<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 11:03:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 11:03:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وفاقی وزیر سرمایہ کاری کا کاروباری برادری کے مسائل حل نہ ہونے کا اعتراف</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291553/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ گزشتہ ڈھائی برس سے وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے کاروباری برادری کے مسائل حل طلب ہیں۔ یہ بات بزنس مین گروپ (بی ایم جی) کی جانب سے کراچی چیمبر میں اپنی انتخابی مہم کے آغاز کے موقع پر سامنے آئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی ایم جی کی جانب سے انتخابات کیلئے اپنے 30 امیدواروں کا اعلان کرنے کے سلسلے میں منعقدہ استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کراچی کی کاروباری برادری سے کہا کہ وہ قومی اسمبلی میں کاروباری برادری کے منتخب نمائندے ہیں۔ اس کے باوجود وہ کاروباری برادری کے مسائل حل کرنے کے لیے کابینہ کی سطح پر حکومت کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیصر احمد شیخ نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی برس کے دوران میں نے وزیراعظم شہباز شریف کو کئی خطوط لکھے جن میں ملاقات کے لیے وقت دینے اور کاروباری برادری کے مسائل سے انہیں آگاہ کرنے کی درخواست کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سوال کیا کہ اگر ایک وفاقی وزیر ڈھائی سال تک وزیراعظم سے ملاقات نہیں کرسکتا تو وہ ملک کی کاروباری برادری کے لیے کس طرح قابلِ رسائی ہوگا اور کاروباری برادری فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین سے کس طرح ملاقات کرسکے گی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے دعویٰ کیا کہ پورٹ قاسم میں پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی پی آر اے) کے قواعد کی خلاف ورزی کی جارہی ہے، میں نے وزیراعظم کو اس بارے میں آگاہ کردیا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی ایم جی کے چیئرمین زبیر موتی والا نے 30 امیدواروں کا تعارف کرایا جو ہفتے (26 ستمبر) کو ہونے والے کے سی سی آئی کے انتخابات میں حصہ لیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عہدیداران اور کمیٹی ارکان کا انتخاب دو سالہ مدت یعنی 2026 سے 2028 تک کے لیے کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زبیر موتی والا نے کہا کہ وہ کراچی کی آواز بلند کرتے رہیں گے کیونکہ ملک کا معاشی مرکز اقتدار کے ایوانوں کی جانب سے مسلسل نظرانداز کیا جارہا ہے۔.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زبیر موتی والا نے کہا کہ اس کے باوجود کراچی پاکستان کی برآمدی آمدنی میں 55 فیصد حصہ برقرار رکھتا ہے اور ملک کی ٹیکس آمدنی کا 67 فیصد پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر شہر پر مناسب توجہ دی جائے تو اس میں معاشی سرگرمیوں میں اپنا کردار بڑھانے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی ایم جی کے وائس چیئرمین انجم نثار نے کہا کہ ملکی معیشت زوال کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں سے برآمدی آمدنی میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں ہوا اور تقریباً 18 سال قبل کے 26 ارب ڈالر کے مقابلے میں مالی سال 2026 میں معمولی اضافے کے ساتھ 30 ارب ڈالر تک پہنچی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ گزشتہ ڈھائی برس سے وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے کاروباری برادری کے مسائل حل طلب ہیں۔ یہ بات بزنس مین گروپ (بی ایم جی) کی جانب سے کراچی چیمبر میں اپنی انتخابی مہم کے آغاز کے موقع پر سامنے آئی۔</strong></p>
<p>بی ایم جی کی جانب سے انتخابات کیلئے اپنے 30 امیدواروں کا اعلان کرنے کے سلسلے میں منعقدہ استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کراچی کی کاروباری برادری سے کہا کہ وہ قومی اسمبلی میں کاروباری برادری کے منتخب نمائندے ہیں۔ اس کے باوجود وہ کاروباری برادری کے مسائل حل کرنے کے لیے کابینہ کی سطح پر حکومت کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔</p>
<p>قیصر احمد شیخ نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی برس کے دوران میں نے وزیراعظم شہباز شریف کو کئی خطوط لکھے جن میں ملاقات کے لیے وقت دینے اور کاروباری برادری کے مسائل سے انہیں آگاہ کرنے کی درخواست کی گئی۔</p>
<p>انہوں نے سوال کیا کہ اگر ایک وفاقی وزیر ڈھائی سال تک وزیراعظم سے ملاقات نہیں کرسکتا تو وہ ملک کی کاروباری برادری کے لیے کس طرح قابلِ رسائی ہوگا اور کاروباری برادری فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین سے کس طرح ملاقات کرسکے گی؟</p>
<p>انہوں نے دعویٰ کیا کہ پورٹ قاسم میں پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی پی آر اے) کے قواعد کی خلاف ورزی کی جارہی ہے، میں نے وزیراعظم کو اس بارے میں آگاہ کردیا ہے۔‘‘</p>
<p>بی ایم جی کے چیئرمین زبیر موتی والا نے 30 امیدواروں کا تعارف کرایا جو ہفتے (26 ستمبر) کو ہونے والے کے سی سی آئی کے انتخابات میں حصہ لیں گے۔</p>
<p>عہدیداران اور کمیٹی ارکان کا انتخاب دو سالہ مدت یعنی 2026 سے 2028 تک کے لیے کیا جائے گا۔</p>
<p>زبیر موتی والا نے کہا کہ وہ کراچی کی آواز بلند کرتے رہیں گے کیونکہ ملک کا معاشی مرکز اقتدار کے ایوانوں کی جانب سے مسلسل نظرانداز کیا جارہا ہے۔.</p>
<p>زبیر موتی والا نے کہا کہ اس کے باوجود کراچی پاکستان کی برآمدی آمدنی میں 55 فیصد حصہ برقرار رکھتا ہے اور ملک کی ٹیکس آمدنی کا 67 فیصد پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر شہر پر مناسب توجہ دی جائے تو اس میں معاشی سرگرمیوں میں اپنا کردار بڑھانے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔</p>
<p>بی ایم جی کے وائس چیئرمین انجم نثار نے کہا کہ ملکی معیشت زوال کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں سے برآمدی آمدنی میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں ہوا اور تقریباً 18 سال قبل کے 26 ارب ڈالر کے مقابلے میں مالی سال 2026 میں معمولی اضافے کے ساتھ 30 ارب ڈالر تک پہنچی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291553</guid>
      <pubDate>Tue, 22 Sep 2026 15:07:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلمان صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/2214574990c80ff.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/2214574990c80ff.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
