<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - BR Research</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 16:55:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 16:55:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مہنگی ہوتی بجلی کی پیداوار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291528/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اگست پاکستان کے پاور سیکٹر کی ایک زیادہ تشویشناک تصویر پیش کرتا ہے۔ بجلی کی پیداوار ایک بار پھر بڑھ رہی ہے، لیکن اس اضافے کی لاگت اور ساخت کو نظر انداز کرنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی گرڈ سے بجلی کی پیداوار اگست میں 14.9 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو ریفرنس سے 3 فیصد زیادہ اور سالانہ 5.5 فیصد زیادہ ہے۔ تاہم، 12 ماہ کی متحرک اوسط ایک نسبتاً مدھم تصویر پیش کرتی ہے، جس میں پیداوار میں اضافہ صرف 2.6 فیصد رہا جبکہ اوسط ماہانہ پیداوار تقریباً 10.5 ارب یونٹس رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا ماہانہ پیداوار میں زیادہ اضافہ طلب میں کسی وسیع پیمانے پر تیزی کا نتیجہ نہیں ہے۔ یہ بڑھتی ہوئی شام کی طلب کو پورا کرنے کے لیے نظام کے بجلی فراہم کرنے کے طریقہ کار سے زیادہ متعلق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہائیڈل بجلی تقریباً 5.6 ارب یونٹس پر مستحکم رہی، جس نے مجموعی پیداوار میں 38 فیصد حصہ ڈالا۔ اصل تبدیلی کہیں اور ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آر ایل این جی کا حصہ کم ہو کر صرف 9 فیصد رہ گیا، جبکہ اس سے 1.3 ارب یونٹس بجلی پیدا ہوئی، جو ریفرنس سے 26 فیصد کم ہے۔ اگست مسلسل چھٹا مہینہ تھا جب آر ایل این جی سے حقیقی پیداوار منصوبہ بندی کی گئی سطح سے کم رہی، اور یہ سلسلہ جنگ شروع ہونے کے وقت سے جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان راستے میں ایک یا دو کارگو حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے، لیکن اتنے نہیں کہ آر ایل این جی پلانٹس کو پوری صلاحیت کے قریب چلایا جاسکے۔ ایل این جی مارکیٹوں میں طویل عرصے سے جاری خلل نے سستے کارگو کی دستیابی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے، جس کے باعث نظام مہنگی اسپاٹ خریداریوں پر زیادہ انحصار کرنے لگا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا اثر پہلے ہی بجلی کی پیداوار کی لاگت پر نظر آ رہا ہے۔ مسلسل دوسرے ماہ آر ایل این جی سے پیدا ہونے والی بجلی کی اوسط لاگت 45 روپے فی یونٹ سے زیادہ رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ خلا ایک بار پھر درآمدی کوئلے نے پُر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست کی بجلی کی پیداوار میں درآمدی کوئلے کا حصہ 16 فیصد رہا، جو ریکارڈ میں اس کا سب سے زیادہ ماہانہ حصہ ہے۔ اس سے پیداوار 2.3 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو ایک ہی ماہ میں درآمدی کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی کی اب تک کی سب سے زیادہ مقدار بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک مانوس ہوتا ہوا رجحان ہے۔ جیسے جیسے دن کے وقت شمسی بجلی کا منحنی گراف مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے اور شام کے وقت طلب میں اضافہ زیادہ تیز ہوتا جا رہا ہے، نظام کو ایسی تھرمل بجلی کی ضرورت پڑتی ہے جسے طلب واپس آنے پر فوری طور پر شامل کیا جاسکے۔ آر ایل این جی محدود اور مہنگی ہونے کے باعث درآمدی کوئلہ اس بوجھ کو تیزی سے اٹھا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور اس چوٹی کی طلب کو پورا کرنے کی لاگت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست میں طلب کے عروج کے دوران بجلی کی پیداوار کی  مارجنل کاسٹ 55 روپے فی یونٹ تک پہنچ گئی۔ یہ گزشتہ تین برسوں میں دیکھے گئے اعداد و شمار سے خاصی زیادہ ہے اور اوسط بجلی کی پیداوار کی لاگت اور شام کے وقت طلب کی آخری یونٹ کو پورا کرنے کی لاگت کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کی نشاندہی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً ایک اور مثبت فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ سامنے آیا ہے۔ بجلی کی پیداوار کی مجموعی لاگت ریفرنس سطح سے زیادہ رہی، جس کے باعث ایف سی اے کے تحت تقریباً 1.7 روپے فی یونٹ مانگے گئے۔ حتمی منظور شدہ ایڈجسٹمنٹ تقریباً 1.5 روپے فی یونٹ کے قریب رہنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، مقامی کوئلے کی لاگت میں ایک دلچسپ پہلو بھی سامنے آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی کوئلے سے بجلی کی رپورٹ شدہ پیداواری لاگت کم ہو کر تقریباً 5.5 روپے فی یونٹ کی ریکارڈ کم ترین سطح پر آگئی، جبکہ اس سے قبل کے تین ماہ کی اوسط تقریباً 12.5 روپے فی یونٹ رہی تھی۔ اس نمایاں کمی کا تعلق تقریباً 10 ارب روپے کی ایسی ایڈجسٹمنٹ سے معلوم ہوتا ہے جسے تقریباً مکمل طور پر تھر کول بلاک-ون کی بجلی پیدا کرنے والی کمپنی کے کھاتے میں درج کیا گیا، جس کے نتیجے میں اس کے فیول چارج میں تقریباً نصف کمی واقع ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ایڈجسٹمنٹ کی تفصیلی وجوہات ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔ جب تک یہ تفصیلات دستیاب نہیں ہوتیں، تازہ ترین مقامی کوئلے کی لاگت کو ایک نئے ساختی معیار کے طور پر دیکھنا قبل از وقت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایندھن کے مجموعی مکس میں موجود صورتحال زیادہ بڑی تشویش کا باعث ہے۔ جوہری بجلی کا حصہ بھی کم ہو کر تقریباً 10 فیصد رہ گیا ہے، جو تقریباً چار برسوں میں اس کی کم ترین سطح ہے، جبکہ دیکھ بھال میں تاخیر نے ایسے وقت میں نظام پر ایک اور دباؤ ڈال دیا ہے جب زیادہ طلب کا موسم شروع ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، دن کے وقت بجلی کی طلب کا منحنی گراف مزید تیز ہوتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شمسی بجلی دن کے درمیانی حصے میں گرڈ کی طلب کو مسلسل کم کر رہی ہے، تاہم سورج غروب ہونے کے بعد طلب ایک بار پھر تیزی سے واپس آتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ایسا نظام تشکیل پا رہا ہے جہاں چیلنج اب پورے دن کے دوران کافی بجلی پیدا کرنا نہیں، بلکہ درست وقت پر درست نوعیت کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت دستیاب رکھنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال نظام کو بجلی کی فراہمی برقرار رکھنا ترجیح ہے۔ لیکن یہ کام زیادہ مشکل اور مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔ قریبی مدت میں ایل این جی کے جہاز باآسانی دستیاب ہونے کا امکان کم ہے، جبکہ درآمدی کوئلے پر مسلسل انحصار نظام کو بلند ایندھن لاگت کے خطرے سے دوچار رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا بجلی کی پیداوار میں اضافے کی سرخی کے باوجود اگست سے بہت کم اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ ہائیڈل بجلی اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ طلب بحال ہو رہی ہے۔ لیکن آر ایل این جی کی دستیابی محدود ہے، جوہری بجلی کی دستیابی کمزور ہوئی ہے، اور درآمدی کوئلہ بڑھتے ہوئے خلا کو پُر کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دن کے وقت شمسی بجلی کا منحنی گراف جتنا گرتا جائے گا، شام کے وقت طلب میں اضافہ اتنا ہی تیز ہوتا جائے گا۔ اور بجلی کی آخری یونٹ جتنی مہنگی ہوتی جائے گی، صارفین ایف سی اے کے ذریعے اس کی لاگت اتنی ہی زیادہ محسوس کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اگست پاکستان کے پاور سیکٹر کی ایک زیادہ تشویشناک تصویر پیش کرتا ہے۔ بجلی کی پیداوار ایک بار پھر بڑھ رہی ہے، لیکن اس اضافے کی لاگت اور ساخت کو نظر انداز کرنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔</strong></p>
<p>قومی گرڈ سے بجلی کی پیداوار اگست میں 14.9 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو ریفرنس سے 3 فیصد زیادہ اور سالانہ 5.5 فیصد زیادہ ہے۔ تاہم، 12 ماہ کی متحرک اوسط ایک نسبتاً مدھم تصویر پیش کرتی ہے، جس میں پیداوار میں اضافہ صرف 2.6 فیصد رہا جبکہ اوسط ماہانہ پیداوار تقریباً 10.5 ارب یونٹس رہی۔</p>
<p>لہٰذا ماہانہ پیداوار میں زیادہ اضافہ طلب میں کسی وسیع پیمانے پر تیزی کا نتیجہ نہیں ہے۔ یہ بڑھتی ہوئی شام کی طلب کو پورا کرنے کے لیے نظام کے بجلی فراہم کرنے کے طریقہ کار سے زیادہ متعلق ہے۔</p>
<p>ہائیڈل بجلی تقریباً 5.6 ارب یونٹس پر مستحکم رہی، جس نے مجموعی پیداوار میں 38 فیصد حصہ ڈالا۔ اصل تبدیلی کہیں اور ہوئی۔</p>
<p>آر ایل این جی کا حصہ کم ہو کر صرف 9 فیصد رہ گیا، جبکہ اس سے 1.3 ارب یونٹس بجلی پیدا ہوئی، جو ریفرنس سے 26 فیصد کم ہے۔ اگست مسلسل چھٹا مہینہ تھا جب آر ایل این جی سے حقیقی پیداوار منصوبہ بندی کی گئی سطح سے کم رہی، اور یہ سلسلہ جنگ شروع ہونے کے وقت سے جاری ہے۔</p>
<p>پاکستان راستے میں ایک یا دو کارگو حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے، لیکن اتنے نہیں کہ آر ایل این جی پلانٹس کو پوری صلاحیت کے قریب چلایا جاسکے۔ ایل این جی مارکیٹوں میں طویل عرصے سے جاری خلل نے سستے کارگو کی دستیابی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے، جس کے باعث نظام مہنگی اسپاٹ خریداریوں پر زیادہ انحصار کرنے لگا ہے۔</p>
<p>اس کا اثر پہلے ہی بجلی کی پیداوار کی لاگت پر نظر آ رہا ہے۔ مسلسل دوسرے ماہ آر ایل این جی سے پیدا ہونے والی بجلی کی اوسط لاگت 45 روپے فی یونٹ سے زیادہ رہی۔</p>
<p>یہ خلا ایک بار پھر درآمدی کوئلے نے پُر کیا۔</p>
<p>اگست کی بجلی کی پیداوار میں درآمدی کوئلے کا حصہ 16 فیصد رہا، جو ریکارڈ میں اس کا سب سے زیادہ ماہانہ حصہ ہے۔ اس سے پیداوار 2.3 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو ایک ہی ماہ میں درآمدی کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی کی اب تک کی سب سے زیادہ مقدار بھی ہے۔</p>
<p>یہ ایک مانوس ہوتا ہوا رجحان ہے۔ جیسے جیسے دن کے وقت شمسی بجلی کا منحنی گراف مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے اور شام کے وقت طلب میں اضافہ زیادہ تیز ہوتا جا رہا ہے، نظام کو ایسی تھرمل بجلی کی ضرورت پڑتی ہے جسے طلب واپس آنے پر فوری طور پر شامل کیا جاسکے۔ آر ایل این جی محدود اور مہنگی ہونے کے باعث درآمدی کوئلہ اس بوجھ کو تیزی سے اٹھا رہا ہے۔</p>
<p>اور اس چوٹی کی طلب کو پورا کرنے کی لاگت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔</p>
<p>اگست میں طلب کے عروج کے دوران بجلی کی پیداوار کی  مارجنل کاسٹ 55 روپے فی یونٹ تک پہنچ گئی۔ یہ گزشتہ تین برسوں میں دیکھے گئے اعداد و شمار سے خاصی زیادہ ہے اور اوسط بجلی کی پیداوار کی لاگت اور شام کے وقت طلب کی آخری یونٹ کو پورا کرنے کی لاگت کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کی نشاندہی کرتی ہے۔</p>
