<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 11:03:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 11:03:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی معیشت کی شہ رگ، انہیں کھلا رہنا چاہئے ، وزیراعظم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291664/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے آبنائے ہرمز اور باب المندب کو کھلا رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ دونوں اہم بحری گزرگاہیں ’’عالمی معیشت کی شہ رگیں‘‘ ہیں، انہیں اقوام کو ملانے کا ذریعہ رہنا چاہیے، ’’محاذ آرائی کے گلے‘‘ نہیں بننا چاہیے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ کشیدگی میں اضافے نے اہم بحری راستوں پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ’’میزائلوں، ڈرونز اور توپوں کی گھن گرج کے درمیان سفارت کاری کی آواز اس سے بھی زیادہ بلند اور مضبوط ہونی چاہیے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی معیشت کی شہ رگیں ہیں۔ انہیں کھلا رہنا چاہیے، قوموں کو جوڑنا چاہیے، محاذ آرائی کے گلے نہیں بننا چاہیے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا، ’’ان پانیوں کو خوشحالی کی امیدیں لے کر چلنا چاہیے، جنگ کے خطرات نہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے کہا کہ حالیہ بحران کے دوران پاکستان نے فوری اقدام کا راستہ اختیار کیا اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے واشنگٹن اور تہران کو اسلام آباد میں ایک میز پر لایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات اور بعد ازاں طے پانے والی اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت تنازع کے خاتمے کی جانب تاریخی اقدامات تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیلڈ مارشل منیر، صدر ٹرمپ کی تعریف&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ’’مسلسل کوششوں‘‘ نے انتہائی مشکل حالات میں سفارت کاری کے لیے گنجائش پیدا کرنے میں مدد دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے حملوں، بالخصوص مقدس شہر مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش میں کیے گئے ڈرون حملے کی بھی مذمت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’حرمین شریفین کی سلامتی اور تقدس کو لاحق کوئی بھی خطرہ ایک سرخ لکیر ہے جسے کبھی عبور نہیں کیا جاسکتا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان تاریخی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ یہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے کے دفاع، استحکام اور امن کے لیے اجتماعی عزم کی علامت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت: پاکستان نے حقِ دفاع استعمال کیا&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کا ذکر کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کو ایک سال قبل بھارت کی جانب سے ایک جھوٹے بہانے پر بیرونی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی شق 51 کے تحت اپنے فطری حقِ دفاع کو استعمال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بہادرانہ قیادت میں ہماری بہادر اور جانباز مسلح افواج نے انتہائی درستگی اور پیشہ ورانہ انداز میں جواب دیا۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے مزید کشیدگی روکنے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’جنوبی ایشیا میں کروڑوں جانیں بچ گئیں‘‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان کو یقینی بنانا ہوگا کہ جنوبی ایشیا دوبارہ کبھی ایسے خطرناک موڑ تک نہ پہنچے، تاہم اس کے لیے مسئلہ کشمیر کا منصفانہ اور عادلانہ حل ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کشمیر: ’’آٹھ دہائیوں‘‘ سے انتظار&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے کہا کہ کشمیری عوام آٹھ دہائیوں سے اقوام متحدہ کی جانب سے آزادانہ اور غیر جانب دارانہ استصوابِ رائے کے اپنے وعدے کی تکمیل کے منتظر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بھارت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جن میں من مانی گرفتاریاں، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، جنسی تشدد اور اجتماعی سزائیں شامل ہیں، کا الزام عائد کیا اور کہا کہ آبادیاتی تبدیلیوں کے ذریعے جموں و کشمیر کی قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کشمیری عوام کے لیے پاکستان کی ’’سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت‘‘ اس وقت تک جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا جب تک انہیں ان کے بقول ’’ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت‘‘ نہیں مل جاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا اور ہمیشہ رہے گا۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سندھ طاس: ’’پانی کو کبھی ہتھیار نہ بنایا جائے‘‘&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے دریائے سندھ کے نظام کے حوالے سے جنوبی ایشیا میں استحکام کی بنیاد کو لاحق خطرے سے بھی خبردار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کے فیصلے کی ’’قطعاً کوئی قانونی بنیاد نہیں‘‘ اور پاکستان کا یہ موقف کہ معاہدہ بدستور مؤثر، پابند اور قابلِ عمل ہے، اقوام متحدہ کے ماہرین اور ثالثی عدالت نے بھی درست ثابت کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’پانی کو کبھی ہتھیار نہیں بنانا چاہیے۔ دریاؤں کا کام قوموں کو سیراب کرنا ہے، انہیں تقسیم کرنا نہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’’پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے، اس کی روانی میں رکاوٹ ڈالنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فلسطین: ’’غزہ میں پیدا ہونے والا بچہ بھی وہی مستقبل کا حق دار ہے‘‘&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلسطین کے حوالے سے شہباز شریف نے کہا کہ فلسطینی عوام، بالخصوص خواتین، بچوں اور بزرگوں نے قبضے، بے دخلی، مصائب اور موت کا سامنا کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ہند رجب کا ذکر کرتے ہوئے، جنہیں انہوں نے اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں جاں بحق ہونے والی ایک معصوم فلسطینی بچی قرار دیا، 8 سالہ وفا عقیلہ کی ہلاکت کو بھی اجاگر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’جس دن کو اس کے اسکول جانے کا پہلا دن ہونا چاہیے تھا، وہ اس کی زندگی کا آخری دن بن گیا۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سوال کیا، ’’کیا غزہ میں پیدا ہونے والا بچہ بھی دنیا کے کسی دوسرے حصے میں پیدا ہونے والے بچے جیسی زندگی، ایسا ہی مستقبل اور ایسے ہی خواب کا حق دار نہیں؟‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ دیرپا حل صرف ایک آزاد، خودمختار، قابلِ عمل اور متصل فلسطینی ریاست کا قیام ہے، جو 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر قائم ہو اور القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے لبنان اور شام کے خلاف اسرائیلی جارحیت کا بھی تسلسل کے ساتھ مذمت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دہشت گردی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے دہشت گردی کو عالمی امن و سلامتی کو درپیش سنگین ترین خطرات میں سے ایک قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’دہشت گردی کے خطرے کے خلاف صفِ اول کی ریاست کی حیثیت سے ہم نے اپنے شہروں، اپنے پہاڑوں اور اپنی سرحدوں پر دہشت گردوں کا مقابلہ کیا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق پاکستان نے اس جنگ میں تقریباً ایک لاکھ جانوں کی قربانی دی جبکہ 150 ارب ڈالر سے زائد کے معاشی نقصانات برداشت کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’آج دنیا پہلے سے زیادہ محفوظ ہے،‘‘ اور اس کا کریڈٹ پاکستان کی مسلح افواج اور ان شہریوں کی قربانیوں کو دیا جنہوں نے دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، فتنۃ الخوارج اور بی ایل اے، فتنۃ الہندوستان پر افغانستان کے اندر موجود محفوظ پناہ گاہوں سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے کارروائیاں کرنے کا الزام عائد کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے افغان حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ’’قابلِ تصدیق اور فیصلہ کن اقدامات‘‘ کریں کہ افغان سرزمین پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔ ساتھ ہی انہوں نے زور دیا کہ افغان عوام، بالخصوص خواتین اور لڑکیوں کے بنیادی حقوق کا احترام کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اقوام متحدہ کے امن مشن میں پاکستان کا کردار&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے کہا کہ اقوام متحدہ کی امن کاری اجتماعی سلامتی کے مضبوط ترین مظاہر میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’کئی دہائیوں سے پاکستانی مرد و خواتین نیلے پرچم تلے خدمات انجام دیتے ہوئے شہریوں کا تحفظ کر رہے ہیں اور ممالک کو تنازعات سے نکلنے میں مدد دے رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے اہلکاروں کی قربانیوں پر