<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 16:53:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 16:53:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا مکہ دفاعی معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے پر غور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291679/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کی جانب پیشرفت کا جائزہ لیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کے درمیان ہونے والی ملاقات میں سامنے آئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MIshaqDar50/status/2103311016167608424?'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MIshaqDar50/status/2103311016167608424?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;نائب وزیر اعظم ڈار نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی سے متعلق امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ایک ہنگامی اعلیٰ سطح اجلاس منعقد کریں گے جس میں یمن کے حوثیوں کے حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کی معاونت کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا جبکہ تہران نے اپنے حوثی اتحادیوں کی تیز رفتار پیش قدمی سے خود کو الگ رکھنے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حوثیوں نے یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومت کے خلاف حملے کیے اور سعودی عرب کی جانب بھی بارہا فائرنگ کی جس کے باعث دنیا کے سب سے بڑے توانائی برآمد کنندہ ملک سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حوثیوں نے کہا کہ انہوں نے جمعرات کو سعودی عرب میں مختلف اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرونز داغے جبکہ سعودی حکام کے مطابق حوثی جنگجوؤں کی جانب سے داغے گئے چھ بیلسٹک میزائلوں کو روک لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب نے اس سے قبل مکہ مکرمہ، جدہ اور ینبع سمیت مختلف علاقوں کے لیے ہنگامی انتباہات جاری کیے تھے۔ ینبع بحیرۂ احمر پر واقع سعودی عرب کی اہم تیل بندرگاہ ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کی جانب پیشرفت کا جائزہ لیا۔</strong></p>
<p>یہ پیش رفت نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کے درمیان ہونے والی ملاقات میں سامنے آئی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MIshaqDar50/status/2103311016167608424?'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MIshaqDar50/status/2103311016167608424?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>نائب وزیر اعظم ڈار نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی سے متعلق امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔</p>
<p>دریں اثنا رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ایک ہنگامی اعلیٰ سطح اجلاس منعقد کریں گے جس میں یمن کے حوثیوں کے حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کی معاونت کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا جبکہ تہران نے اپنے حوثی اتحادیوں کی تیز رفتار پیش قدمی سے خود کو الگ رکھنے کی کوشش کی۔</p>
<p>حوثیوں نے یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومت کے خلاف حملے کیے اور سعودی عرب کی جانب بھی بارہا فائرنگ کی جس کے باعث دنیا کے سب سے بڑے توانائی برآمد کنندہ ملک سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔</p>
<p>حوثیوں نے کہا کہ انہوں نے جمعرات کو سعودی عرب میں مختلف اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرونز داغے جبکہ سعودی حکام کے مطابق حوثی جنگجوؤں کی جانب سے داغے گئے چھ بیلسٹک میزائلوں کو روک لیا گیا۔</p>
<p>سعودی عرب نے اس سے قبل مکہ مکرمہ، جدہ اور ینبع سمیت مختلف علاقوں کے لیے ہنگامی انتباہات جاری کیے تھے۔ ینبع بحیرۂ احمر پر واقع سعودی عرب کی اہم تیل بندرگاہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291679</guid>
      <pubDate>Fri, 25 Sep 2026 12:18:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/2512115015b4c97.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/2512115015b4c97.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
