے مناظر ہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ یہ بالکل حقیقی فوٹیج ہے۔‘‘</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/25155705ede69b5.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/25155705ede69b5.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>یہ فوٹیج مقامی زیورات کی دکان کے مالک فیصل ممتاز کے پاس موجود تھی، جو اتفاق سے ڈرون کے شوقین بھی تھے۔ بحران کے دوران وہ مسلسل ڈرون فوٹیج بنا کر دنیا تک پہنچاتے رہے۔ ان کے ساتھ اخرا گیر بھی تھیں، جن کا ذکر نقوی نے اپنے پاس موجود آرکائیوی فوٹیج کے حوالے سے خاص طور پر کیا۔ وہ شہری صحافی اور یوٹیوبر ہیں، جنہوں نے جائے وقوعہ کے وسیع علاقے اور امدادی کارروائی کی بڑی حد تک کوریج کی۔</p>
<p><strong>’’روایتی دستاویزی فلم نہیں‘‘</strong></p>
<p>نقوی واضح طور پر کہتے ہیں کہ فلم کو سنسنی خیز انداز میں پیش کرنا اس کے تجارتی امکانات کے پیش نظر کوئی اتفاقی فیصلہ نہیں تھا، تاہم وہ اس خیال کو بھی مسترد کرتے ہیں کہ یہ محض مارکیٹ کو مدنظر رکھ کر کیا گیا فیصلہ تھا۔ وہ کہتے ہیں، ’’اگر میں کہانی اور موضوع کے ساتھ دیانت دار رہتا تو یہ کہانی اپنی ساخت ہی میں اسی انداز کی فلم کا تقاضا کرتی تھی۔ ورنہ دنیا بھر میں اتنے لوگ اس واقعے سے جڑے کیوں رہتے؟‘‘</p>
<p>تاہم وہ اس بات پر زیادہ زور دیتے ہیں کہ اس اندازِ پیشکش نے انہیں کس چیز سے گریز کا موقع دیا۔ وہ کہتے ہیں، ’’میں یہ نہیں چاہتا تھا کہ ایک اور ایسی کہانی بناؤں جس کا محور صدمہ اور مظلومیت ہو۔ میں نے جان بوجھ کر ہالی ووڈ کا زاویۂ نگاہ اختیار کیا، کیونکہ میرے لیے یہ ایک طرح کی مزاحمت تھی۔ جب آپ پاکستانیوں کو متاثرین کے بجائے ایکشن ہیروز کے طور پر پیش کرتے ہیں تو یہ ایک طرح کی مزاحمت بن جاتی ہے۔۔۔ اپنے آپ کو قابلِ فہم بنانے، مسلسل اپنے حالات اور پس منظر کی وضاحت کرتے رہنے کا بوجھ—یہ سب ہمارے ساتھ ناانصافی ہے۔‘‘</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/25155705983d04b.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/25155705983d04b.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>وہ ایک ایسی تفصیل کی مثال دیتے ہیں جس کی وضاحت انہوں نے جان بوجھ کر نہیں کی: فلم میں ضلع پولیس سربراہ ایک باحجاب خاتون کے طور پر نظر آتی ہیں، لیکن نقوی نے ان کے حجاب یا اس کے پس منظر پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ وہ کہتے ہیں، ’’میں حقیقت میں اس کے بارے میں آپ کو مزید کچھ نہیں بتاتا۔۔۔ کیونکہ اپنے آپ کو قابلِ فہم بنانے، مسلسل اپنے حالات اور پس منظر کی وضاحت کرتے رہنے کا یہ بوجھ ہمارے لیے نقصان دہ ہے۔ میں نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کرنا چاہا۔۔۔ اس سے بحیثیت انسان ہماری خودمختاری اور وقار مجروح ہوتا ہے۔‘‘</p>
