<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 11:03:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 11:03:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فرضی جائیداد آمدن، ایف بی آر دفعہ 7E کے تحت وصول ٹیکس واپس کرے گا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291670/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایل ٹی بی اے پبلک انٹرسٹ لٹیگیشن کمیٹی (ایل ٹی بی اے۔پی آئی ایل سی) کی جانب سے کی جانے والی سنجیدہ کوششوں کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 7E کے تحت غیر منقولہ جائیدادوں پر فرضی آمدن کے حساب سے ادا یا وصول کیے گئے ٹیکس کی واپسی کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بات ایل ٹی بی اے۔پی آئی ایل سی کے چیئرمین وحید شہزاد بٹ نے بتائی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے ایف بی آر کی جانب سے ایک سرکلر بھی جاری کردیا گیا ہے۔ قانونی برادری اس اہم کامیابی پر کمیٹی کے چیئرمین کی شکر گزار ہے، جس سے نہ صرف ٹیکس دہندگان کو سہولت ملے گی بلکہ قومی خزانے کے خطیر وسائل بھی بچیں گے جو بصورت دیگر بے نتیجہ قانونی چارہ جوئی میں ضائع ہوسکتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت چار ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی خط و کتابت کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں ایل ٹی بی اے۔پی آئی ایل سی کے چیئرمین نے ایف بی آر کے چیئرمین کو بارہا خطوط لکھے اور ایف بی آر کے ارکان کے ذریعے دفعہ 7E کے تحت ادا کیے گئے ٹیکس کی واپسی کے لیے باقاعدہ طریقہ کار جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مطالبہ وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) کے 7 مئی 2026 کے حکم کے بعد کیا گیا تھا، جس میں عدالت نے دفعہ 7E کو مکمل طور پر غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے ابتدا ہی سے کالعدم قرار دیا تھا۔ عدالت نے فنانس ایکٹ 2022 کے ذریعے متعارف کرائی گئی اس شق کے تحت جاری کیے گئے تمام نوٹسز اور شروع کی گئی کارروائیوں کو بھی کالعدم قرار دے دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پابند آئینی فیصلے کے باوجود ایف بی آر نے نہ تو رہنمائی جاری کی تھی اور نہ ہی ایسے دعووں کے لیے درخواست کا فارمیٹ یا متعلقہ فورم مقرر کیا تھا۔ 31 اگست 2026 کو رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کی خاموشی نے ٹیکس دہندگان کو قانونی اور مالی مشکلات سے دوچار کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;23 ستمبر 2026 کو تمام چیف کمشنرز ان لینڈ ریونیو (ایل ٹی اوز، سی ٹی اوز اور آر ٹی اوز) کو جاری خط میں ایف بی آر نے فیلڈ فارمیشنز کو ہدایت کی کہ ایف سی سی کے فیصلے کی روشنی میں ٹیکس دہندگان کی جانب سے ریٹرنز میں نظرثانی کی درخواستیں مسترد نہیں کی جائیں گی۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر ریٹرن میں نظرثانی کے نتیجے میں ریفنڈ بنتا ہے تو اس کے بعد جمع کرائی جانے والی ریفنڈ درخواست بھی قابل اطلاق قانون اور طریقہ کار کے مطابق فوری طور پر نمٹائی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایل ٹی بی اے۔پی آئی ایل سی کے چیئرمین نے اسے اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دفعہ 7E کے تحت ریفنڈ کا دائرہ ممکنہ طور پر بہت وسیع ہے، کیونکہ عدالت نے اس شق کو مکمل طور پر کالعدم قرار دیا ہے۔ اس میں 25 ملین روپے سے زائد مالیت کی وہ تمام جائیدادیں شامل ہیں جن پر ایف بی آر کی جانب سے مقرر کردہ منصفانہ مارکیٹ ویلیو کے 5 فیصد کے حساب سے فرضی آمدن کا ٹیکس عائد کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایف بی آر کا خط سختی سے دفعہ 7E کے تحت ریٹرنز میں نظرثانی اور ریفنڈ کے واحد ایجنڈا تک محدود ہے اور اسے اس مخصوص معاملے کے علاوہ کسی اور معاملے پر لاگو نہیں کیا جاسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اسی دوران انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 4C کے تحت سپر ٹیکس کا معاملہ بھی حل طلب ہے۔ ایف سی سی نے سپر ٹیکس کی قانونی حیثیت برقرار رکھی تھی، تاہم بعض مستثنیٰ کیپیٹل گینز، بشمول مقررہ مدت سے زیادہ عرصے تک رکھی گئی غیر منقولہ جائیداد، وراثتی جائیداد اور دیگر مستثنیٰ آمدن پر حاصل ہونے والے منافع کو اس سے خارج کردیا تھا۔ ایف بی آر نے ان وصولیوں کی واپسی کے لیے تاحال کوئی طریقہ کار جاری نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وحید شہزاد بٹ نے ایل ٹی بی اے۔پی آئی ایل سی کی سابقہ تجویز بھی دہرائی کہ مکمل پالیسی سطح کے ریفنڈ نظام کی تشکیل تک دفعہ 7E اور 4C کے تحت وصول کی گئی رقوم کو ٹیکس دہندگان کی 2026 کی ٹیکس ذمہ داری کے خلاف ایڈجسٹ کرنے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے ایف بی آر پر زور دیا کہ دفعہ 7E کے لیے اب یقینی بنائے گئے فوری طریقہ کار کو زیر التوا سپر ٹیکس ریفنڈ دعووں تک بھی توسیع دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایل ٹی بی اے پبلک انٹرسٹ لٹیگیشن کمیٹی (ایل ٹی بی اے۔پی آئی ایل سی) کی جانب سے کی جانے والی سنجیدہ کوششوں کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 7E کے تحت غیر منقولہ جائیدادوں پر فرضی آمدن کے حساب سے ادا یا وصول کیے گئے ٹیکس کی واپسی کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بات ایل ٹی بی اے۔پی آئی ایل سی کے چیئرمین وحید شہزاد بٹ نے بتائی۔</strong></p>
