<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 16:54:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 16:54:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بیانیے میں تبدیلی ناگزیر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291508/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام (ای ایف ایف) کے تحت چوتھے جائزے کا آغاز رواں ماہ 23 تاریخ کو متوقع ہے، اور اس حوالے سے یہ سوال شدت سے زیرِبحث ہے کہ آیا معاشی ٹیم کے سربراہان ملک میں بڑھتی ہوئی غربت سے نمٹنے کے لیے اپنے طور پر کوئی غیر روایتی اور منفرد حل وضع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں یا، جیسا کہ ان کے بعض ناقدین کا الزام ہے، ان میں ایسا کرنے کی صلاحیت ہی موجود ہے، اور کیا وہ فنڈ کو اپنی تجاویز کی افادیت پر قائل کر سکتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جو لوگ اسے ایک خاصا سخت بیان سمجھتے ہیں، انہیں اس حقیقت کا بھی ادراک کرنا چاہیے کہ عالمی بینک کے تخمینے کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح 44.7 فیصد کی بلند سطح پر ہے، جس کا تعین یومیہ 4.20 ڈالر کی کم متوسط آمدنی کی حد کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ انتہائی غربت کی شرح 16.5 فیصد ہے، جس کے لیے یومیہ 3 ڈالر کی حد مقرر ہے، جبکہ قومی غربت کی شرح کا تخمینہ تقریباً 22.5 فیصد سے 25.3 فیصد کے درمیان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک نے 2025 میں شائع ہونے والی اپنی رپورٹ ’’خوشحالی کی جانب پیش رفت کی بحالی: پاکستان میں غربت، مساوات اور لچک کا جائزہ‘‘ میں نوٹ کیا کہ پاکستان نے 2001 میں غربت کی شرح 64.3 فیصد سے ڈرامائی طور پر کم کرکے 2018 میں 21.9 فیصد تک پہنچائی تھی۔ غربت میں یہ کمی 2015 تک سالانہ 3 فیصد پوائنٹس کی رفتار سے ہوئی، تاہم اس کے بعد رفتار کم ہوکر سالانہ ایک فیصد پوائنٹ سے بھی کم رہ گئی۔ حالیہ عرصے میں مسلسل رونما ہونے والے متعدد جھٹکوں کے باعث غربت کی شرح دوبارہ بڑھ گئی اور 2023-24 میں اس کے 25.3 فیصد تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک کے مطابق، ’’وہ معاشی ماڈل جس نے ابتدائی کامیابیاں دلائیں، اب اپنی حدود کو پہنچ چکا ہے۔ 2018 میں آبادی کا 14 فیصد حصہ غربت میں دوبارہ گرنے کے خطرے سے دوچار تھا، کیونکہ کسی بھی معاشی جھٹکے کی صورت میں اس کے لیے غربت سے بچنا مشکل تھا۔ کورونا وائرس، معاشی عدم استحکام، تباہ کن سیلاب اور ریکارڈ بلند مہنگائی جیسے مسلسل بحرانوں نے نظام کی کمزوریوں کو مزید نمایاں کردیا، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگ کم پیداواری سرگرمیوں سے وابستہ رہے اور ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوگئے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں جغرافیائی سیاسی عوامل، بالخصوص مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تنازعے کو مدنظر نہیں رکھا گیا، کیونکہ یہ واقعات رپورٹ میں زیرِجائزہ مدت کے بعد پیش آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک نے مزید نشاندہی کی کہ غربت میں کمی کے پہلے مرحلے میں حاصل ہونے والی کامیابیاں پائیدار نہیں تھیں، کیونکہ ’’آمدنی میں اضافے کی بنیادی وجہ غیر رسمی شعبے میں مردوں کے لیے زرعی شعبے سے باہر معاشی مواقع میں توسیع، بیرون ملک نقل مکانی میں اضافہ اور اس سے حاصل ہونے والی ترسیلات تھیں، جبکہ غیر زرعی شعبے سے حاصل