<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 16:08:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 16:08:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انڈونیشیا، بحیرہ جاوا میں مسافر جہاز ڈوبنے سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 20 ہوگئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291588/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انڈونیشیا کے بحیرہ جاوا میں مسافر بردار بحری جہاز الٹنے سے ہلاکتوں کی تعداد بدھ کو بڑھ کر 20 ہوگئی جو اس سے قبل 10 تھی۔ امدادی کارکنوں کو خدشہ ہے کہ زیرِ آب جاری تلاش کا دائرہ وسیع ہونے کے ساتھ مزید لاشیں مل سکتی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورگو ٹرانسپورٹ 8 فیری میں 243 افراد سوار تھے جن میں عملے کے 30 ارکان بھی شامل تھے جبکہ گاڑیوں کی تعداد معلوم نہیں تھی۔ یہ فیری 13 ستمبر کی صبح خراب موسم کے دوران مشرقی جاوا کے شہر سورابایا سے جنوبی کلیمانتان کے بنجرماسن جاتے ہوئے الٹ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل ریسکیو ایجنسی کے سربراہ محمد شفیعی نے بتایا کہ کوسٹ گارڈ اور بحریہ کے اہلکاروں نے گزشتہ تین روز کے دوران جہاز کے اندر سے آٹھ لاشیں نکالی ہیں جبکہ وسطی کلیمانتان صوبے میں حادثے کی جگہ سے تقریباً 253 کلومیٹر (157.21 میل) دور ساحل پر بہہ کر آنے والی مزید دو لاشیں بھی ملی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ بدھ تک ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 20 ہوگئی  جبکہ 115 افراد تاحال لاپتا اور 108 افراد زندہ بچ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شفیعی نے مزید بتایا کہ امدادی کارکنوں نے پیر کو پانچ، منگل کو چار اور بدھ کی صبح ایک لاش برآمد کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنجرماسن ریسکیو ایجنسی کے سربراہ آئی پوتو سودایانا نے بتایا کہ بدھ کو ہونے والی تلاش کا محور جہاز کے کیبنز میں مزید لاشوں کی تلاش ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غوطہ خور منگل کو کیبنز کی کھڑکیاں توڑنے میں کامیاب ہوگئے تھے، تاہم گدلے پانی اور تیز دھارے کے باعث وہ اندر داخل نہ ہوسکے جس کی وجہ سے پہلے ہی نظر آنے والی لاشوں کو نکالنا ممکن نہیں ہوسکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہماری زیرِ آب تلاش جہاز کے ڈھانچے پر مرکوز ہے۔ ہم اسی حصے پر توجہ دے رہے ہیں کیونکہ ہمیں کیبنز کے اندر بڑی تعداد میں مسافروں کے پھنسے ہونے کا پتا چلا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد اگر ممکن ہوا تو امدادی کارکن فیری میں موجود گاڑیوں میں تلاش کا دائرہ منتقل کریں گے، تاہم یہ کام مشکل ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ بظاہر بہت سی گاڑیاں ایک دوسرے کے اوپر چڑھی ہوئی ہیں۔ پوتو نے کہا کہ اس صورتحال سے غوطہ خور ٹیم کو خطرات لاحق ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگر یہ ممکن اور محفوظ ہوا تو ہم تلاش کا عمل جاری رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انڈونیشیا کے بحیرہ جاوا میں مسافر بردار بحری جہاز الٹنے سے ہلاکتوں کی تعداد بدھ کو بڑھ کر 20 ہوگئی جو اس سے قبل 10 تھی۔ امدادی کارکنوں کو خدشہ ہے کہ زیرِ آب جاری تلاش کا دائرہ وسیع ہونے کے ساتھ مزید لاشیں مل سکتی ہیں۔</strong></p>
<p>ورگو ٹرانسپورٹ 8 فیری میں 243 افراد سوار تھے جن میں عملے کے 30 ارکان بھی شامل تھے جبکہ گاڑیوں کی تعداد معلوم نہیں تھی۔ یہ فیری 13 ستمبر کی صبح خراب موسم کے دوران مشرقی جاوا کے شہر سورابایا سے جنوبی کلیمانتان کے بنجرماسن جاتے ہوئے الٹ گئی۔</p>
<p>نیشنل ریسکیو ایجنسی کے سربراہ محمد شفیعی نے بتایا کہ کوسٹ گارڈ اور بحریہ کے اہلکاروں نے گزشتہ تین روز کے دوران جہاز کے اندر سے آٹھ لاشیں نکالی ہیں جبکہ وسطی کلیمانتان صوبے میں حادثے کی جگہ سے تقریباً 253 کلومیٹر (157.21 میل) دور ساحل پر بہہ کر آنے والی مزید دو لاشیں بھی ملی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ بدھ تک ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 20 ہوگئی  جبکہ 115 افراد تاحال لاپتا اور 108 افراد زندہ بچ گئے ہیں۔</p>
<p>شفیعی نے مزید بتایا کہ امدادی کارکنوں نے پیر کو پانچ، منگل کو چار اور بدھ کی صبح ایک لاش برآمد کی۔</p>
<p>بنجرماسن ریسکیو ایجنسی کے سربراہ آئی پوتو سودایانا نے بتایا کہ بدھ کو ہونے والی تلاش کا محور جہاز کے کیبنز میں مزید لاشوں کی تلاش ہوگا۔</p>
<p>غوطہ خور منگل کو کیبنز کی کھڑکیاں توڑنے میں کامیاب ہوگئے تھے، تاہم گدلے پانی اور تیز دھارے کے باعث وہ اندر داخل نہ ہوسکے جس کی وجہ سے پہلے ہی نظر آنے والی لاشوں کو نکالنا ممکن نہیں ہوسکا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہماری زیرِ آب تلاش جہاز کے ڈھانچے پر مرکوز ہے۔ ہم اسی حصے پر توجہ دے رہے ہیں کیونکہ ہمیں کیبنز کے اندر بڑی تعداد میں مسافروں کے پھنسے ہونے کا پتا چلا ہے۔</p>
<p>اس کے بعد اگر ممکن ہوا تو امدادی کارکن فیری میں موجود گاڑیوں میں تلاش کا دائرہ منتقل کریں گے، تاہم یہ کام مشکل ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ بظاہر بہت سی گاڑیاں ایک دوسرے کے اوپر چڑھی ہوئی ہیں۔ پوتو نے کہا کہ اس صورتحال سے غوطہ خور ٹیم کو خطرات لاحق ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگر یہ ممکن اور محفوظ ہوا تو ہم تلاش کا عمل جاری رکھیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291588</guid>
      <pubDate>Wed, 23 Sep 2026 11:56:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/23114922e3f9bef.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/23114922e3f9bef.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