فخر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلاموفوبیا&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے اسلاموفوبیا میں اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور نفرت انگیز تقاریر، امتیازی سلوک، مساجد پر حملوں اور قرآنِ مجید کی بے حرمتی کا حوالہ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے الزام عائد کیا کہ سرحد پار آر ایس ایس سے متاثر ہندوتوا نظریہ مذہبی نفرت کو ہوا دے رہا ہے، جس میں ہجومی تشدد، فرقہ وارانہ کشیدگی، عبادت گاہوں پر حملے اور مذہبی آزادیوں پر پابندیاں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;’’محاذ آرائی نہیں، مذاکرات‘‘&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے خطاب کے اختتام پر شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات، جبر کے بجائے تعاون اور جنگ کے بجائے امن کا راستہ اختیار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’آئیے اقوام متحدہ کی یہ 81ویں جنرل اسمبلی ہمارے لیے، ہماری اولاد کے لیے اور آنے والی نسلوں کے لیے اسے متفقہ ترجیح بنائے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’لہٰذا آئیے اعتماد بحال کریں۔ آئیے امن کو محفوظ بنائیں۔ اور ثابت کریں کہ ایک منقسم دنیا میں بھی انسانیت اب بھی متحد ہوکر کھڑے ہونے کا انتخاب کرسکتی ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے خطاب کے آغاز میں وزیراعظم نے قائداعظم محمد علی جناح کے اس اعلان کا حوالہ دیا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے ساتھ کھڑا ہے اور عالمی امن و خوشحالی کے لیے بھرپور کردار ادا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی صدارت میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 کا متفقہ طور پر منظور ہونا تنازعات کے پُرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے کے لیے اسلام آباد کے عزم کا مظہر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے وزیراعظم کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب سے قبل اشارہ دیا تھا کہ ان کی تقریر میں سفارت کاری، علاقائی امن، کشمیر اور فلسطین کے علاوہ تنازعات میں کشیدگی کم کرنے میں پاکستان کے کردار پر توجہ مرکوز ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیویارک میں وزیراعظم کی مصروفیات&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف پیر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ایک مختصر وفد کی قیادت کرتے ہوئے نیویارک پہنچے۔ ہوائی اڈے پر اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر عاصم افتخار احمد، امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ اور مشن کے دیگر حکام نے ان کا استقبال کیا۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی ان کے ہمراہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو وزیراعظم نے جنرل اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی 2025 کی پاک بھارت کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں ’’شاندار شخصیت‘‘ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو وزیراعظم شہباز شریف نے ترقی کے حق سے متعلق اعلامیے کی 40ویں سالگرہ کے اجلاس سے خطاب کیا اور عالمی مالیاتی ڈھانچے میں اصلاحات، قرضوں کے بحران سے نمٹنے کے لیے اقدامات اور موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ موسمیاتی نقصانات و تباہ کاریوں کے ازالے کے لیے مالی معاونت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے موقع پر انہوں نے آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ پاکستان معاشی استحکام سے اقتصادی بحالی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ دونوں نے آئی ایم ایف کے آئندہ پروگرام جائزے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوستا سے بھی ملاقات کی اور پاکستان کی معیشت کے لیے جی ایس پی پلس کی اہمیت اجاگر کی۔ وزیراعظم نے شام کے صدر احمد الشرع، بوسنیا و ہرزیگووینا کی صدارتی کونسل کے چیئرمین ڈینس بیچرووچ اور گیٹس فاؤنڈیشن کے چیئرمین بل گیٹس سے بھی ملاقات کی، جن سے پولیو کے خاتمے اور زرعی اصلاحات پر گفتگو ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے اسلام آباد نے ’’امید نہیں چھوڑی‘‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو وزیراعظم نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی، جس میں علاقائی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے امریکا میں مقیم پاکستانی کاروباری رہنماؤں سے بھی ملاقات کی اور انہیں پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی، جبکہ پاکستانی نوجوان پیشہ ور افراد کے ایک وفد سے بھی ملاقات کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے آبنائے ہرمز اور باب المندب کو کھلا رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ دونوں اہم بحری گزرگاہیں ’’عالمی معیشت کی شہ رگیں‘‘ ہیں، انہیں اقوام کو ملانے کا ذریعہ رہنا چاہیے، ’’محاذ آرائی کے گلے‘‘ نہیں بننا چاہیے۔</strong></p>