ہونے والی محنت کی آمدنی اس اضافے کا بنیادی محرک تھی۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک نے اس صورت حال کے لیے واضح تجویز پیش کی ہے کہ ’’اب ساختی عدم توازن دور کرنے، معاشی جھٹکوں کے دوران دوبارہ غربت میں جانے سے روکنے اور دور دراز علاقوں کو درپیش مستقل مسائل سے نمٹنے کے لیے جرات مندانہ پالیسی اصلاحات ناگزیر ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2019 سے اب تک آئی ایم ایف کے یکے بعد دیگرے پروگراموں، بشمول موجودہ ای ایف ایف، کے تحت انتہائی سخت مالیاتی اور زرّی پالیسیاں نافذ کی جاتی رہی ہیں۔ یہ پالیسیاں نمو کے لیے نقصان دہ ہیں، جس کے نتیجے میں پیداواری صلاحیت کم ہوتی ہے، روزگار کے مواقع گھٹتے ہیں اور غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔ غربت کی شرح بڑھانے میں ان پالیسیوں کے اثرات نمایاں رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی نمو کو محدود کرنے والی مالیاتی پالیسیوں، جن میں بجٹ خسارے کو پائیدار سطح تک لانے کے لیے زیادہ ٹیکس عائد کرنا شامل ہے، نے چار طریقوں سے غربت کو متاثر کیا ہے:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اولاً، ہر فرد کی حاصل کردہ آمدنی کی حقیقی قدر مسلسل کم ہوتی رہی ہے، جبکہ نجی ملکیت کے پیداواری شعبے گزشتہ پانچ سے چھ برس کے دوران ملازمین کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ کرنے سے قاصر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس سرکاری شعبے کی کھپت، جو موجودہ اخراجات پر مشتمل ہے اور پیداواری صلاحیت میں اضافے سے ہم آہنگ نہیں، بلا روک ٹوک بڑھ رہی ہے۔ اس مد کے ایک جزو، یعنی ملک کی مجموعی افرادی قوت کے 7 فیصد حصے پر مشتمل سرکاری ملازمین کی تنخواہیں، جن کی ادائیگی ٹیکس دہندگان کے خرچ پر ہوتی ہے، ہر سال مہنگائی کی شرح سے زیادہ بڑھائی جاتی رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، حکومتی اخراجات میں اضافہ قرض لے کر پورا کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں رواں مالی سال بجٹ میں مختص مجموعی اخراجات میں قرضوں پر مارک اپ کی ادائیگیوں کا حصہ تقریباً 46 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ یہ شرح ایسی پالیسی ریٹ کی بنیاد پر حساب کی گئی ہے جس میں سال کے دوران تبدیلی ممکن ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب جاری مشرق وسطیٰ تنازع کے خاتمے کے آثار کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسری بات  یہ کہ ٹیکسوں کا بڑا حصہ بالواسطہ نوعیت کا ہے، جس کا بوجھ امیر طبقے کے مقابلے میں غریب طبقے پر زیادہ پڑتا ہے۔ مجموعی ٹیکس وصولیوں میں بالواسطہ ٹیکسوں کا حصہ تقریباً 70 فیصد ہے، کیونکہ حکومت، اپنی پیشرو حکومتوں کی طرح، سیلز ٹیکس کے طریقہ کار کے تحت عائد ودہولڈنگ ٹیکس کو براہِ راست ٹیکسوں میں شمار کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تناظر میں ٹیکس وصولیوں میں اضافے کے لیے انفورسمنٹ اقدامات کے دعووں کی وضاحت ضروری ہے۔ اس وقت ان اقدامات سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ذریعہ سیلز ٹیکس ہے، جس کا مکمل بوجھ صارفین کو منتقل کردیا جاتا ہے۔ یہ ٹیکس تین اشیائے صرف پر فیکٹری کی سطح پر وصول کیا جارہا ہے، جن میں چینی بھی شامل ہے، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں قیمتیں بڑھیں؛ سیمنٹ، جس سے تعمیراتی لاگت میں اضافہ ہوا؛ اور حال ہی میں کھاد، جس سے غذائی اجناس کی لاگت بڑھنے کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوتھی رائے یہ کہ حکومت بظاہر مکمل لاگت کی وصولی کے لیے یوٹیلیٹی ٹیرف میں مسلسل اضافہ کررہی ہے، تاہم ٹیکس اور سرچارجز کا حصہ خاصا زیادہ ہے۔ اس مد میں جمع ہونے والی رقم متعلقہ شعبوں کی مالی پائیداری یقینی بنانے کے لیے مختص نہیں کی جاتی، جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ گردشی قرضہ اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، بلکہ یہ رقم وفاقی خزانے میں منتقل کردی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی سرگرمیوں کو محدود کرنے والی زرّی پالیسی کا مقصد مہنگائی میں کمی لانا ہے، تاہم اس وقت ملکی قرضوں میں سے تقریباً 74 فیصد حکومت حاصل کررہی ہے، جبکہ نجی شعبے کے لیے قرضوں کی دستیابی بدستور محدود ہے۔ پیداواری لاگت زیادہ ہونے کے باعث پاکستانی مصنوعات خطے کے ساتھ ساتھ مقامی منڈی میں بھی مسابقت کے قابل نہیں رہیں، جبکہ طویل اور غیر مؤثر سرحدیں اسمگلروں کے لیے خاصی پرکشش ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ حکومت پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بیز) پر بھی بہت زیادہ انحصار کرتی ہے، جس سے حکومت کے لیے قرض لینے کی لاگت بڑھتی ہے۔ حالیہ پالیسی فیصلوں، جو آئی ایم ایف کی تجاویز کے مطابق کیے گئے ہیں، کے تحت قلیل مدتی قرضوں کو طویل مدتی قرضوں میں تبدیل کرنے سے ممکن ہے کہ قرضوں کی فوری ادائیگیوں کا بوجھ کم ہوا ہو، تاہم اس کے نتیجے میں قرضوں کی واپسی کی مدت نمایاں طور پر طویل ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غربت میں کمی کے حوالے سے آئی ایم ایف کی پالیسی کا بنیادی زور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے بجٹ میں مختص رقم بڑھانے پر ہے۔ اس کے باوجود آج تک مجموعی بجٹ اخراجات کا محض 4.5 فیصد یا جاری اخراجات کا 4.7 فیصد بی آئی ایس پی کے لیے مختص کیا جارہا ہے۔ فنڈ سہ ماہی بنیادوں پر بی آئی ایس پی کی نقد رقوم کی ادائیگی میں اضافے پر بھی زور دے رہا ہے، جو موجودہ مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے اب بھی ناکافی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک کی رپورٹ تسلیم کرتی ہے کہ ’’اگرچہ بی آئی ایس پی، بیت المال، نیشنل پاورٹی گریجویشن پروگرام اور پاورٹی ایلیویشن فنڈ جیسے حکومتی اقدامات نے غریب ترین گھرانوں کو اہم معاونت فراہم کی اور مشکلات سے نمٹنے کی ان کی صلاحیت بہتر بنائی، تاہم یہ سماجی تحفظ کے نظام غربت کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے کے لیے ساختی پالیسی میں تبدیلیوں کا متبادل نہیں بن سکتے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حاصلِ کلام یہ ہے کہ غربت میں کمی پر مرکوز کوئی حکمت عملی وضع کرنے کی سنجیدہ کوشش دکھائی نہیں دیتی، سوائے ان سبسڈیز میں توسیع کے جن کی آئی ایم ایف حمایت نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک کی رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ ’’انسانی سرمائے کے بحران سے نمٹنے کے لیے افراد، علاقوں اور مواقع تک رسائی میں تزویراتی سرمایہ کاری کی جائے‘‘، جبکہ ’’لوگوں کو معاشی جھٹکوں اور مشکلات سے تحفظ فراہم کرنے اور لچک پیدا کرنے کے لیے سماجی تحفظ کے نظام کی مؤثریت اور فوری ردعمل کی صلاحیت بہتر بنانا ضروری ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید زور دیا گیا ہے کہ ’’مضبوط شماریاتی ڈھانچے کے ذریعے بہتر ڈیٹا نظام تشکیل دیے جائیں، جو قابلِ رسائی، زیادہ تواتر سے دستیاب اور تفصیلی اعداد و شمار فراہم کریں۔