<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Sports</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 11:03:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 11:03:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی عرب کی 10 کروڑ یورو کی پیشکش نے بھی متاثر کیا، ریئندرز نے مانچسٹر سٹی چھوڑنے کی وجہ بتادی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291599/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیدرلینڈز کے مڈفیلڈر تیجانی ریئندرز نے کہا ہے کہ مانچسٹر سٹی میں انہیں دیا جانے والا کردار ان کی پسند کے مطابق نہیں تھا، جبکہ سعودی کلب القادسیہ کی مالی پیشکش بھی مسترد کرنا ممکن نہیں تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریئندرز نے مانچسٹر سٹی سے سعودی پرو لیگ کلب القادسیہ میں 6 کروڑ 10 لاکھ یورو کی حیران کن فیس کے عوض شمولیت اختیار کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ حملے اور دفاع کے درمیان متحرک مڈفیلڈر کے طور پر کھیلنا چاہتے تھے، تاہم سٹی میں انہیں زیادہ تر اٹیکنگ مڈفیلڈر کے طور پر استعمال کیا جارہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پری سیزن میں بھی صورتحال تبدیل نہ ہونے پر انہوں نے مزید ایک سیزن اسی کردار میں کھیلنے کے بجائے نئی راہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;28 سالہ ریئندرز نے بتایا کہ القادسیہ کے کوچ برینڈن راجرز سے گفتگو نے انہیں سعودی عرب منتقل ہونے کے فیصلے پر مطمئن کیا۔ راجرز نے انہیں یقین دلایا کہ وہ یہاں تین یا چار خوشگوار سال گزارنے کے بعد یورپ واپس آسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریئندرز کے مطابق سعودی لیگ میں کئی بڑے نام موجود ہیں اور وہ اسے نیدرلینڈز کی ایریڈیویسی سے بھی بہتر سمجھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق ریئندرز نے سعودی عرب میں چار سال کے لیے تقریباً 10 کروڑ یورو کا معاہدہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیدرلینڈز کے مڈفیلڈر تیجانی ریئندرز نے کہا ہے کہ مانچسٹر سٹی میں انہیں دیا جانے والا کردار ان کی پسند کے مطابق نہیں تھا، جبکہ سعودی کلب القادسیہ کی مالی پیشکش بھی مسترد کرنا ممکن نہیں تھا۔</strong></p>
<p>ریئندرز نے مانچسٹر سٹی سے سعودی پرو لیگ کلب القادسیہ میں 6 کروڑ 10 لاکھ یورو کی حیران کن فیس کے عوض شمولیت اختیار کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ حملے اور دفاع کے درمیان متحرک مڈفیلڈر کے طور پر کھیلنا چاہتے تھے، تاہم سٹی میں انہیں زیادہ تر اٹیکنگ مڈفیلڈر کے طور پر استعمال کیا جارہا تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پری سیزن میں بھی صورتحال تبدیل نہ ہونے پر انہوں نے مزید ایک سیزن اسی کردار میں کھیلنے کے بجائے نئی راہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔</p>
<p>28 سالہ ریئندرز نے بتایا کہ القادسیہ کے کوچ برینڈن راجرز سے گفتگو نے انہیں سعودی عرب منتقل ہونے کے فیصلے پر مطمئن کیا۔ راجرز نے انہیں یقین دلایا کہ وہ یہاں تین یا چار خوشگوار سال گزارنے کے بعد یورپ واپس آسکتے ہیں۔</p>
<p>ریئندرز کے مطابق سعودی لیگ میں کئی بڑے نام موجود ہیں اور وہ اسے نیدرلینڈز کی ایریڈیویسی سے بھی بہتر سمجھتے ہیں۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق ریئندرز نے سعودی عرب میں چار سال کے لیے تقریباً 10 کروڑ یورو کا معاہدہ کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291599</guid>
      <pubDate>Wed, 23 Sep 2026 14:01:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/2313533463c361a.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/2313533463c361a.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