<p>اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ کشیدگی میں اضافے نے اہم بحری راستوں پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ’’میزائلوں، ڈرونز اور توپوں کی گھن گرج کے درمیان سفارت کاری کی آواز اس سے بھی زیادہ بلند اور مضبوط ہونی چاہیے۔‘‘</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی معیشت کی شہ رگیں ہیں۔ انہیں کھلا رہنا چاہیے، قوموں کو جوڑنا چاہیے، محاذ آرائی کے گلے نہیں بننا چاہیے۔‘‘</p>
<p>وزیراعظم نے کہا، ’’ان پانیوں کو خوشحالی کی امیدیں لے کر چلنا چاہیے، جنگ کے خطرات نہیں۔‘‘</p>
<p>شہباز شریف نے کہا کہ حالیہ بحران کے دوران پاکستان نے فوری اقدام کا راستہ اختیار کیا اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے واشنگٹن اور تہران کو اسلام آباد میں ایک میز پر لایا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات اور بعد ازاں طے پانے والی اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت تنازع کے خاتمے کی جانب تاریخی اقدامات تھے۔</p>
<p><strong>فیلڈ مارشل منیر، صدر ٹرمپ کی تعریف</strong></p>
<p>شہباز شریف نے چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ’’مسلسل کوششوں‘‘ نے انتہائی مشکل حالات میں سفارت کاری کے لیے گنجائش پیدا کرنے میں مدد دی۔</p>
<p>انہوں نے سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے حملوں، بالخصوص مقدس شہر مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش میں کیے گئے ڈرون حملے کی بھی مذمت کی۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’حرمین شریفین کی سلامتی اور تقدس کو لاحق کوئی بھی خطرہ ایک سرخ لکیر ہے جسے کبھی عبور نہیں کیا جاسکتا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔</p>
<p>وزیراعظم نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان تاریخی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ یہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے کے دفاع، استحکام اور امن کے لیے اجتماعی عزم کی علامت ہے۔</p>
<p><strong>بھارت: پاکستان نے حقِ دفاع استعمال کیا</strong></p>
<p>بھارت کا ذکر کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کو ایک سال قبل بھارت کی جانب سے ایک جھوٹے بہانے پر بیرونی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی شق 51 کے تحت اپنے فطری حقِ دفاع کو استعمال کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بہادرانہ قیادت میں ہماری بہادر اور جانباز مسلح افواج نے انتہائی درستگی اور پیشہ ورانہ انداز میں جواب دیا۔‘‘</p>
<p>وزیراعظم نے مزید کشیدگی روکنے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’جنوبی ایشیا میں کروڑوں جانیں بچ گئیں‘‘۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان کو یقینی بنانا ہوگا کہ جنوبی ایشیا دوبارہ کبھی ایسے خطرناک موڑ تک نہ پہنچے، تاہم اس کے لیے مسئلہ کشمیر کا منصفانہ اور عادلانہ حل ضروری ہے۔</p>
<p><strong>کشمیر: ’’آٹھ دہائیوں‘‘ سے انتظار</strong></p>
<p>شہباز شریف نے کہا کہ کشمیری عوام آٹھ دہائیوں سے اقوام متحدہ کی جانب سے آزادانہ اور غیر جانب دارانہ استصوابِ رائے کے اپنے وعدے کی تکمیل کے منتظر ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بھارت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جن میں من مانی گرفتاریاں، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، جنسی تشدد اور اجتماعی سزائیں شامل ہیں، کا الزام عائد کیا اور کہا کہ آبادیاتی تبدیلیوں کے ذریعے جموں و کشمیر کی قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کشمیری عوام کے لیے پاکستان کی ’’سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت‘‘ اس وقت تک جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا جب تک انہیں ان کے بقول ’’ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت‘‘ نہیں مل جاتا۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا اور ہمیشہ رہے گا۔‘‘</p>
<p><strong>سندھ طاس: ’’پانی کو کبھی ہتھیار نہ بنایا جائے‘‘</strong></p>