<p>وہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس فیصلے کی وجہ سے انہیں بعض ناقدین کی حمایت سے محروم ہونا پڑا۔ وہ کہتے ہیں، ’’میرا خیال ہے کہ شاید یہی اس تنقید یا ردعمل کی ایک وجہ تھی جو مجھے ملا—کہ میں نے وہ فلم نہیں بنائی جو بعض ناقدین چاہتے تھے۔ وہ زیادہ روایتی اور خالص دستاویزی فلم چاہتے تھے، جس میں بنیادی ڈھانچے کے مسائل اور طبقاتی درجہ بندی جیسے موضوعات اور مباحث کو تفصیل سے شامل کیا جاتا۔ وہ ایک دستاویزی فلم ہوتی۔ یقیناً وہ وہ فلم نہیں تھی جو میں بنانا چاہتا تھا۔‘‘ انہوں نے زور دے کر کہا، ’’میں آپ کے لیے سماجی انصاف کے نام پر غربت کی نمائش پر مبنی فلم نہیں بناؤں گا۔‘‘</p>
<p>یہ پوچھے جانے پر کہ کسی بڑے اسٹوڈیو کے ساتھ کام کرنے سے کیا ان کے اس تصور پر کوئی سمجھوتا کرنا پڑا، نقوی کا کہنا ہے کہ انہیں بڑی حد تک اس سے محفوظ رکھا گیا—ایک وجہ معاہدے کی نوعیت تھی اور دوسری، ان کے بقول، ان کے ساتھ کام کرنے والی ٹیم۔ انہوں نے کہا، ’’میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجھے کبھی واقعی سمجھوتا نہیں کرنا پڑا۔‘‘ انہوں نے اپنے پروڈیوسنگ پارٹنر بلال سامی اور معاون ایگزیکٹو پروڈیوسرز کی ٹیم کو اس کا کریڈٹ دیا۔ وہ ایک ساختی فرق کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں: ’’یہ ایک دستاویزی فلم ہے اور اس کا بجٹ بھی عام دستاویزی فلم سے بڑا ہے، لیکن یہ فکشن فلم کا بجٹ نہیں ہے کہ جہاں شاید مزید کنٹرولز لاگو ہوتے۔‘‘</p>
<p><strong>دوبارہ فلمائے گئے مناظر حقیقت میں کیا ہیں؟</strong></p>
<p>نقوی کے مطابق دوبارہ فلمائے گئے مناظر زیادہ تر رات بھر جاری رہنے والے امدادی کیمپ کی کارروائی تک محدود تھے، جہاں آرکائیو مواد نسبتاً کم دستیاب تھا۔ یہ مناظر ان کی اصطلاح میں ’’ہیرو اے‘‘ فوٹیج یعنی حقیقی مناظر کے گرد بطور اضافی کوریج فلمائے گئے، نہ کہ اصل فوٹیج کی جگہ استعمال کیے گئے۔ وہ کہتے ہیں، ’’تمام دوبارہ فلمائے گئے مناظر میں انہی حقیقی افراد کو شامل کیا گیا جن کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا تھا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ مجھے صرف اس دن پیش آنے والے واقعات کی اپنی یادداشت بیان نہیں کر رہے، بلکہ وہ مجھے عملی طور پر دکھا رہے ہیں کہ کیا ہوا تھا۔‘‘</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/251557066ad6826.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/251557066ad6826.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>یہ مناظر نومبر 2025 میں، یعنی واقعے کے تقریباً دو سال بعد، ایک اسٹوڈیو میں فلمائے گئے، جہاں کیبل کار کا ایک سیٹ تیار کیا گیا تھا جو ’’زمین سے صرف ایک فٹ بلند‘‘ تھا۔ نقوی کے مطابق یہ کام رضامندی کے لیے ایک مرتبہ کی گفتگو کے بجائے متاثرہ افراد کے ساتھ مسلسل تعلق اور اعتماد قائم کرنے کے بعد کیا گیا۔ وہ کہتے ہیں، ’’میں ان کی رضامندی اور اطمینان کے بغیر کسی بھی منظر کو دوبارہ فلمانے یا ایسا کوئی کام کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔‘‘</p>
<p>یہ پوچھے جانے پر کہ کیا کسی بچے نے کسی منظر کی عکسبندی کے طریقے پر اعتراض کیا، ان کا کہنا تھا کہ ہدایات بڑی حد تک خود بچوں کی طرف سے آئیں۔ ’’میرا خیال ہے کہ انہوں نے اپنی پوزیشن اور حرکات وغیرہ خود ہی طے کیں۔ اگر کچھ تھا تو میں نے انہی سے رہنمائی لی۔۔۔ آپ کا کام صرف یہ ہے کہ واقعی ان کی بات سنیں۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ سیشن ’’ان کے والدین کی موجودگی میں‘‘ کیے گئے۔</p>
