<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Stocks</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 03:45:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 02 Oct 2026 03:45:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج : 100 انڈیکس 250 سے زائد پوائنٹس کے معمولی اضافے پر بند</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291676/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کو اتار چڑھاؤ سے بھرپورکاروباری سیشن دیکھا گیا، تاہم بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس ہفتے کے اختتام پر 250 سے زائد پوائنٹس کے معمولی اضافے کے ساتھ بند ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور انڈیکس 171,000 پوائنٹس کی سطح کی جانب بڑھا، تاہم صبح کے سیشن کے دوران فروخت کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد ازاں انڈیکس 170,000 پوائنٹس کی سطح سے نیچے آگیا اور کاروباری سیشن کی کم ترین سطح 169,890.56 پوائنٹس پر پہنچ گیا لیکن دوپہر کے قریب بتدریج بحالی دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتامی مرحلے میں خریداری کے رجحان نے انڈیکس کو تیزی سے اوپر پہنچایا، جس کے نتیجے میں یہ کاروباری سیشن کی بلند ترین سطح 171,159.73 پوائنٹس تک پہنچ گیا مگر اختتامی منٹوں میں کچھ منافع کے حصول کے لیے فروخت دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 266.28 پوائنٹس یا 0.16 فیصد اضافے سے 170,765.22 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اہم پیش رفت میں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت یمن کے حوثیوں کے حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کی معاونت کے طریقوں پر غور کے لیے اعلیٰ سطح کا ہنگامی اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ تہران نے اپنے حوثی اتحادیوں کی تیزی سے پیش قدمی سے خود کو الگ رکھنے کی کوشش کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو پی ایس ایکس میں شدید منفی کاروباری سیشن دیکھا گیا تھا، کیونکہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی مذاکرات میں محدود پیش رفت اور ممکنہ امریکی ڈیزل برآمدی پابندی کے خدشات نے سرمایہ کاروں کے جذبات کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر حصص کی فروخت ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 1,733.57 پوائنٹس یا 1.01 فیصد کمی سے 170,498.95 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر جمعہ کو ایشیائی حصص نے قدرے استحکام برقرار رکھا، جبکہ بانڈز کی مسلسل فروخت کے باعث طویل مدتی امریکی بانڈز کی ییلڈ دو دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جس سے دنیا بھر میں قرض لینے کی لاگت میں اضافہ ہوا اور بلند سطح پر موجود ایکویٹی ویلیوایشنز کو خطرات لاحق ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرکے برینٹ تقریباً 105 ڈالر پر پہنچنے سے مہنگائی کے خدشات دوبارہ بڑھ گئے ہیں، جس سے فیڈرل ریزرو کی جانب سے متعدد شرح سود میں اضافوں کے امکانات کو تقویت ملی ہے۔ یہ صورتحال تین سال سے زائد عرصے بعد فیڈرل ریزرو کی پہلی شرح سود میں کمی کے بعد سامنے آئی ہے اور ڈالر کی قدر میں رواں ہفتے تقریباً 1 فیصد اضافے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کے صدر شی جن پنگ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مذاکرات کے لیے واشنگٹن میں موجود ہیں، تاہم تقریب کے باوجود مصنوعی ذہانت، تجارت، تائیوان یا ایران کے ساتھ جنگ جیسے پیچیدہ معاملات پر کسی بڑی پیش رفت کے شواہد کم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص کا ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس مستحکم رہا، جبکہ زیادہ تر مارکیٹیں تعطیل کے باعث بند رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کا نکیئی انڈیکس 1 فیصد بڑھا، جبکہ آسٹریلیا کے وسائل سے متعلق بھاری وزن رکھنے والے حصص میں 0.6 فیصد کمی ہوئی۔ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 1 فیصد گر گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا پاکستانی روپے نے جمعہ کو انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری کا سلسلہ جاری رکھا۔ مقامی کرنسی ایک پیسے کی بہتری کے ساتھ 277.16 روپے فی ڈالر پر بند ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم گزشتہ سیشن کے 759.97 ملین حصص کے مقابلے میں کم ہوکر 482.76 ملین حصص رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حصص کی مجموعی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 27.54 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہوکر 19.28 ارب روپے رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حجم کے لحاظ سے سائنرجیکو پی کے 108.19 ملین حصص کے کاروبار کے ساتھ سرفہرست رہی، اس کے بعد ورلڈ کال ٹیلی کام کے 28.94 ملین اور پاک ریفائنری کے 27.56 ملین حصص کا کاروبار ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو مجموعی طور پر 493 کمپنیوں کے حصص میں کاروبار ہوا، جن میں 219 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 217 میں کمی جبکہ 57 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مستحکم رہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/25172906e27aec8.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/25172906e27aec8.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کو اتار چڑھاؤ سے بھرپورکاروباری سیشن دیکھا گیا، تاہم بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس ہفتے کے اختتام پر 250 سے زائد پوائنٹس کے معمولی اضافے کے ساتھ بند ہوا۔</strong></p>