<p>وزیراعظم نے دریائے سندھ کے نظام کے حوالے سے جنوبی ایشیا میں استحکام کی بنیاد کو لاحق خطرے سے بھی خبردار کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کے فیصلے کی ’’قطعاً کوئی قانونی بنیاد نہیں‘‘ اور پاکستان کا یہ موقف کہ معاہدہ بدستور مؤثر، پابند اور قابلِ عمل ہے، اقوام متحدہ کے ماہرین اور ثالثی عدالت نے بھی درست ثابت کیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’پانی کو کبھی ہتھیار نہیں بنانا چاہیے۔ دریاؤں کا کام قوموں کو سیراب کرنا ہے، انہیں تقسیم کرنا نہیں۔‘‘</p>
<p>’’پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے، اس کی روانی میں رکاوٹ ڈالنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔‘‘</p>
<p><strong>فلسطین: ’’غزہ میں پیدا ہونے والا بچہ بھی وہی مستقبل کا حق دار ہے‘‘</strong></p>
<p>فلسطین کے حوالے سے شہباز شریف نے کہا کہ فلسطینی عوام، بالخصوص خواتین، بچوں اور بزرگوں نے قبضے، بے دخلی، مصائب اور موت کا سامنا کیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے ہند رجب کا ذکر کرتے ہوئے، جنہیں انہوں نے اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں جاں بحق ہونے والی ایک معصوم فلسطینی بچی قرار دیا، 8 سالہ وفا عقیلہ کی ہلاکت کو بھی اجاگر کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’جس دن کو اس کے اسکول جانے کا پہلا دن ہونا چاہیے تھا، وہ اس کی زندگی کا آخری دن بن گیا۔‘‘</p>
<p>انہوں نے سوال کیا، ’’کیا غزہ میں پیدا ہونے والا بچہ بھی دنیا کے کسی دوسرے حصے میں پیدا ہونے والے بچے جیسی زندگی، ایسا ہی مستقبل اور ایسے ہی خواب کا حق دار نہیں؟‘‘</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ دیرپا حل صرف ایک آزاد، خودمختار، قابلِ عمل اور متصل فلسطینی ریاست کا قیام ہے، جو 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر قائم ہو اور القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہو۔</p>
<p>انہوں نے لبنان اور شام کے خلاف اسرائیلی جارحیت کا بھی تسلسل کے ساتھ مذمت کی۔</p>
<p><strong>دہشت گردی</strong></p>
<p>شہباز شریف نے دہشت گردی کو عالمی امن و سلامتی کو درپیش سنگین ترین خطرات میں سے ایک قرار دیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’دہشت گردی کے خطرے کے خلاف صفِ اول کی ریاست کی حیثیت سے ہم نے اپنے شہروں، اپنے پہاڑوں اور اپنی سرحدوں پر دہشت گردوں کا مقابلہ کیا ہے۔‘‘</p>
<p>ان کے مطابق پاکستان نے اس جنگ میں تقریباً ایک لاکھ جانوں کی قربانی دی جبکہ 150 ارب ڈالر سے زائد کے معاشی نقصانات برداشت کیے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’آج دنیا پہلے سے زیادہ محفوظ ہے،‘‘ اور اس کا کریڈٹ پاکستان کی مسلح افواج اور ان شہریوں کی قربانیوں کو دیا جنہوں نے دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑی۔</p>
<p>وزیراعظم نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، فتنۃ الخوارج اور بی ایل اے، فتنۃ الہندوستان پر افغانستان کے اندر موجود محفوظ پناہ گاہوں سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے کارروائیاں کرنے کا الزام عائد کیا۔</p>
<p>انہوں نے افغان حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ’’قابلِ تصدیق اور فیصلہ کن اقدامات‘‘ کریں کہ افغان سرزمین پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔ ساتھ ہی انہوں نے زور دیا کہ افغان عوام، بالخصوص خواتین اور لڑکیوں کے بنیادی حقوق کا احترام کیا جانا چاہیے۔</p>
<p><strong>اقوام متحدہ کے امن مشن میں پاکستان کا کردار</strong></p>
<p>شہباز شریف نے کہا کہ اقوام متحدہ کی امن کاری اجتماعی سلامتی کے مضبوط ترین مظاہر میں سے ایک ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’کئی دہائیوں سے پاکستانی مرد و خواتین نیلے پرچم تلے خدمات انجام دیتے ہوئے شہریوں کا تحفظ کر رہے ہیں اور ممالک کو تنازعات سے نکلنے میں مدد دے رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے اہلکاروں کی قربانیوں پر فخر کرتا ہے۔</p>
<p><strong>اسلاموفوبیا</strong></p>
<p>وزیراعظم نے اسلاموفوبیا میں اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور نفرت انگیز تقاریر، امتیازی سلوک، مساجد پر حملوں اور قرآنِ مجید کی بے حرمتی کا حوالہ دیا۔</p>
<p>انہوں نے الزام عائد کیا کہ سرحد پار آر ایس ایس سے متاثر ہندوتوا نظریہ مذہبی نفرت کو ہوا دے رہا ہے، جس میں ہجومی تشدد، فرقہ وارانہ کشیدگی، عبادت گاہوں پر حملے اور مذہبی آزادیوں پر پابندیاں شامل ہیں۔</p>
