<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 18:28:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 18:28:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شوگر ملز ایسوسی ایشن کا سیکٹر کی مکمل ڈی ریگولیشن کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291739/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) نے شوگر سیکٹر کی مکمل ڈی ریگولیشن کا مطالبہ کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ صنعت کو آزاد منڈی کے اصولوں کے مطابق کام کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن کی جنرل باڈی نے شوگر سیکٹر کی مکمل ڈی ریگولیشن کے اپنے دیرینہ مطالبے کا اعادہ کیا۔  ان کا مؤقف تھا کہ ڈی ریگولیشن کے بنیادی فائدہ اٹھانے والے کسان ہوں گے، کیونکہ انہیں اپنی پیداوار کے لیے عالمی منڈی سے منسلک قیمتوں تک زیادہ رسائی حاصل ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ اگر شعبہ موجودہ ریگولیٹری فریم ورک کے تحت ہی کام کرتا رہا تو کاشتکار بتدریج گنے کی کاشت سے دستبردار ہوسکتے ہیں جس کے نتیجے میں ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے پاکستان کو چینی درآمد کرنے پر بھاری زرمبادلہ خرچ کرنا پڑسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) نے شوگر سیکٹر کی مکمل ڈی ریگولیشن کا مطالبہ کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ صنعت کو آزاد منڈی کے اصولوں کے مطابق کام کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔</strong></p>
<p>ایسوسی ایشن کی جنرل باڈی نے شوگر سیکٹر کی مکمل ڈی ریگولیشن کے اپنے دیرینہ مطالبے کا اعادہ کیا۔  ان کا مؤقف تھا کہ ڈی ریگولیشن کے بنیادی فائدہ اٹھانے والے کسان ہوں گے، کیونکہ انہیں اپنی پیداوار کے لیے عالمی منڈی سے منسلک قیمتوں تک زیادہ رسائی حاصل ہوگی۔</p>
<p>ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ اگر شعبہ موجودہ ریگولیٹری فریم ورک کے تحت ہی کام کرتا رہا تو کاشتکار بتدریج گنے کی کاشت سے دستبردار ہوسکتے ہیں جس کے نتیجے میں ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے پاکستان کو چینی درآمد کرنے پر بھاری زرمبادلہ خرچ کرنا پڑسکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291739</guid>
      <pubDate>Sat, 26 Sep 2026 16:21:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (زاہد بیگ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/261621322ed3510.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/261621322ed3510.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