‘‘ اس سے شواہد کی بنیاد پر پالیسی سازی ممکن ہوگی اور یہ یقینی بنانے میں مدد ملے گی کہ اصلاحات اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام (ای ایف ایف) کے تحت چوتھے جائزے کا آغاز رواں ماہ 23 تاریخ کو متوقع ہے، اور اس حوالے سے یہ سوال شدت سے زیرِبحث ہے کہ آیا معاشی ٹیم کے سربراہان ملک میں بڑھتی ہوئی غربت سے نمٹنے کے لیے اپنے طور پر کوئی غیر روایتی اور منفرد حل وضع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں یا، جیسا کہ ان کے بعض ناقدین کا الزام ہے، ان میں ایسا کرنے کی صلاحیت ہی موجود ہے، اور کیا وہ فنڈ کو اپنی تجاویز کی افادیت پر قائل کر سکتے ہیں۔</strong></p>
<p>جو لوگ اسے ایک خاصا سخت بیان سمجھتے ہیں، انہیں اس حقیقت کا بھی ادراک کرنا چاہیے کہ عالمی بینک کے تخمینے کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح 44.7 فیصد کی بلند سطح پر ہے، جس کا تعین یومیہ 4.20 ڈالر کی کم متوسط آمدنی کی حد کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ انتہائی غربت کی شرح 16.5 فیصد ہے، جس کے لیے یومیہ 3 ڈالر کی حد مقرر ہے، جبکہ قومی غربت کی شرح کا تخمینہ تقریباً 22.5 فیصد سے 25.3 فیصد کے درمیان ہے۔</p>
<p>عالمی بینک نے 2025 میں شائع ہونے والی اپنی رپورٹ ’’خوشحالی کی جانب پیش رفت کی بحالی: پاکستان میں غربت، مساوات اور لچک کا جائزہ‘‘ میں نوٹ کیا کہ پاکستان نے 2001 میں غربت کی شرح 64.3 فیصد سے ڈرامائی طور پر کم کرکے 2018 میں 21.9 فیصد تک پہنچائی تھی۔ غربت میں یہ کمی 2015 تک سالانہ 3 فیصد پوائنٹس کی رفتار سے ہوئی، تاہم اس کے بعد رفتار کم ہوکر سالانہ ایک فیصد پوائنٹ سے بھی کم رہ گئی۔ حالیہ عرصے میں مسلسل رونما ہونے والے متعدد جھٹکوں کے باعث غربت کی شرح دوبارہ بڑھ گئی اور 2023-24 میں اس کے 25.3 فیصد تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا۔</p>
<p>عالمی بینک کے مطابق، ’’وہ معاشی ماڈل جس نے ابتدائی کامیابیاں دلائیں، اب اپنی حدود کو پہنچ چکا ہے۔ 2018 میں آبادی کا 14 فیصد حصہ غربت میں دوبارہ گرنے کے خطرے سے دوچار تھا، کیونکہ کسی بھی معاشی جھٹکے کی صورت میں اس کے لیے غربت سے بچنا مشکل تھا۔ کورونا وائرس، معاشی عدم استحکام، تباہ کن سیلاب اور ریکارڈ بلند مہنگائی جیسے مسلسل بحرانوں نے نظام کی کمزوریوں کو مزید نمایاں کردیا، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگ کم پیداواری سرگرمیوں سے وابستہ رہے اور ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوگئے۔‘‘</p>
<p>رپورٹ میں جغرافیائی سیاسی عوامل، بالخصوص مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تنازعے کو مدنظر نہیں رکھا گیا، کیونکہ یہ واقعات رپورٹ میں زیرِجائزہ مدت کے بعد پیش آئے۔</p>
<p>عالمی بینک نے مزید نشاندہی کی کہ غربت میں کمی کے پہلے مرحلے میں حاصل ہونے والی کامیابیاں پائیدار نہیں تھیں، کیونکہ ’’آمدنی میں اضافے کی بنیادی وجہ غیر رسمی شعبے میں مردوں کے لیے زرعی شعبے سے باہر معاشی مواقع میں توسیع، بیرون ملک نقل مکانی میں اضافہ اور اس سے حاصل ہونے والی ترسیلات تھیں، جبکہ غیر زرعی شعبے سے حاصل ہونے والی محنت کی آمدنی اس اضافے کا بنیادی محرک تھی۔‘‘</p>