<p><strong>’’محاذ آرائی نہیں، مذاکرات‘‘</strong></p>
<p>اپنے خطاب کے اختتام پر شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات، جبر کے بجائے تعاون اور جنگ کے بجائے امن کا راستہ اختیار کیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’آئیے اقوام متحدہ کی یہ 81ویں جنرل اسمبلی ہمارے لیے، ہماری اولاد کے لیے اور آنے والی نسلوں کے لیے اسے متفقہ ترجیح بنائے۔‘‘</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’لہٰذا آئیے اعتماد بحال کریں۔ آئیے امن کو محفوظ بنائیں۔ اور ثابت کریں کہ ایک منقسم دنیا میں بھی انسانیت اب بھی متحد ہوکر کھڑے ہونے کا انتخاب کرسکتی ہے۔‘‘</p>
<p>اپنے خطاب کے آغاز میں وزیراعظم نے قائداعظم محمد علی جناح کے اس اعلان کا حوالہ دیا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے ساتھ کھڑا ہے اور عالمی امن و خوشحالی کے لیے بھرپور کردار ادا کرے گا۔</p>
<p>شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی صدارت میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 کا متفقہ طور پر منظور ہونا تنازعات کے پُرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے کے لیے اسلام آباد کے عزم کا مظہر ہے۔</p>
<p>پاکستان نے وزیراعظم کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب سے قبل اشارہ دیا تھا کہ ان کی تقریر میں سفارت کاری، علاقائی امن، کشمیر اور فلسطین کے علاوہ تنازعات میں کشیدگی کم کرنے میں پاکستان کے کردار پر توجہ مرکوز ہوگی۔</p>
<p><strong>نیویارک میں وزیراعظم کی مصروفیات</strong></p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف پیر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ایک مختصر وفد کی قیادت کرتے ہوئے نیویارک پہنچے۔ ہوائی اڈے پر اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر عاصم افتخار احمد، امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ اور مشن کے دیگر حکام نے ان کا استقبال کیا۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی ان کے ہمراہ ہیں۔</p>
<p>منگل کو وزیراعظم نے جنرل اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی 2025 کی پاک بھارت کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں ’’شاندار شخصیت‘‘ قرار دیا۔</p>
<p>بدھ کو وزیراعظم شہباز شریف نے ترقی کے حق سے متعلق اعلامیے کی 40ویں سالگرہ کے اجلاس سے خطاب کیا اور عالمی مالیاتی ڈھانچے میں اصلاحات، قرضوں کے بحران سے نمٹنے کے لیے اقدامات اور موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ موسمیاتی نقصانات و تباہ کاریوں کے ازالے کے لیے مالی معاونت پر زور دیا۔</p>
<p>اجلاس کے موقع پر انہوں نے آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ پاکستان معاشی استحکام سے اقتصادی بحالی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ دونوں نے آئی ایم ایف کے آئندہ پروگرام جائزے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔</p>
<p>انہوں نے یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوستا سے بھی ملاقات کی اور پاکستان کی معیشت کے لیے جی ایس پی پلس کی اہمیت اجاگر کی۔ وزیراعظم نے شام کے صدر احمد الشرع، بوسنیا و ہرزیگووینا کی صدارتی کونسل کے چیئرمین ڈینس بیچرووچ اور گیٹس فاؤنڈیشن کے چیئرمین بل گیٹس سے بھی ملاقات کی، جن سے پولیو کے خاتمے اور زرعی اصلاحات پر گفتگو ہوئی۔</p>
<p>صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے اسلام آباد نے ’’امید نہیں چھوڑی‘‘۔</p>
<p>جمعرات کو وزیراعظم نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی، جس میں علاقائی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے امریکا میں مقیم پاکستانی کاروباری رہنماؤں سے بھی ملاقات کی اور انہیں پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی، جبکہ پاکستانی نوجوان پیشہ ور افراد کے ایک وفد سے بھی ملاقات کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291664</guid>
      <pubDate>Sat, 26 Sep 2026 11:39:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/f5Hx8SBnVgA/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="720" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/f5Hx8SBnVgA/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=f5Hx8SBnVgA"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/25233727e90a388.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/25233727e90a388.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
