<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 20:46:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 20:46:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا گرین لینڈ میں دو نئے فوجی اڈے قائم کرے گا، ذرائع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291523/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا گرین لینڈ کے جنوبی علاقے میں سرد جنگ کے دور کا ایک فوجی اڈہ دوبارہ فعال کرنے اور مشرقی ساحل پر ایک نیا فوجی مرکز قائم کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ یہ معاہدہ امریکا، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان منگل کو طے پانے کی توقع ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاملے سے واقف تین افراد کے مطابق مجوزہ مقامات میں نارسارسواک شامل ہے، جہاں امریکا نے 1950 کی دہائی میں اپنا بلوئی ویسٹ ون فوجی اڈہ بند کردیا تھا، جبکہ دوسرا مقام میسٹرزویگ ہے، جہاں ڈنمارک کی خصوصی افواج کی یونٹ سیریئس ڈاگ سلیڈ پٹرول تعینات ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تینوں ممالک کے حکام سے توقع ہے کہ وہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر منگل کو معاہدے پر دستخط کریں گے۔ معاہدے کی تفصیلات تاحال منظرعام پر نہیں آئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈنمارک کے مطابق معاہدہ آرکٹک کی سلامتی کو نیٹو کے دائرہ کار میں لائے گا۔ یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی خواہش کے اظہار کے بعد ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرد جنگ کے دوران امریکا کے گرین لینڈ میں 17 فوجی تنصیبات اور 10 ہزار سے زائد اہلکار موجود تھے، جبکہ اب صرف پِٹفک اسپیس بیس فعال ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا گرین لینڈ کے جنوبی علاقے میں سرد جنگ کے دور کا ایک فوجی اڈہ دوبارہ فعال کرنے اور مشرقی ساحل پر ایک نیا فوجی مرکز قائم کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ یہ معاہدہ امریکا، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان منگل کو طے پانے کی توقع ہے۔</strong></p>
<p>معاملے سے واقف تین افراد کے مطابق مجوزہ مقامات میں نارسارسواک شامل ہے، جہاں امریکا نے 1950 کی دہائی میں اپنا بلوئی ویسٹ ون فوجی اڈہ بند کردیا تھا، جبکہ دوسرا مقام میسٹرزویگ ہے، جہاں ڈنمارک کی خصوصی افواج کی یونٹ سیریئس ڈاگ سلیڈ پٹرول تعینات ہے۔</p>
<p>تینوں ممالک کے حکام سے توقع ہے کہ وہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر منگل کو معاہدے پر دستخط کریں گے۔ معاہدے کی تفصیلات تاحال منظرعام پر نہیں آئی ہیں۔</p>
<p>ڈنمارک کے مطابق معاہدہ آرکٹک کی سلامتی کو نیٹو کے دائرہ کار میں لائے گا۔ یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی خواہش کے اظہار کے بعد ہوئی ہے۔</p>
<p>سرد جنگ کے دوران امریکا کے گرین لینڈ میں 17 فوجی تنصیبات اور 10 ہزار سے زائد اہلکار موجود تھے، جبکہ اب صرف پِٹفک اسپیس بیس فعال ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291523</guid>
      <pubDate>Tue, 22 Sep 2026 09:19:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/220917573a46f7e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/220917573a46f7e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