<p>تفصیلات کے مطابق کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور انڈیکس 171,000 پوائنٹس کی سطح کی جانب بڑھا، تاہم صبح کے سیشن کے دوران فروخت کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد ازاں انڈیکس 170,000 پوائنٹس کی سطح سے نیچے آگیا اور کاروباری سیشن کی کم ترین سطح 169,890.56 پوائنٹس پر پہنچ گیا لیکن دوپہر کے قریب بتدریج بحالی دیکھی گئی۔</p>
<p>کاروبار کے اختتامی مرحلے میں خریداری کے رجحان نے انڈیکس کو تیزی سے اوپر پہنچایا، جس کے نتیجے میں یہ کاروباری سیشن کی بلند ترین سطح 171,159.73 پوائنٹس تک پہنچ گیا مگر اختتامی منٹوں میں کچھ منافع کے حصول کے لیے فروخت دیکھی گئی۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 266.28 پوائنٹس یا 0.16 فیصد اضافے سے 170,765.22 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>ایک اہم پیش رفت میں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت یمن کے حوثیوں کے حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کی معاونت کے طریقوں پر غور کے لیے اعلیٰ سطح کا ہنگامی اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ تہران نے اپنے حوثی اتحادیوں کی تیزی سے پیش قدمی سے خود کو الگ رکھنے کی کوشش کی ہے۔</p>
<p>جمعرات کو پی ایس ایکس میں شدید منفی کاروباری سیشن دیکھا گیا تھا، کیونکہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی مذاکرات میں محدود پیش رفت اور ممکنہ امریکی ڈیزل برآمدی پابندی کے خدشات نے سرمایہ کاروں کے جذبات کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر حصص کی فروخت ہوئی۔</p>
<p>گزشتہ روز بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 1,733.57 پوائنٹس یا 1.01 فیصد کمی سے 170,498.95 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>عالمی سطح پر جمعہ کو ایشیائی حصص نے قدرے استحکام برقرار رکھا، جبکہ بانڈز کی مسلسل فروخت کے باعث طویل مدتی امریکی بانڈز کی ییلڈ دو دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جس سے دنیا بھر میں قرض لینے کی لاگت میں اضافہ ہوا اور بلند سطح پر موجود ایکویٹی ویلیوایشنز کو خطرات لاحق ہوگئے۔</p>
<p>خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرکے برینٹ تقریباً 105 ڈالر پر پہنچنے سے مہنگائی کے خدشات دوبارہ بڑھ گئے ہیں، جس سے فیڈرل ریزرو کی جانب سے متعدد شرح سود میں اضافوں کے امکانات کو تقویت ملی ہے۔ یہ صورتحال تین سال سے زائد عرصے بعد فیڈرل ریزرو کی پہلی شرح سود میں کمی کے بعد سامنے آئی ہے اور ڈالر کی قدر میں رواں ہفتے تقریباً 1 فیصد اضافے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔</p>
<p>چین کے صدر شی جن پنگ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مذاکرات کے لیے واشنگٹن میں موجود ہیں، تاہم تقریب کے باوجود مصنوعی ذہانت، تجارت، تائیوان یا ایران کے ساتھ جنگ جیسے پیچیدہ معاملات پر کسی بڑی پیش رفت کے شواہد کم ہیں۔</p>
<p>جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص کا ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس مستحکم رہا، جبکہ زیادہ تر مارکیٹیں تعطیل کے باعث بند رہیں۔</p>
<p>جاپان کا نکیئی انڈیکس 1 فیصد بڑھا، جبکہ آسٹریلیا کے وسائل سے متعلق بھاری وزن رکھنے والے حصص میں 0.6 فیصد کمی ہوئی۔ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 1 فیصد گر گیا۔</p>
<p>دریں اثنا پاکستانی روپے نے جمعہ کو انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری کا سلسلہ جاری رکھا۔ مقامی کرنسی ایک پیسے کی بہتری کے ساتھ 277.16 روپے فی ڈالر پر بند ہوئی۔</p>
<p>آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم گزشتہ سیشن کے 759.97 ملین حصص کے مقابلے میں کم ہوکر 482.76 ملین حصص رہ گیا۔</p>
<p>حصص کی مجموعی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 27.54 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہوکر 19.28 ارب روپے رہی۔</p>
<p>حجم کے لحاظ سے سائنرجیکو پی کے 108.19 ملین حصص کے کاروبار کے ساتھ سرفہرست رہی، اس کے بعد ورلڈ کال ٹیلی کام کے 28.94 ملین اور پاک ریفائنری کے 27.56 ملین حصص کا کاروبار ہوا۔</p>
<p>جمعہ کو مجموعی طور پر 493 کمپنیوں کے حصص میں کاروبار ہوا، جن میں 219 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 217 میں کمی جبکہ 57 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مستحکم رہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/25172906e27aec8.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/25172906e27aec8.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291676</guid>
      <pubDate>Fri, 25 Sep 2026 17:58:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/251124138dc5c54.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/251124138dc5c54.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