<p>صدمے کے سوال پر بھی نقوی نے واضح طور پر مغربی طرزِ علاج کو مناسب مداخلت قرار دینے سے انکار کیا۔ ان کے بقول، ’’مغربی تصور کے تحت تھراپی ان پر مسلط کرنا دراصل ان کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔‘‘ انہوں نے مقامی برادری کو پدرشاہی اور قدامت پسند قرار دیتے ہوئے کہا کہ جذباتی بہبود کے حوالے سے بیرونی مداخلت کو ’’وہ کسی حد تک کمزوری سمجھیں گے۔‘‘</p>
<p>معاوضے کے معاملے میں نقوی نے کہا کہ یہ فیصلہ کسی ذاتی انتخاب کے بجائے دستاویزی فلم سازی کے اخلاقی اصولوں کے تحت کیا گیا۔ وہ کہتے ہیں، ’’آپ کو بعض صحافتی اصولوں کی پابندی کرنا ہوتی ہے—آپ انہیں کسی پرفارمنس کے عوض رقم نہیں دے سکتے،‘‘ کیونکہ ایسا کرنا ان کی گواہی کی حقیقی حیثیت کو متاثر کر سکتا ہے۔ بچوں یا دیگر افراد کو فلم کے منافع میں کوئی حصہ نہیں دیا گیا۔ اس کے بجائے پروڈکشن نے سیئٹل میں قائم غیر منافع بخش ادارے ’’ون گڈ ایکٹ‘‘ کے ذریعے معاونت کا انتظام کیا ہے۔ یہ ادارہ پاکستانی نژاد امریکی تارکینِ وطن ماہرین نے قائم کیا ہے اور بچوں کی اعلیٰ تعلیم، امدادی کارکنوں اور متاثرین کے لیے کاروباری گرانٹس، گاؤں کے لیے ایک چھوٹی طبی ڈسپنسری اور، طویل مدت میں حکومت کے تعاون سے، فلم میں دکھائی گئی کیبل کار کے متبادل کے طور پر محفوظ اور مستقل پل یا کیبل کار کی تعمیر کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے رقم جمع کر رہا ہے۔</p>
<p><strong>فلم کی مالی معاونت کا سفر</strong></p>
<p>خود مالی اعانت سے شروع ہونے والے منصوبے سے یونیورسل کی معاونت سے سینما گھروں تک پہنچنے والی فلم کا سفر کئی مراحل سے گزرا۔ نقوی نے ابتدائی کام کی مالی اعانت خود کی، جبکہ لاہور سے تعلق رکھنے والے فلم ساز بلال سامی نے ’’ابتدا ہی سے‘‘ پروڈیوسنگ پارٹنر کی حیثیت سے ان کا ساتھ دیا۔ راولپنڈی میں مقیم ان کے دیرینہ گراؤنڈ پروڈیوسر خالد وسیم بھی اس مرحلے میں شریک تھے۔ بیرونی معاونت پہلی بار 2024 میں کونکورڈیا اسٹوڈیوز سے ملی، جس نے ’’محروم پس منظر رکھنے والے‘‘ فلم سازوں کے لیے ایک فیلوشپ کے ذریعے نقوی کی ابتدائی فلم بندی اور وہ مختصر تشہیری ریل تیار کرنے کے اخراجات فراہم کیے جس کے ذریعے سرمایہ کاروں کو راغب کیا گیا۔</p>
<p>فلم کی باقاعدہ عکسبندی مارچ 2025 میں شروع ہوئی۔ دو ماہ بعد کانز ڈاکس ویک کے موقع پر نقوی کی ٹیم نے امریکن پویلین میں خریداروں کو فلم کی فوٹیج دکھائی۔ وہ کہتے ہیں، ’’ہماری آدھی فنڈنگ پہلے ہی موجود تھی؛ ہمیں باقی مالی خلا کو پُر کرنے کے لیے سرمایہ درکار تھا۔‘‘ اسی نمائش کے ذریعے یہ منصوبہ یونیورسل تک پہنچا۔ نقوی کے مطابق، ’’انہیں واقعی یہ بات بہت پسند آئی کہ میں نے اسے ایکشن فلم کے انداز میں بنانے کا انتخاب کیا۔ یہ اتفاق سے ایک دستاویزی فلم ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک ایکشن فلم ہے۔‘‘</p>