<p>اس حوالے سے ایف بی آر کی جانب سے ایک سرکلر بھی جاری کردیا گیا ہے۔ قانونی برادری اس اہم کامیابی پر کمیٹی کے چیئرمین کی شکر گزار ہے، جس سے نہ صرف ٹیکس دہندگان کو سہولت ملے گی بلکہ قومی خزانے کے خطیر وسائل بھی بچیں گے جو بصورت دیگر بے نتیجہ قانونی چارہ جوئی میں ضائع ہوسکتے تھے۔</p>
<p>یہ پیش رفت چار ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی خط و کتابت کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں ایل ٹی بی اے۔پی آئی ایل سی کے چیئرمین نے ایف بی آر کے چیئرمین کو بارہا خطوط لکھے اور ایف بی آر کے ارکان کے ذریعے دفعہ 7E کے تحت ادا کیے گئے ٹیکس کی واپسی کے لیے باقاعدہ طریقہ کار جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>یہ مطالبہ وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) کے 7 مئی 2026 کے حکم کے بعد کیا گیا تھا، جس میں عدالت نے دفعہ 7E کو مکمل طور پر غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے ابتدا ہی سے کالعدم قرار دیا تھا۔ عدالت نے فنانس ایکٹ 2022 کے ذریعے متعارف کرائی گئی اس شق کے تحت جاری کیے گئے تمام نوٹسز اور شروع کی گئی کارروائیوں کو بھی کالعدم قرار دے دیا تھا۔</p>
<p>اس پابند آئینی فیصلے کے باوجود ایف بی آر نے نہ تو رہنمائی جاری کی تھی اور نہ ہی ایسے دعووں کے لیے درخواست کا فارمیٹ یا متعلقہ فورم مقرر کیا تھا۔ 31 اگست 2026 کو رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کی خاموشی نے ٹیکس دہندگان کو قانونی اور مالی مشکلات سے دوچار کردیا تھا۔</p>
<p>23 ستمبر 2026 کو تمام چیف کمشنرز ان لینڈ ریونیو (ایل ٹی اوز، سی ٹی اوز اور آر ٹی اوز) کو جاری خط میں ایف بی آر نے فیلڈ فارمیشنز کو ہدایت کی کہ ایف سی سی کے فیصلے کی روشنی میں ٹیکس دہندگان کی جانب سے ریٹرنز میں نظرثانی کی درخواستیں مسترد نہیں کی جائیں گی۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر ریٹرن میں نظرثانی کے نتیجے میں ریفنڈ بنتا ہے تو اس کے بعد جمع کرائی جانے والی ریفنڈ درخواست بھی قابل اطلاق قانون اور طریقہ کار کے مطابق فوری طور پر نمٹائی جائے۔</p>
<p>ایل ٹی بی اے۔پی آئی ایل سی کے چیئرمین نے اسے اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دفعہ 7E کے تحت ریفنڈ کا دائرہ ممکنہ طور پر بہت وسیع ہے، کیونکہ عدالت نے اس شق کو مکمل طور پر کالعدم قرار دیا ہے۔ اس میں 25 ملین روپے سے زائد مالیت کی وہ تمام جائیدادیں شامل ہیں جن پر ایف بی آر کی جانب سے مقرر کردہ منصفانہ مارکیٹ ویلیو کے 5 فیصد کے حساب سے فرضی آمدن کا ٹیکس عائد کیا گیا تھا۔</p>
<p>تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایف بی آر کا خط سختی سے دفعہ 7E کے تحت ریٹرنز میں نظرثانی اور ریفنڈ کے واحد ایجنڈا تک محدود ہے اور اسے اس مخصوص معاملے کے علاوہ کسی اور معاملے پر لاگو نہیں کیا جاسکتا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اسی دوران انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 4C کے تحت سپر ٹیکس کا معاملہ بھی حل طلب ہے۔ ایف سی سی نے سپر ٹیکس کی قانونی حیثیت برقرار رکھی تھی، تاہم بعض مستثنیٰ کیپیٹل گینز، بشمول مقررہ مدت سے زیادہ عرصے تک رکھی گئی غیر منقولہ جائیداد، وراثتی جائیداد اور دیگر مستثنیٰ آمدن پر حاصل ہونے والے منافع کو اس سے خارج کردیا تھا۔ ایف بی آر نے ان وصولیوں کی واپسی کے لیے تاحال کوئی طریقہ کار جاری نہیں کیا۔</p>
<p>وحید شہزاد بٹ نے ایل ٹی بی اے۔پی آئی ایل سی کی سابقہ تجویز بھی دہرائی کہ مکمل پالیسی سطح کے ریفنڈ نظام کی تشکیل تک دفعہ 7E اور 4C کے تحت وصول کی گئی رقوم کو ٹیکس دہندگان کی 2026 کی ٹیکس ذمہ داری کے خلاف ایڈجسٹ کرنے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے ایف بی آر پر زور دیا کہ دفعہ 7E کے لیے اب یقینی بنائے گئے فوری طریقہ کار کو زیر التوا سپر ٹیکس ریفنڈ دعووں تک بھی توسیع دی جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291670</guid>
      <pubDate>Fri, 25 Sep 2026 09:31:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/250930169afc329.webp" type="image/webp" medium="image" height="521" width="870">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/250930169afc329.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