<p>نتیجتاً ایک اور مثبت فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ سامنے آیا ہے۔ بجلی کی پیداوار کی مجموعی لاگت ریفرنس سطح سے زیادہ رہی، جس کے باعث ایف سی اے کے تحت تقریباً 1.7 روپے فی یونٹ مانگے گئے۔ حتمی منظور شدہ ایڈجسٹمنٹ تقریباً 1.5 روپے فی یونٹ کے قریب رہنے کی توقع ہے۔</p>
<p>تاہم، مقامی کوئلے کی لاگت میں ایک دلچسپ پہلو بھی سامنے آیا ہے۔</p>
<p>مقامی کوئلے سے بجلی کی رپورٹ شدہ پیداواری لاگت کم ہو کر تقریباً 5.5 روپے فی یونٹ کی ریکارڈ کم ترین سطح پر آگئی، جبکہ اس سے قبل کے تین ماہ کی اوسط تقریباً 12.5 روپے فی یونٹ رہی تھی۔ اس نمایاں کمی کا تعلق تقریباً 10 ارب روپے کی ایسی ایڈجسٹمنٹ سے معلوم ہوتا ہے جسے تقریباً مکمل طور پر تھر کول بلاک-ون کی بجلی پیدا کرنے والی کمپنی کے کھاتے میں درج کیا گیا، جس کے نتیجے میں اس کے فیول چارج میں تقریباً نصف کمی واقع ہوئی۔</p>
<p>اس ایڈجسٹمنٹ کی تفصیلی وجوہات ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔ جب تک یہ تفصیلات دستیاب نہیں ہوتیں، تازہ ترین مقامی کوئلے کی لاگت کو ایک نئے ساختی معیار کے طور پر دیکھنا قبل از وقت ہوگا۔</p>
<p>ایندھن کے مجموعی مکس میں موجود صورتحال زیادہ بڑی تشویش کا باعث ہے۔ جوہری بجلی کا حصہ بھی کم ہو کر تقریباً 10 فیصد رہ گیا ہے، جو تقریباً چار برسوں میں اس کی کم ترین سطح ہے، جبکہ دیکھ بھال میں تاخیر نے ایسے وقت میں نظام پر ایک اور دباؤ ڈال دیا ہے جب زیادہ طلب کا موسم شروع ہو رہا ہے۔</p>
<p>دریں اثنا، دن کے وقت بجلی کی طلب کا منحنی گراف مزید تیز ہوتا جا رہا ہے۔</p>
<p>شمسی بجلی دن کے درمیانی حصے میں گرڈ کی طلب کو مسلسل کم کر رہی ہے، تاہم سورج غروب ہونے کے بعد طلب ایک بار پھر تیزی سے واپس آتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ایسا نظام تشکیل پا رہا ہے جہاں چیلنج اب پورے دن کے دوران کافی بجلی پیدا کرنا نہیں، بلکہ درست وقت پر درست نوعیت کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت دستیاب رکھنا ہے۔</p>
<p>فی الحال نظام کو بجلی کی فراہمی برقرار رکھنا ترجیح ہے۔ لیکن یہ کام زیادہ مشکل اور مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔ قریبی مدت میں ایل این جی کے جہاز باآسانی دستیاب ہونے کا امکان کم ہے، جبکہ درآمدی کوئلے پر مسلسل انحصار نظام کو بلند ایندھن لاگت کے خطرے سے دوچار رکھتا ہے۔</p>
<p>لہٰذا بجلی کی پیداوار میں اضافے کی سرخی کے باوجود اگست سے بہت کم اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ ہائیڈل بجلی اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ طلب بحال ہو رہی ہے۔ لیکن آر ایل این جی کی دستیابی محدود ہے، جوہری بجلی کی دستیابی کمزور ہوئی ہے، اور درآمدی کوئلہ بڑھتے ہوئے خلا کو پُر کر رہا ہے۔</p>
<p>دن کے وقت شمسی بجلی کا منحنی گراف جتنا گرتا جائے گا، شام کے وقت طلب میں اضافہ اتنا ہی تیز ہوتا جائے گا۔ اور بجلی کی آخری یونٹ جتنی مہنگی ہوتی جائے گی، صارفین ایف سی اے کے ذریعے اس کی لاگت اتنی ہی زیادہ محسوس کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291528</guid>
      <pubDate>Tue, 22 Sep 2026 10:11:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/22100910544f39c.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/22100910544f39c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
