<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 16:54:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 16:54:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ، ڈنمارک اور گرین لینڈ کا آرکٹک تعطل ختم کرنے کے لیے معاہدہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291572/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور گرین لینڈ و ڈنمارک کے رہنماؤں نے منگل کو ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت گرین لینڈ میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا جاسکے گا اور اس تزویراتی اہمیت کے حامل، معدنی وسائل سے مالا مال جزیرے پر جاری تعطل ختم ہونے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ٹرمپ کے دورے کے موقع پر طے پانے والا یہ معاہدہ ان کے اس مطالبے سے ایک قدم پیچھے ہے جس کے تحت امریکا روس اور چین کی آرکٹک خطے میں بڑھتی ہوئی موجودگی کا مقابلہ کرنے کے لیے گرین لینڈ کو امریکی علاقہ بنانا چاہتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم معاہدہ برف پوش جزیرے میں امریکی فوجی موجودگی بڑھانے کی اجازت دیتا ہے، جو گرین لینڈ کے رہنماؤں کی جانب سے امریکا کے مکمل قبضے کی مخالفت کے بعد سامنے آنے والا متبادل راستہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ میں عالمی رہنماؤں سے معاہدے پر دستخط سے قبل خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ معاہدہ امریکا کو ’’اس علاقے کی سلامتی اور دیگر تمام ضروریات پر مستقل کنٹرول‘‘ فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے کہا، ’’امریکا کے کسی بھی حریف کو آئندہ گرین لینڈ میں فوجی موجودگی قائم کرنے یا ہماری واضح تحریری منظوری کے بغیر وہاں حساس نوعیت کی سرمایہ کاری کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے اقوام متحدہ میں اپنی تقریر کے بعد ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن اور گرین لینڈ کے وزیراعظم جینس فریڈرک نیلسن کے ہمراہ سہ فریقی تقریب میں معاہدے پر دستخط کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فریڈرکسن نے معاہدے کو ’’ایسا معاہدہ قرار دیا جو ہمیشہ قائم رہ سکتا ہے‘‘ اور کہا کہ یہ معاہدہ نیٹو اتحاد کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ گرین لینڈ کے حقِ خود ارادیت کا بھی احترام کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور گرین لینڈ و ڈنمارک کے رہنماؤں نے منگل کو ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت گرین لینڈ میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا جاسکے گا اور اس تزویراتی اہمیت کے حامل، معدنی وسائل سے مالا مال جزیرے پر جاری تعطل ختم ہونے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔</strong></p>
<p>نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ٹرمپ کے دورے کے موقع پر طے پانے والا یہ معاہدہ ان کے اس مطالبے سے ایک قدم پیچھے ہے جس کے تحت امریکا روس اور چین کی آرکٹک خطے میں بڑھتی ہوئی موجودگی کا مقابلہ کرنے کے لیے گرین لینڈ کو امریکی علاقہ بنانا چاہتا تھا۔</p>
<p>تاہم معاہدہ برف پوش جزیرے میں امریکی فوجی موجودگی بڑھانے کی اجازت دیتا ہے، جو گرین لینڈ کے رہنماؤں کی جانب سے امریکا کے مکمل قبضے کی مخالفت کے بعد سامنے آنے والا متبادل راستہ ہے۔</p>
<p>اقوام متحدہ میں عالمی رہنماؤں سے معاہدے پر دستخط سے قبل خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ معاہدہ امریکا کو ’’اس علاقے کی سلامتی اور دیگر تمام ضروریات پر مستقل کنٹرول‘‘ فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے کہا، ’’امریکا کے کسی بھی حریف کو آئندہ گرین لینڈ میں فوجی موجودگی قائم کرنے یا ہماری واضح تحریری منظوری کے بغیر وہاں حساس نوعیت کی سرمایہ کاری کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘‘</p>
<p>ٹرمپ نے اقوام متحدہ میں اپنی تقریر کے بعد ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن اور گرین لینڈ کے وزیراعظم جینس فریڈرک نیلسن کے ہمراہ سہ فریقی تقریب میں معاہدے پر دستخط کیے۔</p>
<p>فریڈرکسن نے معاہدے کو ’’ایسا معاہدہ قرار دیا جو ہمیشہ قائم رہ سکتا ہے‘‘ اور کہا کہ یہ معاہدہ نیٹو اتحاد کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ گرین لینڈ کے حقِ خود ارادیت کا بھی احترام کرتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291572</guid>
      <pubDate>Tue, 22 Sep 2026 23:50:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/222347538af0b7f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/222347538af0b7f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