<p>عالمی بینک نے اس صورت حال کے لیے واضح تجویز پیش کی ہے کہ ’’اب ساختی عدم توازن دور کرنے، معاشی جھٹکوں کے دوران دوبارہ غربت میں جانے سے روکنے اور دور دراز علاقوں کو درپیش مستقل مسائل سے نمٹنے کے لیے جرات مندانہ پالیسی اصلاحات ناگزیر ہیں۔‘‘</p>
<p>2019 سے اب تک آئی ایم ایف کے یکے بعد دیگرے پروگراموں، بشمول موجودہ ای ایف ایف، کے تحت انتہائی سخت مالیاتی اور زرّی پالیسیاں نافذ کی جاتی رہی ہیں۔ یہ پالیسیاں نمو کے لیے نقصان دہ ہیں، جس کے نتیجے میں پیداواری صلاحیت کم ہوتی ہے، روزگار کے مواقع گھٹتے ہیں اور غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔ غربت کی شرح بڑھانے میں ان پالیسیوں کے اثرات نمایاں رہے ہیں۔</p>
<p>معاشی نمو کو محدود کرنے والی مالیاتی پالیسیوں، جن میں بجٹ خسارے کو پائیدار سطح تک لانے کے لیے زیادہ ٹیکس عائد کرنا شامل ہے، نے چار طریقوں سے غربت کو متاثر کیا ہے:</p>
<p>اولاً، ہر فرد کی حاصل کردہ آمدنی کی حقیقی قدر مسلسل کم ہوتی رہی ہے، جبکہ نجی ملکیت کے پیداواری شعبے گزشتہ پانچ سے چھ برس کے دوران ملازمین کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ کرنے سے قاصر رہے ہیں۔</p>
<p>اس کے برعکس سرکاری شعبے کی کھپت، جو موجودہ اخراجات پر مشتمل ہے اور پیداواری صلاحیت میں اضافے سے ہم آہنگ نہیں، بلا روک ٹوک بڑھ رہی ہے۔ اس مد کے ایک جزو، یعنی ملک کی مجموعی افرادی قوت کے 7 فیصد حصے پر مشتمل سرکاری ملازمین کی تنخواہیں، جن کی ادائیگی ٹیکس دہندگان کے خرچ پر ہوتی ہے، ہر سال مہنگائی کی شرح سے زیادہ بڑھائی جاتی رہی ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب، حکومتی اخراجات میں اضافہ قرض لے کر پورا کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں رواں مالی سال بجٹ میں مختص مجموعی اخراجات میں قرضوں پر مارک اپ کی ادائیگیوں کا حصہ تقریباً 46 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ یہ شرح ایسی پالیسی ریٹ کی بنیاد پر حساب کی گئی ہے جس میں سال کے دوران تبدیلی ممکن ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب جاری مشرق وسطیٰ تنازع کے خاتمے کے آثار کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔</p>
<p>تیسری بات  یہ کہ ٹیکسوں کا بڑا حصہ بالواسطہ نوعیت کا ہے، جس کا بوجھ امیر طبقے کے مقابلے میں غریب طبقے پر زیادہ پڑتا ہے۔ مجموعی ٹیکس وصولیوں میں بالواسطہ ٹیکسوں کا حصہ تقریباً 70 فیصد ہے، کیونکہ حکومت، اپنی پیشرو حکومتوں کی طرح، سیلز ٹیکس کے طریقہ کار کے تحت عائد ودہولڈنگ ٹیکس کو براہِ راست ٹیکسوں میں شمار کرتی ہے۔</p>
<p>اس تناظر میں ٹیکس وصولیوں میں اضافے کے لیے انفورسمنٹ اقدامات کے دعووں کی وضاحت ضروری ہے۔ اس وقت ان اقدامات سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ذریعہ سیلز ٹیکس ہے، جس کا مکمل بوجھ صارفین کو منتقل کردیا جاتا ہے۔ یہ ٹیکس تین اشیائے صرف پر فیکٹری کی سطح پر وصول کیا جارہا ہے، جن میں چینی بھی شامل ہے، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں قیمتیں بڑھیں؛ سیمنٹ، جس سے تعمیراتی لاگت میں اضافہ ہوا؛ اور حال ہی میں کھاد، جس سے غذائی اجناس کی لاگت بڑھنے کا خدشہ ہے۔</p>
<p>چوتھی رائے یہ کہ حکومت بظاہر مکمل لاگت کی وصولی کے لیے یوٹیلیٹی ٹیرف میں مسلسل اضافہ کررہی ہے، تاہم ٹیکس اور سرچارجز کا حصہ خاصا زیادہ ہے۔ اس مد میں جمع ہونے والی رقم متعلقہ شعبوں کی مالی پائیداری یقینی بنانے کے لیے مختص نہیں کی جاتی، جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ گردشی قرضہ اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، بلکہ یہ رقم وفاقی خزانے میں منتقل کردی جاتی ہے۔</p>