<p><strong>کامیابی کا پیمانہ کیا ہوگا؟</strong></p>
<p>یہ پوچھے جانے پر کہ وہ فلم کی کامیابی کو کس طرح جانچیں گے، نقوی نے سب سے پہلے اس کے سماجی اثرات کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’اگر ہم کسی نہ کسی طرح، معمولی سی سطح پر بھی، ان بچوں اور امدادی کارکنوں کی زندگیوں پر اثر ڈالنے میں کامیاب ہو جائیں تو یہ میرے لیے خوشی کی بات ہوگی۔‘‘</p>
<p>اس کے علاوہ انہوں نے فلم کی وسیع تر عوامی کشش کا ایک خاصا منفرد پیمانہ بھی بیان کیا۔ ’’یہ میری بنائی ہوئی ان چند فلموں میں سے ایک ہے جسے میرے والدین یا میری خالائیں اور ماموں، چچا وغیرہ خود دیکھیں گے اور واقعی اسے دیکھنے میں دلچسپی لیں گے۔ میرے لیے یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘</p>
<p>ان کا وسیع تر دعویٰ کسی ایک فلم کے باکس آفس نتائج کے بجائے پاکستانی سینما میں موضوعات اور اصناف کے تنوع سے متعلق ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’پاکستانی سینما صرف سخت اور تلخ خبری موضوعات تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں ہارر فلمیں بنانی چاہئیں، ہمیں کامیڈی فلمیں بنانی چاہئیں۔۔۔ ہمیں بھی یہ حق ملنا چاہیے۔‘‘</p>
<p>انہوں نے ان فلم سازوں کا بھی ذکر کیا جن کے خیال میں وہ پہلے ہی اسی سمت میں پیش قدمی کر رہے ہیں، جن میں صائم صادق کی جوائے لینڈ، سرمد کھوسٹ کی لالی، عثمان ریاض کی اینیمیٹڈ فلم دی گلاس ورکر، سیماب گل کی گھوسٹ اسکول اور سینڈ اسٹورم، اور مہرین جبار شامل ہیں، جن کا طویل کیریئر بیرونِ ملک پاکستانیوں سے متعلق رومانوی کامیڈی کے شعبے میں رہا ہے۔ تاہم انہوں نے ایک ایسے ساختی مسئلے کی نشاندہی کی جو کسی ایک فلم ساز کی خواہش سے کہیں بڑا ہے: علاقائی سیاست، جو اس بات پر اثرانداز ہوتی ہے کہ عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارم جنوبی ایشیائی مواد کو کس حد تک اپنے پلیٹ فارم پر جگہ دیتے ہیں۔</p>
<p>وہ کہتے ہیں، ’’یہ صرف خطے میں سنسرشپ کا معاملہ نہیں ہے۔۔۔ اگر ہمارے ناظرین کی تعداد زیادہ ہوتی اور ہماری مارکیٹ زیادہ مضبوط ہوتی تو کوئی عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارم ہمیں زیادہ سنجیدگی سے لیتا، اور کم از کم ہم۔۔۔ ان میں سے بعض علاقائی طاقتوں کو جواب دہ ٹھہرانا شروع کر سکتے۔‘‘</p>
<p>ہینگنگ بائی اے وائر کے 28 اکتوبر کو پیرا ماؤنٹ پلس پر اسٹریمنگ کے لیے دستیاب ہونے کی توقع ہے، جبکہ شمالی امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا، فرانس، جرمنی اور چند دیگر ممالک میں بھی اسے ریلیز کیا جائے گا۔ پاکستان اور وسیع تر مشرقِ وسطیٰ میں فلم سال کے آخر میں دستیاب ہونے کی توقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291745</guid>
      <pubDate>Sat, 26 Sep 2026 21:47:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سماح ٹَبّہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/26213542d8ccaa8.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/26213542d8ccaa8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