<p>معاشی سرگرمیوں کو محدود کرنے والی زرّی پالیسی کا مقصد مہنگائی میں کمی لانا ہے، تاہم اس وقت ملکی قرضوں میں سے تقریباً 74 فیصد حکومت حاصل کررہی ہے، جبکہ نجی شعبے کے لیے قرضوں کی دستیابی بدستور محدود ہے۔ پیداواری لاگت زیادہ ہونے کے باعث پاکستانی مصنوعات خطے کے ساتھ ساتھ مقامی منڈی میں بھی مسابقت کے قابل نہیں رہیں، جبکہ طویل اور غیر مؤثر سرحدیں اسمگلروں کے لیے خاصی پرکشش ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ حکومت پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بیز) پر بھی بہت زیادہ انحصار کرتی ہے، جس سے حکومت کے لیے قرض لینے کی لاگت بڑھتی ہے۔ حالیہ پالیسی فیصلوں، جو آئی ایم ایف کی تجاویز کے مطابق کیے گئے ہیں، کے تحت قلیل مدتی قرضوں کو طویل مدتی قرضوں میں تبدیل کرنے سے ممکن ہے کہ قرضوں کی فوری ادائیگیوں کا بوجھ کم ہوا ہو، تاہم اس کے نتیجے میں قرضوں کی واپسی کی مدت نمایاں طور پر طویل ہوگئی ہے۔</p>
<p>غربت میں کمی کے حوالے سے آئی ایم ایف کی پالیسی کا بنیادی زور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے بجٹ میں مختص رقم بڑھانے پر ہے۔ اس کے باوجود آج تک مجموعی بجٹ اخراجات کا محض 4.5 فیصد یا جاری اخراجات کا 4.7 فیصد بی آئی ایس پی کے لیے مختص کیا جارہا ہے۔ فنڈ سہ ماہی بنیادوں پر بی آئی ایس پی کی نقد رقوم کی ادائیگی میں اضافے پر بھی زور دے رہا ہے، جو موجودہ مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے اب بھی ناکافی ہیں۔</p>
<p>عالمی بینک کی رپورٹ تسلیم کرتی ہے کہ ’’اگرچہ بی آئی ایس پی، بیت المال، نیشنل پاورٹی گریجویشن پروگرام اور پاورٹی ایلیویشن فنڈ جیسے حکومتی اقدامات نے غریب ترین گھرانوں کو اہم معاونت فراہم کی اور مشکلات سے نمٹنے کی ان کی صلاحیت بہتر بنائی، تاہم یہ سماجی تحفظ کے نظام غربت کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے کے لیے ساختی پالیسی میں تبدیلیوں کا متبادل نہیں بن سکتے۔‘‘</p>
<p>حاصلِ کلام یہ ہے کہ غربت میں کمی پر مرکوز کوئی حکمت عملی وضع کرنے کی سنجیدہ کوشش دکھائی نہیں دیتی، سوائے ان سبسڈیز میں توسیع کے جن کی آئی ایم ایف حمایت نہیں کرتا۔</p>
<p>عالمی بینک کی رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ ’’انسانی سرمائے کے بحران سے نمٹنے کے لیے افراد، علاقوں اور مواقع تک رسائی میں تزویراتی سرمایہ کاری کی جائے‘‘، جبکہ ’’لوگوں کو معاشی جھٹکوں اور مشکلات سے تحفظ فراہم کرنے اور لچک پیدا کرنے کے لیے سماجی تحفظ کے نظام کی مؤثریت اور فوری ردعمل کی صلاحیت بہتر بنانا ضروری ہے۔‘‘</p>
<p>رپورٹ میں مزید زور دیا گیا ہے کہ ’’مضبوط شماریاتی ڈھانچے کے ذریعے بہتر ڈیٹا نظام تشکیل دیے جائیں، جو قابلِ رسائی، زیادہ تواتر سے دستیاب اور تفصیلی اعداد و شمار فراہم کریں۔‘‘ اس سے شواہد کی بنیاد پر پالیسی سازی ممکن ہوگی اور یہ یقینی بنانے میں مدد ملے گی کہ اصلاحات اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرسکیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291508</guid>
      <pubDate>Mon, 21 Sep 2026 16:10:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/21155944de85c90.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/21155944de85c90.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
